حقوقِ نسواں کا فتنہ – انصار عباسی

ایک دو روز قبل سوشل میڈیا پر دیکھا تو ہمارے دیسی لبرل بہن بھائیوں نے Motivational Speakerقاسم علی شاہ کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا تھا۔ طنز کے تیر برسائے جا رہے تھے اور اعتراض اِس بات پر تھا کہ قاسم علی شاہ نے اپنے ایک انٹرویو میں بچیوں کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اچھی بیوی اور اچھی ماں بننے کی تربیت حاصل کرنے پر زور کیوں دیا؟ قاسم شاہ کو میں ذاتی طور پر نہیں جانتا، کبھی کبھار اُن کی باتوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے سننے کا موقع ملتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات پر زور دیتے ہیں اور معاشرے کی اخلاقی اقدار اور کردار سازی پر فوکس کرتے ہیں۔ مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ اُن کی باتوں کا فوکس صرف خواتین ہی ہوں لیکن ہمارے دیسی لبرلز نے قاسم صاحب کے ایک بیان کا ایک حصہ پکڑ کر اُسے اسکینڈلائز کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ جس حد تک اُن کا بیان چلایا گیا وہ بھی کسی طور پر قابلِ اعتراض نہ تھا بلکہ ایک بہترین مشورہ تھا کیونکہ بیوی اور ماں ہمارے معاشرے اور فیملی سسٹم کی وہ بنیاد ہے جسے مغربی فنڈنگ سے چلنے والی این جی اوز، ایک مخصوص لبرل طبقہ جو میڈیا میں بھی بہت با اثر ہے اور بیرونی قوتیں حقوقِ نسواں، برابری، آزادی اور انسانی حقوق کے نام پر کھوکھلا کرنا چاہتی ہی

ں۔ مغربی معاشرے میں فیملی سسٹم تباہ ہو چکا، ماں باپ کا احترام نہیں تو بیوی کے بجائے گرل فرینڈ رکھنے کا رواج عام ہے، اگر کوئی شادی کرتا ہے تو شادیاں چلتی نہیں اور طلاقیں بہت عام ہو چکی ہیں۔ جب سے عورت اور مرد کی برابری، برابری اس لحاظ سے کہ جو کام مرد کرے وہی عورت کو ضرور کرنا چاہئے، کا راگ یہاں الاپا جا رہا ہے ہمارے ہاں بھی شادی شدہ افراد میں ناچاقیاں بڑھ رہیں ہیں، طلاقوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، فیملی کورٹس میں خلع کے کیس پہلے سے بہت زیادہ دائر کیے جا رہے ہیں۔ حقوقِ نسواں، عورت کی آزادی اور انسانی حقوق کے نام پر پاکستان میں بہت گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے لیکن یہ نعرے اتنے طاقتور بنا دیے گئے ہیں کہ اِن نعروں کو استعمال کرکے آپ جو مرضی کرتے رہیں، کوئی بولنے کی جرات نہیں کرے گا۔ اگر کوئی بولے گا تو اُس کی دیسی لبرلز کا طبقہ ایسی تیسی کر دے گا۔ جیسا کہ میں نے اوپر کہا کہ قاسم شاہ کے بیان کا ایک ٹکڑا پکڑ کر اُسے نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ جہاں ہمیں ماں اور بیوی کے بنیادی کردار کو تحفظ دینا ہے، وہاں معاشرے کے ہر فرد بشمول مردوں کی تربیت کی بھی بہت ضرورت ہے تاکہ اچھی ماں اور اچھی بیوی کے ساتھ ساتھ مثالی باپ، مثالی شوہر اور مثالی بھائی بھی ہمارا معاشرہ پیدا کرے۔ اِسی لئے میں تو بار بار پورے معاشرے کی تربیت اور کردار سازی پر زور دیتا ہوں۔ جب فحاشی و عریانی پر بات ہوتی ہے اور یہ کہا جاتا کہ عورت کا بہت استحصال کیا جاتا ہے، جب عورت کو برابری اور آزادی کے نام پر گھر سے نکال کر مردوں کے درمیان نوکری کے مواقع دیے جاتے ہیں (اور اسے ترقی اور جدت پسندی گردانا جاتا ہے) تو کون نہیں جانتا کہ ہر جگہ عورتوں کو ہراساں کیا جاتا ہے،

جو مرد کی بےشرمی کو ظاہر کرتا ہے لیکن جب فحاشی کو روکنے کی بات کی جائے، جب یہ کہا جائے کہ خواتین کو ملازمت کے دوران ایسا ماحول دیا جائے کہ اُن کا مردوں کے ساتھ آمنا سامنا ممکنہ حد تک نہ ہو، لڑکیوں اور لڑکوں کے لئے سکول، کالج، یونیورسٹیاں علیحدہ علیحدہ ہونی چاہئیں اور یہ بھی کہ عورت سے ایسی کوئی نوکری نہ کروائی جائے جس کا مقصد اُسے شو پیس بنا کر پیش کرنا ہو تو یہی این جی اوز، یہی میڈیا، یہی مغرب زدہ طبقہ اعتراض اٹھاتا ہے کہ یہ تو عورت کے حقوق اور اُس کی آزادی کے خلاف ہے۔ آج کل کے اشتہارات دیکھ لیں، ڈراموں کو لے لیں، فلم کا جائزہ لےلیں سب کا اصل ہدف عورت، حیا اور ہمارا فیملی سسٹم اور ہماری معاشرتی اقدار ہیں۔ اِس لئے ضرورت اِس امر کی ہے کہ ایک طرف تو ہم اپنی معاشرتی اقدار کو حقوقِ نسواں جیسے فتنے سے بچائیں تو دوسری طرف اسلامی اصولوں کے مطابق پورے معاشرے کی تربیت اور کردار سازی کے لئے ایک منظم تحریک شروع کریں، جس کا مقصد معاشرے کے ہر فرد کو ایک اچھا انسان اور ایک مثالی مسلمان بنانا ہو تاکہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ بہترین سلوک کریں، ایک دوسرے کا لباس بنیں، اِس قوم کو اچھی مائیں ملیں جن کی اولین ترجیح اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرنا ہو، عورت کے ساتھ ساتھ مرد حیا دار ہوں، ہم اپنے معاشرتی اور سماجی معاملات اور تعلقات میں ہر طبقے کا خیال رکھیں لیکن اِن سب کی بنیاد اسلامی اصول ہوں نہ کہ مغرب کے رواج اور اُس کے نام نہاد نعرے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: