کاش کبھی ایسا ہو جائے

نکولس سرکوزی فرانس کا’’نوجوان‘‘ صدر ہے‘وہ 28جنوری 1955ء کو فرانس میں پیدا ہوا‘ اس کے والد پال سرکوزی کا تعلق ہنگری سے تھا۔ سوویت یونین کی سرخ فوج 1944ء میں ہنگری میں داخل ہوئی تو سرکوزی کے والد جرمنی بھاگ گئے اوروہ وہاں سے فرانس آ گئے۔ ان کے والد نے 1949ء میں اینڈری مالہ سے شادی کرلی‘ نکولس سرکوزی ان کا دوسرا بیٹا تھا‘پال سرکوزی اور اینڈری مالہ میں بعد ازاں اختلافات ہوئے اور سرکوزی کے والد ان کی ماں کو چھوڑ کر چلے گئے چنانچہ سرکوزی اور ان کے دونوں بھائیوں کی پرورش ان کے ننھیال کو کرنا پڑ گئی لیکن سرکوزی‘ اس کا خاندان اور اس کے بچپن کے حالات ہماری اس کہانی میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتے چنانچہ ہم تیزی سے آگے بڑھتے ہیں۔ سرکوزی اچھا

طالب علم ثابت نہیں ہوا‘ وہ مختلف سکولوں اور کالجوں سے پاس ‘فیل ہوتا ہوا یونیورسٹی آف پیرس میں پہنچ گیا اور اس نے بزنس لاء کی ڈگری لے لی۔ بعدازاں اس نے سیاسیاست کے انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لیالیکن انگریزی کمزور ہونے کی وجہ سے فیل ہو گیا۔ وہ اس کے بعدقانون کی تعلیم کیلئے نکلا‘ اس نے بار کا امتحان پاس کیا اور وکیل بن گیا۔سرکوزی نے 1982میں پہلی شادی کی اور 1996ء میں بیوی کو طلاق دے دے۔ اس سال اس نے دوسری شادی کی لیکن مارچ 2005ء میں اس نے دوسری بیوی کو بھی طلاق دے دی۔ اب کیونکہ سرکوزی کی خانگی زندگی بھی ہماری کہانی میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتی چنانچہ ہم اس سے بھی تیزی سے آگے بڑھتے ہیں۔ سرکوزی نے 22سال کی عمر میں سیاست شروع کی‘ وہ پیرس شہر کی ایک مضافاتی بستی کے کونسلر بن گئے ‘ وہ چند برسوں بعد اس بستی کے میئر منتخب ہو گئے‘ وہ فرانس کے نوجوان ترین میئر تھے۔وہ 1988ء میں فرانس کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی منتخب ہوگئے اور 1993ء میں بجٹ کے وزیر اور کابینہ کے ایگزیٹو بن گئے‘ وہ یاک شیراک کے اسسٹنٹ بھی رہے ۔صدر یاک شیراک نے 2002ء میں سرکوزی کو وزیرداخلہ بنا دیا‘ وہ 2004ء میں وزیرخزانہ بن گئے اور 2005ء میں انہیں ایک بار پھر وزیرداخلہ بنا دیا گیا‘ وہ فرانس کی تاریخ کے مقبول ترین وزیرداخلہ تھے جبکہ سرکوزی کو ان کی سیاسی جماعت (یو ایم پی) نے 14جنوری 2007ء کو اپنا صدارتی امیدوار منتخب کرلیا۔سرکوزی نے 16مئی 2007ء میں الیکشن لڑا اور وہ 16مئی 2007ء کو فرانس کے صدر منتخب ہوگئے۔ وہ فرانس کے پہلے صدر تھے جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد جنم لیا تھا لیکن سرکوزی کا سیاسی کیرئر اور پروفائل بھی ہمارے لئے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا چنانچہ ہم اس سے بھی آگے بڑھتے ہیں۔ فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی 2007ء کے آخر میں اچانک سابق سپر ماڈل اور گلوکارہ کارلا برونی کے ساتھ دیکھے جانے لگے۔ کارلا برونی اٹلی کے بزنس مین خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور وہ یورپ کی سپر ماڈل اور گلوکارہ تھی۔وہ 1967ء میں اٹلی میں پیدا ہوئی تھی اور اس وقت وہ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے۔ کارلا برونی ایک خوشحال خاتون ہے‘ اس کی ذاتی آمدنی ساڑھے سات لاکھ یورو سالانہ ہے اور وہ عام زندگی میں ایک گرم جوش اور متحرک خاتون ہے۔ کارلا برونی صدر سرکوزی سے پہلے میک حاجر‘ اریک کیلپئن‘ کیون کوسٹر‘ ونسینٹ پریز‘ ڈونلڈ ٹرومپ اور فرانس کے سابق وزیراعظم لورینٹ فیبس کو بھی بھگتا چکی ہے‘ یہ تمام لوگ اس کے بوائے فرینڈ رہے تھے اور کارلا برونی ایک بچے کی ماں بھی ہے۔ 2007ء میں نکولس سرکوزی اور کارلا برونی کی ملاقات ہوئی‘ دونوں قریب آئے‘ میڈیا کی نظروں میں آئے اور پوری دنیا کے اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز نے اس نئے جوڑے کو کوریج دینا شروع کر دی لیکن صدر سرکوزی اور کارلا برونی نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی‘ اسی دوران کارلا برونی نے فرانسیسی صدر سرکوزی کے ساتھ بے شمار ممالک کے دورے کئے اور دونوں نے ان تمام ممالک میں اچھا وقت گزارا۔2008ء کے شروع میں فرانس کے چند اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز نے دعویٰ کیا ہے‘نکولس سرکوزی کارلا برونی کے ساتھ شادی کر چکے ہیں اور وہ چند ہی دنوں میں شادی کا اعلان کرنے والے ہیں لیکن یہ بات ابھی صرف افواہوں اور سرگوشیوں تک محدود ہے اوریہ سرگوشیاں‘ یہ افواہیں‘ یہ شادی اور سرکوزی اور کارلا برونی کی ازدواجی زندگی بھی ہمارے لئے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی چنانچہ ہم اس قصے سے بھی آگے بڑھتے ہیں۔ فرانس کے صدر نکولس سرکوزی 25اور 26 جنوری 2008ء کو بھارت کے سرکاری دورے پر آئے تھے۔یہ دورہ دو ماہ قبل طے ہوا تھا‘ جنوری کے وسط میں کارلا برونی نے بھی صدر کے ساتھ بھارت جانے کا فیصلہ کیا ‘ وہ آگرہ میں تاج محل دیکھنا چاہتی تھی اور اس کے سامنے کھڑی ہو کر تصویر کھنچوانا چاہتی تھی ۔فرانسیسی حکومت نے بھارت کو صدر کے ساتھ کارلا برونی کی آمد کی اطلاع دے دی‘ یہ اطلاع جوں ہی بھارت پہنچی تو بھارتی حکومت پریشان ہو گئی۔ بھارتی حکومت کی پریشانی کی دو بڑی وجوہات تھیں۔ اول ‘ بھارت میں کبھی کوئی صدر اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ نہیں آیا تھا اور بھارتی حکومت کا خیال تھا اگر اس نے فرانسیسی صدر کی گرل فرینڈ کو سرکاری پروٹوکول دیا تو عوام ناراض ہوجائیں گے۔بھارت ابھی اس حد تک ’’میچور‘‘ نہیں ہوا کہ لوگ حکومت کو کسی صدر کی گرل فرینڈ کا استقبال کرتے دیکھیں اور خاموش رہیں۔ دوم‘ فرانسیسی صدر کارلابرونی کو اہلیہ سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں لہٰذا سرکوزی کی خواہش ہو گی بھارتی حکومت کارلابرونی کو ’’فرسٹ لیڈی‘‘ کا پروٹوکول دے اور اگر حکومت اس خواہش کا احترام کرتی ہے تو یہ سفارتی بددیانتی ہوگی جبکہ دوسری صورت میں اگر کارلا برونی کو پروٹوکول نہیں دیا جاتا تو صدر نکولس سرکوزی ناراض ہو سکتے ہیں۔بھارت کی وزارت خارجہ نے چنددن اس مسئلے پر سوچا اور اس کے بعد کارلا برونی کو بھارت اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ بھارتی حکومت کا کہنا تھا ’’ہم مشرقی لوگ ہیں اورہمارے ملک میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے تعلق کو معیوب سمجھا جاتا ہے چنانچہ صدرمہربانی فرما کر کارلابرونی کو اپنے ساتھ نہ لائیں‘‘ یہ بھارت جیسے غریب ملک کی طرف سے فرانس جیسے امیر ملک کی ٹھیک ٹھاک توہین تھی اور ممکن تھا فرانسیسی صدر اپنا دورہ منسوخ کر دیتے لیکن سرکوزی نے دورہ منسوخ نہ کیا۔اس کی وجہ بھی بہت دلچسپ تھی‘ فرانسیسی صدر کے ساتھ تین سو لوگوں کا وفد بھارت آ رہا تھا جن میں 60بڑے بزنس مین اور فرانس کے تعلیمی اداروں کے 20مالکان بھی شامل تھے‘ یہ تمام لوگ کاروباری معاہدے کرنے بھارت جا رہے تھے اور سرکوزی فرانس کے تاجروں کی اہمیت سے واقف تھے چنانچہ سرکوزی اپنی محبوب گرل فرینڈ کو پیرس چھوڑ کر 25جنوری کو بھارت پہنچ گئے اور انہوں نے 26 جنوری کو تاج محل کی سیر کی اور وہ تاج محل کے سامنے بیٹھ کر دو گھنٹے تک اپنی گرل فرینڈ کو یاد کرتے رہے۔یہ دو گھنٹے بھارتی حکومت کا انکار اور کارلا برونی کی ادھوری خواہش ہمارے لئے اہمیت رکھتی ہے اور میں آپ کو اس نکتے پر لانا چاہتا تھا۔ فرانسیسی صدر کی گرل فرینڈ کارلا برونی اس سے قبل سرکوزی کے ساتھ سعودی عرب‘ قطر‘ دوبئی‘ مصر اور اردن کا درہ کر چکی ہے‘ یہ پانچوں اسلامی ملک ہیں اور ان پانچوں ممالک میں کارلا برونی فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کے ساتھ گئی تھی اور کسی اسلامی ملک نے کارلابرونی‘ اس کے ناجائز رشتے اور اس ’’ناجائز دورے‘‘ پر اعتراض نہیں کیا تھااور ان پانچوں ممالک نے کارلا برونی کو فرسٹ لیڈی کا پروٹوکول اوراستقبال دیا تھا۔میں نے جب سے بھارت کے انکار کے بارے میں پڑھا ہے ‘ مجھے اس وقت سے یوں محسوس ہوتا ہے اگرنکولس سرکوزی پاکستان کا دورہ کرتے اور کارلا برونی ان کے ساتھ پاکستان آتی تو شائد ہم نہ صرف اسے سرکاری پروٹوکول دیتے بلکہ ہو سکتا ہے لگے ہاتھوں اسے بادشاہی مسجد کی سیر بھی کرا دیتے اورسرکوزی اور کارلا برونی کو اردن‘ مصر‘ دوبئی‘ قطر اور سعودی عرب کی طرح پاکستان میں بھی کسی قسم کا مسئلہ پیش نہ آتا۔ یہ نوجوان جوڑا کراچی‘ لاہور یااسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترتا‘ہم اسے 21توپوں کی سلامی دیتے‘ اسے گارڈ آف آنر پیش کرتے اور جب تک یہ دونوں ہمارے ملک میں رہتے‘ ہم ان کے راستے میں پھولوں کی پتیاں بچھاتے رہتے لیکن کیونکہ صدر سرکوزی اور ان کی گرل فرینڈ کارلا برونی پاکستان نہیں آئی چنانچہ یہ دونوں ہماری میزبانی اور ہم ان کی خدمت سے محروم رہے اور ہم سعودی عرب‘ قطر‘ دوبئی‘ مصر اور اردن کی طرح شرف میزبانی بھی حاصل نہیں کر سکے مگر میری خواہش ہے ہماری زندگی میں ایسا وقت ضرور آئے جب ہم نہ صرف کارلابرونی کا استقبال کر رہے ہوں بلکہ اس کی پالتو بلیوں کی خدمت بھی کررہے ہوں۔آخر ہمیں کسی نہ کسی شعبے میں تو اپنے ہمسائے ملک سے آگے بڑھنا چاہئے۔ مجھے نہیں معلوم وہ سنہری دن کب طلوع ہوگا لیکن اس دن سے پہلے ایک بات طے ہے قومیں‘ انا‘ عزت نفس اور وقار کے بغیر زندہ نہیں رہتیں اور یہ عزت نفس‘ وقار اور انا کی قوت ہوتی ہے جو قوموں کو اقوام عالم کی بھیڑ میں سر اٹھا کر چلنے کی جرات دیتی ہے اور بدقسمتی سے عالم اسلام اس قوت سے محروم ہے۔ میں نے جب سے یہ خبر پڑھی ہے میرے دل سے آہ نکل رہی ہے اور میں دعا کر رہا ہوں کاش بھارت کی جگہ ہم ہوتے‘ کاش ہمارے اندر اتنی طاقت ہوتی کہ ہم فرانس‘ امریکہ اور برطانیہ جیسے ملکوں کے سربراہان کو ٹوک سکتے۔کاش ہم انہیں یہ کہہ سکتے اگر تم نے پاکستان آنا ہے تو تمہیں ہماری شرائط پر آنا پڑے گا‘ تمہیں ہماری خواہشات کا احترام کرنا پڑے گا۔ کاش کبھی ایسا ہوجائے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: