ء2014

پیرس کی نیو ائیر نائیٹ دنیا کی نئے سال کی چار بڑی تقریبات میں شمار ہوتی ہے‘ لندن‘ نیویارک‘ پیرس اور سڈنی ان چاروں شہروں کی تقریبات کو بڑی تقریب سمجھا جاتا ہے‘ اس سال دوبئی بھی اس دوڑ میں شامل ہوگیا‘ دوبئی حکومت نے بڑے پیمانے پر 2014ء کے انتہائی لمحات منائے‘ دوبئی کی تقریب پر 8 ملین ڈالر خرچ آیا جبکہ دنیا بھر سے ساڑھے چار لاکھ لوگ اس تقریب میں شریک ہوئے‘ میں نے 2013ء کا استقبال پچھلے سال لندن برج پر کھڑے ہو کر کیا تھا اور اس سال کے ابتدائی لمحات کو ’’ویل کم‘‘ کہنے کیلئے پیرس پہنچ گیا‘ پیرس شہر میں نیو ائیر کی ’’سیلی بریشن‘‘ کے دو بڑے مرکز ہوتے ہیں‘ ایونیو شانزے لیزے اور ایفل ٹاور‘ ہم اگر دونوں مراکز

کو ایک ہی سمجھیں یا ایک ہی کہیں تو غلط نہیں ہو گا کیونکہ 31 دسمبر کی رات شانزے لیزے کی آرک سے لے کر کنکورڈ تک اور کنکورڈ سے لے کر ایفل ٹاور تک لوگ ہی لوگ اور سر ہی سر ہوتے ہیں‘ پیرس میں تین سال قبل آتش بازی کی وجہ سے ایک حادثہ ہو گیا جس میں دو لوگ مارے گئے‘ اس واقے کی وجہ سے پیرس کی انتظامیہ نے آتش بازی پر پابندی لگا دی‘ پیرس میں اس سال بھی نیو ائیر نائیٹ پر آتش بازی نہیں ہوئی مگر لوگ دنیا بھر سے نئے سال کی تقریبات میں شرکت کیلئے پیرس آئے تھے‘ ہوٹل پیک تھے‘ سڑکوں پر گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں‘ شانزے لیزے دنیا کی مہنگی ترین ایونیوز میں شمار ہوتی ہے‘ یہاں دنیا کے مہنگے ترین برانڈز کے ’’آؤٹ لیٹ‘‘ ہیں‘ ایک ایک دکان کی مالیت کئی کئی ملین یوروز ہے‘ میں نے 31 دسمبر کی دوپہر دیکھا ہر دکان کے سامنے ٹرک کھڑے ہیں‘ ٹرکوں میں سے پلاسٹک‘ ون بورڈز اور دھاتی شیٹس اتر رہی ہیں‘ میرے دیکھتے ہی دیکھتے کاریگروں نے دکانوں کی تمام کھڑکیوں اور دروازوں سے یہ حفاظتی شیٹس چڑھا دیں‘ یہ بندوبست ہجوم کے ہاتھوں سے دکانوں کو بچانے کیلئے کیا جا رہا تھا‘ لوگ جب کسی جگہ جمع ہوتے ہیں تو ان میں شر پسند بھی شامل ہو جاتے ہیں‘ یہ ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دکانوں کی کھڑکیاں اور دروازے توڑ دیتے ہیں اور اکثر اوقات دکانیں لوٹ بھی لیتے ہیں‘ پیرس میں اس خطرے سے نبٹنے کیلئے باقاعدہ کمپنیاں موجود ہیں‘ یہ کمپنیاں 31 دسمبر کو دکانوں پر حفاظتی شیٹس لگا دیتی ہیں اور یکم جنوری کو اتار کر لے جاتی ہیں‘ دکاندار انہیں ایک دن کی حفاظت کا کرایہ دے دیتے ہیں‘ یہ اچھا بندوبست ہے‘ ہماری حکومت اور تاجر برادری بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے‘ لاہور چیئرنگ کراس‘ اسلام آباد‘ بلیو ایریا‘ راولپنڈی کی مری روڈ اور کراچی صدر کے دکاندار ہنگاموں اور جلوسوں کے ایام میں یہ بندوبست کر کے اپنی پراپرٹی بچا سکتے ہیں‘ حکومت کو آگ سے بچاؤ کے بندوبست کو بھی لازم قرار دے دینا چاہیے‘ ملک کی ہر دکان میں فائر الارم‘ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا سلینڈر اور پانی کا پائپ ہونا چاہیے‘ اس سے حکومت پر بوجھ بھی کم ہو گا اور لوگ بھی نقصان سے بچ جائیں گے‘ مدینہ مارکیٹ میں اگر دکانداروں نے آگ بجھانے کا مناسب بندوبست کیا ہوتا تو دس محرم کے دن ان کا کروڑوں اربوں روپے کا نقصان نہ ہوتا‘ حکومت نے دکانوں کی تعمیر کیلئے 24 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا اور یہ انہیں نئی دکانیں بھی بنا کر دے رہی ہے‘ حکومت اگر حادثے سے قبل اس رقم کا صرف دس فیصد لگا دیتی تو مدینہ مارکیٹ میں آگ نہ لگتی اور اگر لگ جاتی تو بھی اتنا نقصان نہ ہوتا‘ حکومت کو ’’کمرشل انشورنس‘‘ کا نظام بھی مضبوط بنانا چاہیے‘ ملک کی تمام گاڑیوں‘ دکانوں اور گھروں کی انشورنس ہونی چاہیے‘ مالکان جب تک انشورنس کے کاغذات پیش نہ کریں‘ یہ گاڑی دکان اورگھر کی خرید و فروخت نہ کر سکیں‘ اس فیصلے سے بھی حکومت پر بوجھ کم ہو گا‘ لوگ نقصان سے بچیں گے اور حکومت کی لوگوں کے اثاثوں تک رسائی بھی ہو جائے گی اور یوں معیشت بھی مضبوط ہوگی۔ سال کی آخری رات پیرس کے زیادہ تر ریستوران ’’بک‘‘ تھے‘ شانزے لیزے ٹریفک کیلئے بند کر دی گئی‘ آپ صرف پیدل ایونیو تک جا سکتے تھے‘ ریستورانوں میں نیو ایئرڈنرز چل رہے تھے‘ آپ صرف بکنگ کے ذریعے ریستوران میں داخل ہوسکتے تھے‘ لوگ رات دس بجے شانزے لیزے اور ایفل ٹاور کے گردجمع ہونے لگے‘ سردی تھی چنانچہ تمام لوگ بھاری جیکٹوں میں چھپے ہوئے تھے‘ لوگوں نے گردونوں کو مفلروں اورپاؤں کو ’’لانگ شوز‘‘ میں چھپا رکھا تھا جبکہ سر ننگے تھے‘ ہم لوگ سردی میں سر اورکان ڈھانپ کر رکھتے ہیں لیکن یورپ میں لوگ سر نہیں ڈھانپتے‘ یہ صرف بارش اوربرف باری میں سرپرٹوپی پہنتے ہیں‘ اس کی وجہ سائنس ہے‘ انسان کو سر یا کانوں سے ٹھنڈ نہیں لگتی‘ گردن‘ سینے اور پاؤں سے لگتی ہے‘ آپ اگر اپنی گردن اورسینہ گرم رکھ لیں تو آپ کوسردی نہیں لگتی‘ سردی کا دوسرا مرکز پاؤں ہوتے ہیں‘ آپ سردیوں میں اگر لانگ اورگرم شوز پہنیں تو بھی آپ بخار‘ نزلہ اورکھانسی سے بچ جاتے ہیں‘ آپ اگرسردی کے موسم میں نہانے سے قبل اپنے پاؤں سرد پانی سے دھو لیں تو بھی آپ سردی‘ بخار اور زکام سے محفوظ رہتے ہیں‘ یہ لوگ گردن‘ سینے اور پاؤں کوگرم رکھتے ہیں چنانچہ ان کے سر اگر ننگے بھی ہوں تو بھی انہیں کوئی پرابلم نہیں ہوتی‘ پیرس شہر میں لاکھوں لوگ شانزے لیزے اورایفل ٹاور کے گرد جمع ہو گئے‘ آرک سے لے کر کنکورڈ تک لوگ ہی لوگ تھے‘ ان میں بوڑھے بھی تھے‘ بچے بھی ‘جوان بھی اور نوجوان بھی‘ زیادہ ترلوگوں نے ہاتھوں میں شراب کی بوتلیں اٹھا رکھی تھیں مجھے شانزے لیزے پر تبلیغی جماعت کا ایک وفد بھی دکھائی دیا‘ یہ دس بارہ لوگوں کا گروپ تھا جس میں سیاہ فام بھی شامل تھے اورگورے بھی ‘یہ لوگ اپنے سفید چوغوں اورعماموں کی وجہ سے دور سے پہچانے جا رہے تھے‘ ان کے ساتھ تعارف ہواتو معلوم ہوا یہ اردن سے تعلق رکھتے ہیں اوریہ تبلیغ کیلئے پیرس آئے ہیں‘ میں نے ان سے پوچھا ’’آپ کو گناہ گاروں کا یہ ہجوم دیکھ کر کیسا لگ رہا ہے؟‘‘ جماعت کے امیر نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اورکہا ’’برادرہم سب اپنے خالق کے بندے ہیں‘ یہ بھی‘ ہم بھی‘ اللہ اگر انہیں مہلت دے رہا ہے‘ یہ ان پر زندگی کی نعمتیں اتار رہا ہے تو پھر ہم انھیں برا بھلا کہنے والے کون ہوتے ہیں‘ کسی کو گنا ہگاریا نیک کا سر ٹیفکیٹ دینا اللہ کا اختیار ہے‘ ہم جب کسی کو گنا ہگار ڈکلیئر کرتے ہیں تو ہم شرک کے مرتکب ہوتے ہیں‘ مجھے امیر کی بات اچھی لگی‘ میں نے اس سے ہاتھ ملایا اور آگے چل پڑا‘ پیرس میں ہر طرف سر ہی سر اور جسم ہی جسم تھے‘ لوگ بڑی بے تابی سے نئے سال کا انتظار کر رہے تھے‘ ہم کنکورڈ کے پاس کھڑے ہو گئے‘ کنکورڈ فرعون کے محل کا ستون تھا‘مصراٹھارہویں صدی کے آخر میں فرانس کی کالونی تھا‘ لکسر شہر فرعونوں کا دارالحکومت تھا‘ اس شہر میں فرعون اور اس کے وزراء کے محلات‘ تالاب اور باغات تھے‘ مجھے اس شہر میں جانے اور فرعون کا محل دیکھنے اور اس کی شاہی خواب گاہ سے ایک پتھرلانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پتھر میں نے اپنے ڈرائنگ روم میں رکھا ہوا ہے‘ میں جب بھی اسے دیکھتا ہوں‘مجھے یاد آجاتا ہے‘ یہ زندگی‘یہ اختیار اور یہ اقتدار اگر فرعون کا نہیں ہو سکا تو یہ مجھ اور آپ کا کیسے ہو گا؟ میں یہ پتھر میاں نواز شریف کو گفٹ کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ آج کل بہت مصروف ہیں‘ یہ وقت کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں‘ یہ فرصت پائیں گے تو میں فرعون کی یہ نشانی انھیں پیش کروں گا لیکن شاید یہ تحفہ اس وقت ان کے لیے بے معنی ہو جائے ‘ لکسر کے محلات میں سیدھے‘ لمبے اور آخر سے نوک دار ستون تھے‘ ان ستونوں پر فرعون کی خدائی کا آئین تحریر تھا‘ فرنچ ان میں سے ایک ستون پیرس لے آئے‘ یہ ستون شانزے لیزے کے آخر میں ایک بڑے چوک میں لگا دیا گیا‘آپ اگر اس کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور آپ کی پشت اس کی طرف ہو تو آپ کے بالکل سامنے شانزے لینرے ہوگی اور آپ کو شانزے لینرے کے آخری سرے پر شہداء کی آرک (آرچ)نظر آئے گی‘ فرنچ اس ستون کو ’’کنکورڈ ‘‘ کہتے ہیں‘ یہ کنکورڈ پیرس میں اکیلا ہے‘ اس کے باقی ساتھی لکسر میں موجود ہیں‘ کنکورڈ کی پشت پر دنیا کا مشہور عجائب گھر’’ لوو‘‘ ہے‘ دائیں جانب وہ ٹنل ہے جس میں لیڈی ڈیانا حادثے کا شکار ہوئی تھی اور بائیں جانب دودی الفائد کا وہ ہوٹل ہے جس سے ڈیانا نکلی‘بدنامی سے بچنے کی کوشش کی اور موت کے پنجے میں پھنس گئی‘ لوگ ڈیانا کی یاد میں آج بھی ٹنل کے اوپر پھول رکھتے ہیں اور موم بتیاں جلاتے ہیں‘ کنکورڈ کے گرد ایک طویل چوک ہے‘ دن کے وقت گاڑیاں کنکورڈ کا طواف کر کے شہر کی مختلف شریانوں میں اتر جاتی ہیں لیکن 31دسمبر کی رات فرانس کے بدمست نوجوان کنکورڈ کے گرد جمع تھے‘ لوگوں کا ایک ہجوم تھا اور کنکورڈ اس ہجوم کے درمیان سیدھا کھڑا تھا‘ کنکورڈ پر قدیم فرعونی زبان میں کچھ تحریر تھا ’’پتھر کے اس ستون پر کیا لکھا ہے‘‘ میرے ذہن میں غیر متوقع سوال نے سر اٹھایا’’شاید یہ کہ دنیا فانی ہے‘ ماہ و سال آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ہی لوگ بھی دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں‘‘ میں نے سر جھٹک کر یہ جواب قبول کرنے سے انکار کر دیا’’شاید یہ کہ کھاؤ‘ پیو‘عیش کرو‘ یہ میلے کسی بھی وقت ختم ہو جائیں گے‘‘ میں نے سر جھٹک کر یہ جواب بھی مسترد کردیا ‘‘ اور پھر شاید یہ کہ تم انسان بہت ہی بے وقوف ‘ ناسمجھ اور نالائق ہو‘ تم دنیا کی ہر چیز کو مستقل سمجھ لیتے ہو‘ تم یہ سمجھتے ہو تم اس کائنات کی ہر چیز پر قابو پا لو گے اوریہ جوانی‘ یہ عروج‘ یہ عقل اور یہ دانش تمہارے لیے مستقل ہو جائے گی‘‘ میں نے یہ بھی مسترد کر دیا ’’اور پھر شاید یہ کہ دنیا میں لفظوں کی عمر انسانوں سے زیادہ لمبی ہوتی ہے‘ فرعون چلے گئے‘ ان کی خدائی اور ان کی ریاست بھی ختم ہو گئی لیکن انھوں نے پتھروں پر جو لفظ تحریر کر دیے وہ آج بھی سلامت ہیں‘ یہ کنکورڈ ان لفظوں کا امین بن کر پیرس شہر کے قلب میں ایستادہ ہے اور لوگ ان لفظوں کے سائے میں کھڑے ہو کر نئے سال کا انتظار کر رہے ہیں‘‘ مجھے یہ جواز‘ یہ جواب قرین قیاس محسوس ہوامیں سر اٹھا کر کنکورڈ کی طرف دیکھا‘ اس کے آخری سرے پر بادل تھے اور ہر بادل آگے آگے سرک رہے تھے‘ بادلوں میں روشنی تھی اور یہ روشنی ہیولے سے بنار ہی تھی۔ ’’ اگر بادلوں اور ان ہیولوں میں زندگی ہوتی؟ ‘‘ میں نے سوچا لیکن جواب سے قبل فضا میں ایک شُرلی لہرائی‘ ٹھاہ کی آواز آئی اور چاروں طرف سے روشنی کی برسات ہونے لگی‘ہجوم چیخا اور ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ 2014ء طلوع ہو چکا تھا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: