Today's Columns

مرکز جمال نقشبند اتحاد کا مظہر از عمر فاروق ( آگہی )

دریائے سواں کے کنارے مرکزجمال نقشبندسہالہ میں دربارعالیہ نیریاں شریف کے سجادہ نشیں ڈاکٹرپیرمحمدسلطان العارفین نے خوبصورت محفل سجائی تھی یہ اجتماع ایک ایسے وقت میں منعقدکیاگیاجب ملک انتشاروافتراق کاشکارہے قومی وملی اتحادکے حوالے سے سب سے زیادہ ذمے داری حکومت کی ہوتی ہے مگرموجودہ حکومت کویہ اعزازحاصل ہے کہ یہ انتشارپھیلانے میں اپناثانی نہیں رکھتی نئے پاکستان کے نام پرپہلے سے قائم اداروںکوبربادکیاجارہاہے تعمیرنوکے نام پرتخریب کاری کی جاری ہی ہے سیاسی انتشارتورہاایک طرف مذہبی اورفرقہ وارانہ افتراق کوبھی ہوادی جارہی ہے ایسے اقدامات اورقانون سازی کی جارہی ہے کہ جس سے قومی وملی وحدت پارہ پارہ ہورہی ہے ،
گزشتہ سال سرکاری سطح پر فرقہ وارانہ تصادم کرانے کی سازش کی گئی اسلام آبادمیں حکومتی خرچ پرایک ایسی محفل سجائی کہ جس میں کی گئی ایک تقریرنے پورے ملک میں آگ لگادی اورحکومت نے ملزم کوراتوں رات بیرون ملک فرارکردادیاعلماء نے بروقت اقدام کرکے اس سازی کوناکام بنایااس کے بعدحکومت نے وقف املاک ایکٹ بناکرانتشارکوہوادی اوراب سالہاسال سے قائم دینی مدارس کے پانچ بورڈزکے مقابلے میں نئے بورڈزبناکرتخریب کاری کی گئی ہے ۔حکومت کے اتحادکش فیصلوں اوراقدامات کے باوجود خوش آئندہ بات یہ ہے کہ مذہبی طبقہ انتشارکاشکارنہیں ہورہااورانہیں اپنی ذمے داریوں کااحساس ہے یہی وجہ ہے کہ اگرکہیں کوئی اختلافی مسائل سامنے آتے بھی ہیںتوعلماء مل بیٹھ کرحل کررہے ہیں۔
80کنال پرمحیط محی الدین اسلامک یونیورسٹی کے کیمپس کے وسیع وعریض گرائونڈمیں یہ کانفرنس اسی سلسلے کی کڑی تھی، عظیم الشان سنی کانفرنس بعنوان افضلیت سیدناصدیق اکبرمیں بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والی مسلمہ قیادت ،تمام بڑی خانقاہوں کے سجادہ نشیں اوراہل علم حضرات جمع تھے خوبصورت اورعلمی اندازمیں دلیل وبرہان کے ساتھ اپنامئوقف بیان کررہے تھے گزشتہ کچھ عرصے سے اہل سنت بریلوی مسلک میںاندرونی وبیرونی طورپر مذہبی اختلافا ت کوہوادینے کی کوششیں ہورہی ہیں اورانتشارپھیلانے کے نت نئے ہتھکنڈے آزمائے جارہے ہیں مگرپیرسلطان العارفین جیسے دانالوگ اس میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔
کانفرنس سے ایک دن قبل اپنے دوست صاحبزادہ سعیدالرشیدعباسی کے ہمراہ پیرسلطان العارفین سے ملاقات کے لیے حاضرہواتوانہیںقومی وملی مسائل کے حوالے سے بہت فکرمندپایا،آپ کے ابائوواجدادکاتعلق افغانستان کے پٹھان قبیلے غزنوی سے ہے اورروحانی نسبت سیدناصدیق ابوبکرصدیق سے ہے جس کی وجہ سے نام کے ساتھ صدیقی لکھتے ہیں آپ خواجہ غلام محی الدین کے پوتے اورشیخ العالم پیرعلائوالدین صدیقی کے صاحبزادے ہیںپیرسلطان العارفین عصری ومذہبی علوم کی حامل شخصیت ہیں آپ نے میڑک راولپنڈی جبکہ ایف اے اور بی اے سرگودھا سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا جس کے بعد آپ نے جسٹس پیرکرم شاہ الازہری کے قائم کردہ مدرسہ بھیرہ شریف نے درس نظامی کی تکمیل کی ،بعدازاںعالم اسلام کی عظیم درس گاہ جامعتہ الازہر تشریف لے گے وہاں سے تخصص فی الحدیث کی سند حاصل کی او واپسی پر آپ نے اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے اصول الدین میں ماسٹر کیا اور پھر نمل یونیورسٹی سے ایم فل کیاجس کے بعد اپنے والدکے قائم کردہ ادارہ محی الدین اسلامک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کااعزازحاصل کیا آپ عربی،اردو ،انگریزی ،پشتو اور پنجابی زبان پر عبور رکھتے ہیںاس کے ساتھ ساتھ وحدت امت کے داعی ہیں ۔
یہ آپ کی دعوت اوراخلاص کاہی نتیجہ تھا کہ ملک اوربیرون ملک سے جیدعلماء کرام ومشائخ شہرکی چکاچوندسے دوراس ویرانے میں جمع تھے جس میں تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمن ،جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کے مہتمم علامہ پیرسیدحسین الدین شاہ ،معروف خطیب علامہ سیدمظفرحسین شاہ ،سابق وزیرمذہبی امورعلامہ حامدسعیدکاظمی ،سابق وزیرمملک پیرامین الحسنات ،سابق وزیراعظم آزادکشمیرسردارعتیق احمدخان ،سابق وزیراعلی خیبرپختونخواہ پیرصابرشاہ ،ممبراسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹرساجدالرحمن ،مفتی ابراہیم قادری ،مفتی محمدانصرالقادری برطانیہ ،پیرمحمدطیب الرحمن برطانیہ ،مفتی محمداسلم بندیالوی برطانیہ ،سجادہ نشیں دربارعالیہ سلطان حق باہوپیرسلطان فیاض الحسن قادری ،پیرنقیب الرحمن عیدگاہ شریف ،حاحبزادہ میاںولیدشرقپورشریف ،مفتی محمدحسین چشتی آزادکشمیر،جمعیت علماء پاکستان کے رہنماء قاری زواربہادر،صاحبزادہ حسنین فاروق چورہ شریف ،مفتی محمدرفیق الحسنی ،مفتی نویدالحسن مشہدی بھکی شریف ،آغاابوالحسن مجددی ،مفتی محمدصدیق ہزاروی ،صاحبزدہ غلام بشیرنقشبندی ،صاحبزادہ بدرعالم جان ،مفتی عابدمبارک کراچی ،کرنل رسرفرازسیفی ،مولاناحبیب احمدنقشبندی ،صاحبزادہ غلام ربانی ،مفتی وسیم رضا،مولاناامتیازصدیقی،قاضی ضیاء الرحمن ،مفتی ضمیراحمدساجد،زمردخان ،قاری علی اکبرنعیمی ،ڈاکٹرظفراقبال جلالی ،مفتی محمداسلم ضیائی اوردیگرنامورعلماء کرام شامل تھے ۔
یہ کانفرنس سات گھنٹے سے زائدوقت تک جاری رہی جس کے آخرمیں پیرسلطان العارفین نے ایک متفقہ اعلامیہ بھی پیش کیاجس میں قومی وملی تمام مسائل کااحاطہ کیاگیا اعلامیے میں کہاگیاکہ پاکستان ہی نہیں دنیاکااولین مسئلہ دیرپاامن کاحصول ،روداداری اورملکی معاشی استحکام ہے جس میں سب سے بڑی رکاوٹ فاشزم،نسل پرستی ،مذہبی عصبیت ،دہشت گردی ،انتہاپسندی اوررنگ ونسل کی بنیادپرنفرت انگیزی ہے آج ہم برملاان تمام مفسدین ،انتہاپسندوں اوردہشت گردوں سے اعلان برات کرتے ہیں ملک کوامن کاگہوارہ بنانے کے لیے ہرسازش کامقابلہ کریں گے بلکہ اس حوالے سے اخلاص اورحسن نیت سے کرداراداکرنے والی قوتوں کاساتھ دیں گے ۔ہم دہشت گردی کے خلاف قومی سلامتی کے اداروں کی بے مثال قربانیوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں اوران کی کامیابی کے لیے دعاگوہیں ۔
حکومت اگرملک میں امن ومفاہمت کوفروغ دیناچاہتی ہے تواسے امن پسندلوگوں کے ساتھ مکالمہ کرناہوگاہمارے ہاں یہ کلچرپروان چڑھ چکاہے کہ جب تک کوئی نظام کے لیے خطرہ نہ بنے نہ اس کی بات سنی جاتی ہے اورنہ اس کوجائزاہمیت دی جاتی ہے اس لیے اب وقت آگیاہے کہ ملک پرامن اورخاموش اکثریت کی لازوال قربانیوں کی قدرکی جائے اورانہیں جائزمقام دیاجائے اوران کی جائزشکایات کافوری ازالہ کیاجائے ،حکومت پاکستان کاپاس کردہ وقف املاک ایکٹ پرشدیدتحفظات ہیں اس ایکٹ کوغیرمشروط طورپرواپس لیاجائے یہ ایکٹ قرآن وسنت کی تعلیمات کے یکسرمنافی ہے علماء نے جوترمیمی بل حکومت کوپیش کیاہے اس کوپارلیمنٹ سے منظورکروایاجائے ۔
معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت ،انتہاپسندی اوردہشت گردی کی صرف زبانی مذمت کافی نہیں ان انسانیت کش امراض کے اسباب کاکھوج لگانابھی ضروری ہے عالمی سطح پرمسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ اوراسلاموفوبیامحض ایک مفروضہ نہیں بلکہ ثابت شدہ حقیقت ہے کشمیر،فلسطین ،روہنگیاودیگرمقامات پرہونے والے انسانیت سوزمظالم پرعالمی برداری کی مجرمانہ خاموشی اوراس کے سدباب کے لیے مئوثراقدامات نہ کرناحقوق انسانی کے خلاف ایک سنگین جرم ہے ،خصوصی طورپرکشمیرکے حوالے سے عالمی برداری اورانسانی حقوق کی تنظیموں کی مجرمانہ خاموشی کی مذمت کرتے ہیں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کواستصواب رائے اوراپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کاحق دیاجائے ایسٹ تیموراورجنوبی سوڈان کی طرح مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اوراس کے لیے عالمی برداری بھارت پرسیاسی ،سفارتی اوراقتصادی دبائوڈالے
عقیدہ ختم نبوت او ناموس رسالت کے تحفظ ودفاع کے ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اس حوالے سے سازش کرنے والی قوتوں کاہرمحاذپرمقابلہ کریں گے ،ناموس رسالت ،امہات المومنین ،اہل بیت اطہار،ناموس صحابہ کرام کی شان میں گستاخی اوران پررکیک حملے ہرگزبرداشت نہیں کریں گے ہم سمجھتے ہیں کہ صحابہ کرام کی جماعت پرحملہ درحقیقت اسلام اورپیغمبراسلام پرحملہ ہے اہل سنت وجماعت میںافضلیت سیدناصدیق اکبرمتفقہ ومسلمہ ہے اس حوالے سے تفردات اورتاویلات نہ کی جائیں اورعوام میں مباحثوں ومجادلوں کامیدان نہ بنایاجائے ،
،اپنے مذہبی نظریات کومسلط کرنے کے لیے طاقت کااستعمال ،اخلاق واقدارسے گری ہوئی انتہائی ناشائستہ زبان وبیان ،تہمت سازی ،افتراپردازی ،کردارکشی ،عدم برداشت کاتیزی سے پروان چڑھتاکلچر،ملک وملت اورپرامن دینی فضاء کے لیے تباہ کن ثابت ہوگااس لیے ضروری ہے کہ ملکی سطح پرکام کرنے والی تنظیمیں ،جماعتیں اورافرادمل کرعصرحاضرکے نظریاتی اورفکری چیلنجوں سے آگہی پیداکرنے اوران سے نمٹنے کے لیے دلیل اوراستدلال کے فن آشناکرنے کے لیے علماء وخطباء اورآئمہ کرام کی خصوصی تربیتی نشستوں کااہتمام کیاجائے ۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: