Today's Columns

اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام از پاکیزہ افضال

قبل از اسلام عورت کی معاشرتی حیثیت ا نتہائی ناگفتہ بہ تھی اسلام کا عورت پر عظیم احسان ہے کہ اس نے عورت کو بحیثیت ماں،بیوی،بیٹی جیسابلند مقام دلایا اور اسے مردوں کے برابر حقوق عطا فرمائے۔ اسلام سے قبل عرب معاشرے میں بیٹی کے پیدا ہوتے ہی اسے قتل کردیا جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا”بیٹی کی پرورش والدین اور جہنم کے درمیان آڑ ہے”ماں اور بیوی کی حیثیت سے بھی عورت کو بلند مقام عطا کیا گیا۔اسلام نے عورت کو زندہ رہنے کاحق دیا ہے حقِ پرورش عطا کیا اور اولاد کی تعلیم و تربیت میں عورت کو بھی مرد کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔ عورت کی تعلیم و تربیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے” عورت کے نان و نفقہ کی زمہ داری بھی مرد پر ہے اسلام سے قبل عورت کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا اسلام نے عورت
کے اس حق کو تسلیم کرایا اور وراثت میں اس کا حصہ مقرر کیا ارشاد باری تعالیٰ ہے۔”لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر
حصہ دو” اسلامی معاشرے نے عورت کو بہت عزت و وقار سے نوازا ہے عورت کو انصاف کا حق دیا گیاہے اگر اس پر ظلم ہو تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہے اسلام نے عورت کے حق ِمعاش کو بھی تسلیم کیا ہے مگر وہ ایسا پیشہ اختیار کریں جس میں مروزن کا اختلاط نہ ہو مکمل پردے میں رہ کر عورت انسانیت کی خدمت کا فریضہ بھی سر انجام دے سکتی ہے۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: