Today's Columns

آنسو انسان کی طاقت کیسے؟؟ از گلشن رانی

انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ رو رہا ہوتا ہے اس وقت وہ ایک معصوم بچہ ہوتا ہے جو کہ دنیا کی رنگینیوں سے بے خبر ہوتا ہے۔ جب ایک بچہ دنیا میں روتے ہوئے آتا ہے تو اس وقت اس کے رونے کو اسکے زندہ ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے-اگر اس وقت رونا ہماری طاقت کو ہمارے زندہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے تو بعد میں یہ رونا ہماری کمزوری کیسے بن جاتا ہے؟
دیکھیں آنسو تو آزمائش یا پریشانی میں نکلتے ہی ہیں۔اب یہ ہم انسانوں پر ہے کہ ہم ان آنسوؤں کو اپنی کمزوری بناتے ہیں یا طاقت؟؟
جب انسان اس دنیا کی رنگینیوں میں کھو جاتا ہے تو اس کو ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔اس دنیا میں آزمائشیں اور پریشانیاں ہر انسان کے حصے میں آتی ہیں۔کوئی ایسا انسان نہیں جسے صرف اور صرف خوشیاں ہی نصیب ہوئی ہوں یہ دکھ، درد،آزمائشیں سب زندگی کا حصہ ہیں۔ ان سب کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔اب یہ تو انسان پر ہی ہے کہ وہ اپنی آزمائش یا پریشانی کو کیسے گزارتا ہے۔ان سب حالات کو منفی سوچ میں لیتا ہے یا مثبت سوچ میں۔
دیکھیں آنسو تو آزمائش یا پریشانی میں نکلتے ہی ہیں تو یہ آپ پر ہے کہ کہیں آپ اپنی آزمائش یا پریشانی کی وجہ سے منفی سوچ کو سوچ کر ڈر رہے ہیں یا مزید پریشان ہیں۔ اب یہ آپ پر انحصار کرتا ہے کہ وہ مشکل وقت آپ کو مزید کمزور کرتا ہے یا پہلے سے بھی طاقت وار آنسو ہماری کمزوری کیسے؟ وہ اس طرح کہ اگر ہم اپنی آزمائش یا پریشانی کو اپنے اوپر سوار کر لیں گے تو منفی سوچ ہمیں کچھ نہیں سوچنے دے گی ۔ اس طرح تو یہ پریشانیاں ہم اپنے اوپر حاوی کر لیں گے اور منفی سوچ ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کم کر دے گی۔سب سے بڑی بات کہ آپ کی منفی سوچ آپ کے اندر نا امیدی پیدا کر دے گی۔ یہی نا امیدی آپ کو مزید کمزور کر دے گی۔ظاہری بات ہے کہ جب انسان ناامید اور بے بس ہو جائے تو اس وقت نکلنے والے آنسو انسان کو اور بھی کمزور کر دیتے ہیں۔اس طرح منفی سوچ اور غلط رویے کی وجہ سے آنسو انسان کی کمزوری بن جاتے ہیں۔اس کے بر عکس اگر انسان مشکل حالات کواپنے اوپر حاوی نہ کیا جائے تو اپنی سوچ کو مثبت رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرئے تو اس سے اس کا ایمان اور پختہ ہو گا۔ اور دل میں یہ امید پیدا ہو جائے گی کہ جس اللہ نے مشکل حالات میں ڈالا ہے وہی مجھے نکالے گا۔ تو ایسی صورت میں نکلنے والے آنسو ہمیں پہلے سے بھی زیادہ مظبوط کریں گے۔اور جہاں تک ممکن ہو اپنی کوشش کرتے رہنا چاہیے اور اگر ہم کوئی حل نہ نکال سکیں تو بھی صبر سے کام لینا چاہیے،اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیں ۔ صرف اسی کی ذات باری تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اس کا ذکر کریں اور اسی کے سامنے رو رو کر دعا کریں۔ بیشک وہ ہی سب سے زیادہ سننے والا ہے اور اپنے بندے کو مظبوط بنا نے والا ہے۔جو بندے اس کے سامنے جھکتے ہیں وہ ذات باری تعالیٰ اس بندے کو دنیا کے سامنے جھکنے نہیں دیتی۔ اس لیے اپنے آنسوؤں کو لوگوں کے سامنے ضائع کرنے کے بجائے اپنے اللہ کے سامنے بہاؤ کیونکہ لوگ آپ کے آنسوؤں کو آپ کی کمزوری سمجھیں گے اور اللہ تعالیٰ آپ کے آنسو دیکھ کر آپ کو کمزور نہیں پڑنے دے گا۔جب آنسو آپ اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہو کر بہا تے ہو تو وہ آنسو آپ کی طاقت بن جاتے ہیں۔اگر غلطیوں پر رونا آئے تو خود کو کمزور نہیں بلکہ طاقت وار سمجھو۔ جب تک آپ اپنے آپ سے خود نہیں ہار جاتے تب تک دنیا کی کوئی طاقت آپ کو ہرا نہیں سکتی۔اپنے آنسوؤں کو اپنی کمزوری نہیں طاقت سمجھو پھر دنیا آپ کو نہیں آپ دنیا کو اپنے سامنے جھکا سکتے ہو۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: