وزیر اعظم پاکستان، چیئرمین نیب اور بلین ٹری پروگرام میں کروڑوں کی خرد برد

نظام قدرت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آکسیجن ہر جاندار چرند ، پرند حتیٰ کہ مکھی تک کی زیست کے لئے انتہائی ضروری قرار دی ہے۔ درخت آکسیجن کی افزائش اور فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ درخت نظام قدرت کا ایک ناقابل یقین حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمین پر درخت اور سبزہ پیدا کر کے اس زمین کو سرسبزو شاداب بنا رکھا ہے۔ پانی کا بھی ایک حصہ آکسیجن پر مشتمل ہے اگر پانی سے آکسیجن نکال دی جائے تو بقیہ پانی انسانی زندگی کے لئے غیر مفید ہو جائے۔ انسان کے نہانے ، دھونے ، کھانے ، پینے کی تمام اشیاء میں آکسیجن ایک لازمی جزو کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح کائنات میں زمین اور دیگر نظام کو مربوط رکھنے کے لئے آکسیجن کا وجود انتہائی ضروری ہے۔ آکسیجن اگر ختم ہو جائے تو تمام بلڈنگز بمعہ زمین ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ کمال قدرت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آکسیجن کو نظام کائنات کے ہر حصہ میں ایک ضروری عنصر کے طور پر ضروری قرار دے رکھا ہے۔ درختوں کے پتے ہمارے کرہ ارض پر موجود Pollution کو Absorb کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں جو کہ جیسا عرض کیا گیا ہے ہر جاندار کی زیست کے لئے ضروری ہیں۔ جس طرح آکسیجن کا وجود ہر زندگی کے لئے ضروری ہے اسی طرح ملک کی Economy ملک کے باسیوں ، بزرگوں، بچوں، نونہالوں کے لئے آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہے اگر ملک کی Economy تباہ شدہ ہو تو اس ملک کے عوام کی زندگی بھی درماندگی ، عسرت ، غربت کا شکار ہو جاتی ہے۔ کرپشن اور سرکاری خزانہ میں خرد برد دراصل پاکستان کے عوام ، ارض پاکستان اور فرزندان اسلام سے سنگین بے وفائی اور سنگین جرم ہے ۔ اپنی اولادوں کا مستقبل محفوظ کرنے کے لئے سرکاری خزانہ بے دردی سے لوٹ کر غیر ممالک ، برطانیہ، سویٹزرلینڈ، امریکہ ، کینیڈا ، نیوزی لینڈ اور دیگر ممالک میں پر تعیش زندگی گزارنے کے لئے فارم ہائوسز، پلازے اور بزنس ایمپائرز بنانا ، منی لانڈرنگ اور سنگین جرم ہے جو کہ آج کل ہر دوسرا، تیسرا سرکاری ، چھوٹا ، بڑا افسر اور اس کی اولادیں غیر ممالک کی شہریت حاصل کر کے وہاں ملک پاکستان سے لوٹی گئی غیر قانونی دولت جمع کر رہے ہیں اور ملک میں قابل جوہر اور نونہالوں کا مستقبل تباہ کر کے ان کی تباہی کی راکھ پر اپنے لیے محل تیار کر رہے ہیں۔
حکومت نے Billion Tree Tsunami Program پہلے KPK میں شروع کیا اور اب پنجاب میں شروع کیا گیا ہے جو کہ محکمہ جنگلات کے دائرہ اختیار میں دیا گیا ہے۔ محکمہ جنگلات کے ڈویثرنل فاریسٹ آفیسرز ، SDFOs ، Billion Tree Program کے تحت پلانٹیشن کے ذمہ دار ہیں جو کہ فاریسٹ آفیسرز، ڈویثرنل فاریسٹ آفیسر اور ان کی ٹیم کینال روڈ ، ڈرینج روڈز اور روڈ سائیڈز پر پلانٹیشن کا عمل کر رہے ہیں اس ضمن میں حیرت انگیز انکشافات ہوئے کہ متعلقہ افسران پہلے سے موجود جنگلات جن کے لئے علیحدہ سے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں میں چند پودے لگوا کر کروڑوں روپے خرد برد کر رہے ہیں۔ چیچہ وطنی ، چھانگا مانگا اور دیگر اضلاع میں چھوٹے چھوٹے جنگلات میں بھی پلانٹیشن کا عمل جاری ہے۔ چند آدمی Hire کر کے ان سے چند پودے لگوا کر کروڑوں روپے کی پلانٹیشن ظاہر کر دی جاتی ہے۔ روڈ سائیڈز ، کینال سائیڈز اور دیگر مختص جگہوں پر پلانٹیشن کے نام پر چند پودے لگا کر کروڑوں روپے کے بلز بنا کر ہضم کرلئے جاتے ہیں۔ اس قبیح اور قابل مذمت فعل میں DFOs ، SDFOs ، RFOs ، بلاک آفیسرز ، گارڈز اور دیگر لوگ شامل ہوتے ہیں۔
ضلع اوکاڑہ میں پلانٹیشن کے لئے کروڑوں روپے Allocate کیے گئے جو کہ حیرت انگیز طور پر DFO گوہر مشتاق ، SDFO افتخار جنجوعہ نے چند لاکھ روپے کی پلانٹیشن مزدوروں سے کروا کر کروڑوں روپے کی رقوم خود نکلوا کر ہضم کر لیں۔ SDFO افتخار جنجوعہ اور DFO گوہر مشتاق کی بابت Authentic Sources کے مطابق دونوں افسران نے اپنی تعیناتی سے لے کر آج تک کی سروس کے دوران کروڑوں روپے جعلسازی، ہیرا پھیری اور فراڈ سے خرد برد کر کے کروڑوں کے ناجائز اثاثہ جات بنائے ۔ اپنے اہل خانہ اور بیگمات کو کروڑوں روپے کی شاپنگ کروائی۔ دونوں افسران کی تحقیقات کے دوران حیرت انگیز انکشافات ہوئے۔ SDFO افتخار جنجوعہ اوکاڑہ کے نواحی گائوں موپالکے کا رہائشی اور انتہائی معمولی ترکھان فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے والدین انتہائی غریب اور عسرت زدہ تھے۔ افتخار جنجوعہ نے جنگلات کی سروس میں آ کر ملک و قوم کی Service کی بجائے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی سروس شروع کر دی اور کروڑوں روپے پلانٹیشن کے جعلی بلز بنا کر خود ہضم کر کے کروڑوں روپے کے ناجائز اثاثہ جات اپنے اہل خانہ اور رشتہ داروں کے نام پر بنائے۔ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخل کروایا۔ مہنگی گاڑیاں خریدیں۔ مہنگا ترین Living Standard اپنایا اور اپنے Known Sources سے بڑھ کر عیاشی کی زندگی گزار رہا ہے۔ اہالیان علاقہ موپالکے اور دیگر قریبی دیہات کے لوگ ایک غریب ترکھان کے بیٹے کو کروڑوں روپے اپنی عیاشی پر لوٹاتے ہوئے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور حیران ہیں کہ محکمہ جنگلات کی سروس میں اس قدر روپے کی فراوانی ہے کہ ایک SDFO کروڑوں روپے میں کھیل رہا ہے تو کنزرویٹر اور چیف کنزرویٹر تو لازمی طور پر ارب پتی ہو چکے ہونگے۔ افتخار جنجوعہ کی بابت ایک انکشاف ہوا کہ اس کے بچوں کی تعلیم کا ماہانہ خرچہ 10 لاکھ روپے سے زائد ہے جبکہ اس کی تنخواہ 1 لاکھ سے زائد نہیں ہو گی۔ قومی دولت لوٹ کر اپنے لیے کروڑوں روپے ناجائز اثاثہ جات بنانے والے بہت ہوشیار اور زیرک لوگ ہوتے ہیں۔ اور زندگی کے نشیب فراز کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اوکاڑہ میں حویلی لکھا، دیپالپور ، رینالہ خورد ، حجرہ شاہ مقیم اور دیگر چھوٹے چھوٹے شہر ہیں جہاں کے نام نہاد اور جعلی صحافیوں کو SDFO افتخار جنجوعہ نے اپنی مٹھی میں کر رکھا ہے جو کہ کسی کو 5,000/- اور کسی کو 10,000/- روپے ماہانہ Gratification کے طور پر عنایت کرتا ہے جو کہ اس کے تابع فرمان ہو چکے ہیں اور کسی میں اتنی اخلاقی جرات نہیں ہے کہ وہ اس ملک و قوم کے دشمن ملکی خزانہ لوٹنے والے اور ملک کے نونہالوں کا مستقبل تباہ کرنے والے کے خلاف آواز اٹھا سکیں تا کہ اس جیسے لوگ گرفتار ہو کر پابند سلاسل ہوں اور ملکی دولت برآمد ہو کر واپس قومی خزانہ میں جمع ہو سکے۔
جناب چیئرمین نیب ، جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے گزارش ہے کہ اس طرح کے ملک دشمن عناصر ، کرپٹ افسران کا فوری محاسبہ کریں اور ان پر قانون کا شکنجہ کس کر گرفتار کر کے خرد برد شدہ کروڑوں روپے برآمد کر کے واپس قومی خزانہ میں جمع کروائیں اور ان کرپٹ افسران کو نشان عبرت بنائیں تا کہ کوئی نیا طالع آزماپھر سے ملکی دولت لوٹنے اور ناجائز اثاثے بنا کر عیاشی کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ پاکستان لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا ہے۔ ہمیں وہ وقت یاد ہے جب ہمارے پیارے بزرگ ، بوڑھے ، بچے جوان دوران ہجرت برچھیوں، نیزوں، بالوں سے بے دردی سے بلوائیوں نے شہید کر دیئے اور ان کی لاشیں بے کورو کفن سڑکوں پر پڑی رہیں جنہیں دوران ہجرت کسی نے نہ دفنایا۔ ان مقدس لاشوں کا کیا حشر ہوا ہو گا یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ بیان کرنے کی دل ، دماغ اور زبان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ الفاظ لکھنے کے لئے قلم بھی ساتھ نہیں دے رہی۔ اس قدر قربانیوں کے بعد حاصل کیے گئے پاکستان کو جو افسران بے دردی سے قومی خزانہ لوٹ کر کنگال کر رہے ہیں وہ دراصل اس دھرتی ، وطن اور اسلام کے فرزندوں کے غدار ہیں جو کہ سخت ترین سزا کے مستحق ہیں۔ چیئرمین صاحب نیب کو اگر سیاسی پارٹیوں کے قائدین کے احتساب سے تھوڑی فرصت ملے تو ان کرپٹ افسران کو بھی گرفتار کر کے پابند سلاسل کریں اور کروڑوں خرد برد شدہ برآمد کر کے واپس قومی خزانہ میں جمع کروائیں جو کہ اس وطن کو نیا پاکستان بنانے میں استعمال ہوں اور صحیح معنوں میں نیا پاکستان معرض وجود میں آ سکے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: