Today's Columns

سفیر کی ملک بدری کا معاملہ ؟ از عمر فاروق ( آگہی )

پی ٹی آئی حکومت نے فرانس کے سفیرکو ملک بدرکرنے کے معاہدے کاحشروہی کیاجوانہوں نے ملک کے ساتھ کیاہے بدعہدی ،انحراف ،اعلانات اوروعدوں پرعمل درآمدنہ کرنااس حکومت کاوطیرہ بن چکاہے مگریہ کسی نے سوچابھی نہ تھاکہ حکومت ناموس رسالت جیسے مقدس معاملے پرتاریخی بدعہدی کرے گی ،جمعہ کوپارلیمنٹ نے فرانس کے سفیرکی ملک بدری کی قراردادمتفقہ طورپرپاس کرناتھی مگرحکومت نے بدنیتی کامظاہرہ کرتے ہوئے یہ قراردادایجنڈے میں شامل ہی نہیں کی جس پراپوزیشن جماعتوں خاص کرکے جمعیت علماء اسلام پاکستان ،مسلم لیگ ن نے شدیداحتجاج کرتے ہوئے سپیکرڈائس کاگھیرائوکیااورنعرے بازی کی مگرحکومت ٹس سے مس نہ ہوئی اورکمال ڈھٹائی سے اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردیاحالانکہ حکومت نے بعدازبسیارخرابی 20اپریل کوقومی اسمبلی میںجو ایک ہومیوپیتھی قسم کی قراردادپیش کی اس سے بھی بھاگ کھڑی ہوئی ۔
حیرت کی بات ہے کہ اسی جمعہ کوصدرمملکت عارف علوی کاوائس آف امریکہ کودیاگیاانٹرویونشرہواجس میں وہ کہہ رہے ہیںکہ فرانس کے ساتھ تعلقات اور سفیر کی ملک بدری سے متعلق قرارداد پر پارلیمان کی سفارش کے بعد ہی حکومت کوئی حتمی فیصلہ کرے گی۔ خارجہ پالیسی کے فیصلے وفاقی حکومت کا استحقاق ہے تاہم پارلیمنٹ اپنی سفارشات سامنے لا سکتی ہے۔وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے جمعہ کی صبح پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل یہ ٹویٹ کردیاکہ حکومت اور کالعدم تحریک کے درمیان معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے۔ان دونوں بیانات کوپڑھ کراندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ملک وقوم کے ساتھ یہ کیاکررہے ہیں ۔
حکومت لبیک کے ساتھ معاہدہ یااس پرعمل درآمدنہ بھی کرتی توفرانس کی طرف سے جس اندازمیں گستاخی کی گئی تھی اس کاتقاضایہ تھا کہ فرانس کے سفیرکوملک بدرکرکے بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایاجاتامگرریاست مدینہ بنانے کے دعویدا رعمران خان نے فرانس کی طرف سے کی گئی گستاخی کے تقریبا ایک سال بعد یہ انکشاف کیاکہ سفیر کو نکالنے سے پاکستان کو معاشی نقصان ہو گاعمران خان کایہ فلسفہ بھی پرویزمشرف کے اس فلسفے کی طرح ہے جس میں انہوں نے کہاتھا کہ نائن الیون کے بعد جب امریکہ افغانستان پرحملے کی تیاری کررہاتھا توامریکہ کی طرف سے کہاگیاکہ اس جنگ میں ہمارے ساتھ کھڑے نہیں توپھر واپس پتھر کے دور (اسٹون ایج) میں جانے کے لیے تیار ہوجائیں،اورہم نے تاریخی یوٹرن لیتے ہوئے امریکہ کے ساتھ کھڑے ہونے کافیصلہ کیا اورافغانستان کے سفیرکورسیوں میں باندھ کرامریکہ کے حوالے کرکے اپنے ملک کوبڑے معاشی نقصان سے بچایا۔مگرجس افغانستان کوامریکہ نے تہس نہس کرنے کے لیے ہماری مددحاصل کی تھی آج وہ افغانی سرخرواور امریکہ رسواہوچکاہے جبکہ پرویزمشرف دیدہ عبرت نگاہ بناہواہے ۔
یہی حال کچھ موجودہ حکومت کاہے کہ اس حکومت کے وزاراء جب 16نومبر2020کوفیض آبادمیں لبیک والوں کے ساتھ معاہدہ کررہے تھے جس میں واضح طورپردرج تھا کہ تین ماہ میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے گا، فرانس میں پاکستان کا سفیر مقرر نہیں کیا جائے گااورفرانس کی تمام مصنوعات کا سرکاری سطح پر بائیکاٹ کیا جائے گا۔اس وقت ان کے ذہن میں یہ سوالات کیوں نہ آئے کہ اس اقدام سے ملک کامعاشی نقصان ہوگا عالمی سطح پرہمارے تعلقات خراب ہوں گے ہم ساری دنیاسے کٹ کررہے جائیں گے یہ معاہدہ خارجہ پالیسی پراثراندازہوگا ؟
اس سے واضح ہوتاہے کہ حکومت پہلے دن سے ہی اس معاہدے میںمخلص نہیں تھی وقت ٹالنے اوردھوکہ دہی کے لیے یہ معاہدہ کیاگیا چلیں مان لیاکہ حکومت نے پہلامعاہدہ جان چھڑانے کے لیے کیاکیوں کہ مظاہرین فیض آبادبیٹھے تھے جس سے عوام کومسائل کاسامناتھا مگرگیارہ فروری 2021کوحکومت نے لاہورجاکرلبیک کے رہنمائوں کے ساتھ ایک بارپھرپہلے والے معاہدے کی تجدیدکی اوروزیراعظم عمران خان نے ازخود یہ اعلان کیاکہ ٹی ایل پی نے جو فروری کی تاریخ دی تھی وہ 20 اپریل تک چلی گئی ہے اور ہم معاہدے کے تحت ان کے مطالبات پارلیمنٹ میں رکھ دیں گے۔اب پھریہ سوال پیداہوتاہے کہ جب دوسری مرتبہ آپ معاہدہ کررہے تھے توکیااس وقت آپ کواندازہ نہیں تھا کہ اس پرعمل درآمدسے ملک کامعاشی نقصان ہوگا؟
حکومت ایک طرف لبیک والوں کے ساتھ یہ معاہدے کررہی تھی توپس منظرمیں انہیں رام کرنے کی کوشش بھی کررہی تھی فیصل ووڈانے لبیک والوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات کیے اورانہیں مختلف آفرزکیں (1) لبیک والے فرانس کے سفیرکوملک بدرکرنے کے مطالبے سے دستبردارہوجائیں ہم اس پرکسی صورت عمل کرنے کوتیارنہیں ہیں اس کے بدلے بھرپورمالی امدادکی جائے گی جس کے ذریعے ملک میں مساجدومدارس بنائیں اوراپنے علما کوان مساجدومدارس میں ایڈجسٹ کریں۔(2) آئندہ الیکشن میں قومی وصوبائی اسمبلی کی سیٹوں پرہمارے(پی ٹی آئی ) ساتھ اتحاد کرلیں اس کے لیے جوگارنٹی چاہیے حکومت دینے کوتیارہے(3)سینٹ الیکشن میں بھی لبیک والوں کوایڈجسٹ کرسکتے ہیںیہ بات کا لعدم تحریک لبیک کی مجلس شوری کے رکن علامہ محمدشفیق امینی نے اپنے ایک ویڈیوپیغام میں کہی ۔
حکومت کی طرف سے جب یہ حربہ ناکا م ہواتوپھروہی پرویزمشرف والافارمولہ اپنایاجلدبازی میں معاہدے سے یکطرفہ انحراف کرتے ہوئے وہ اقدامات کیے کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی حکومت کی اس بدعہدی اورلاہورسمیت دیگرمقامات پرکیے گئے ظالمانہ اقدام کے بعد 19اپریل کوعوام نے ذبردست قسم کااحتجاج کیا اس احتجاج کے دوران عوام کی بڑی تعدادنے وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشیدکی رہائش گاہ لال حویلی کاگھیرائوکیااورشدیدنعرے بازی کی،سوال پیداہوتاہے کہ جب یہ لوگ حکمران بنتے ہیں توان کی سوچ وفکریکسرکیوں تبدیل ہوجاتی ہے ؟حالانکہ یہی عمران خان لبیک کے2017کے دھرنے کے دوران یہ کہہ چکے تھے کہ ان کے ورکرز احتجاج میں شامل ہونے کو تیار ہیں اور شیخ رشید نے فرمایاتھا کہ تنظیم کے مطالبے نہ مانے تو تنظیم والے پورے ملک میں حشر اٹھا دیں گے۔ اورخودشیخ رشیدحشراٹھانے کوتیارتھے اس وقت وہ اپنے آپ کومجاہدختم نبوت لکھنافخرسمجھتے تھے ۔
پرویزمشرف دورحکومت یہی شیخ رشیدوزیراطلاعات تھے پورے ملک میں پرویزمشرف کاطوطی بولتاتھا انہوں نے جب لال مسجدآپریشن کیاتوشیخ رشیدنے حسب معمول زبان وبیان سے حکومت کی بھرپورترجمانی کی مگربعدمیں یہ منظربھی دیکھا کہ اگلے الیکشن میں ان کی ضمانت ضبط ہوئی اورانہیں جان کے لالے پڑگئے انہوں نے ایک جہادی رہنماء کی خدمات حاصل کرکے اسلام آبادکے سیکٹر آئی ایٹ میں واقع ایک بزنس مین کے گھرمولاناعبدالعزیزسے ملاقات کرکے معافی تلافی کی کوشش کی ،حکومت آج ایک مرتبہ پھریہ سمجھتی ہے کہ وہ دھوکہ دہی ،وعدہ خلافی اورتشددکرکے کامیاب ہوگئی ہے مگریہ حکومت کی بھول ہے ۔
لبیک والوں کے طریقہ کارسے اختلاف کیاجاسکتاہے اورکیابھی ہے مگراقتصادی کونسل میں میا ں عاطف کی تقرری سے لے کرآسیہ مسیح کی رہائی تک اوراقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کوشامل کرنے سے لے کرفرانس کے سفیرکے معاملے سے فرارتک بے شمارمواقعوں پرحکومت نے ثابت کیاہے کہ وہ ایک بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت برسراقتدارمیں آئی ہے اوراس ایجنڈے کی تکیل کے لیے وہ کسی بھی حدتک جاسکتی ہے ایف اے ٹی ایف کی ایماء پرمساجدومدارس کے خلاف قانون سازی سے نصاب تعلیم سے اسلامیات کے اخراج تک یہ سب اسی ایجنڈے کاحصہ ہیں حکومت ضروری بین الاقوامی ایجنڈے کی تکیل کرے ان کی ایماء پرمذہبی ادارورں وافرادکے خلاف اقدامات و قانون سازی کرے مگریادرکھے ان حکمرانوں بالآخرانہی عوام کے پاس لوٹ کرجاناہے ۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: