مگر مچھوں کے تالاب

وہ نوجوان سوالوں سے بھرا ہوا تھا‘ اس نے چند سیکنڈ میں درجنوں سوال داغ دئیے اور میں پریشانی سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔ یہ اس نوجوان کے سوال نہیں تھے‘ یہ وقت کے سوال تھے۔ تاریخ کے ہر دور کے چند سوال ہوتے ہیں اورقوموں کی ترقی‘ تنزلی اور پسماندگی کا فیصلہ یہ سوال کرتے ہیں‘ قومیں اگر ان سوالوں کا جواب تلاش کر لیں تو ان کا سفر مختصر بھی ہوجاتا ہے اوربامراد بھی۔ آپ ایک لمبی اور ٹھنڈی سانس لیں‘اطمینان سے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائیں اور نوجوان کے سوال سنیں۔ نوجوان کا پہلا سوال تھا ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور افتخار محمد چودھری کا قصور کیا ہے؟ نوجوان کا دوسرا سوال تھا میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف ڈس کوالیفکیشن کے دھانے پر کیوں کھڑے

ہیں؟ تیسرا سوال تھا پورے ملک کو خود کشی کے کنارے لے جانے‘ پورے سسٹم کو برباد کرنے اور سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں کا قاتل جنرل (ر) پرویز مشرف اطمینان سے گالف کیوں کھیل رہا ہے؟ اور چوتھا سوال تھاحکومت ملک کو مسائل سے باہرکیوں نہیں نکال پا رہی؟ یہ بظاہر چار معصوم سے سوال تھے لیکن یہ چار سوال ملک پر چھائے ہوئے بدنصیبی کے سایوں کی اصل وجوہات ہیں‘ حکومت ملک کو مسائل سے کیوں باہر نہیں نکال پا رہی؟ اس کی وجہ این آر او ہے اور جب تک این آر او جیسے سمجھوتے چلتے رہیں گے پاکستان کی کوئی حکومت ملک کو مسائل سے باہر نہیں نکال سکے گی۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اپنے تمام انسانی‘ اخلاقی‘ قانونی‘ سفارتی اور آئینی جرائم کے باوجود اس لئے اطمینان سے گالف کھیل رہے ہیں کہ اس ملک میں جرنیل احتساب‘ قانون اور انصاف سے بالا تر ہیں اور جب تک اس ملک میں پرویز مشرف اور یحییٰ خان جیسے جنرل قانون کے دائرے میں نہیں آئیں گے اس وقت تک ہم اسی طرح دھوپ میں بیٹھ کر اپنے زخم چاٹتے رہیں گے‘میاں برادران ڈس کوالیفکیشن کے دھانے پر اس لئے کھڑے ہیں کہ انہوں نے الیکشن جتنے کے بعد اپنا موقف نہیں بدلا‘ وہ آج بھی اپنے وعدوں‘ نعروں اور دعوؤں کو قرآن اور حدیث کا حکم سمجھ رہے ہیں اور جب تک سیاستدان دعوؤں اور وعدوں کو قرآن اور حدیث کا حکم نہیں سمجھیں گے اس وقت تک یہ ملک آگے نہیں بڑھے گا اور پیچھے رہ گئے ڈاکٹر عبدالقدیر اور افتخار محمد چودھری تو ان کا جرم بہت دلچسپ تھا‘ان دونوں نے سٹالن کے دربار میں تالی بجانا بند کر دیا تھا چنانچہ یہ پکڑے گئے اور جب تک یہ نظام چلتا رہے گا یہ دونوں اسی طرح ’’رنگ‘‘ کے باہر کھڑے رہیں گے۔ یہ تالی کا جرم کیا تھا؟ اس کیلئے ہمیں ذرا سا تاریخ میں جانا پڑے گا۔ سوویت یونین کے سربراہ جوزف سٹالن 1950ء تک پوری دنیا میں دہشت کی علامت تھے‘ انہوں نے لاکھوں لوگوں کو قتل کروایا‘ لاکھوں لوگوں کے اعضاء کٹوائے اور لاکھوں لوگوں کو سائبریا میں جلا وطن کر دیا‘ان کے دور میں اونچی آواز میں ان کا نام لینا بھی جرم سمجھا جاتا تھا اور اس جرم کی کم از کم سزا جلا وطنی ہوتی تھی ۔ یہ جوزف سٹالن ایک بار ڈرامہ دیکھنے کیلئے ماسکو کے سب سے بڑے تھیٹر میں گئے‘ انہوں نے سارا ڈرامہ دیکھا‘ ڈرامہ ختم ہوا تو ڈرامے کے ڈائریکٹر نے مائیک پکڑا اور حاضرین سے مخاطب ہو کراعلان کیا’’ خواتین وحضرات! سوویت یونین کے مرد آہن‘ دنیا کے سب سے بڑے لیڈر اور دنیا کی سپرپاور کے سربراہ جوزف سٹالن اس وقت ہمارے درمیان موجود ہیں‘میں انہیں سٹیج پر آنے کی دعوت دیتا ہوں‘ ‘ڈائریکٹر خاموش ہوا تو سٹالن اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے‘ ان کے احترام میں ہال میں موجود تمام لوگ اپنی اپنی کرسیوں پر کھڑے ہو گئے‘ سٹالن آہستہ آہستہ چلتے ہوئے سٹیج پر آئے‘ ڈائریکٹر کے قریب پہنچے اور خاموش ہو کر ڈائریکٹر کے ساتھ کھڑے ہو گئے ۔ ڈائریکٹر نے حاضرین سے کہا ’’خواتین وحضرات میں آپ سے سوویت یونین کے مرد آہن کے اعزاز میں تالیاں بجانے کی درخواست کرتا ہوں‘‘۔ڈائریکٹر کی درخواست کے فوراً بعد ہال میں موجود لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں‘ سٹالن تماشائیوں کی طرف دیکھنے لگے‘ دس سیکنڈ تک تالیاں بجیں ‘ سٹالن لوگوں کو دیکھتے رہے‘ ایک منٹ تک تالیاں بجیں‘ سٹالن لوگوں کو دیکھتے رہے‘ تالیوں کا دوسرا منٹ شروع ہو گیا‘ سٹالن دیکھتے رہے‘ تالیاں پانچ منٹ تک پہنچ گئیں‘ سٹالن لوگوں کو دیکھتے رہے اور تالیاں دس منٹ تک چلی گئیں‘سٹالن ہال کو دیکھتے رہے ۔ آپ ذرا صورتحال پر غور کیجئے ۔جوزف سٹالن سٹیج پر کھڑا ہے‘ ہال میں موجود تمام لوگ ایڑھیوں کے بل کھڑے ہیں اور مسلسل تالیاں بجاتے چلے جا رہے ہیں اوران میں سے کسی کو یہ جرات نہیں کہ وہ سٹالن کی موجودگی میں تالی بجانا بند کر دے۔آپ جانتے ہیں تالی ایک ایسی ’’حرکت‘‘ ہوتی ہے جس کا دورانیہ اگر45سیکنڈ سے اوپرچلا جائے تو اس کا اثرالٹ ہو جاتا ہے۔ مثلاً جب آپ کسی کی ستائش کیلئے تالی بجاتے ہیں اور اس تالی کادورانیہ 45سیکنڈ سے اوپر چلا جاتا ہے تو ستائش ہونٹنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔اسی طرح اگر آپ کسی کی خدمات کے اعتراف میں تالی بجاتے ہیں اور اس تالی کادورانیہ بھی 45سیکنڈ سے اوپر چلا جاتا ہے تو خدمات کا اعتراف مذاق میں بدل جاتا ہے۔ آپ ذرا اس پس منظر کو ذہن میں رکھ کر ماسکو کے اس تھیٹر کی صورتحال پر غور کیجئے وہاں سٹالن کے اعزاز میں بیس منٹ تک مسلسل تالی بجتی رہی تھی یہاں تک کہ ہال میں موجود ایک شخص نے تالی بجانا بند کی اور نشست پر بیٹھ گیا‘ اس کی تقلید میں سب لوگوں نے اپنے اپنے ہاتھ روکے اور چپ چاپ نیچے بیٹھ گئے‘سٹالن نے غصے سے اس شخص کی طرف دیکھا اور سٹیج سے اتر گیا بعدازاں ’’کے جی بی‘‘ کے اہلکاروں نے اس گستاخ شخص کو اغواء کیا‘ اس پر غداری کا مقدمہ قائم کیا اور اسے سائبریا بھجوا دیا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے سٹالن نے ایسا کیوں کیا؟ اور 20منٹ بعد تالی روکنے والے اس شخص کا جرم کیا تھا؟۔ اس شخص کا جرم احمقانہ سسٹم اور ظالمانہ روایات سے بغاوت تھا‘وہ شخص منافقانہ ماحول میں 20منٹ تک تالیاں بجا کر تھک گیا تھا چنانچہ اس نے اس ماحول سے بغاوت کا فیصلہ کیا‘اس نے تالی بجانا بند کی اور نیچے بیٹھ گیا۔ اس کی اس حرکت پر سٹالن بھانپ گیا دو ہزار لوگوں کے مجمعے میں یہ واحد شخص ہے جس میں لیڈر شپ کی کوالٹی ہے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیرخان اور افتخار محمد چودھری نے بھی یہی غلطی کی تھی‘ ان دونوں نے سٹالن کے دربار میں تالی بجانا بند کر دی تھی‘ نظام نے فوراً بھانپ لیا یہ دونوں لیڈر بن سکتے ہیں‘ یہ دونوں لوگوں کو ’’موٹی ویٹ‘‘ کر سکتے ہیں اور یہ دونوں اس سسٹم کو تبدیل کر سکتے ہیں چنانچہ سسٹم نے دونوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور افتخار محمد چودھری کی مثال دیکھیں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا یہ ملک مگر مچھوں کا تالاب ہے اور آپ اس تالاب میں صرف اسی صورت زندہ رہ سکتے ہیں کہ آپ خود مگر مچھ ہوں یا پھر آپ کسی مگر مچھ کے چاچے‘ مامے‘ پھوپھے‘ بھتیجے‘ بھانجے یا بیٹے ہوں۔ ہمیں یہ ماننا پڑے گا آپ اس ملک میں کوئی جینوئن شخص سسٹم کے سانڈ کو سرخ رومال دکھا کر زندہ نہیں رہ سکتااور یہ بھی حقیقت ہے سانڈوں کے باڑے‘ مگرمچھوں کے تالاب اور ایسے ملک جن میں اصولوں اور سچائیوں کے سورج ڈوب رہے ہوں ‘ وہ زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ سکتے لہٰذا ہم ا گر اپنی نسلوں کو اس ملک میں پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تالاب کے مگرمچھوں اور باڑوں کو سانڈوں سے پاک کرنا پڑے گا ورنہ اس ملک کا ہر ڈاکٹر عبدالقدیر اور ہر افتخار محمد چودھری آخر سانس تک تالی بجانے پر مجبور ہو جائے گا‘ یہ ملک ماضی کا کھنڈر بن جائے گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: