نظریاتی اختلافات

یہ برس ڈیڑھ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے ایک بزرگ دوست کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا‘ ڈرائنگ روم میں کسی مسئلے پر گرما گرم بحث چل ر ہی تھی‘ میں خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گیا‘وہاں موجود تمام احباب مرکزی نشست پر بیٹھے ایک صاحب کوسمجھانے بجھانے کی کوشش کررہے تھے‘ مجھے بات سمجھنے میں تھوڑی دیر لگ گئی لیکن جلد ہی معلوم ہوا مرکزی نشست پر بیٹھے صاحب وفاقی کابینہ میں شامل ہیں مگر وہ اقتدار کا حصہ ہونے کے باوجود حکومت کی بعض پالیسیوں کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں‘وہ میڈیا میں بہت پاپولر ہیں اور صحافیوں نے جب بھی کسی حکومتی رکن سے حکومت کے خلاف رائے لینی ہوتی ہے تو وہ ان سے رابطہ کرتے ہیں اورانہوں نے کبھی صحافیوں کو مایوس نہیں کیا‘

محفل کا تازہ ترین ایشو کابینہ کا موجودہ اجلاس تھا‘ اس اجلاس میں انہوں نے وزارت زراعت کے ایک ذیلی ادارے کا اشتہار وزیراعظم کے سامنے رکھ دیا تھا‘ اس اشتہار میں ادارے کے چیئرمین اور ڈی جی کیلئے مہنگی گاڑیاں خریدنے کیلئے ٹینڈر طلب کئے تھے‘ انہوں نے وزیراعظم کو اطلاع دی یہ ادارہ حکومت کی اجازت کے بغیر 6 کروڑ روپے کی گاڑیاں خرید رہا ہے‘ وزیراعظم نے وزیر زراعت سے پوچھا تو انہوں نے بتایا اس ادارے کے سربراہ ایک میجر جنرل ہیں اور وہ کسی سرکاری کام میں ان سے اجازت نہیں لیتے‘ یہ خبربعد ازاں صحافیوں تک پہنچ گئی اور پورے ملک میں شور ہو گیا‘ اس ڈرائنگ روم میں موجود احباب مرکزی نشست پر بیٹھے صاحب کو سمجھا رہے تھے ’’ تمہیں خود کش حملہ آور بننے کی کیا ضرورت ہے‘ تم زمینی حقائق سمجھنے کی کوشش کرو‘ پاکستان میں ایسے نکتے اٹھانے والوں کیلئے سیاست ممکن نہیں‘ اس ملک میں شوکت عزیز ہوں یا چودھری شجاعت وہ وردی کے سہارے کے بغیر سیاست نہیں کر سکتے جب تمام سیاست دانوں نے زمینی حقائق تسلیم کرلئے ہیں تو تمہیں کیا تکلیف ہے‘تم چند برسوں کیلئے اپنے ضمیر کو سلا نہیں سکتے وغیرہ وغیرہ ‘‘جب تمام احباب تھک گئے تومرکزی نشست پر بیٹھے صاحب نے فرمایا ’’ میں زمینی حقائق جانتا ہوں‘ میں ملک کے حقیقی حکمرانوں سے بھی واقف ہوں اور میں روز گھر سے نکلنے سے پہلے اپنے آپ کو قائل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہوں لیکن میرا ضمیر نہیں مانتا‘ یہ ہمیشہ ایسے حالات میں تلملا اٹھتا ہے اور میں بولے بغیر نہیں رہ سکتا‘‘تمام احباب ان پر چڑھ دوڑے‘ اس کشمکش اور نوک جھونک میں محفل برخاست ہوگئی ‘ میں نے بعدازاں میزبان سے گفتگو کا پس منظر پوچھا تو معلوم ہوا مرکزی نشست پر بیٹھے صاحب کا نام اسحاق خاکوانی تھا‘ وہ وفاقی کابینہ میں وزیر مملکت ہیں اور باقی تمام لوگ ان کے بے تکلف دوست ہیں اور یہ سب لوگ انہیں ’’ اینگری ینگ مین ‘‘ بننے سے روکنا چاہتے تھے۔یہ میری اسحاق خاکوانی سے پہلی اور شایدآخری ملاقات تھی‘اس ملاقات میں ہم ایک دوسرے سے متعارف نہ ہو سکے لیکن میرے ذہن میں ان کی شخصیت کا ایک خوشگوار تاثر قائم ہو گیا‘ میں اس کے بعد اخبارات میں اسحاق خاکوانی کے بیانات پڑھتا رہا‘ ان بیانات میں پارٹی کے ساتھ ان کے نظریاتی اور فکری اختلافات کی تلخی موجود ہوتی تھی لیکن اگست 2007ء کے آخری عشرے میں انہوں نے ایک انتہائی خوفناک بیان داغ دیا ‘ انہوں نے صدر صاحب کی یونیفارم پر اعتراض کیا اور کھلے عام فرما دیا ’’ صدر کو یونیفارم میں صدارتی الیکشن نہیں لڑنا چاہیے‘‘اسحاق خاکوانی کے اس بیان نے پورے ملک میں تہلکہ مچا دیا‘ وہ مسلم لیگ ق کے پہلے ایم این اے اور حکومت کے پہلے وزیر تھے جن کے منہ سے ایسے خوفناک الفاظ نکلے تھے‘ اسحاق خاکوانی کے یہ الفاظ جناب وزیراعظم شوکت عزیز کے آئین اور مسلم لیگ ق کے دستور سے متصادم تھے‘ جناب شوکت عزیز صدر صاحب کی یونیفارم کو اپنا باس سمجھتے ہیں جبکہ مسلم لیگ ق جنرل پرویز مشرف کویونیفارم میں دس مرتبہ صدر منتخب کرانے کاعزم کر چکی تھی‘میں نے جب اسحاق خاکوانی کا یہ بیان پڑھا تو مجھے محسوس ہوا وہ ایل بی ڈبلیو ہو چکے ہیں اور ایمپائر کسی بھی وقت ہوا میں انگلی کھڑی کر دے گا‘ اسحاق خاکوانی کے اس بیان کی ٹائمنگ انتہائی خراب تھی‘ ملک میں عام انتخابات کا اعلان ہونے والا ہے‘ مسلم لیگ ق نے ابھی انہیں ٹکٹ نہیں دیا‘ وہ تہمینہ دولتانہ کے حلقے سے تعلق رکھتے ہیں اور تہمینہ دولتانہ نے پچھلے پانچ برسوں میں اپنے حلقے پر بھر پور توجہ دی‘ وہ مسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف کے ساتھ وفادار بھی رہیں چنانچہ اسحاق خاکوانی کیلئے چودھری پرویز الٰہی کی انتظامی ’’معاونت ‘‘کے بغیر الیکشن جیتنا ممکن نہیں‘دوسرا بڑامسئلہ موجودہ سیاسی صورتحال تھی‘ ان سیاسی حالات میں جب بے نظیر بھٹو جیسی قائد صدر جنرل پرویز مشرف سے ڈیل کر رہی ہیں‘ حکومتی وفد لندن میں میاں نواز شریف سے رابطوں کی کوشش کر رہا ہے اور چودھری شجاعت مولانا فضل الرحمن کو رام کرنے میں مصروف ہیں ‘ ان حالات میں حکومت کے ایک اہم عہدے دار کا یونیفارم کے خلاف بیان سیاسی بے وقوفی محسوس ہوتی تھی لیکن اسحاق خاکوانی نے نہ صرف بیان دیا بلکہ 27 اگست 2007ء کی شام وزارت سے استعفیٰ بھی دے دیا‘وزیراعظم کو استعفیٰ پیش کرنے کے بعد اسحاق خاکوانی نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا ’’ صدر صاحب کو یونیفارم اتار کر صدارتی الیکشن لڑنا چاہیے ‘‘ اسحاق خاکوانی کا کہنا تھا ’’ میں نے فکری اور نظریاتی اختلافات پر استعفیٰ دیا‘‘ میں نے ان کا بیان پڑھا تو میں حیران رہ گیا‘ پاکستان میں نظریاتی اختلافات پر کسی وزیر کا مستعفی ہونا عجیب محسوس ہوتا ہے‘ذرا سوچئے جس ملک کی اسمبلیوں میں صدر پرویز مشرف کی یونیفارم کے حق میں قرار دادیں پیش ہوتی ہوں اوربڑے بڑے نامی گرامی سیاستدان فلور پر کھڑے ہو کر یونیفارم کے حق میں تقریریں کرتے ہوں ‘جس ملک میں سردار فاروق احمد لغاری‘ حامد ناصر چٹھہ‘ منظور احمد وٹو اور میر ظفر اللہ جمالی جیسے سیاست دان اور جمہوریت پسند لیڈر یونیفارم کے سائے میں پناہ گزین ہوں اور جس ملک میں جناب شوکت عزیز جیسی بین الاقوامی شخصیات یونیفارم کے ’’ حق ‘‘ کیلئے لڑ رہی ہو اور جس ملک کی سب سے بڑی جمہوری اور عوامی جماعت کے بارہ تیرہ ارکان نے وزارتوں کیلئے پارٹی بدل لی ہو اور جس ملک میں پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بے نظیر بھٹو چند مقدموں کے عوض جنرل پرویز مشرف کے سامنے بیٹھ گئی ہوں اور جس ملک میں مذہبی جماعتوں نے وزارت اعلیٰ کے عوض یونیفارم اور ایل ایف او کے حق میں ووٹ دے دیئے ہوں اس ملک میں حکمران جماعت کے کسی وزیر کا استعفیٰ دینا حیران کن واقعہ نہیں؟اور کیا اس ملک میں کسی سیاستدان کے منہ سے نظریاتی اختلافات کے الفاظ ناقابل یقین محسوس نہیں ہوتے؟جناب اسحاق خاکوانی کے استعفیٰ کی وجوہات کیا تھیں‘ وہ واقعی نظریاتی اختلافات اور یونیفارم کے مسئلے پر مستعفی ہوئے یا اس کی کوئی دوسری وجہ بھی تھی ہم یہ بحث مستقبل کے محققین پر چھوڑتے ہیں اور سردست ان کے ظاہری فعل کو لیتے ہیں‘بے شک اسحاق خاکوانی نے ان نازک سیاسی حالات میں استعفیٰ دے کر بڑی جرأت اور ایمانداری کا مظاہرہ کیا‘یہ پاکستان کی تاریخ میں اس نوعیت کا واحد واقعہ ہے ورنہ پاکستان میں ملک ٹوٹنے پر بھی کسی وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا تھا‘ اسحاق خاکوانی نے پاکستان میں جمہوری اور سیاسی روایت کی بنیاد رکھی‘ انہوں نے ثابت کردیا پاکستان کے سیاستدان بھی نظریاتی اختلاف پر حکومت چھوڑ سکتے ہیں‘ میرا خیال ہے چودھری شجاعت حسین‘ چودھری پرویز الٰہی ‘ مولانا محمد علی درانی اور ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کو بھی اسحاق خاکوانی کی روایت پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ صدر پرویز مشرف اور ان حضرات کے درمیان موجود نظریاتی اختلافات بھی اب تک کھل کر سامنے آ چکے ہیں‘یہ لوگ صدر پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کی ڈیل کے مخالف ہیں‘ صدر صاحب نے انہیں ڈیل نہ کرنے کی یقین دہانی کرا رکھی تھی اور یہ لوگ دو برس سے اس یقین دہانی کی بنیاد پر ’’ ڈیل نہیں ہو رہی‘‘ کے بیانات بھی جاری کر رہے تھے چنانچہ اب ان لوگوں کو بھی اس عظیم بے وفائی پراستعفیٰ دے دینا چاہیے‘ انہیں بھی اسحاق خاکوانی جتنی جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہیے‘ انہیں بھی اپنے نظریاتی اختلافات پر لبیک کہنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو آنے والی نسلیں یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں مسلم لیگ ق میں صرف ایک ہی زندہ ضمیر شخص تھا اور اس کا نام اسحاق خاکوانی تھا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: