Today's Columns

ایک زرداری اپوزیشن پر بھاری از عمر فاروق ( آگہی )

جمعیت علماء اسلام کے2018کے لانگ مارچ کے بعدضامنوں کی طر ف وعدے پورے نہ کرنے پرمولانافضل الرحمن دوبارہ متحرک ہورہے تھے اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کررہے تھے کہ اس دوران کروناکی پہلی لہرآگئی اورکاروبارزندگی ٹھپ ہوکررہے گیامولانانے بھی اپنی سرگرمیاںکچھ حدتک موقوف کردیں مگروہ حکومت مخالف نئی تحریک کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے بدستور رابطوں میں تھے گزشتہ سال کے لاک ڈائون کے خاتمے کے بعدمولانانے ان رابطوں میں تیزی کردی کہ اس موقع پراچانک پیپلزپارٹی آگے بڑھی اور اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیزکانفرنس بلانے کافیصلہ کیا20ستمبرکواسلام آبادمیں یہ کانفرنس منعقدہوئی اورپاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے اپوزیشن جماعتوں کا اتحادقائم ہوا۔
یہ پہلے دن سے طے تھا کہ آصف علی زرداری ایک ایجنڈے کے تحت متحرک ہوئے ہیں مقصدیہ تھاکہ کسی طرح اپوزیشن کے غبارے سے ہوانکالی جائے پیپلزپارٹی کی بدنیتی شروع سے ہی واضح تھی اس اے پی سی میںدیگرقائدین کے مقابلے میں مولانافضل الرحمن کی تقریربراہ راست نہ دکھائی گی تو مولانااحتجاج کرتے ہوئے کہاکہ حکومت تو ہماری آواز پبلک میں جانے سے روکتی ہے، اے پی سی میں بھی ہماری تقریر آن ائیر ہونے سے روکی گئی، یہ نامناسب بات ہے، اس پر وہ پیپلز پارٹی سے سخت احتجاج کرتے ہیںجس پربلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ کے ایم این اے کی درخواست پر اِن کیمرا کیا ہے، اس کے بعد پریس کانفرنس ہوگی۔بلاول کے موقف پر مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ یہ اِن کیمرا تو نہیں تھا، جس پر شیری رحمان نے کہا ہمیں کہا گیا تھا آپ لوگوں نے درخواست کی ہے، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم نے کوئی درخواست نہیں کی۔
آل پارٹیزکانفرنس میں پورے ملک میں عوامی جلسوں کاشیڈول دیاگیااپوزیشن جماعتوں کاپہلاجلسہ 16اکتوبرکوگوجرانوالہ میں ہواجس میں مسلم لیگ ن کے قائدمیاں نوازشریف نے دھواںدارتقریرکی یہ ایک ایسی تقریرتھی جوکسی کے وہم وگمان میں نہیں تھی اس تقریرنے پورے ملک میں بھونچال پیداکردیامیاں نوازشریف نے براہ راست عسکری قیادت پرالزامات عائدکرکے نیاپنڈورہ بکس کھول دیا جس کانتیجہ یہ نکلاکہ 18اکتوبرکوپیپلزپارٹی کی میزبان میں کراچی میں ہونے والے جلسے میں میاںنوازشریف کوتقریرکی اجازت نہیں دی گئی ،آصف علی زرداری کی کوشش تھی کہ پی ڈی ایم کی قیادت اگرچہ مولانافضل الرحمن کے ہاتھ میں تھی مگرفیصلہ سازی وہ اپنے ہاتھ میں رکھیں گے اوراس کوشش میں وہ کافی حدتک کامیاب بھی رہے ،
آصف علی زرداری نے بلاول بھٹوکومیدان میں اتارامگرسٹیرنگ اپنے رکھااپوزیشن جلسوں میں بلاول بھٹونے پرجوش اندازمیں اپنی تقریرکے جوہردکھائے ،حکومت کوبھی آڑے ہاتھوں لیامگرآصف علی زرداری نے انہیں فیصلے کااختیارنہیں دیا اس احتجاجی تحریک کے دوران فیصلہ کیاکہ پی ڈی ایم نے فیصلہ کیاکہ تمام جماعتوں کے ممبران پارلیمنٹ 31دسمبرتک اپنے استعفے پارٹی قیادت کے پاس جمع کروائیں گے اور31جنوری 2021تک وزیراعظم مستعفی ہوجائیں ورنہ اپوزیشن جماعتیں چاروں صوبوں اورقومی اسمبلی سے مستعفی ہوجائیں گی ان استعفوں کامقصدیہ تھا کہ سینٹ الیکشن نہ ہوسکے مگراس مرتبہ آصف علی زرداری پھرمتحرک ہوئے اورکہاکہ مجھے پتہ ہے کہ حکومت کوکیسے گھربھیجناہے ۔
31دسمبرتک تمام جماعتوں کے ممبران نے اپنے استعفے قیادت کے پاس جمع کروائے بلکہ ن لیگ کے چنداستعفے سوشل میڈیاسے ہوتے ہوئے سپیکرکے پاس بھی جاپہنچے مگرپیپلزپارٹی کے استعفوں کی کانوں کان خبرنہ ہوئی ،طے شدہ پلان کے تحت پیپلزپارٹی نے دیگراپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بغیر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتمادلانے کامشورہ دے کرسب کوحیران کردیا چنددن کی بحث کے بعد اپوزیشن جماعتیں بالآخریہ کہنے پرمجبورہوئیں کہ پیپلزپارٹی کے پاس اگرنمبرپورے ہیں تووہ عدم اعتمادلے آئے آصف علی زرداری نے اس پرچپ سادھ لی اوراگلے پلان پرعمل کرتے ہوئے اپوزیشن کوضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے رام کرناشروع کردیااپوزیشن جماعتوں نے ضمنی الیکشن میں حصہ لیا اورایک آدھ سیٹ کے علاوہ تمام سیٹوں پراپوزیشن جماعتوں کوکامیاب کروانے کاانتظامات کروایاگیا ڈسکہ الیکشن پی ٹی آئی کے مقامی رہنمائوں کی انااورضدکی وجہ سے متنازع بناورنہ یہ سیٹ بھی ن لیگ جیت چکی تھی ۔
ضمنی الیکشن کے بعدآصف علی زرداری نے سینٹ الیکشن کوبھی ایک معرکہ بنادیاتاکہ اپوزیشن کوبتایاجاسکے کہ پارلیمنٹ کے اندرسے ہم تبدیلی لاسکتے ہیں مگراپوزیشن میں شامل دوبڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اورجمعیت علماء اسلام نے ان ہائوس کی تبدیلی کویکسرمستردکردیابلکہ ن لیگ نے پنچاب میں بھی وزیراعلی کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی دلچسپی نہ دکھائی جبکہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی سے اعتمادکاووٹ حاصل کرکے زرداری کوجواب دے دیا سینٹ میں دھاندلی ،ہارس ٹریڈنگ کے بدترین الزامات اوربدنامی کے بعدآصف علی زرداری کے ہاتھ صرف یوسف رضاگیلانی کی سیٹ آئی اورسینٹ میں چیئرمین کااہم ترین معرکہ آصف علی زرداری اکثریت کے باوجود ہارگئے ۔
اپوزیشن جماعتوں کوامیدتھی کہ انہوںنے پیپلزپارٹی کی تمام باتیں مانی ہیں اب پیپلزپارٹی ان کی بات مانے گی مگراپوزیشن شایدیہ بھول گئی تھی کہ ان کاپالااس آصف علی زرداری سے پڑاتھا کہ جس نے کہاتھا کہ وعدے قرآن وحدیث تھوڑی ہوتے ہیں اپوزیشن جماعتوں کااہم ترین اجلاس گزشتہ روزہواجس میں 26مارچ کے لانگ مارچ کے ساتھ ساتھ اسمبلیوں سے استعفوں سے کے متعلق بھی فیصلہ کرناتھا پی ڈی ایم میں شامل 9جماعتوں کایہ خیال تھا کہ یہ فیصلہ کرلیاجائے کہ بھرپوراندازمیں لانگ مارچ کیاجائے اوراس لانگ مارچ کے نتائج برآمدنہیں ہوتے تواس کے آخرمیں اسمبلیوں سے مستعفی ہوکرواپس جایاجائے مگرپیپلزپارٹی اس راہ میں رکاوٹ بن گئی اس سے قبل پیپلزپارٹی یہ دلیل دیتی رہی کہ استعفوں کوآخری آپشن کے طورپررکھاجائے اب اپوزیشن انہیں باورکروایاکہ وہ آخری آپشن آگیا ہے کیوں کہ اس کے بعد تحریک کاکوئی بھی مرحلہ باقی نہیں رہا۔
آصف علی زرداری کے پاس جب اپوزیشن کے دلائل کاکوئی جواب وجوازباقی نہ رہاتوانہوں نے ایک طے شدہ پلان کے تحت تقریرکی اوراس ان کیمرہ تقریرکے ٹکرزباقاعدہ طورپرمیڈیاکے نمائندوں کوبھیجے گئے اورپی ڈی ایم کی رسوائی کاسامان تیارکیاگیا یہ تقریرنہیں تھی بلکہ پی ڈی ایم مرگ ناگہانی تھی اپوزیشن جماعتوں کے اتحادکی موت کااعلان تھا آصف علی زرداری نے اپنی تقریرمیں وہ باتیں کیں جوپہلے دن سے وہ جانتے تھے کہ ایساہوناممکن نہیں مگرچوں کہ ان کاہدف یہی تھا کہ اپوزیشن کے غبارے سے ہوانکالنی ہے اس لیے وہ خوب گرجے اوربرسے ۔
اب اگرکوئی یہ سمجھتاہے کہ بدترین مہنگائی ،بے روزگاری ،سیاسی افراتفری،معاشی ابتری ،بداخلاقی ،لاقانونیت کی ذمے دارصرف عمران خان کی حکومت ہے تووہ یقینا غلط ہے کیوں کہ آصف علی زرداری بھی اس میں برابرکے حصے دارہیں پاکستان پیپلزپارٹی اس وقت پی ٹی آئی کاپارٹ ٹوبن چکی ہے ہچکولے کھاتی حکومت کوآصف علی زرداری سہارہ دے رہے ہیں اوروہ اپوزیشن جماعتوں میں اس حکومت کوبچانے میں سہولت کارکاکرداراداکررہے ہیں ۔ایک طرف سیاسی جماعتوں کے قائدین حکومت کے بدترین سیاسی انتقام کانشانہ بنے ہوئے ہیں تودوسری طرف آصف علی زرداری اپنے مقدمات سندھ منتقل کرواکراورعدالتوںسے ریلیف حاصل کرنے میں مصروف ہیں جبکہ این آراونہ دینے رٹ لگانے والاعمران خان کے دورحکومت میں آصف زرداری ایک اور این آراوحاصل کرچکاہے ۔
دوسری طرف مولانافضل الرحمن ابھی بتوں سے امیدلگائے بیٹھے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد اپنی زندگی کی مختصرترین پریس کانفرنس کرتے ہوئے صرف اتناکہاکہ 9 جماعتیں استعفوں پر متفق ہیں تاہم پیپلز پارٹی کو اس پر تحفظات ہیں پیپلز پارٹی نے استعفوں کے معاملے پر مشاورت کیلئے وقت مانگا ہے۔ اس لئے پی ڈی ایم کا 26 مارچ کو ہونے والا لانگ مارچ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی وہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔یہ مولاناہی ہیں کہ جوپیپلزپارٹی کی قلابازیوں ،باربارکی وعدہ خلافیوں کے باوجود اوراعلانات واپس لینے کے باوجود اتحادتوڑنے کاحوصلہ نہیں کررہے اورآنکھوں کے سامنے ہونے والی ساری چالبازیوں کودیکھتے ہوئے بھی برداشت کررہے ہیں ۔واہ مولاناواہ ۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: