مبارک ہو

ہم اگرتاریخ کے غیر معمولی انسانوں کی فہرست بنائیں تو لیونارڈو ڈاونچی کا نام شروع میں آئے گا‘ وہ اٹلی کے شہر فلورنس میں پیدا ہوا‘ اس کا والد ایک دولت مند قانون دان تھا‘ لیونارڈو نے جوانی میں بیک وقت مصوری‘ مجسمہ سازی‘ تعمیرات‘ موسیقی اورسائنس کو اپنا ذریعہ شناخت بنایا لیکن اس کی شہرہ آفاق پینٹنگ ’’ مونا لیزا ‘‘ اس کا حوالہ بن گئی‘ یہ فلورنس کی ایک رئیس زادی ساڈی گرار ڈینی کی پورٹریٹ تھی‘یہ 1507ء میں مکمل ہوئی اور اس پورٹریٹ کی ملکوتی مسکراہٹ نے لیو نارڈو کو تخلیق اور مصوری کی کتاب میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے امر کردیا‘ یہ تصویر آج کل پیرس کے عجائب گھر لوور میں رکھی ہے اور میں تیرہ چودہ مرتبہ اس کی ’’ زیارت‘‘ کر چکا ہوں‘ مونا لیزا

نے جہاں لیور نارڈو کوآفاقی پذیرائی بخشی وہاں ڈاونچی کا اصل ٹیلنٹ اور کنٹری بیوشن اس تصویر کے پیچھے چھپ گیا‘ لیونارڈو مصور سے کہیں زیادہ اچھا سائنس دان تھا اور اس نے انسانیت کی فلاح کیلئے ایسی بے شمار اشیاء کے تصور دیئے جنہوں نے ہماری سماجی زندگی کا ڈھانچہ بدل دیا مثلاً آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی قینچی لیونارڈو ڈاونچی نے ایجاد کی تھی‘ ڈرل مشین اس کی ایجاد تھی‘ اس نے دنیا کا پہلا ’’مووایبل‘‘ گھر بنایا تھا‘ سریا بنانے کی مشین اس کی ایجاد تھی‘ زمین سے پانی نکالنے والی بورنگ مشین اس نے بنائی تھی‘ خراد مشین اس کی ایجاد تھی‘ بل ڈوزر اس نے بنایا تھا‘ سیمنٹ بجری اور ریت کو ملانے والا مکسچر اس نے ایجاد کیا تھا‘ سوت کاتنے والی مشین اور دریاؤں سے کیچڑ نکالنے والی کشتی اس نے بنائی تھی‘ وہ پہلا شخص تھا جس نے مقناطیسی سوئی کو افقی محور پر لگایا تھااور اس سے قطب نما بنا تھا‘ دنیا کا پہلا فوجی پل اس نے بنایا تھا‘ نہریں کھودنے کی جدید سائنس کا بانی لیونارڈو ڈاونچی تھا‘انسانی جسم میں موجود وریدوں کا نظام اس نے دریافت کیا تھا اور انسانی جسم کے مختلف اعضاء کی اندرونی ساخت کی تصویریں اس نے بنائی تھیں‘ جدید توپ کا ڈیزائن بھی اس نے دیا تھا‘ مشین گن کا نقشہ بھی اس نے بنایا تھا‘ گیلائیڈرز اس نے بنائے تھے اور گوشت روسٹ کرنے والی مشین بھی اس نے ایجاد کی تھی‘ ان تمام سائنسی ایجادات کے ساتھ ساتھ لیونارڈو ڈاونچی پہلا شخص تھا جس نے کیلکو لیٹر بنایا تھا اور جس نے کمپیوٹر کا تصور دیا تھا لیکن اس کی یہ ساری ایجادات مونا لیزا کے پیچھے چھپ گئیں‘دنیا میں بعض اوقات کسی تخلیق کار کی کوئی ایک تخلیق اس کے باقی تمام کارناموں کو نگل جاتی ہے اور لیونارڈو کا شمار انہی تخلیق کاروں میں ہوتا ہے۔ لیو نارڈو ڈاونچی کا ایک اور کارنامہ بکتر بند گاڑی تھا‘ ڈاونچی نے دنیا میں پہلی بکتربند گاڑی بنائی تھی‘ اس نے بادشاہوں کیلئے لکڑی کی ایک ایسی گاڑی بنائی تھی جس میں بیٹھ کر وہ بے خطر لمبے سفر کر سکتے تھے‘ یہ گاڑی ساڑھے چار سو سال تک بادشاہوں کے استعمال میں رہی لیکن جب دنیا میں انجن ایجاد ہوا اور انسان نے پہئے میں بال بیئرنگ ڈالے تو برطانوی فوج نے جدید بکتر بند گاڑیاں بنانا شروع کردیں‘دنیا کی پہلی بکتر وین کا نام ’’ نیپئر ‘‘ تھا اور اس کی پہلی کھیپ 1912ء میں برطانوی فوج کے حوالے کی گئی تھی‘ 1919ء میں امریکہ کی ایک کمپنی نے امریکی تاجروں کیلئے بکتر بند کار بنانے کا فیصلہ کیا‘ یہ گاڑی جنوری 1920ء میں مکمل ہوئی اور یکم فروری 1920ء کو سینٹ پاؤل من میں اس کی پہلی نمائش ہوئی‘ اس گاڑی کو بلٹ پروف کار کا نام دیا گیا‘ 1923ء میں بلٹ پروف گاڑیوں کا تصور امریکہ سے یورپ پہنچا اور برطانیہ‘ فرانس اور جرمنی میں بھی ان کی تیاری شروع ہوگئی لیکن ان گاڑیوں کو قبول عام دوسری جنگ عظیم میں حاصل ہوئی‘دوسری عظیم جنگ میں دنیا کے زیادہ تر بڑے تاجر‘ صنعت کار‘ سیاستدان‘ شاہی خاندانوں کے افراد اور لیڈر بلٹ پروف گاڑیوں میں ’’ شفٹ ‘‘ ہوگئے‘ یہ جنگ ختم ہوئی تو بلٹ پروف گاڑیاں باقاعدہ تجارت کی شکل اختیار کرگئیں اور گاڑیاں بنانے والی تمام بڑی کمپنیاں اپنے گاہکوں کو بلٹ پروف کا آپشن دینے لگیں‘ 1970ء تک ان گاڑیوں میں صرف تین سے چھ انچ موٹا خصوصی شیشہ لگایا جاتا تھا اور ان کی باڈی میں سیسہ ڈال کر اسے گولی سے محفوظ بنا دیا جاتا تھا لیکن 80ء کی دہائی میں ایسی گاڑیاں بھی مارکیٹ میں آگئیں جن میں آگ بجھانے کے آٹومیٹک آلات تھے‘جو ٹائروں کے بغیر رم پر ایک سو بیس کلومیٹر کی رفتار سے چل سکتی تھیں‘ جن کا فیول ٹینک گولی‘ بم اور آگ سے محفوظ رہتا تھا‘ جو ریموٹ کنٹرول سے سٹارٹ ہو سکتی تھیں‘ جن میں گاڑی میں بیٹھ کرٹائروں کا درجہ حرارت اور ہوا کم اور زیادہ کی جا سکتی تھی‘ جن میں سائرن اورالارم لگے تھے‘ جن میں انٹرکام ہوتا تھا‘ جن میں آکسیجن کا خود کار نظام تھا اور جو بم پروف بھی تھیں‘ آج 2007ء میں یہ صورتحال ہے تمام بڑی کمپنیاں بلٹ پروف گاڑیاں بنا رہی ہیں لیکن تین کمپنیاں زیادہ مشہور ہیں‘بی ایم ڈبلیو کی سیون سیریز میں ہائی سیکورٹی‘ مرسڈیز بینز کی ایس کلاس میں گارڈ اور اوڈی کی اے 6اور اے 8میں اچھی بلٹ پروف گاڑیاں آ رہی ہیں‘ ایک عام گاڑی کو بھی بلٹ پروف بنایا جا سکتا ہے لیکن اس پر کم از کم 60سے 90لاکھ روپے خرچ آتا ہے جبکہ دنیا کی مہنگی ترین بلٹ پروف گاڑی کی قیمت 92کروڑ روپے ہے۔ پاکستان میں پہلی بلٹ پروف گاڑی جنرل ضیا ء الحق کے دور میں آئی تھی‘ افغان جنگ کے دوران جنرل ضیاء الحق اور ان کے ’’رفقائے کار‘‘ روسی ایجنسیوں کا ٹارگٹ تھے چنانچہ امریکہ نے پاکستانی فوج کو بارہ بلٹ پروف گاڑیاں دیں‘ان میں سے تین گاڑیاں جنرل ضیاء الحق استعمال کرتے تھے جبکہ باقی گاڑیاں ان کے منظور نظر جرنیلوں کے زیر استعمال تھیں‘ جنرل ضیاء الحق کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف بھی اپنی اپنی وزارت عظمیٰ کے دور میں بلٹ پروف گاڑیاں استعمال کرتے رہے‘ میاں نواز شریف کے دوسرے دور میں وزرائے اعلیٰ اور گورنروں کو بھی یہ سہولت دے دی گئی لیکن بلٹ پروف گاڑیوں نے باقاعدہ کلچر کی شکل صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں اختیار کی‘نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان میں خود کش حملے شروع ہو گئے‘25 دسمبر 2003ء کو صدر پرویز مشرف اور 30 جولائی 2004ء کو اٹک میں شوکت عزیز پر خودکش حملہ ہوا جس کے بعد صدر اور وزیراعظم کے لئے انتہائی مہنگی اور جدید بلٹ اور بم پروف گاڑیاں منگوائی گئیں‘ ان گاڑیوں میں سیٹلائٹ گائیڈڈ سسٹم اور موبائل فون اور ریمورٹ کنٹرول کے سگنل منجمد کرنے والے ’’جیمر‘‘ بھی تھے‘ 2005ء میں حکومت نے بلٹ پروف گاڑیوں کا سلسلہ دراز کر دیا اور وزراء کوبھی ڈیوٹی فری بلٹ پروف گاڑیوں کی سہولت دے دی ‘یوں اسلام آباد‘ لاہور‘ کراچی‘ پشاور اور کوئٹہ میں بڑی بڑی سرکاری بلٹ پروف گاڑیاں دکھائی دینے لگیں‘ حکومت نے غیر حکومتی شخصیات میں چودھری شجاعت حسین اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی بلٹ پروف گاڑی دے رکھی ہے۔ نومبر کی 16 تاریخ کو نگران حکومت بنی اور 20نومبر2007ء کو ہماری نگران حکومت نے بلٹ پروف گاڑیوں کے سلسلے میں مزید ایک قدم آگے بڑھا دیا‘ حکومت نے نہ صرف بلٹ پروف گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دے دی بلکہ انہیں کسٹم ڈیوٹی سے بھی مستثنیٰ قرار دے دیا‘وزرات خزانہ نے اس سلسلے میں ایس آر او 1121(1)2007جاری کیا جس کے بعد اب پاکستان کے تمام امراء وزارت داخلہ اور وزارت خزانہ کی اجازت سے کسٹم ڈیوٹی دیئے بغیر بلٹ پروف گاڑی درآمد کرسکتے ہیں‘میں نے جب یہ حکم پڑھا تو میں بے اختیار ہنس پڑا اور میں نے سوچا ہمارے نگران وزیراعظم پلس چیئرمین سینٹ محمد میاں سومرو نے ثابت کردیا اس ملک میں اب تمام حکومتی اور سرکاری اہلکار‘تمام سیاستدان‘ صنعت کار‘ بزنس مین‘ تاجر‘ بینکار اورچھوٹے بڑے سرمایہ دار غیر محفوظ ہیں اور اب پاکستان کا کوئی ’’اہم شخص‘‘ بلٹ پروف گاڑی کے بغیر سڑک پر نہیں آ سکتا اور ہمارے نگران وزیراعظم نے ثابت کردیا پاکستان کی اشرافیہ کو ضرورت کی ہر چیز ڈیوٹی فری ملتی ہے جبکہ عوام کو پانی تک پر ٹیکس اور ڈیوٹی دینا پڑتی ہے‘آپ دلچسپ امر دیکھئے پاکستان میں اس وقت 4227 آئٹمز درآمد ہوتی ہیں‘ ان میں سے 81فیصد اشیاء عام لوگوں تک پہنچتی ہیں لیکن آج تک محمد میاں سومرو سے جناب شوکت عزیز تک کسی سربراہ نے ان میں سے کسی آئٹم کو ٹیکس اور کسٹم سے مستثنیٰ قرار نہیں دیاجبکہ بلٹ پروف گاڑیاں وہ خوش نصیب ’’ضروریات‘‘ ہیں جنہیں حکومت نے ایک ہی جھٹکے میں ڈیوٹی فری کر دیا چنانچہ اب ملک میں بلٹ پروف گاڑیاں عام ملیں گی اور لوگ ان گاڑیوں میں بیٹھ کر پاکستان زندہ باد‘ پاکستان پائندہ باد اور شاد باد‘ منزل مراد کے نعرے لگائیں گے۔واہ کیا بات ہے‘ کیاہم اس ملک میں نہیں رہ رہے جس میں عوام کو سورج کی روشنی ‘ آکسیجن اور پانی تک فری نہیں ملتا جبکہ حکمران کلاس کیلئے بلٹ پروف گاڑیاں تک ڈیوٹی فری ہیں‘ واہ‘ ہم سب کو مبارک ہو۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: