Today's Columns

اظہار رائے کی آزادی (فریڈم آ ف سپیچ) از عطیہ ربانی

حضرت عبد اللہ بن ہشام سے روایت ہے فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے اور آپ ﷺ حضرت عمر کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے تو حضرت عمر نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ!‘‘لأنت أحبُّ إِلَیَّ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِیْ ’’یقیناً آپ ﷺ ہر چیز سے بھی زیادہ محبوب ہیں مگر میری جان، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں، خدا کی قسم (اس وقت تک مومن کامل نہیں ہو سکتے) یہاں تک میں تمہاری جان سے زیادہ عزیز ہو جاؤں، حضرت عمر نے عرض کی: اَلْآنَ وَاللہِ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ یعنی اب بخدا آپ میرے نزدیک میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں، پس رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اَلْآنَ یَا عُمَرُ یعنی اب (ایمان مکمل ہو گیا) اے عمر!۔
(صحیح بخاری: 6622)
آجکل‘‘فریڈم آف سپیچ‘‘ یا‘‘ لبرٹی آف سپیچ‘‘ کا بہت چرچا ہے- اس لفظ سے مغربی دنیا پانچویں صدی کے اواخر یا چھٹی صدی عیسوی کے اوائل میں متعارف ہوئی- قرون وسطیٰ کا اگر تھوڑا بہت بھی جائزہ لیا جائے تو یہ وہ دور تھا جب عیسائی راہبوں اور مذہبی راہنماؤ کے بارے میں کچھ کہنا گناہ عظیم شمار کیا جاتا تھا- بڑی ریاستیں ویٹی کان کے مشورے کے بغیر چل نہیں سکتی تھیں- یہ ایک طویل موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن یہاں چونکہ ذکر اظہار رائے کی آزادی کا ہے جسے رومن عوام کے بنیادی حق کے طور پر بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ شامل کیا گیا- جس میں باقاعدہ طور پر اظہار رائے کی آزادی، مذہبی آذادی کی شقیں شامل کی گئیں- بعد ازاں برطانیہ میں اسے
Bill of Rights 1689
باقاعدہ طور پر آئین کا حصہ بنایا گیا- 1766 میں سویڈن اور پھر فرانسیسی انقلاب کے بعد 1789 میں مختلف ممالک سے ہوتا ہوا یہ حق 1948 میں بالآخر انسانی حقوق کے عالمی اعلانیہ یعنی
Universal Declaration of Human Rights
میں اپنالیا گیا – اسکے بعد اس کا کس نے کیسے فائدہ اٹھایا اور استعمال کیا اسکی تاریخ بہت طویل اور کسی حد تک سیا ہ ہے- اس سیاہ میں کہیں کہیں سفیدی بھی دکھائی دیتی ہے مگر اسکی مثال ایسے ہی ہے جیسے سفید چادر پر کالے دھبے اسے بد نما کر دیتے ہیں اسی طرح کالے رنگ پر بھی اچھائی کی کچھ چھینٹیں نظر تو آتی ہیں مگر اسکی خوبصورتی بڑھانے میں ناکام رہیں
اگر پچھلی کچھ دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو اظہار خیال کی آزادی کا مطلب مغربی دنیا نے یہ لے لیا ہے کہ‘‘اسلام‘‘ کے خلاف بات کی جائے، اسلام کتنا بھیانک مذہب ہے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے- نعوذ باللہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی جائے- فحش خاکے بنانا اور آپ ﷺ کی ازدواج مطہرات پر کیچڑ اچھالنا، یہ سب آذادی رائے کے زمرے میں آتا ہے-
آج تک بھی یہ حق آزادی رائے کے لئیے شور مچانے والے لوگ ہولوکاسٹ پر بات کرتے ہوئے گھبراتے ہیں- اسکے خلاف تو کیا اسکے بارے میں ذکر کرتے ہوئے بھی کتراتے ہیں-
خواتین کی تنظیموں کے بارے میں کوئی بات کی جائے تو فیمنزم کا نعرہ بلند ہو جائے گا- حتیٰ کہ انیسویں صدی کے وسط تک غلاموں بھی بد تر سلوک کا شکار سیاہ فام بھی اب بلیک رائیٹس کا نعرہ بلند کرتے ہیں- مغربی دنیا خود کو جتنا بھی مہذب خیال کرے- حقیقت یہی ہے کہ بنیاد پرستی اور تعصب اس چمڑی کی کھال میں رچی بسی ہے جو شاید کبھی علحدہ نہیں ہو سکتی
اسلام کے معاملے میں یہ بنیاد پرسی اور تعصب کھل کر سامنے آتا رہا ہے- جسے نہایت بدصورتی کے ساتھ‘‘فریڈم آف سپیچ‘‘ کی گندی چادر میں لپیٹ دیا جاتا ہے-
چارلی ہیبڈو نامی فرانسیسی ہفتہ وار میگزین، کارٹون، لطائف اور سخت زبانی اور پولمک کے لئیے جانا جات ہے- لیکن اسکا عالمی سطح پر شہرہ تب ہوا جب اس میں جان ومال و آبرو اور ہر رشتے سے ذیادہ بڑھ کر پیارے نبی محمد ﷺ کے نازیبا خاکے شائع کئیے گئے- جسکے رد عمل کے طور پر دو فرانسیسی مسلمان بھائی سعید اور شریف نے اس میگزین کے دفتر جو پیرس میں واقع ہے پر حملہ کیا- بارہ افراد جاں بحق ہوئے اور گیارہ ذخمی ہوئے-
اسی میگزین نے ستمبر 2020 میں پھر سے وہی گستاخانہ حرکت‘‘اظہار رائے کی آزادی‘‘ کے نام پر کی- جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ سب فرانسیسی حکومت کی ایما پر ہوا-
الجزیرہ کو خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے اسی حوالے سے ایک سوال کے جواب میں فرانسیسی صدر امینوول میکرون نے جواب میں کہا کہ‘‘میں جانتا ہوں بگاڑ کا ذمہ دار ریاست کو ٹھہرایا جا رہا ہے، مخالف سیاستدانوں کی طرف سے یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہ خاکے حکومت کی ایما پر شائع کئیے گئے- اس کے پیچھے کیریچرز کوئی سرکاری منصوبہ نہیں ہے، بلکہ آزاد خیال لوگ اور آزاد اخبارات سے نکلا ہے جو حکومت سے وابستہ نہیں ہیں’’۔
31 Oct 2020 الجزیرہ
لیکن بات وہیں آجاتی ہے کہ اپنے لوگوں کی آزادی حق رائے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا جا سکتا- یہ حق صرف اور صرف اسلام کے خلاف لکھنے اور بولنے کے لئیے ہی کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ نعوذباللہ قران پاک کو نظر آتش کرنا —
کہیں نہ نہیں یہ سب سستی شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے- جب کوئی اخبار، ٹی وی چینل، میگزین یہاں تک کہ انفرادی طور پر کوئی شخص کسی بھی طرح پسپائی کا شکار ہو رہا ہو اور لوگوں کی توجہ چاہتا ہو تو کئی دہائیوں سے ایسی کتنی ہی مثالیں سامنے آئی ہیں کہ ٹی وی پر اسلام کو دہشت کی علامت ثابت کرنے کی کوشش کی جائے- مسلمانوں کو دہشت گرد بتایا جائے اور نبی کریم محمد ﷺ کی کردار کشی کی جائے- جسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مغربی دنیا تو اسے اتنی اہمیت نہیں دیتی لیکن غیرت مند مسلمان نبی محمد ﷺ کی محبت سے سرشار ہو کر جب کوئی انتہائی قدم اٹھاتے ہیں اور معصومیت میں ایسے اخبارات اور ٹی وہ چینل کو جو شہرت مطلوب ہوتی ہے وہ انکو دلانے میں مددگار ثابت ہو جاتے ہیں –
اسکے بعد ایسے اخبارات اور ٹی وی چینلز یا اینکر صاحبان جنکا نام بھی کبھی کسی نے نہیں سنا ہوتا وہ ہر خبر کی زینت بن رہے ہوتے ہیں- جو مقصد وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں معصوم مسلمان اکثر اسکو پورا کر بیٹھتے ہیں-
اکثر سوشل میڈیا کے پیج اور گروپ ایسا پروپیگنڈہ شروع کرتے ہیں جنکا مقصد ذیادہ سے ذیادہ بحث اور انکے پیج پر تبصرے حاصل کرنا ہوتا ہے- جتنے ذیادہ تبصرے یا ٹویٹس ہوں وہ ٹویٹ یا پوسٹ‘‘پاپولر‘‘ کہلاتی ہے- اس سے قطئعہ نظر کہ تبصرے مثبت ہیں موضوع کے خلاف ہیں- بہتر یہی ہے کہ ایسی لوگوں کو نظر انداز کیا جائے اور انکی حوصلہ شکنی کی جائے-
مغرب میں دو دہائیوں میں پروان چڑھنے والی نسل کسی حد تک ان لغویات سے پاک ہے- کس حد تک یہ ایک الگ بحث ہے لیکن بہت سے فورمز پر پیرس اور برسلز میں ہونے والے دھماکوں کے بارے میں بات ہوئی تو ذیادہ تر طالبعلموں کی خیال میں یہ سب انکی ریاستوں کی غلط منصوبہ بندیوں کا نتیجہ، اور مسلمانوں کے ساتھ عرصہ دراز سے امتیازی سلوک کی بناء پر سامنے آنے والا رد عمل! حیرت انگیز طور پر ان نوجوانوں کی خیال میں میڈیا اب تک ان کے اباء و اجداد کو اسلام کے خلاف تعصب بیچتا رہا اور وہ خریدتے رہے- میڈیا نے اسلام و فوبیا تخلیق کیا اسے‘‘آزادی حق رائے‘‘ کے طور پر اپنے کاروبار چمکانے کے لئیے استعمال کیا اور معصوم ذہن اس فوبیا کو حقیقت سمجھ کر اسکا شکار بنے رہے –
امید ہے کہ جیسے چند نوجوان مغربی غیر مسلم طالبعلموں کی سوچ‘‘ فریڈم آف سپیچ‘‘ کے گھناؤنے استعمال پر سامنے آئی، اسی طرح اس حق کو استعمال کرنے کے لئیے کوئی نیا موضوع ڈھونڈ لیا جائے گا- اسلام کا نام بیچ کر بہت کاروبار چمکا لئیے گئے- بہت معصوم لوگوں کے جذبات سے کھیلا گیا – اب مغربی ‘‘آزاد اور مہذب‘‘ میڈیا اسلام کا موضوع چھوڑ کر کوئی نیا دھندا تلاش کرے۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: