خواب تو خواب ہیں

تم گوروں کے ایوان میں نہیں بیٹھ سکتے‘‘ یہ وہ الفاظ تھے جو نومبر1868ء میں امریکی ایوان نمائندگان میں گونجے اورجان ولز مینارڈ کا سیاہ رنگ سرخ ہو گیا‘ وہ اپنی نشست سے اٹھا اور سپیکر کو مخاطب کر کے بولا ’’جناب عالی میں بھی دوسرے معزز ارکان کی طرح عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کرآیاہوں‘ مجھے اس ایوان میں بیٹھنے اور بولنے کیلئے بھیجا گیاہے‘ اگرمجھے بولنے اور بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو یہ جمہوریت کی توہین ہو گی‘‘ابھی مینارڈ کی بات جاری تھی کہ ایوان کے گورے ارکان نے اس کے خلاف نعرے لگانا شروع کر دئیے‘ وہ اونچی آواز میں چلا رہے تھے‘ ہم اس ایوان میں کسی کالے کو برداشت نہیں کر سکتے‘ مینارڈ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ جان ولز

مینارڈ امریکہ کی تاریخ کا پہلا سیاہ فام رکن اسمبلی تھا‘ امریکہ میں 1860ء تک سیاہ فام باشندوں کو صرف ایک ہی حق حاصل تھا اور وہ حق تھا غلامی۔ ابراہم لنکن نے 1860ء میں امریکہ میں غلامی کے خاتمے کااعلان کیا جس کے بعد امریکہ کے تمام کالے آزاد ہوگئے۔ جان ولز مینارڈ نے اس آزادی کو حقیقت سمجھ لیا‘ وہ الیکشن میں کھڑا ہوااور 1868ء میں رکن اسمبلی منتخب ہو کر ایوان نمائندگان میں داخل ہوگیا۔ وہ ایوان کے دوسرے ارکان کی طرح کرسی پر بیٹھنے لگا تو ایک گورے رکن نے اس کے بیٹھنے کے حق کو چیلنج کر دیا‘ جان ولز مینارڈ نے اس زیادتی پر احتجاج کیا لیکن اس کی آواز جلد ہی گوروں کی سرخ زبان تلے دب گئی اور اسے بالآخر ایوان سے باہر نکلنا پڑ گیا۔ جان ولز مینارڈ کا تعلق غلاموں کی نسل سے تھا‘ یہ نسل امریکہ کیسے پہنچی؟ اس کے بارے میں دو تھیوریاں تھیں‘ 30ہزار سال پہلے امریکہ اور ایشیا کے درمیان پندرہ سو کلومیٹر لمبی ایک پٹی ہوتی تھی‘ اس پٹی پر سفر کرتے ہوئے ایشیا اور افریقہ کے باشندے امریکہ پہنچے تھے بعدازاں دنیا میں طوفان اور سیلاب آئے‘سمندروں کا پانی بلند ہوا اور یہ پٹی سمندر میں ڈوب گئی جس کے بعد امریکہ اور ایشیا کا رابطہ ٹوٹ گیا۔ 1492ء تک یورپ‘ افریقہ‘ ایشیا اور مشرق بعید کے ممالک امریکہ کے وجود سے ناواقف رہے‘ 1492ء میں کرسٹوفر کولمبس بھارت جانے کیلئے سپین سے نکلااورغلطی سے امریکہ کے ساحل پرجااترا تو وہ نئی دنیا دیکھ کر حیران رہ گیا‘ لاکھوں کروڑوں میل تک جنگلات پھیلے تھے‘ ان جنگلات میں کروڑوں جانور پھر رہے تھے اور ان کروڑوں جانوروں کے درمیان مختلف نسلوں کے لاکھوں انسان رہ رہے تھے‘کولمبس جنوری 1493ء میں امریکہ سے واپس سپین پہنچاتواس کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں سگار اور مکئی کے بیج تھے‘ ان بیجوں اور سگاروں نے یورپ کو نیا راستہ دکھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے سپین‘ فرانس‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ بلجیئم اور ہالینڈ کے ہزاروں لوگ امریکہ روانہ ہو گئے۔ ان لوگوں نے امریکہ میں سینکڑوں بستیاں بسائیں ‘ یہ لوگ جنگل کاٹنے لگے‘ کانیں کھودنے لگے‘ جانوروں کا شکار کرنے لگے اور جانوروں کی کھالیں اور دانت اتارنے لگے اور یہ سارا مال بعدازاں یورپ میں ایکسپورٹ ہونے لگا‘اسی دوران شمالی امریکہ میں کپاس اور تمباکو کے بڑے بڑے فارم بھی بنائے گئے‘ یورپی باشندوں نے شروع شروع میں مقامی لوگوں کو غلام بنایا لیکن آنے والے دنوں میں یہ لوگ کم پڑ گئے چنانچہ یورپی جاگیردار غلاموں کی تلاش میں افریقہ کے ساحلوں پر جا اترے‘ یہ لوگ افریقہ کے جنگلوں میں جال لگا کر سیاہ فام لوگوں کو پکڑتے اور انہیں غلاموں کیلئے خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ بحری جہازوں میں جا پھینکتے‘ یہ سات‘ سات منزل کے جہاز ہوتے تھے جن میں تختوں پر لوہے کی ہتھکڑیاں اوربیڑیاں لگی ہوتی تھیں‘غلاموں کو ان بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا تھا‘ یہ لوگ چار ماہ تک اسی جگہ جکڑے رہتے تھے‘ یہیں پر پیشاب کرتے تھے اوریہیں پر انہیں کھانا دیا جاتا تھا۔ امریکہ پہنچ کر ان کی منڈیاں لگتی تھیں اوریہ جانوروں کی طرح بیچ دئیے جاتے تھے ‘نئے مالکان انہیں جانوروں کی طرح باڑوں میں رکھتے تھے‘ یہ لوگ اٹھارہ‘ اٹھارہ گھنٹے کانوں‘ کھیتوں اور باڑوں میں کام کرتے تھے‘ یہ لوگ سات نسلوں تک اسی صورتحال کا شکار رہے‘ ان کی اکثریت مسلمان تھی لیکن غلامی نے انہیں عیسائی بنا دیا‘پھر ان کی زندگی میں ابراہم لنکن آیا اور اس نے 1860ء میں انہیں غلامی سے آزاد کردیا۔ ابراہم لنکن کا تعلق ری پبلکن پارٹی سے تھا چنانچہ امریکہ کے سیاہ فام سو سال تک ری پبلکن پارٹی کو ووٹ دے کر ابراہم لنکن کی مہربانی کا قرض اتارتے رہے۔ ابراہم لنکن نے انہیں آزادی تو دے دی لیکن انہیں امریکہ میں انسانی حقوق نہ مل سکے‘ ان کے بچوں کو گوروں کے سکول میں داخلے نہیں ملتے تھے‘ یہ لوگ گوروں کی بسوں اور ٹرینوں میں سفر نہیں کر سکتے تھے‘ بیکریوں‘ سینما گھروں اور مارکیٹوں میں گوروں اور کالوں کی الگ الگ قطاریں لگتی تھیں حتیٰ کہ ان لوگوں کے چرچ تک الگ ہوتے تھے‘یہ لوگ دنیا کی جدید ترین ریاست میں قدیم ترین زندگی گزار رہے تھے لیکن پھر 1950ء میں انہیں مارٹن لوتھر کنگ کی شکل میں ایک نجات دہندہ مل گیا‘ مارٹن لوتھرسیاہ فام پادری تھا‘ ایک دن اس نے ایک سفید فام شخص کو بائبل پیش کی لیکن اس شخص نے اس کے کالے ہاتھوں سے بائبل لینے سے انکار کر دیا‘ یہ وہ لمحہ تھا جب مارٹن لوتھر کنگ نے اس نظام کو للکارنے کا فیصلہ کیا‘ اس نے کالوں کو جمع کیا اورسیاہ فاموں کے حقوق کیلئے لانگ مارچ شروع کر دئیے‘ مارٹن لوتھر کنگ کو اللہ تعالیٰ نے تقریر کے فن سے نواز رکھاتھا‘وہ بولتا تھا تو اس کے لفظ سننے والوں کے دل کی دھڑکن بن جاتے تھے‘ مارٹن لوتھر نے اپنی تقریروں سے پورے امریکہ میں آگ لگا دی‘ انہیں دنوں جان ایف کینیڈی ڈیموکریٹک پارٹی کا صدارتی امیدوار بنا‘ کینیڈی اور لنڈن بی جانسن نے مارٹن لوتھر کنگ کے مطالبہ کو اپنا صدارتی نعرہ بنالیا‘ کینیڈی 20جنوری 1961ء میں منتخب ہوا تو اس نے صدر بنتے ہی سیاہ فام باشندوں کو سفید فام لوگوں کے برابر حقوق دے دئیے۔یوں مارٹن لوتھرکنگ کا ایک خواب پورا ہو گیا‘اس کے کالے بچے گورے آقاؤں کے بچوں کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کھڑے ہوگئے لیکن ابھی دوسرا خواب دور تھا۔ امریکہ کی سیاہ فام نسل کو جس زمانے میں برابری کے حقوق ملے تھے اسی دور میں کینیا کا ایک غریب مسلمان طالب علم امریکہ پہنچا‘ اس کا نام بارک حسین اوبامہ تھا‘ اس نے اپنی کلاس فیلو این ڈنہم کے ساتھ شادی کی‘ وہ دونوں دو سال تک اکٹھے رہے‘ ان دو سالوں کی ایک نشانی بارک حسین اوبامہ جونیئر کی شکل میں ظاہر ہوئی‘ میاں بیوی کے درمیان طلاق ہوئی‘بارک حسین اوبامہ واپس کینیا چلا گیا لیکن وہ اپنی جدوجہد کی ایک نشانی امریکہ میں چھوڑ گیا‘ بارک حسین اوبامہ جونیئرنے زندگی کی سختیوں کو اپنا ہتھیار بنایا‘ وہ کولمبیا اور ہارورڈ یونیورسٹی سے ہوتا ہوا معاشرے میں اترا‘ اس نے سیاست شروع کی اور اس خواب کی تعبیر کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا جو اس کے سیاہ فام آباؤاجداد نے دیکھاتھا‘ اس نے 21ماہ قبل صدارتی مہم شروع کی‘ پوری دنیا کا خیال تھا وہ یہ مہم سرنہیں کر سکے گا کیونکہ سفید امریکی ذہن وائٹ ہاؤس میں کبھی کسی سیاہ بدن کی پرچھائی نہیں پڑنے دے گا لیکن پھر 5نومبر 2008ء کو یہ معجزہ ہو گیا۔ایک ایسا سیاہ فام شخص جس کے نام میں اسلام کی نشانی موجودتھی‘ وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا صدر بن گیا۔ بارک حسین اوبامہ کا سیاہ رنگ جیت گیا۔ میں جب ٹیلی ویژن پر اسے شکاگو کے سٹیڈیم میں لاکھوں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا تو میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں نے اللہ کی شان پر لاکھ لاکھ شکر ادا کیا ۔کینیا دنیا کا وہ ملک تھا جس سے امریکیوں نے 1541ء میں پہلی بار غلام درآمد کیے تھے‘یہ غلام مسلمان تھے اورصدیوں کے جبر نے ان لوگوں کو کلمہ تک بھلا دیا تھالیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اسی کینیا سے ایک مسلمان امریکہ بھجوایا اور یہ مسلمان امریکہ میں تبدیلی کی ایک ایسی ’’جاگ‘‘ لگا گیا جس نے آنے والے دنوں میں دنیا کے تمام سیاہ فاموں کا سر فخر سے بلند کردیا۔ یہ بارک اوبامہ مذہباً عیسائی ہے لیکن اس کے نام کے درمیان حسین آتا ہے اوریہ حسین آنے والے دنوں میں کیا شکل اختیار کرتا ہے ہم آج کے دن میں بیٹھ کر اس کااندازا نہیں لگاسکتے۔اللہ کے رنگ بھی عجیب ہیں‘ وہ جب عقل کو حیران کرنا چاہتا ہے تو وہ بتوں کو کعبے کی حفاظت کی ذمہ داری سونپ دیتا ہے‘ وہ امریکہ جیسی طاقتوں کے اندر بارک حسین اوبامہ جیسے لوگ پیدا کر دیتا ہے اوروہ فرعونوں کو اندر سے موت دے دیتا ہے لہٰذا ہو سکتا ہے امریکہ کے کالوں کو صدیوں کی غلامی سے آزادی دینے والا یہ بارک اوبامہ آنے والے دنوں میں دنیا بھر کے مسلمانوں کانجات دہندہ بھی بن جائے۔ دنیا میں صرف اللہ تعالیٰ ہے جو نا ممکنات کو ممکنات میں تبدیل کر سکتا ہے‘ ہو سکتا ہے یہ بارک حسین اوبامہ ہمارے آج کے ناممکن کو بھی ممکن بنا دے۔ خواب تو خواب ہیں اگر مارٹن لوتھر خواب دیکھ سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں دیکھ سکتے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: