یہ تبدیلی سرکار ہے!- ارشاد بھٹی

نواز شریف کی ہلہ شیری سے ایاز صادق ڈٹے ہوئے، 11جماعتی اپوزیشن اتحاد بھی ڈٹاہوا، تبدیلی سرکار بھی ڈٹی ہوئی، مہنگائی بھی ڈٹی ہوئی، یعنی سب ڈٹے ہوئے عوام کے سوا، عوام پھنسے ہوئے، ٹائیگر فورس بن چکی، یہ علیحدہ بات، ٹائیگروں میں عمران خان یا کسی وزیر، مشیر کی اپنی آل اولاد نہیں، شیر جوان فورس بھی وجود میں آچکی، الحمد ﷲ، ان شیر جوانوں میں حسن، حسین سمیت اپوزیشن سیاستدانوں کے لخت جگر بھی نہیں، یہ ہوں بھی کیسے، سب امریکہ، برطانیہ میں پڑھائیاں کر رہے، ملٹی نیشنل کمپنیوں میں نوکریاں کر رہے،.

ملکی وغیر ملکی اعلیٰ درسگاہوں، محکموں میں اپنا مستقبل سنوار رہے، لہٰذا ٹائیگر فورس ہو یا شیر جوان، غریب کے بچے ہی ایندھن بنیں گے، نواز، مریم اینڈ کمپنی آل بچاؤ، مال بچاؤ، کھال بچاؤ کیلئے کشتیاں جلا چکی، یہ گاڈ فادروں کی سروائیول گیم، جس کے جو بس میں، وہ کر رہا۔

پیپلز پارٹی’ سیانی‘ ہوچکی، ایک قدم پیچھے کھڑی نو مولود انقلابیوں پر نظر رکھے ہوئے، مولانا صاحب کو پچھلی بار دونوں بڑی پارٹیوں کا بائی بائی، ٹاٹا نہیں بھولا، مسلم لیگ لُڈو کا سانپ سیڑھی کھیل کھیل رہی، پارٹی کے اندر سب اچھا نہیں، شریف خاندان میں بھی سب اچھا نہیں، یہ سچ، اقتدار ہو یا پارٹی عہدے، ہاؤس آف شریف اس پر متفق کہ سب کچھ گھر میں رکھنا ہے، اقتدار ہو تو بڑا بھائی وزیراعظم، چھوٹا بھائی وزیراعلیٰ، آل اولاد، رشتے دار، چہیتے عہدوں پر، حتی کہ سمدھی اسحق ڈار 84 کمیٹیوں کے سربراہ، اپوزیشن دور آیا، شہباز شریف مرکز میں، حمزہ شہباز پنجاب میں اپوزیشن لیڈر، پارٹی کا معاملہ ہو، نواز شریف قائد، شہباز شریف صدر، اگر نواز شریف اشتہاری ہو کر لندن میں ہوں اور شہباز شریف جیل میں تو پارٹی مریم نواز کی جیب میں، مطلب سب کچھ گھر میں رکھنا، یہ بھی سچ، مریم نواز لاکھ شہباز شریف اور حمزہ سے اپنائیت بھری تصویری ملاقاتیں کر لیں، مسلم لیگ ش بنے یا نہ بنے مگر اندر خانے گدی نشینی کی رسہ کشی جاری، شہباز فیملی کو یہ احساس ہوچکا کہ جب بھی مشکل وقت آتا ہے، کاروبار ہمارا تباہ ہوتا ہے، جیلیں، حوالاتیں ہمیں بھگتنا پڑتی ہیں، نواز شریف بچوں سمیت بلکہ کاروبار سمیت ہمیشہ ایک طرف ہوجاتے ہیں، قاصد ناکام نہ ہوتے تو مریم نواز اس وقت لندن میں ہوتیں، لیکن اچھا وقت آنے تک شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو مقدمے بھگتنا تھے، مقدمے بھگت رہے۔

ایازصادق کا بیان تو پاکستان کی بے عزتی، قوم کی بے عزتی، موصوف نے چٹا جھوٹ بول کر فتح مند پاکستان کو شکست خوردہ پاکستان بنادیا، دشمن کو ایسے خوش کیا کہ کل ہارا ہوا مودی دوطیارے تباہ کروانے، ابھی نندن گرفتاری کے بعد کہہ رہا تھا’’اگر ہمارے پاس رافیل طیارے ہوتے تو نتیجہ یہ نہ ہوتا‘‘ اس بیان کے بعد مودی کو جو خوشیاں وہ الگ، بھارتی ائیر چیف کہہ رہا’’ اگر پاکستان ابھی نندن کو نہ چھوڑتا تو ہم حملہ کرنے اور دشمن کو صفحہ ہستی سے مٹانے ہی والے تھے ‘‘ یہی وہ بھارتی ائیر چیف تھا ابھی نندن گرفتاری کے بعد جس کے منہ سے دو جملے نہیں نکل رہے تھے، اگر کوئی مہذب ملک ہوتا، دو طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہونے اور ابھی نندن گرفتاری کے بعد ائیر چیف مستعفی ہوجاتا یا برطرف کر دیا جاتا، ایاز صادق سے کوئی پوچھے کہ آپ قومی اسمبلی کے اسپیکر، کلبھوشن پکڑا گیا، قومی اسمبلی میں کلبھوشن پر تحریک التوا آئی، آپ نے اپنے چیمبر میں تحریک التوا ختم کر دی مطلب کلبھوشن گرفتاری پر اسمبلی میں بات نہ کرنے دی، اسی طرح کشن گنگا دریا اور متعدد بار دہشت گرد حملوں میں ’را‘ کی انوالوومنٹ پر آئی التوا کی تحریکیں بھی اپنے چیمبر میں نمٹا دیں، ان پر اسمبلی میں بات نہ ہونے دی، کیوں، ایسا کیوں کیا؟

فوادچوہدری کی سلپ آف ٹنگ بھی خطر ناک، اچھا ہوا وضاحت کر دی ورنہ مودی تو اس بیان پر’’ ہم نے پلوامہ میں گھس کر مارا‘‘ کے بعد اپنی اپوزیشن سے کہہ چکا ’’اب بولو، اب تو مان جاؤ، میں نے جو کیا ٹھیک کیا‘‘ جو کچھ وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے فرما دیا وہ بھی افسوسناک، موصوف نے فرمایا’’ جب عوامی نیشنل پارٹی نے طالبان کی مخالفت کی تو انہوں نے ردعمل میں میاں افتخار حسین کے بیٹے کو مار دیا اور بلور خاندان کو بھی نشانہ بنایا، آج ن لیگ کا بھی وہی بیانیہ ہے اور میں ان لوگوں کیلئے دعا گو ہوں‘‘، موصوف کو کون بتائے کہ افتخار حسین وہ بہادر باپ جس نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنا اکلوتا بیٹا کھودیا، بلور خاندان وہ بہادر خاندان جنہوں نے وطن پر اپنی جانیں قربان کیں، اے این پی وہ جماعت جس کے ہزار کے قریب کارکن شہید ہوئے، مشکل ترین لمحوں میں ڈٹ جانے والی جماعت اے این پی سے کوئی اختلاف کرسکتا ہے مگر ان کی قربانیاں سب مانیں، میاں افتخار حسین اور بلور خاندان سے یہ کہنا آپ شہیدوں کے وارث، اس بونگی پر کان نہ دھریں۔

قربان جاؤں اپنی حکومت پر، فردوس عاشق کو پنجاب میں مشیر اطلاعات لگا دیا، ابھی کل عمران خان کے کہنے پر ایک تلخ میٹنگ کے بعد اعظم خان اور شہزاد اکبر نے انہیں فارغ کرتے وقت کمیشن خوری، گاڑیوں، ملازمین کے بے تحاشا استعمال اور سرکاری بسیں ہتھیانے کے الزامات لگائے، اب پھر رکھ لیا، سمجھ نہ آئے حکومت تب ٹھیک تھی یا اب، مزے کی بات چوہان صاحب کو علم ہی نہ ہوسکا کہ ان سے وزارت لے لی گئی، حالانکہ یہ وزیر اطلاعات تھے، مزے کی بات، ڈاکٹر صاحبہ نے ٹویٹ کیا ’’ یہ مجھ پر میرے قائد عمران خان کا اعتماد ‘‘حالانکہ پچھلی مرتبہ فارغ ہوتے وقت ڈاکٹر صاحبہ نے لاکھ کوشش کی مگر ان سے قائد عمران خان نے دومنٹ ملنا گوارہ نہ کیا اور پھر یہ قائد حکومت کیخلاف پریس کانفرنس کرنے والی تھیں انہیں بڑی مشکل سے روکا گیا، سنا جارہا، ڈاکٹر صاحبہ کے بنی گالہ ہاؤس سے رابطے بحال ہوئے، انکی بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات ہوئی اور یوں ڈاکٹر صاحبہ کو دوبارہ نوکری مل گئی، ویسے عمران خان کو داد دیں، فارغ کرنے پر آئیں تو ناصر درانی، اسد عمر، فردوس عاشق، تانیہ ایدریس، فیاض چوہان، عاطف خان، شہرام ترکئی جیسوں کو یوں فارغ کریں کہ دومنٹ کیلئے ملنا، چائے کا کپ پلانا بھی گوارا نہ کریں، اس سے اندازہ لگائیں، کپتان رات 9دس بجے اسد عمر سے ملیں، 12بجے انہیں فارغ کردیں، 4 بجے سہ پہر ڈاکٹر صاحبہ سے ملیں، شام کو انہیں فارغ کردیں اور تو اور کپتان گھنٹہ بھر پہلے فیاض چوہان کی ترجمانیوں کی تعریفیں کر رہے تھے، گھنٹے بعد ان سے وزارت اطلاعات لے لی، لیکن اس روز روز کے آنے جانے، جانے آنے، نکالنے رکھنے، مطلب مسلسل تبدیلیوں پر حیران نہ ہوں، بھائی جان یہ تبدیلی سرکار ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: