Today's Columns

ذکر ِ الہی اور حیرت انگیز سائنسی انکشافات از از پروفیسر شمشاد اختر ( پیغام فکر )

سالہا سال کی تحقیق کے بعد سائنس اس بات کو علی الاعلان تسلیم کرچکی ہے کہ انسانی نفسیات کا اس کے جسم کے ساتھ ایک براہ راست اور گہرا تعلق ہے،جس کی بدولت انسانی جسم نفسیاتی کیفیت کا اثر فوری طور پر قبول کرتا ہے اور تحقیقات سے یہ بات بھی مانی گئی ہے کہ کوئی بھی بیماری صرف جسمانی نہیں ہوتی بلکہ انسانی نفسیات کا اثر اس بیماری پر بالواسطہ یا بلا واسطہ ضرور ہوتا ہے اور ا س طرح کوئی بھی بیماری صرف نفسیاتی نہیں ہوتی بلکہ اس میں بھی کہیں نہ کہیں بالواسطہ یا بلا واسطہ انسانی جسم کا عمل دخل ضرور ہوتا ہے ۔اس کا جدید طریقہ علاج ’’ طب نفسی جسمی‘‘ (Psychosomatic Medicine) کہلاتا ہے طب نفسی جسمی کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی بیماری میں مریض کے نفسیاتی طور پر جذبات واحساسات کا حصہ کس قدر ہے اور اس طرح جسم کا حصہ کس حد تک ہے اور پھر یہ کہ ا ن دونوں میں تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟ ۔اس حوالے سے چند ایک احادیث مبارکہ اور اقوال بیان کریں گے تاکہ مسئلہ کو آسانی سے سمجھا جا سکے ۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ جب کسی قوم میں بدکاری اور اخلاقی برائیاں پھیل جاتی ہیں تو اس میں طاعون اور دوسری ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو اس سے پہلے ان لوگوں میں نہیں تھیں ‘‘۔ایک اور مقام پر فرمایا:’’ خوش اطوار انسان کا قلب پر سکون ہوتا ہے‘‘۔ایک امریکی ڈاکٹر’’مسٹر آر۔ ڈبلیو۔ٹرائن ‘‘اپنی کتاب ’’ In Tune With The Infinit‘‘کے صفحہ ۳۹ پر لکھتا ہے کہ ’’ دماغ جسم کا فطری محافظ ہے۔ ہر قسم کا گناہ جسم لطیف میں برص اور دیگر امراض پیدا کرتا ہے اور پھر یہی امراض جسم خاکی میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔‘‘جبکہ مہاتما بدھ نے کہاکہ ’’ تندرستی نیکی کا نام ہے جب لالچ ، نفرت اور فریب کی آگ بجھ جاتی ہے تو نروان کو ( مکمل چین اور سکون ) حاصل ہوتا ہے ‘‘۔اسی طرح گیتا میں درج ہیکہ ’’جو شخص حواس اور عقل کو ضبط میں لانے کے بعد( سفلی) خواہشات کو ترک کر دیتا ہے وہ تمام دکھوں سے رہائی پا لیتا ہے ۔‘‘سرطان (cancer)کے حوالے سے جدید تحقیق کے بارے میں روم میں مقیم ایک جرمن ڈاکٹر’’ رٹکی گریڈ ہامر‘‘ کا کہنا یہ ہے کہ ’’ سرطان یعنی کینسر نہ تو ماحول کی کثافت کا نتیجہ ہے، نہ اس کا کوئی تعلق وائرس سے ہے اور نہ ہی اس کی پیدائش میںموروثی اور جینیاتی اثرات کاکوئی حصہ ہے ، بلکہ انسان اور جانور دونوں میں سرطان کی پیدائش دماغی کار کردگی میں خلل(Neurosis)کا نتیجہ ہوتی ہے اور خلل سے مراد ہے کہ دماغی عصبی رو لے جانے والے ڈور ( اعصابی تار)آپس میں الجھ جاتے ہیں ، جبکہ ایسا کسی نفسیاتی الجھن یا شدید ذہنی دبائو کی وجہ سے ہوتا ہے ۔‘‘( اسٹیٹسمین ، نئی دہلی، ۶ جون ۱۹۸۲ئ)
اوپر بیان کردہ تحقیقات کو پڑھ لینے کے بعداب آپ روز مرہ کے عام تجربات کو ذہن میں دہرائیں تو آپ یہ سوچ کر حیران رہ جائیں کہ ہمارے جذبات اور جسمانی کیفیات کا آپس میں کتنا گہرا تعلق ہے ۔ مثال کے طور پر عام مشاہدہ ہے کہ بھوک میں غصہ آجاتا ہے اورغصے میں بھوک کا احساس ماند (پھیکا) پڑنے لگتا ہے،خوف کی حالت میں جنسی جذبات سرد ( ٹھنڈے)پڑ جاتے ہیں ،غم یا پریشانی کے عالم میں سر درد شروع ہو جاتا ہے اور سر درد کے دوران غم یا پریشانی گھیرا ڈال لیتی ہے، پھر اس طرح اگر دوسری طرف دیکھیں خوشی سے دل باغ باغ ہو جاتا ہے اور موسیقی جذبات میں ہیجان ( جوش و ولولہ )پیدا کر دیتی ہے۔اسی طرح ذکرالہی کواگر ہم ’’ ارتکاز توجہ کی مشق‘‘ کے طوراپنا لیں تو یہ آپ کے لئے لا تعداد بیماریوں سے شفا اور بہت سے فوائد کے حصول کا ذریعہ ہے کیونکہ اس ذکر کی صورت میں کی جانے والی’’ ارتکاز توجہ کی مشق‘‘کی بدولت قوت ارادی مضبوط ہو جاتی ہے اور جذبات میں اعتدال پیدا ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں جذباتی دبائو،غلط انداز فکر اور اعصابی تنائو ختم ہو جاتا ہے اور یوں یہ بات تحقیقی نکتہ نظر سے بھی پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے کہ قرآن میں ذکر الہی کو سکون کا باعث کیوں کہا گیا ہے ۔فرمایا: ’’ بے شک دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے ‘‘ ( الرعد: ۲۸)اور یہی بات ’’Destructive Emotions‘‘ کے مصنف’’Danial Goleman‘‘نے لکھی ہےFor 30 years meditation Research told us that it works beautifully as anatidote to stress’’ تیس سالہ تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مراقبہ ذہنی دبائو کے خلاف بہترین تریاق ہے ۔‘‘ اوراس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ’’ ڈاکٹر ز کی ایک بہت بڑی تعدادلمبی بیماریوں جیسے دل کی بیماریاں ، ایڈز ، کینسر اور بانجھ پن کو قابو کرنے کے لئے مراقبہ کو ایک عمدہ ذریعہ علاج قرار دیتی ہے اور اس کے علاوہ یہ دوسری اعصابی بیماریاں جیسے ذہنی دبائو ، ہیجان اور ذہنی پسماندگی کو بھی ختم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔‘‘( Monthly Time 4th August 2003 , new yark city)بہر حال اس طرح جگر کے امراض ، پھیپھڑوں کی تکلیف، بلڈ پریشر ، دل کی بیماریاں ( مثلا تپ دق۔، جس کا تعلق جذبات کے اتار چڑھائو سے ہے ) جنسی امراض، نفسیاتی بیماریاں ( مایوسی ، محرومی، تلخی ، عداوت، تشویش،ٹینشن) وغیرہ دور ہو جاتی ہیں ۔غرض کہ اس ’’ ارتکاز توجہ کی مشق‘‘کی وجہ سے تقریباََ ہر بیماری کی نوعیت اور شدت کے اعتبار ضرور افاقہ ہوتا ہے ۔
تاریخ میں سب سے پہلے فیثا غورث نے اس حقیقت کا انکشاف کیا تھاکہ کائنات کی ہر چیزسے لہریں نکل رہی ہیں جبکہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ وہ پہلے مفکر تھے جنہوں نے ’’ عالم مثال ‘‘ اور ’’ اوراء ‘‘ کی موجودگی کا اعلان فرمایا تھا ۔ روح کو فلسفہ مغرب ’’ اسٹرل باڈی ‘‘Austal Body’’ جسم لطیف ‘‘ یا ’’ جسم مثالی ‘‘ کا نام دیتے ہیں اور ’’ عالم مثال ‘‘ کو کا سمک ورلڈ Cosmic World’’ آسٹرل ریجن ‘‘(Astral Region)،’’ ایتھر‘‘ Either یا’’ اثیر ‘‘ کہتے ہیں ۔یورپ میں ’’ کاپرینکی‘‘ پہلا مفکر ہے جس نے ۱۵۴۳ء میں انسان کو ایک روحانی حقیقت ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ جبکہ کیپلر، گلیلیو، نیوٹن اور ڈارون نے بھی اسی موضوع پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ، چنانچہ ۱۸۷۴ء میں سرولیم نے اپنی کتاب Research in the Phenomena of Spiritualismکے نام سے شائع کی جسے بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ۔ فرانس کے فزیالوجسٹRichetنے اپنی کتاب Thirty years of Physical Researchمیں روح اور ’’ اسٹرل ورلڈ ‘‘کے وجود کی تصدیق کی ۔
اورسب سے پہلے ’’ اوراء ‘‘ (Aura)کے بارے میں شاہ ولی اللہ ؒ نے لکھا تھا اسے بعد ازاںڈاکٹر کرنگٹن اپنے الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے ۔ Aura is invisible magnetic radiation from the Human body whicheither attracts or repels’’اورائ‘‘ وہ غیر مرئی( نہ نظر آنے والی ) مقناطیسی روشنی ہے جو انسانی جسم سے خارج ہوتی ہے یہ یا تو دوسروں کو اپنی طرف کھینچتی اور یا پرے دھکیلتی ہے ۔‘‘دراصل انسان کے جسم سے مختلف رنگ کی شعاعیں نکلتی ہیں جو جسم کے ارد گرد ایک ہالہ سا بناتی ہیں ۔یہ شعاعیں ہر آدمی خارج کرتا ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد ، فرق صرف یہ ہے کہ نیک و بد کی شعاعوں کا رنگ حسب کردار مختلف ہوتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالی نے فرمایا :’’ اے مسلمانو ! اہل کتاب سے کہو ہم نے اللہ کے دین کا رنگ قبول کرلیا ہے اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے ،اور ہم اسی اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں ‘‘۔( البقرہ ، ۲: ۱۳۸)موت کے وقت یہ ’’ اوراء ‘‘ نیلگوں مائل بہ سیاہی ہو جاتا ہے ، بعض لوگوں میں یہ صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے کہ وہ ظاہری آنکھوں سے ’’ اوراء ‘‘ کو دیکھ سکتے ہیں جبکہ کچھ لو گ باطنی آنکھ سے بھی اسے دیکھ سکتے ہیں ۔ اس حوالے سے جدید سائنسی تحقیق کی بدولت’’ کیرلین برادرز‘‘نے ایسا کیمرہ ایجاد کرلیا ہے جس سے کسی بھی شخص کی ’’ اوراء ‘‘ کو نہ صرف دیکھا جا سکتا ہے بلکہ اس کی تصویر بھی لی جا سکتی ہے ۔قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے فرمایا : ’’ اور وہی ہے جو رات کے وقت تمہاری روحیں قبض فرما لیتا ہے اور جو کچھ تم دن کے وقت کماتے ہو وہ جانتا ہے پھر وہ تمہیں دن میں اٹھادیتا ہے تاکہ تمہاری زندگی کی) معینہ مدت میعاد پوری کردی جائے پھر تمہارا پلٹنا اسی کی طرف ہے پھر وہ ( روز محشر)تمہیں ان ( تمام اعمال )سے آگاہ فرما دے گا جو تم ( اس زندگانی میں ) کرتے رہے تھے۔ اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ تم پر ( فرشتوں کو بطور ) نگہبان بھیجتا ہے،یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی ہے(تو) ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے)اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ خطا (یا کوتاہی) نہیں کرتے ،‘‘الانعام ۶۰،۶۱)اسی روح کو مغرب کے اہل فن اپنی اصطلاح میں ’’ آسٹرل باڈی ‘‘Austral Body یا ’’ جسم لطیف ‘‘ کہتے ہیں ۔ یورپ کے مشہور پادری ’’ لیڈ بیٹر ‘‘ جنہیں وہاں کے صوفیاء میں سر فہرست سمجھا جاتا ہے، یہ جسم لطیف میں دور دور تک پرواز کرتے اور مخفی اشیاء کو دیکھ سکتے تھے۔ وہ اپنی کتاب ’’ Invisible Helpers‘‘ جو ۱۹۲۸ء میں شائع ہوئی اس کے صفحہ ۷۰ پر لکھتے ہیں :You are not your body you inhabit your body. Bodies are mere shells which we cast aside like a suit of clothing ‘‘ تم جسم نہیں ہو یہ جسم تمہاری قیام گاہ ہے ،اجسام محض خول ہیں ، جنہیں ہم موت کے وقت یوں پرے پھینک دیتے ہیں ، جس طرح کہ کپڑے اتار دئیے جاتے ہیں ۔‘‘ ڈاکٹر الیکسز کیرل کا کہنا ہے کہ Man overflows and is reater than the organism which he inhabits’’ انسان اپنے جسم سے عظیم تر ایک چیز ہے اور اس پیمانہ خاکی سے باہر چھلک رہا ہے ۔‘‘ در اصل تحقیقات سے یہ حقیقت اب تسلیم کی جا چکی ہے کہ ہمارے جسم خاکی کے اندر ایک اور جسم داخل ہے جو بخارات آبی سے زیادہ لطیف ہے حقیقی انسان وہی ہے ،جسم خاکی فانی ہے اور جوغیر فانی ہے اس کو روح کہتے ہیں اسی روح کی خوراک ذکر الہی ہے ۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: