Today's Columns

فری لانسنگ، نئے دور کے نئے اصول از سارہ عمر

”سر احمد اگر آپ ہمیں ایک لیکچر کے لیے کچھ وقت دے سکیں تو بہت مہربانی ہو گی-”
فون پہ مشہور یونیورسٹی کے لیکچرار کی آواز ابھری-
”جی اس جمعرات کو آٹھ بجے کا وقت مناسب رکھے گا” –
احمد نے اپنے شیڈول پہ نظر دوڑاتے ہوئے جواب دیا-
”جی بہت بہتر پھر ملاقات ہوتی ہے” رسمی کلمات کے بعد کال منقطع ہوئی تو ایک جاندار مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کر لیا-احمد نے کرسی کی پشت سے سر ٹکایا اور اپنے ماضی کو یاد کرنے لگا-
ایک وقت وہ بھی تھا کہ وہ نوکری کے لیے جگہ جگہ دھکے کھاتا پھرتا تھا-کسی کو تجربہ نہ ہونے پہ اعتراض ہوتا تو کسی کو سیکنڈ ڈویژن پہ-اس وقت یہی دل چاہتا تھا کہ اس دنیا سے ہی دور چلا جائے-ہر وقت لوگوں کی طنزیہ باتیں اسے ڈپریشن کا مریض بنانے لگیں تھیں-پھر اسے ایک مخلص دوست نے مشورہ دیا کہ یہ زمانہ کمپیوٹر کا ہے-دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے-ایک کلک پہ ہر چیز دستیاب ہے-وہ کرو جو دل چاہتا ہے-وہ کرو جو گھر بیٹھے کر سکو-وہ کرو جو تم کر سکتے ہو-دنیا ایک نوکری پہ ہی ختم نہیں ہو جاتی بلکہ یہ دنیا بہت وسیع ہے اپنے ذہن کو بھی وسعت دو اور کچھ نیا سوچو-
اس کے دوست نے ہی اس کے ساتھ مل کر ایک فری لانسنگ ویب سائٹ پر آئی ڈی بنائی تھی-
اسے گرافک ڈیزائنگ میں کچھ دلچسپی تھی-اس نے فرصت کے لمحات کا بہترین استعمال کرتے ہوئے نہ صرف یو ٹیوب سے اسے باقاعدہ سیکھا بلکہ فری لانسنگ کے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹ بھی شروع کر دئیے-ہر گزرتے دن کے ساتھ تجربہ بڑھتا گیا تھا-سیکھنے اور کچھ کر دیکھانے کی لگن اسے سونے نہ دیتی تھی-اس کی پہلی کمائی اس کے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ تھی-
ہر گزرتا دن کچھ نیا سیکھاتا تھا-یورپی ممالک کے لوگوں کی اکثریت فری لانسنگ کا کام کر رہی ہے-وہ گھر بیٹھ کر اپنی مرضی سے اپنی مرضی کا کام کرنا پسند کرتے ہیں-فری لانسنگ کی ویب سائٹ پر مختلف قسم کے کاموں کے لیے پراجیکٹ اور اشتہار پوسٹ کیے جاتے اور متعلقہ لوگ ان پراجیکٹ کا جواب ”بڈ” کے ذریعے دیتے-(بڈ ایک مفصل جواب ہوتا ہے جو کہ پراجیکٹ کے جواب میں لکھا جاتا ہے) بڈ کوئی بھی کام حاصل کرنے کے لیے نہایت اہم ہے-جو شخص بہترین بڈ کرے جس میں تمام تفصیلات فراہم کرے کہ وہی اس پراجیکٹ کے لیے بہترین اور موزوں ترین شخص ہے تو اسی کو پراجیکٹ ملنے کے چانس بڑھ جاتے ہیں لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ پراجیکٹ پوسٹ ہونے کے ساتھ ہی بڈ کر دی جائے تاکہ دیر نہ ہو جائے-احمد کو یورپی ممالک کے وقت کے فرق کے متعلق معلوم ہوا تو اس نے رات جاگ کر کام کرنا بہتر سمجھا-وہ دن کو نیند پوری کرتا اور جب رات ہوتی تو پراجیکٹ پہ بڈ بھی کرتا اور اپنے حاصل شدہ پراجیکٹس کا کام مکمل بھی کرتا-
آہستہ آہستہ وہ اس کام میں ماہر ہوتا گیا تھا-اس نے اپنی ویب سائٹ بھی بنائی اور اس موضوع پر آرٹیکل بھی لکھنے شروع کر دئیے-گرافک ڈیزائنگ کی دنیا میں اس کا نام جانا جانے لگا-فری لانسنگ ویب سائٹ پر اس نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا تو مشہور یونیورسٹیوں اور متعلقہ اداروں نے اسے اپنے پروگرامز میں شرکت کرنے، نوجوانوں کو سیکھانے اور لیکچرز دینے کے لیے مدعو کیا-
احمد کا سفر رکا نہیں بلکہ ہر دن کچھ نیا سیکھنے کی لگن اسے آگے ہی آگے لے کر جاتی رہی-احمد نے گھر بیٹھے فری لانسنگ کے ذریعے ہزاروں ڈالر کمائے-وہ تمام لوگ جو اس کے اوپر ہنستے تھے آج وہی اس کی محنت، لگن اور کامیابی کی وجہ سے اس کی عزت کرنے پہ مجبور ہیں-کون کہتا ہے صرف نوکری ہی سے پیسے کا حصول ممکن ہے؟ کون کہتا ہے کہ بس دفتری نوکری ہی عزت اور کامیابی دے سکتی ہے؟ کون کہتا ہے کہ آج کل کے دور میں بھی موبائل اور لیپ ٹاپ کے ذریعے پیسہ نہیں کمایا جا سکتا ہے-ہمت، لگن، محنت اور کچھ کر دیکھنے کا جذبہ کبھی رائیگاں نہیں جاتا-
نوٹ:یہ کہانی سر ہشام سرور کی زندگی سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے جو کہ اپ ورک اور فری لانسنگ کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں-سر ہشام ڈجی اسکیلز کے پلیٹ فارم سے ہزاروں لوگوں کو فری لانسنگ سیکھا چکے ہیں-اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجر دے آمین۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: