Today's Columns

فلسطین کے نام از ام ابراہیم

عزیز از جان فلسطین، آج تم جس آزمائش سے گزر رہے ہو اور جس ہمت و استقلال سے گزر رہے ہو، اس نے مجھے اور تمام امت مسلمہ کو انگشت بدنداں کر دیا ہے. آپ کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا جذبہ ایمانی بھی سراہے جانے سے تعلق رکھتا ہے جو اپنی انتہائی کم عمری میں بھی مسجد کی جانب لپکتے ہیں. آپ لوگوں کا کامل ایمان دیکھ کر یاد آتا ہے کہ غزوہ بدر میں کیسے ؟؟؟ مسلمان کفار کو شکست دے آئے ایسا ہی تو ایمان تھا انکا بھی کہ انہیں بھی بخوبی معلوم تھا کہ جنت تلواروں کی چھاؤں تلے ہے۔آپ کو بھی معلوم ہے کہ مسجد جانا خطرے سے خالی نہیں پھر بھی آپ لوگ نماز کے وقت وہیں پاے جاتے ہو. جذبہ شہادت ہر خوف پر، غم پر، تکلیف پر حاوی ہے۔
آپ لوگوں کے غم دیکھ کر امت مسلمہ حیران ہے کہ مشکل میں مسجد میں صرف اللہ کو ہی پکار رہے ہیں اور بآواز بلند بلا رہے ہیں. ہر آزمائش پر کامل یقین سے اللہ کو پکارنا، یہ توفیق بھی قسمت والوں کو ہی ملتی ہے. دس سال کی بچی اتنی سمجھدار، دلیر ہے کہ اللہ اکبر۔۔۔ کیا اسکے عزائم ہیں کہ وہ اپنے لوگوں کیلیے کچھ کرنا چاہتی ہے مگر بس یہ فکر لاحق ہے کہ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے۔کیا اسکا دکھ ہے اور اسکو دیکھنے کے بعد جب اپنے اردگرد نظر دوڑائی تو بچوں کو محو کھیل ہی پایا۔ارے وہ تو اس قدر غافل ہیں کہ انہیں یہ ہی نہیں معلوم کہ وہ پب جی میں کیا کر رہے ہیں۔بس اندھا دھند فائرنگ کر کے خوش ہو رہے ہیں۔بچے تو معصوم ہیں، یہ تو ہمارا کام ہے انہیں تازہ ترین حالات سے باخبر کرنا، پب جی کے بارے میں بتانا، مسلم ہیروز کا بتانا، جہاد کی اہمیت و افادیت بتانا یا کم از کم ان سے دعا ہی کروا لینا اور ایک طرف فلسطینی بچے ہیں کہ بے خوف ہو کر یہودیوں کو کم از کم پتھر ہی مار رہے ہیں جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ یہودیوں کو اپنا دشمن مانتے ہیں۔انہیں بخوبی معلوم ہے کہ انکے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے مگر پھر بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔انکی آنکھوں میں ہمیں ویسا خوف نہیں ملے گا جیسا کہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز ویکھ کر ہمیں تھوڑی دیر کیلیے محسوس ہوتا ہے۔ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم اور ہمارے بچے محض اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ نہیں کر سکتے۔ ہمیں سکون ہی نصیب نہیں ہوتا جب تک انکی مصنوعات پر پیسہ پانی کی طرح نہ بہا دیں.
خدارا کم از کم یہ تو ہمارا ہر طرح سے فرض ہے کہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔اپنے بچوں کی تربیت بہترین کرنے کی کوشش کریں، انکو احسن طریقے سے باور کروائیں کہ یہودی ہمارے دشمن ہیں.۔ وہ کبھی ہمارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔اپنے بچوں کی تربیت قرآن و سنت کے مطابق کریں۔انکو
لاڈوں میں پالنے کی بجائے ان کو دلیر بنائیں، انکو مختلف فنون جنگ سے لیس کریں۔ فلسطین کیلیے ہم کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں کہ خود بھی انکے لیے خلوص دل سے دعا کروائیں اور ایک دوسرے کو بھی تاکید کریں۔حسب استطاعت اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کی مدد کیلیے دل کھول کر صدقہ دیجیے

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: