Today's Columns

فلسطین کے تاریخی آئینے میں اسرائیل کا موجودہ چہرہ از از پروفیسر شمشاد اختر ( پیغام فکر )

فلسطین یہودیوں سے تقریباََ ڈیڑ ھ سو سال خالی رہا ۔ اس کے بعد ایران کا بادشاہ سائرس منظر عام پر آیا ، جس نے عراق پر حملہ کر کے نمرود کو شکست دی اور یہود کو واپس جانے کی اجازت دی ۔اس وقت حضرت عزیر ؑ کی تجدیدی اور اصلاحی تحریک کے ذریعے بنی اسرائیل کی purgationکی گئی اور مشرکانہ اعمال سے ان کو پاک کیا گیا ۔ معبد سلیمانی کو انہوں نے دوبارہ تعمیر کیااور اسے second Templeکا نام دیا۔اس کے بعد ان پر یو نانی حملہ آور ہوئے،سکندر اعظم یہیں سے گزر کر انہیں تہس نہس کرتا ہواپنجاب تک آیااور اس کے سپہ سالارسلیو کس کی ان پر حکو مت رہی۔ کچھ عرصے بعد رومیوں نے یہاں پر حکومت کر لی۔البتہ انہوں نے براہ راست قبضہ نہیں کیا بلکہ وہاں پر مقامی بادشاہتیں رہنے دیں ۔بہر حال اس زمانے میں ایک ععظیم مکابی سلطنت قائم ہوئی جس نے ۱۶۳ ق م سے لے کر ۶۳ ق م تک پھر بالکل وہی نقشہ دکھا دیا جو حضرت دائود ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کے زمانے کا تھا۔یہ سو برس ایسے ہیں کہ پورے فلسطین پر یہودیوں کا قبضہ رہا۔پھر ان کے اندر زوال آیا اللہ تعالی نے رومیوں کو ان پر مسلط کیا ۔حضرت مسیح ؑ اس زمانے میں مبعوث کئے گئے ۔یہودیوں نے حضرت مسیح ؑ ؑ کا کفر کیا ۔ انہیں ۳۳ یا ۳۴ عیسوی میں اللہ نے آسمان پر اٹھا لیا ۔ اللہ تعالی نے یہودیوں کو یوں سزا دی کہ ۷۰ ء میں ایک رومن جنرل ٹائٹس نے ان پر حملہ کیا اور یروشلم کی دوبارہ اینٹ سے اینٹ بجا دی سیکنڈ ٹیمپل گرا دیا گیا ۔ ۷۰ء سے آج تک ۱۹۵۰ برس سے یہودیوں کا خانہ کعبہ گرا ہوا ہے۔ٹائٹس نے ایک دن میں ایک لاکھ ۳۳ ہزار یہودی یروشلم میں قتل کئے اور ۶۶ ہزار کووہ قیدی بنا کریورپ لے گیا۔یہودیوں کو فلسطین سے نکلنے کا حکم دے دیا گیا ۔۱۹۱۷ ء تک یہودی فلسطین سے بے دخل رہے ہیں ۔یہ ساری تاریخ اس لئے بیان کی گئی کہ یہودی کہتے ہیں کہ فلسطین کی سر زمین اللہ نے ہمیں دی اور اس پر ہمارا پیدائشی حق ہے۔آج لبرل مسلمان ،یہاں تک کہ بعض وسیع النظر علماء بھی ان کے اس دعوے کو تسلیم کرتے ہیں ۔اس کے لئے قرآن کے ان الفاظ کا حوالہ دیا جاتا ہیکہ ’’ تمہارے لئے ارض مقدس لکھ دی گئی ہے ‘‘ ۔ لیکن اس وقت یہ چیز اس سے مشروط تھی کہ اگر جہاد کر کے فتح کرلو گے تو یہ تہماری ہو گی۔جب ان نے جہاد و قتال نہیں کیا تو یہ وعدہ ختم ہو گیا ۔وہ دو ہزار سال پہلے نکال دیے گئے تھے۔پوری دنیا میں ان سے نفرت کی جاتی تھی ۔ان کو شہروں میں داخل ہو نے کی اجازت نہ تھی اور ان کی بستیاں شہروں سے باہر تھیں ،صرف دو گھنٹے کا وقت مقرر تھا کہ ضروریات زندگی کی خریدو فروخت کے لئے آجا سکتے ہو ۔یہ حال تھا ان کا !
عیسائیوں کو دو فرقوں یعنی کیتھولکس اور پرو ٹسٹنٹس میں تقسیم کرنے والے بھی یہودی تھے،ورنہ پہلے سب عیسائی ایک پوپ کو ماننے والے تھے۔پوپ کے خلاف بغاوت یہودیوں نے کروائی اور سب سے پہلے اس ظہور انگلستان میں ہوا ۔انگریزوں نے اپنا چرچ ’’ چرچ آف انگلینڈ ‘‘ کے نام سے علیحدہ کر لیا،جو پوپ کے تحت نہیں تھا۔ سب سے پہلے پرو ٹسٹنٹ ملک بھی بر طانیہ تھااور وہیں پر یہو دیوں نے سب سے پہلا ’’ بنک آف انگلینڈ ‘‘قائم کیا تھا ۔اس سے پہلے دنیا میں کوئی بنک نہ تھا ۔کوئی سودی معاملہ نہ تھا ۔پوپ کے زیر اثر کسی بھی سود کی اجازت نہ تھی۔ یوں پروٹسٹنٹ یہودیوں کے آلہ کار بن گئے ۔۱۰۰ سال پہلے تک پروٹسٹنٹس کا امام برطانیہ تھا ، لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یہ جگہ امریکہ نے لے لی ہے ۔ عیسائیوں کا معاملہ یہ ہے کہ ارض فلسطین سے ان کا بھی تعلق ہے ۔حضرت عیسی ؑ جہاں پیدا ہوئے، وہ مقام بیت اللحم ہی تھا ۔ پھر جہاں انہوں نے تبلیغ کی وہ سارا علاقہ فلسطین کا ہی ہے۔ پھر عیسائیوں کے قول کے مطابق اسی یروشلم شہر کے اندر ان کو صلیب دی گئی۔تو عیسائیوں کی نظرمیں فلسطین مذہبی اعتبار سے ان کا اہم ترین اور مقدس ترین علاقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عیسی ؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے ایک ہزار سال بعد انہوں نے ارض مقدس کو مسلمانوں کے قبضے سے وا گزار کرانے کے لئے کروسیڈز شروع کیں ۔ان کروسیڈز کے اندر انتہائی خون ریزی ہوئی اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں میں مسلمانوں کی اکثر بستیاں تباہ و برباد ہو گئیں ۔۱۰۹۹ ء میں عیسائیوں نے یروشلم فتح کر لیا تھا اور وہاں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیایورپی مورّخین لکھتے ہیں کہ جب عیسائی فاتحین کے گھوڑے یروشلم میں داخل ہوئے تو ان گھوڑوں کے گھٹنوں تک خون کا دریا بہہ رہا تھا ۔لیکن اللہ نے ۸۸سال بعد ۱۱۸۷ ء میں ایک مرد مجاہد صلاح الدین ایوبی کو اٹھایا،انہوں نے عیسائیوں کو شکست دی اور یروشلم واپس لے لیا ۔اس کے بعد بھی تین چار کوششیں ہوئی ہیں ۔کروسیڈز ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ ہوئے ہیں ۔تاہم اب امریکہ کے پروٹسٹنٹ عیسائی کہہ رہے کہ فیصلہ کن صلیبی جنگ شروع ہونے والی ہے،جب مسلمانوں کے ایک ایک بچے کو فلسطین سے نکال دیا جائے گا اور یہ زمین پاک کر دی جائے گی ۔The Philadelhia Trumpetکی اشاعت بابت اگست ۲۰۰۱ ء میں اس کے ایڈیٹر کی طرف سے یہ عبارت شائع ہوئی ہے کہ ’’ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ صلیبی جنگ ماضی کی بات ہے جو ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکی ۔لیکن وہ غلط سمجھتے ہیں ۔ آخری صلیبی جنگ کے لئے تیاریاں ہو رہی ہیں اور وہ سب سے زیادہ خون ریز ہو گی۔‘‘ اب مستقبل کیا ہے ؟ آئندہ کے حالات سا منے آگئے ہیں ۔ سن ۷۰ ء سے نکالے یہودی جن کی انتہائی Persecution ہونی ہے۔ پہلے کروسیڈز میں جہاں مسلمانوں کا قتل عام ہوا ہے، اس کے برابر یہودیوں کا بھی ہوا ہے کیونکہ عیسائیوں کو یہودیوں سے بھی شدید نفرت تھی۔ایک قوم عیسائی جو حضرت عیسی ؑ کو خدا کا بیٹا مانتی ہے جبکہ دوسری ( یہود ) انہیں نعوذ باللہ کافر ، واجب القتل مرتد ، باپ کے بغیر حلالی نہ ہونا ٹھہراتی ہے ۔تو ان دونوں قوموں میں مصالحت کیسے ہو سکتی ہے ؟ یہ تاریخ کا معجزہ ہے۔یہ یہودیوں کی محنت ،جدوجہد ،سازشی انداز ، منصوبہ بندی اور دور اندیشی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے عیسائیوں کو جو یہودیوں کے خون کے پیاسے تھے اور ان سے نفرت کرتے تھے ان عیسائیوں کو دو فرقوں میں تقسیم کر دیا پروٹسٹنٹس کو انہوں نے اپنا آلہ کار بنایا ۔اور آج پوری عیسائی دنیا ان کے قبضہ قدرت میں ہے،یہودیوں کا ایجنڈا کیا ہے ؟آرمیگاڈان کی ایک خبر دی گئی ہے کہ بہت بڑی جنگ ہو گی ۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ جلد از جلد ہو جائے ،جس کی حدیث میں بھی خبر ہے ’’ الملحمۃ الکبری ‘‘ تاریخ انسانی کی یہ سب سے بڑی جنگ کئی سالوں پر پھیلی ہو گی ۔یہ جنگ اگرچہ چھوٹے علاقے میں ہو گی،لیکن خون ریزی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جنگ ہو گی۔تو یہود چا ہتے ہیں کہ پہلے آرمیگا ڈان جسکے نتیجے میں گریٹر اسرائیل قائم ہو جائے۔اس کے لئے کو شش ہو رہی ہے ۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: