مٹی کی مٹھی

ڈاکٹر نے مریض کا بازو سیدھا کیا اور مایوسی سے سر ہلا دیا‘ بیٹے نے آہستہ آواز میں پوچھا ’’کیا کوئی چانس نہیں‘‘ ڈاکٹر نے جواب دیا ’’سر اب نہیں‘ ہمیں وینٹی لیٹر بند کرنا ہوگا‘‘ بیٹے نے سر نیچے کیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔

مریض کی کہانی 1940میں شروع ہوئی تھی‘ اس کے والد نے جنوبی کوریا کے شہرٹائیگومیں چھوٹی سی کمپنی بنائی‘ کوریائی زبان میں تین ستاروں کو ’’سام سنگ‘‘ کہتے ہیں‘ قدیم روایات کے مطابق اکٹھے طلوع ہونے والے تین ستارے کبھی غروب نہیں ہوتے‘ والد لی بیونگ چل نے خوش شگونی کے لیے کمپنی کا نام سام سنگ رکھ دیا‘ یہ لوگ شروع میں فروٹ اور فروزن فش ایکسپورٹ کرتے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد تعمیر نو شروع ہوئی تو سام سنگ خوراک سے کنسٹرکش انڈسٹری میں آگئی اور اس نے دھڑا دھڑ عمارتیں‘ پل اور سڑکیں بنانا شروع کر دیں‘ لی بیونگ چل نے ان ٹھیکوں میں کروڑوں روپے کمائے‘ یہ سمجھ دار انسان تھے‘ یہ جانتے تھے انسان کو اپنے سارے انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھنے چاہئیں چناں چہ یہ کنسٹرکشن کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل‘ فیشن اور الیکٹرانکس کے کاروبار میں بھی آ گئے‘ گروپ بڑا ہوتا چلا گیا۔

لی کن ہی (Lee Kun Hee) لی بیونگ چل کے تیسرے بیٹے تھے‘ یہ کند ذہن اور لاابالی مزاج کے لڑکے تھے‘ پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا لیکن والد انھیں ہرحال میں پڑھانا چاہتے تھے‘ لی کن ہی نے وسیڈا (Waseda) یونیورسٹی سے اکنامکس کی ڈگری لی اور بزنس کی اعلیٰ تعلیم کے لیے جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکا میں داخلہ لے لیا‘ جارج واشنگٹن کا دورلی کی زندگی کا فضول اور ناقابل بیان زمانہ تھا‘ یہ اپنی ڈگری تک مکمل نہ کر سکے‘ والد نے انھیں واپس بلایا اور کنسٹرکشن اور ٹریڈنگ کے کام میں لگا دیا‘ یہ گرتے پڑتے یہ کام کرتے رہے‘ والد ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔

ان کا خیال تھا یہ پوری کمپنی کو ڈبو دیں گے‘ والد 1987میں انتقال کر گئے اور لی کو مجبوراً کمپنی سنبھالنا پڑ گئی‘ کمپنی اس وقت 34 مختلف شعبوں میں کام کر رہی تھی‘ لی کے لیے اگلے پانچ سال بہت مشکل تھے‘ یہ ایک دفتر سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کی طرف دوڑتے رہتے تھے یہاں تک کہ 1993 آ گیا‘ لی کو اچانک محسوس ہوا ہم بہت زیادہ مصنوعات بنا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم کوالٹی میں مار کھا رہے ہیں جب کہ ہمارے حریف صرف ایک ایک کام کرتے ہیں اور ان کی مصنوعات کی کوالٹی سام سنگ سے بہت بہتر ہے۔

لی کو محسوس ہوا ہم نے اگر اپنے حریفوں کو کوالٹی میں مار نہ دی تو ہم پٹ جائیں گے چناں چہ اس نے ایک دن اپنے تمام ایگزیکٹوز کو جمع کیا اور ان سے کہا ’’ہم آج سے اپنی بیوی اور بچوں کے علاوہ سب کچھ بدل رہے ہیں‘ تم لوگ نقصان کی پرواہ نہ کرو‘ ہم اگر فٹ پاتھ پر بھی آ جائیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں‘ آپ بس صرف اور صرف کوالٹی پر توجہ دیں‘ ہماری پراڈکٹس ہر صورت مارکیٹ میں نمبر ون ہونی چاہئیں‘ سام سنگ کے لوگو کو گارنٹی ہونا چاہیے‘‘ یہ میجر شفٹنگ تھی‘ کمپنی کی انتظامیہ نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ ڈٹے رہے‘ وہ ہر قسم کا نقصان برداشت کرنے کے لیے بھی تیار تھے۔

ایگزیکٹوز نے ہار مان لی اور تعداد کے بجائے معیار پر چلے گئے‘ شروع کے سال بہت مشکل تھے‘ کمپنی کے گودام کباڑ خانہ بن گئے‘ مارکیٹ میں سام سنگ کا انبار لگ گیا‘ لوگ اس کے سائن بورڈز کے قریب سے بھی نہیں گزرتے تھے‘ ڈسٹری بیوٹرز تک بھاگ گئے مگر یہ پیچھے نہ ہٹے‘ 1995 میں ایک طرف کمپنی کا بیڑہ غرق ہو گیا اور دوسری طرف لی کن ہی پر جنوبی کوریا کے صدر روح تائے ووہ کو30 ملین ڈالر رشوت دینے کا الزام لگ گیا‘ یہ تفتیش‘ انکوائریاں اور عدالتی مقدمات کا سامنا بھی کرنے لگے‘ وہ دور مشکل تھا مگر اس دور نے انھیں پگھلا کر کندن بنا دیا‘ یہ نکھرتے چلے گئے۔

سام سنگ اس دوران ٹیلی ویژن کی انڈسٹری میں آگیااور اس کا ٹی وی دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ لیڈر بن گیا اور یہ چند ماہ میں پیداوار‘ معیار اور فروخت میں دوسروں کو بہت پیچھے چھوڑ گیا۔ یوں کمپنی 2006 میں اعلیٰ معیار کا گارنٹی کارڈ بن گئی‘ یہ ہر گھر تک پہنچ گئی‘ لی کن ہی نے 1998 میں اسمارٹ فونز کا یونٹ بھی لگا لیا‘ یہ یونٹ گلیکسی کہلاتا تھا‘ گلیکسی مارکیٹ میں آ یا اور اس نے کشتے کے پشتے لگا دیے‘ یہ بھی دیکھتے ہی دیکھتے عالمی برینڈ بن گیا جس کے بعد سام سنگ 350 بلین ڈالر کی کمپنی بن گئی‘ لی کن ہی کو فوربس نے 2014 میں دنیا کے100 بااثر ترین لوگوں کی لسٹ میں بھی شامل کر لیااور یہ کوریا کا امیر ترین شخص بھی بن گیا‘ یہ اسٹیٹ سے بھی امیر ہو گیا۔

لی کن ہی کی کام یابی کا پہلا ستون ٹیکنالوجی تھی‘سام سنگ کا آر اینڈ ڈی بہت مضبوط ہے‘ اس نے اہل ترین سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر انجینئرز بھرتی کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے یہ گروپ پچھلے دس برسوں سے مارکیٹ کو لیڈ کر رہا ہے‘ دوسرا یہ گروپ معیار پر کمپرومائز نہیں کرتا‘ آپ ان کی کوئی پراڈکٹ اٹھا کر دیکھ لیں‘ پیکنگ سے لے کر سائز تک آپ کو اس کا معیار حیران کر دے گا اور تیسرا لی کن ہی خریدوفروخت کا ایکسپرٹ تھا‘ یہ راستے کی ہر رکاوٹ کو خرید کر یا گرا کر آگے نکل جاتا تھا۔

یہ جنوبی کوریا کے قوانین تک بدل دیتا تھا‘ یہ اپنی مرضی کی حکومتیں بھی لے آتا تھا اور اعلیٰ عدالتوں کے جج بھی بدل دیتا تھا چناں چہ یہ اسٹیٹ کے اندر ایک اسٹیٹ بن گیا اور یہ اسٹیٹ اصل اسٹیٹ سے بڑی اور مضبوط تھی‘ آپ جنوبی کوریا کی تاریخ نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو ملک کے ہر سیاسی اتار چڑھائو کے پیچھے سام سنگ اور لی کن ہی ملے گا‘ یہ درجنوں مرتبہ انکوائریوں‘ تفتیشوں اور مقدمات کا ہدف بنا‘ اس پر صدور کو رشوت دینے کے الزام بھی لگے اور اسے سیاسی خریدوفروخت کا بیوپاری بھی کہا گیا۔

2008 میں اس پر ٹیکس چوری کے الزامات ثابت ہو گئے‘ اسے سزا بھی ہوئی لیکن اس نے عدالت اور حکومت دونوں کو خرید لیا‘ سزا معاف ہو گئی تاہم اسے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا عہدہ واپس کرنا پڑ گیا‘ یہ پورے کوریا میں بدنام تھا مگر اسے کوئی ندامت‘ کوئی پریشانی نہیں تھی‘ یہ میدان میں ڈٹا رہتا تھا‘ یہ خود اپنے منہ سے کہتا تھا آپ اگر دولت سے آسانیاں نہیں خرید سکتے تو پھر آپ کو دولت مند ہونے کا کوئی فائدہ نہیں چناں چہ یہ سامنے موجود ہر شخص کو چند لمحوں میں خرید لیا کرتا تھا‘ اس کی یہ عادت اتنی پختہ ہو چکی تھی کہ اس نے آخر میں زندگی کو بھی خریدنے کی کوشش شروع کر دی۔

چیئرمین لی کن ہی کو 2014 میں ہارٹ اٹیک ہوا اور یہ کوما میں چلا گیا‘ اس کی وصیت کے مطابق اسے وینٹی لیٹر پر شفٹ کر دیا گیا اور اس کے لیے نئی ادویات کی ایجاد کا کام شروع کر دیا گیا‘ سام سنگ نے درجنوں ریسرچ اداروں کو فنڈنگ کی‘ بڑے سے بڑے ڈاکٹر کا بندوبست کیا اور قیمتی سے قیمتی ترین ادویات بنوائی گئیں مگر لی کن ہی کومے سے باہر نہ آ سکا‘ اس کے بیٹے لی جائے یونگ نے کمپنی کی عنان سنبھال لی‘ یہ اپنے والد کو ایک بار اپنے پائوں پر کھڑا دیکھنا چاہتا تھا‘ اس کی شدید خواہش تھی یہ ایک بار اپنے منہ سے بولیں۔

یہ اپنے ہاتھ سے کھائیں اور ایک بار !جی ہاں ایک بار اپنی کھلی آنکھوں سے سام سنگ کی نئی اسکرین دیکھیں لیکن لی جائے یونگ کی کوئی کوشش بارآور نہ ہوسکی اور یوں 25 اکتوبر 2020 کی وہ شام آ گئی جب ڈاکٹروں نے مایوسی کا اعلان کر دیا‘ لی کن ہی کومے کے عالم میں انتقال کر گیا اور اس کا جسم ٹھنڈا ہو رہا تھا‘ ڈاکٹر نے اس کا بازو سائیڈ پر رکھا اور مایوسی میں سر ہلا دیا‘ سام سنگ کا مالک مر چکا تھا لیکن مرنے کے باوجود اس کے اکائونٹ میں 20 بلین ڈالرز تھے اور یہ 350 بلین ڈالرز کی کمپنی کا مالک تھا مگر 350 بلین ڈالرز کی کمپنی اور 20 بلین ڈالرز کے اکائونٹس موت کا مقابلہ نہ کر سکے‘ مسافر چھ سال کی طویل نیند کے بعد اگلے سفر پر روانہ ہو گیا۔

لی کن ہی کی موت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا انسان دنیا میں دولت کے ذریعے سب کچھ خرید سکتا ہے لیکن یہ کتنا ہی بڑا بیوپاری کیوں نہ ہو جائے یہ ایک بھی اضافی سانس نہیں خرید سکتااور اس کے پاس قدرت کے سامنے ہارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا‘ کہتے ہیں انسان اگر زندگی خرید سکتا تو ہم آج بھی نمرود اور فرعون کی خدائی میں سانس لے رہے ہوتے‘ موت وہ امر ربی ہے جس کے ذریعے اللہ لی کن ہی جیسے لوگوں کو یہ پیغام دیتا ہے‘ جائو تم جتنا بھاگ سکتے ہو بھاگ لو لیکن تم نے آخر میں میرے پاس ہی آنا ہے‘ میں تمہیں کائنات کے کسی کونے میں چھپنے نہیں دوں گا اور یہ چھپنے دیتا بھی نہیں ‘ تاریخ انسانی خدائوں کا قبرستان ہے‘ آپ کسی دن تاریخ کے قبرستان میں جھانک کر دیکھی۔

آپ کو ہر قبر میں کوئی نہ کوئی ایسا شخص لیٹا ملے گا جو خود کو ناگزیر بھی سمجھتا تھا اور ناقابل شکست بھی لیکن پھر کیا ہوا ؟سن کنگ سے لے کر مون کوئین تک دنیا کے ہر ناگزیر کے لیے مٹی آخری لحاف ثابت ہوئی‘ اللہ کی اس دنیا میں لی کن ہی جیسا شخص بھی چھ چھ سال اسپتال میں بستر پر لیٹ کر آنکھ نہیں کھول پاتا اوراس سے امیر تیمور اور ہٹلر جیسا شخص بھی خالی ہاتھ واپس جاتا ہے لیکن ہم اس قبرستان میں پوری زندگی ’’میں میں‘‘ کی آوازیں لگاتے رہتے ہیں اور ہمیں شرم بھی نہیں آتی‘ بھائی میرے! اپنی اوقات دیکھ کر بولو‘ تم کورونا کا مقابلہ تو کر نہیں سکتے‘ زندگی اور موت دینے والے کا کیا خاک مقابلہ کرو گے‘ مٹی کی مٹھی ہو‘ مٹی بن کر رہو‘ خدا نہ بنو کیوں کہ خدا اپنے سوا کسی کو خدا نہیں رہنے دیتا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: