Today's Columns

دور جدید اور احساس از محمد علی احمد

دورجدید دور قدیم سے بہت مختلف ہے۔ دور قدیم میں نہ تو اتنی ترقی تھی اور نہ ٹیکنالوجی جو کہ دور جدید میں موجود ہے۔لیکن یہ کہ دور قدیم میں لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت تھی پیار تھا، خلوص تھا اور سب سے بڑھ کر احساس تھا۔لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے تھے اور دوسروں کوخود پر ترجیح دیتے تھے۔ معا شرہ محبت،احساس، خلوس،چاہت،پیار،ہمدردی جیسے مضبوط ستو نوں پر استوار تھا۔اس کے بر عکس دور جدید میں ترقی اور ٹیکنالوجی تو بہت ہے اود ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہییہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ دور مشینوں کا دور بن چکا ہے لیکن اس دور میں انسان کے احساسات اور محبت و خلوس جیسے جذبات کی گونج میں روند دیے جا چکے ہیں۔
بقول اقبال
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس و مروت جلا دیتے ہیں آلا ت
ہم لوگ جو ان توانا اجسام کی مردہ روحوں کو لیے پھرتے ہیں دور جدید کا ہی دل شکستہ تحفہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے دلوں سے ’’احساس‘‘نامی کیفیت ختم ہو چکی ہے اود ہماری بے چینی میں مذید اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی سہولیات کے لیے ترقی کریں تاکہ دوسری اقوام کے شانہ بشانہ چل سکیں۔ لیکن ساتھ ہی ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم اپنی روایات اور اقدار کو اپنے دلوں میں ذندہ رکھیں تاکہ دور حاضر کی اس بے چینی سے چھٹکارہ پا سکیں۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: