Today's Columns

آج کل کا عشق از شاہدہ ارشاد خان

آج کل پیار اور محبت میں ناکامی کے بعد سوشل میڈیا پر اس ناکام محبت کی داستان سنانے کا اک ٹرینڈ چل پڑا ہے۔ سنائیں بیشک سنائیں۔ آزادی رائے آپ کا حق ہے اس کا استعمال کریں مگر خدارا آج کل کے جذباتی اور جنونی پیار و محبت کی داستانوں کو اپنے آپ تک ہی محدود رکھیں۔
ان عاشقوں کی تحریروں کو پڑھنے کے بعد میں حیران و پریشان رہ گئی۔ ان کی تحاریر کچھ اس طرح کی ہوتی ہیں۔ لڑکی نے ماں باپ کی عزت کی خاطر کسی اور سے شادی کر لی اور بیوفائی کر دی۔ چلیں جی ماں کی عزت کی خاطر آپ سے نہیں کسی اور سے شادی جیسا پاکیزہ عمل کیا اور اسے بے وفا کا لقب مل گیا۔ شادی کے بعد وہ لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے تو وہ گناہ گار ہے۔ واہ کیا کہنے آپ عاشقوں کے۔
خدا کا واسطہ کچھ خدا کا خوف دل میں رکھ کر لکھا کریں۔ وہ لڑکی جو بامشکل اپنے دل کو راضی کر کے ماں باپ کی عزت کی خاطر آپ کو چھوڑ کر کسی اور سے نکاح جیسے مقدس اور پاکیزہ رشتے میں بندھ جاتی ہے تو اس رشتے کے تقدس اور پاکیزگی کو سمجھیں۔ مگر نہیں۔ یہاں بھی یہ لکھ دیا جاتا ہے کہ کتنی اذیت بھری زندگی گزار رہی ہے وہ کسی ان چاہے شخص کے ساتھ ریتے ہوئے۔ خدارا اللہ سے ڈریں۔ وہ حق جو اللہ تعالی نے شوہر کو عطا کیا اس حق کو اس لڑکی کے گناہ نہ بنائیں۔
گناہ وہ تعلق تھا جو نکاح سے پہلے کسی کے ساتھ تھا۔ نکاح کے بعد وہ لڑکی اک بہترین زندگی کی طرف بڑھتی ہے جو اللہ کی رضا کے ساتھ ہوتی ہے مگر ہمارے کچھ نام نہاد عاشق ان لڑکیوں کی زندگی کو جہنم بنانے میں کوئی کسر نہیں۔ ان ناکام عاشقوں کی تحریریں وہ لڑکی تو پڑھتی ہی پڑھتی ہے، باقی جو لوگ اس صورتحال سے گزر ریے ہوتے ہیں وہ بھی ان لفظوں کے سحر میں جکڑے جاتے ہیں اور اپنی اپنی زندگیوں کو تلخ سے تلخ ترین بناتے رہتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہی ناکام عاشق کچھ عرصہ اس نام نہاد عشق کی ناکامی کا سوگ سوشل میڈیا پر منائیں گے اور پھر خود کسی اور لڑکی سے شادی کر کے اک مکمل اور خوشگوار زندگی بسر کریں گے۔
یقین جانیں پہلے زمانے میں بھی لوگ اک دوسرے پیار کرتے تھے مگر ان کے پیار اور محبت میں سب سے افضل اپنے محبوب کی عزت ہوتی تھی۔ وہ اپنے جذبات اک دوسرے سے بھی زیادہ شیئر نہیں کرتے تھے اور اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دیتے تھے۔ وہ اپنے جذبات کو غلط لفظوں میں ڈھال کر دوسروں کے دماغوں میں غلاظت نہیں بھرتے تھے۔
مانا آپ کے ساتھ برا ہوا۔ یہ بھی مانا لڑکیوں کو سوچ سمجھ کر پیار اور محبت کرنا چاہیے۔ لڑکی کا اک غلط قدم اس کے لیے طعنہ بن جاتا ہے اور مرد گناہ کر کے بھی بیگناہ رہتا ہے۔
مگر خدارا یہی لڑکیاں اگر ماں باپ کی عزت کی خاطر کسی کے نکاح میں ہیں تو ان کی زندگی کو مزید جہنم نہ بنائیں اور اپنے دکھوں کا رونا سوشل میڈیا کے بجائے اللہ کے سامنے روئیں تاکہ وہ آپ کے دلوں کو سکون دے۔ اللہ پاک ہم سب کو نیکی کی ہدایت دے کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: