چٹافون

غالب اقبال فرانس میں پاکستان کے سفیر ہیں‘ ان کی والدہ بیگم سرفراز اقبال میری مہربان تھیں‘ یہ شاندار خاتون تھیں‘ اسلام آباد میں بازار روڈ پر ان کا گھر تھا‘ یہ گھر انٹلیکچول ہاؤس تھا‘ فیض احمد فیض سے لے کر صادقین تک اور طفیل احمد سے لے کر احمد فراز‘ افتخار عارف‘ ڈاکٹر جمیل جالبی‘ ممتاز مفتی اور اشفاق احمد تک ملک کے تمام بڑے دانشور‘ مصنف‘ شاعر‘ مصور‘ موسیقار اور سیاستدان اس گھر کے وزٹرز تھے‘ بیگم صاحبہ ان تمام لوگوں کی ’’ماں‘‘ تھیں‘ بیگم سرفراز اقبال2003ء میں انتقال کر گئیں‘ ان کے انتقال کے ساتھ ہی یہ انٹلیکچول ہاؤس بھی ختم ہو گیا‘ غالب اقبال کی پرورش وقت کے عظیم لوگوں میں ہوئی‘ فیض صاحب جب بھی ان کے گھر آتے تھے تو وہ

غالب اقبال کے ساتھ کمرہ شیئر کرتے تھے یوں یہ فیض صاحب کے روم میٹ بھی تھے‘ ملک کے ان بڑے لوگوں نے غالب کے ذہن‘ جمالیات اور اخلاقیات پر بہت اچھے اثرات مرتب کئے‘ ان میں ایک خاص قسم کی جمالیات‘ ذوق اور ڈسپلن ہے‘ یہ 1983ء سے سفارت کاری میں ہیں‘ مختلف ممالک میں یہ مختلف پوزیشنوں پر تعینات رہے‘غالب فرانس میں سفیر بننے سے قبل وزارت خارجہ میں چیف آف پروٹوکول تھے‘ یہ سات سال اس پوزیشن پر رہے‘ یہ دو وزیراعظموں اور دو صدور کے سرکاری دوروں پر ان کے ساتھ ہوتے تھے اور ملک میں آنے والے زیادہ تر مہمانوں کے میزبان بھی۔ یہ 22 فروری 2013ء کو فرانس میں سفیر تعینات ہوئے‘ میں پیرس پہنچا تو میرے دوست شیخ مبشر نے ان کی بہت تعریف کی‘ مبشر نے بتایا پاکستانی سفارت خانے میں پاکستانیوں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوتا تھا‘ غالب آئے تواب پاکستانی سفارتخانے میں پاکستانیوں کا احترام بھی ہوتا ہے اور قانون اور قاعدے کے مطابق ان کے کام بھی ہو جاتے ہیں۔ میں نے فوراً غالب صاحب سے رابطہ کیا اور ان کے ساتھ لنچ کا وقت طے کر لیا۔ منگل کے دن غالب صاحب سے ملاقات ہوئی‘ میں کئی مرتبہ اس سفارت خانے میں آیا ہوں لیکن مجھے اس بار عمارت میں سلیقہ‘ ڈسپلن اور صفائی نظر آئی‘ عملے کا رویہ بھی بدلہ ہوا تھا‘ میں نے غالب صاحب سے اس معجزے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا ’’میں جہاں بھی جاتا ہوں‘ میں چارج لینے سے قبل عام پاکستانی شہری بن کر وہاں جاتا ہوں‘ وہاں کے سسٹم کی خرابیاں نوٹ کرتا ہوں اور چارج لے کر ان چیزوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہوں‘ میں پیرس میں بھی عام پاکستانی کی حیثیت سے ویزہ سیکشن پہنچ گیا‘ سیکشن کی صورتحال بہت خراب تھی‘ عملہ لوگوں کو اوئے کہہ کر مخاطب کر رہا تھا‘ ویزہ فارم کیلئے بھی بار بار چکر لگوائے جا تے تھے اور لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ بھی مناسب نہیں تھی‘ میں قطار میں کھڑا ہو گیا‘ میری باری آئی تو میں نے ویزہ آفیسر سے فارم مانگا‘ ویزہ آفیسر نے غصے سے مجھے گھورا اور کہا‘ تم ٹائی لگا کر آ گئے ہو ‘تمہارا خیال ہے میں تم سے متاثر ہو جاؤں گا‘ میں مسکرا کر کھڑکی سے ہٹ گیا‘ میں نے اگلے دن چارج لیا‘ ویزہ سیکشن گیا‘ پورے عملے کو اکٹھا کیا اور انہیں ہدایت دی‘ آپ میں سے اگر کسی شخص نے کسی وزٹر کو سر اور مادام کے علاوہ کسی لفظ سے مخاطب کیا تو اس کی خیر نہیں‘ ہم نے ٹوکن سسٹم بھی متعارف کرا دیا‘ ویٹنگ روم بھی بہتر بنا دیا اور یوں معمولی سی توجہ سے پاکستانیوں کی زندگی آسان ہوگئی‘‘ غالب اقبال کا کہنا تھا ’’پاکستان سے باہر آباد پاکستانیوں کی نوے فیصد شکایات کا تعلق ویزہ سیکشن سے ہوتا ہے‘ ہم اگر ویزہ سیکشن امپروو کر دیں تو پاکستانی کمیونٹی کے زیادہ تر مسائل ختم ہو جائیں‘‘۔ مجھے پچھلے سال اٹلی میں آباد ایک پاکستانی بزنس مین نے غالب اقبال کے بارے میں ایک واقعہ سنایا تھا‘ ان صاحب کا کہنا تھا‘ اٹلی کی حکومت نے 1996ء میں امیگریشن کھولی‘ ہم لوگ پاسپورٹ کے بغیر امیگریشن کیلئے اپلائی نہیں کر سکتے تھے‘ غالب اقبال اس وقت اٹلی میں فرسٹ سیکرٹری تھے‘ غالب اقبال نے ساڑھے چھ ہزار پاکستانیوں کو پاسپورٹ بنا کر دیئے‘ ان کی مہربانی سے ساڑھے چھ ہزار پاکستانیوں کو اٹلی میں امیگریشن ملی اور یہ لوگ آج دس ہزار خاندان ہو چکے ہیں‘ یہ خاندان روزانہ غالب اقبال کو دعائیں دیتے ہیں‘ میں نے غالب صاحب سے اس واقعے کی تصدیق چاہی‘ غالب صاحب کا کہنا تھا’’ اٹلی میں پاکستانیوں کے اصل محسن سردار آصف احمد علی ہیں‘ میں نے سردار صاحب سے پوچھا‘ سردار صاحب نے جواب دیا‘ غالب میں تحریری اجازت نہیں دے سکتا لیکن آپ اگر جینوئن پاکستانیوں کو پاسپورٹ جاری کرتے ہو تو ہم آپ سے باز پرس نہیں کریں گے‘ میں نے سردار صاحب کی اس غیر سرکاری اجازت کے بعد لوگوں کو پاسپورٹ دینا شروع کر دیئے‘ اگر سردار صاحب اس وقت لچک کا مظاہرہ نہ کرتے تومیں شاید یہ کام نہ کر سکتا چنانچہ پاکستانیوں کو میرے بجائے سردار صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے‘‘۔ غالب صاحب نے اس کے بعد ان دنوں کا ایک بہت دلچسپ واقعہ سنایا‘انہوں نے بتایا ’’میں پاسپورٹ کیلئے اپلائی کرنے والے تمام لوگوں کے خود انٹرویو کیا کرتا تھا‘ ایک دن ایک خان صاحب 83 پاسپورٹوں کی درخواست لے کر آ گئے‘ میں نے پوچھا‘ آپ پاکستان کے کس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں‘ خان صاحب نے بتایا‘ میں کوئٹہ سے ہوں‘ میں نے ان سے کوئٹہ شہر کے بارے میں پوچھا تو وہ شہر کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے‘ میں سمجھ گیا‘ یہ ایرانی بلوچی ہیں‘ میں نے انکار کر دیا‘ خان نے مجھے لمبی چوڑی رشوت کی پیش کش کر دی‘ میں نے معذرت کرلی تو انہوں نے پوچھا ‘تم مجھ سے پیسہ کیوں نہیں لے رہا‘ میں نے جواب دیا‘خان صاحب اس سے ہمارا اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے گا‘ خان نے قہقہہ لگا کر کہا ‘صاحب آپ فرض کر لو آپ کو قیامت کے دن جنت مل گیا‘ آپ کو اللہ تعالیٰ نے 70 حوریں دے دیں‘ آپ خوشی خوشی حوروں کے ساتھ وقت گزارنے لگے‘ ایک دن حوروں نے آپ سے شاپنگ کا مطالبہ کردیا‘ آپ ان سے کہو گے‘میرے پاس پیسے نہیں ہیں‘ وہ کہیں گی تم اللہ تعالیٰ سے مانگ کر لاؤ‘ آپ اللہ تعالیٰ سے پیسے لینے جاؤ گے اور اگر اللہ تعالیٰ نے تم سے یہ پوچھ لیا‘ او بے وقوف انسان! دنیا میں جب تمہیں خان محمد پیسے دے رہا تھا تو تم نے کیوں نہیں لئے تو تم اللہ تعالیٰ کوکیا جواب دو گے‘‘ غالب کے بقول رشوت کا یہ روحانی جواز سن کر میری ہنسی نکل گئی‘ میں نے خان صاحب سے معذرت کر لی مگر ان کا چہرہ اور دلیل میری یادداشت کا حصہ بن گئی‘ میں آج بھی جب ویزے کی کوئی درخواست دیکھتا ہوں یا کسی بلوچی پاکستانی سے ملتا ہوں تو مجھے اٹلی کا خان محمد یاد آ جاتا ہے‘ غالب نے کینیڈا کے دنوں کا ایک واقعہ بھی سنایا‘ غالب کے بقول ’’لاہور کے کوئی صاحب پاسپورٹ بنوانے آئے‘ ان کے پاس پاکستانی شہریت کا کوئی ثبوت نہیں تھا‘ وہ بار بار سفارت خانے آتے تھے اور قونصل سیکشن انہیں واپس بھجوا دیتا تھا‘ وہ ایک دن میرے کمرے میں زبردستی گھس آئے‘ میں نے بھی ان سے معذرت کر لی‘ وہ گرم ہوگئے‘ میں ان کی گرم گفتگو سنتا رہا اور ساتھ ساتھ مونچھوں پر انگلی پھیرتا رہا‘ وہ میری اس حرکت پر مزید ناراض ہو گئے اور خالص لاہوری لہجے میں بولے‘ مجھے مونچھوں کی تڑی دینے کی ضرورت نہیں‘ ایسی مونچھیں انار کلی سے دو‘ دو روپے میں مل جاتی ہیں‘ میری ہنسی نکل گئی‘ میں نے اپنے جونیئر کو بلوایا اور ان صاحب کو اپنی ضمانت پر پاسپورٹ جاری کرا دیا‘ میں خود لاہوریا ہوں‘ میں جانتا ہوں‘دنیا کاکوئی دوسرا شخص لاہوری لہجے میں ایسی لاہوری جگت نہیں مار سکتا‘ وہ واقعی لاہوریا تھا‘‘۔ غالب اقبال نے فارن آفس کے بے شمار واقعات بھی سنائے‘ ان میں دو واقعات بہت دلچسپ تھے‘ ایک تنویر احمد خان کے دور کا واقعہ تھا‘ صدر اسحاق خان کے دور میں چیچن باشندوں نے روس کا طیارہ اغواء کر لیا اور یہ طیارے کو کراچی لے آئے‘ وزارت خارجہ میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی‘ تنویر احمد خان سیکرٹری خارجہ تھے‘ غالب اس وقت سٹاف آفیسر تھے‘ یہ روسی سفیر کو سیکرٹری کے پاس لے کر آئے‘ سیکرٹری نے صورتحال کی خرابی پر معذرت کی اور روسی حکومت کو پوری سپورٹ دینے کا وعدہ کیا‘ سفیر سیکرٹری کے کمرے سے جانے لگا تو تنویر صاحب نے غالب سے کہا‘ آپ اسے کسی کمرے میں بٹھا دیں لیکن اسے فون سے دور رکھنا‘ یہ ٹیلی فون پر کوئی بکواس کر گیا تو ہمارے لئے مسائل پیدا ہو جائیں گے‘ سفیر کھڑا ہو کر یہ بات سن رہا تھا‘ غالب اسے لے کر کمرے سے نکلنے لگا تو وہ سیکرٹری کی طرف مڑا اور ان سے شستہ پنجابی میں بولا ’’ ایکسی لینسی تسی اگر اجازت دو تے میں تواڈہ چٹا فون استعمال کر لاں‘‘ روسی سفیر کے منہ سے پنجابی سن کر غالب بھی پریشان ہو گیا اور تنویر صاحب بھی۔ تنویر صاحب نے اس سے کہا ’’ ایکسی لینسی آپ بہت اچھی پنجابی بول لیتے ہیں‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا ’’مجھے نہ صرف پنجابی آتی ہے بلکہ میں پشتو‘ سندھی اور سرائیکی بھی بول سکتا ہوں‘‘ دوسرا واقعہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بارے میں تھا‘ موبائل فونز پر روزانہ مختلف قسم کے لطائف گردش کرتے رہتے ہیں‘ ایک دن یوسف رضا گیلانی کے سرکاری موبائل پر ان ہی کے بارے میں ایک لطیفہ آ گیا‘ گیلانی صاحب نے پڑھا تو انہوں نے غالب سے کہا’’ غالب یہ موبائل فون والے میرے بارے میں لطیفے گھڑ کر مجھے ہی بھیج دیتے ہیں‘ بڑے افسوس کی بات ہے‘‘۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: