Today's Columns

حقیقی عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تقاضے از دلاور حسین چوہدری

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت عین ایمان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کامیابی و کامرانی کا ذریعہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر عمل نجات کا ضامن اور آپ کی کامل اتباع محبت خدا کے حصول کی کنجی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّہَ فَاتَّبِعُوْنِی یُحْبِبْکُمُ اللّہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ
]آل عمران: 31[
ترجمہ: (اے پیغمبر! لوگوں سے) کہہ دو کہ تم اللہ سے محبت رکھتے ہوتو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھاری خاطر تمھارے گناہ بخش دے گا۔ (آسان ترجمہ)
حدیث مبارک میں ہے کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کا ہر شخص جنت میں جائے گا سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کرنے والا شخص کون ہے؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی وہ انکار کرنے والا ہے۔ ]صحیح البخاری: رقم الحدیث7280[
اہل عقل کے نزدیک عشق کا دعویٰ اور محبت کی باتیں اگر عمل و اطاعت سے خالی ہوں تو بالکل ناقابل قبول ہیں۔ محبت و مودت کے ساتھ اگر فرمانبرداری کی چاشنی مل جائے تو یقیناً کارگر ثابت ہوتی ہے۔۔ یعنی اس میں کوئی شک نہیں کرنا چاہیے کہ عشق رسول کا تقاضا ہے کہ شریعت محمدی کے زریعے اللہ کریم نے زندگی گزارنے کا جو طریقہ کار وضع کر کے قرآن حکیم اور ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے ہم تک پہنچایا ہے اس پر عمل کرنا ہے ہمیں سمجھ جانا چاہئے کہ شریعت محمدی پر عمل کئے بغیر عشق رسول کا دعویٰ کرنا اپنے آپ کو اور دوسروں کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں اس طرح کے عشق رسول کو زریعہ نجات سمجھ لینا بھی اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے ۔ اس وقت ہمارے جو معاشرتی،اخلاقی،دینی،سماجی اور سیاسی حالات ہیں اس میں واضح نظر آ رہا ہے کہ ہم اصل راستے یعنی اللہ کریم کے وضع کردہ راستے اور شریعت کے راستے سے بھٹک کر گمراہی کے راستے پر چل رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم ٹکڑوں میں بٹ کر بد امنی،نفرت،بے چینی،بے برکتی،بے سکونی،اور نفسا نفسی کی آگ میں جل رہے ہیں خدا تعالیٰ کی بجائے بندوں کا خوف ہم پر طاری ہو گیا ہے جس کی وجہ سے شرک میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس سے پہلے کہ ہم مزید تباہی کا شکار ہو جائیں ہمیں انفرادی طور پر اپنے آپ کا اور اجتماعی طور پر پورے معاشرے کا احتساب کرنا ہو گا ہمیں احتساب کرنا ہو گا شرک کا،جھوٹ کا،آپسی نفرت کا،حسد کا،ملاوٹ کا،زخیرہ اندوزی کا،ناجائز منافع خوری کا،عدم برداشت کا اور ہر قسم کے برے اعمال کا جو ہمارے معاشرے اور تہذیب کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں، یہی شریعت محمدی اللہ کریم کے بتائے ہوئے رستے اور عشق رسول کا حقیقی تقاضا ہے اور یہی دنیا و آخرت میں فلاح و نجات کا ذریعہ ہے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ہم نے وقت ضائع کئے بغیر سیدھا رستہ تلاش کرنے کی کوشش نہ کی تو پھر تباہی کے اندھے کنوئیں میں گرنے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکے گا جس میں گر کر نہ دنیا ہمارے ہاتھ میں رہے گی نہ آخرت،سیدھا رستہ تلاش کرنے اور اس پر چلنے کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو بلا تفریق مذھب و مسلک اپنی زمہ داری اور کردار ادا کرنا ہو گا اس قوم کو بتانے سمجھانے کے ساتھ ساتھ خود بھی سمجھنا ہو گا کہ امت کو درپیش مسائل کے حل کا منفی طریقہ اپنانے، ایک دوسرے کو مارنے پیٹنے،گالی گلوچ کرنے،اپنی اور سرکاری املاک کو جلانے،رستے بلاک کر کے ایک دوسرے کو اذیت دینے،خون خرابہ کرنے،آپسی نفرت پھیلانے،بد اخلاقی کو فروغ دینے،بے چینی پیدا کرنے سے مسائل حل نہیں ہونگے نہ ہی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور شریعت محمدی کا یہ تقاضا ہے،بلکہ ملک وملت اور دین کے دشمنوں کا ایجنڈا ہے جو ہماری کم علمی اور کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہماری صفوں میں کچھ مفاد پرستوں اور انتشار پسندوں کو داخل کر کے پورا کر رہا ہے اور ہمیں معاشی،مذھبی،اخلاقی،سماجی،معاشرتی اور سیاسی نقصان پہنچا کر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے دشمن کی اس چال کو ناکام بنانے قوم کو سیدھا رستہ دکھانے اور سمجھانے کیلئے ہر مسلک کے علماء کرام،اساتذہ کرام،محراب ومنبر،سیاسی و سماجی کارکنان،تمام بااثر معاشرتی کرداروں سمیت ریاست کو بھی اپنی زمہ داری ادا کرنا ہو گی اس پہلے کہ دیر ہو جائے،اللہ کریم ہمیں معاف فرما کر اس راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جو اس کا پسندیدہ رستہ ہے اور حقیقی عشق رسول کا تقاضا ہے اور شریعت محمدی سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کیلئے ہماری مدد فرمائے آمین ثم آمین۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: