Today's Columns

قبلہ اوّل اور آج کا مسلمان از طاہرہ سلیم

فلسطین کا دارالخلافہ یروشلم نقشہ دنیا پر معتبر مقام ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کا قبلہ اوّل موجود ہے۔
بیت المقدس کو یہ خوش نصیبی بھی حاصل ہے کی سفرِمعراج کے دوران بیت اللہ شریف سے نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس لایا گیا۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک سفر آسمان کی جانب شروع ہوا۔ اس جگہ کی حرمت کو اللّٰہ تعالیٰ نے سورۃالاسراء میں اس طرح بیان فرمایا ہے
” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات مسجد حرم سے مسجد اقصیٰ سے لے گیا۔ جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے ”
مسجد اقصی کی وجہ سے آس پاس کا علاقہ بھی متبرک ہوگیا۔ یہی وہ سر زمین ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو داخل ہونے کا حکم یہ کہہ کر دیا کہ مقدس سر زمین میں داخل ہو جاؤ۔
بیت المقدس کی پاکیزگی کا یہ عالم ہے کہ کانا دجال بھی اس جگہ قدم نہ رکھ پائے گا بلکہ اس سرزمین پاک کے نزدیک جانے سے پہلے ہی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ہاتھوں اسکا قلع قمع ہو جائیگا۔
القدس شریف انبیاء کرام کا مسکن اور مدفن ہے۔ اس سرزمین کو یہ شرف بھی حاصل ھے کہ حرمِ مکہ اور مدینہ کے بعد بیت المقدس کی طرف سفر کو جائز قرار دیا گیا۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے
” تین مساجد کے علاوہ اور کسی مسجد کی طرف سفر جائز نہیں۔ یہ مساجد، حرم پاک، مسجد نبوی اور مسجد اقصی ہیں۔”(صحیح بخاری،حدیث نمبر 1132)لیکن یہودی موسیٰ علیہ السلام کے پیروکار ہونے اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا مسجد کی تعمیر کرنے کی نسبت سے اپنا حق جتاتے ہیں۔ جبکہ حضرت یعقوب علیہ السلام سمیت تمام انبیاء توحید پرست تھے جبکہ یہودی مشرک ہونے کی بنا پر مسجد اقصی پر کوئی حق نہیں رکھتے۔ اور تاریخ اسلام کے مختلف حالات و واقعات اور ارتقائی مراحل بھی مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کے حق کی گواہی دیتے ہیں
یہودی ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کے خلاف سازشوِں میں سرگرمِ عمل ہیں اور زور زبردستی حرم اقصیٰ پہ قبضے کے خواہشمند ہیں۔ اس وقت اسی نہ پوری ہونے والی خواہش کے پیش نظر فلسطین کے نہتے مسلمانوں کے سامنے برسرِپیکار ہیں اور نماز پڑھتے، رکوع وسجود میں ربِ کعبہ کے سامنے جھکے،گڑگڑاتے فلسطین کے مسلمانوں پر گولیوں اور شیلوں کی بو چھاڑ کر رہے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے درودیوار خون کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ یہ خون کی ہولی یہودیوں کی مسلمانوں کو کمزور کرنے اور بیت المقدس پر اپنا قبضہ جمانے کی کوشش ہے۔
اور صد افسوس امتِ مسلمہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے اور ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے ڈالرز کی بارش کے انتظار میں اپنے گھٹنے اُن چند گنے چنے یہودیوں کی سامنے ٹیک چکے ہیں جنکی تعداد پوری دنیا کے مسلمانوں کے سامنے آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ وہ بھی تو ہمارے آباء تھے جو تین سو تیرہ اپنے سے دس گنا بڑے لشکر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے اور فتح کو اپنے نام کیا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُن کی کامیابی کا راز انکا جذبہ ایمانی تھا جبکہ ہماری غیرت ایمانی سو چکی ہے۔ ہمیں تو اپنی نسلوں کو قبلہ اوّل سے محبت کا درس دینا تھا۔ اپنے بچوں کے دلوں میں قبلہ اول کی محبت اجاگر کرنی تھی لیکن ہم تو خود ہی اپنے ہاتھوں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو یہودی سورماؤں کے ہاتھوں رُسوا ہوتا اور
بیت المقدس کا تقدس پامال ہوتا دیکھ رہے ہیں اور ہمارے کانوں پہ جُوں تک نہیں رینگ رہی۔ کیونکہ ہمیں تو اے سی والے کمرے، صحت، دولت گاڑی، بنگلہ اور آسائشیں میسر ہیں۔ ہمارے دل پیسوں کے پجاری بن کر پتھر کے ہوگئے ہیں جن پر ماؤں کی آہیں بھی اثر نہیں کر ہیں،بلکتے بچوں کی روز میڈیا پہ دکھائی جانے والی تصاویر کو دیکھتے ہوئے ہم آنکھوں والے اندھے بن جاتے ہیں۔ جوانوں کے اُٹھتے لاشے دیکھ کر بھی ہمارے دل نہیں دہلتے کیونکہ وہ ہمارے بیٹے یابھائی نہیں ہیں۔ ہماری بہنوں، ماؤں اور بیٹیوں کی عزتیں محفوظ ہیں تو ہمارے سر فلسطینی بیٹیوں کی عزتیں پامال ہونے پہ شرم سے نہیں جھکتے۔ ہزارہا افسوس ۔یااللہ امت مسلمہ کے حال پر رحم کر۔ دور صحابہ کی یاد تازہ کر۔ہم میں کوئی عُمر،کوئی ابوبکر، خالد بن ولید،سلطان صلاح الدین، کوئی محمد بن قاسم پیدا کر۔ یا اللہ مسجد اقصی کی اور دنیا میں جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں سب کی حفاظت فرما۔۔ آمین

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: