کیا جوبائیڈن پاکستان کے لیے بہتر ثابت ہوگا؟

0 11

جوبائیڈن امریکا کے صدر منتخب ہونے کے بعد اب کم از کم 4سال تک دنیا بھر اُفق پر چھائے رہیں گے، کیوں کہ سنا ہے کہ ہمارے جیسے 100سے زائد ملکوں کی پالیسیاں امریکا (پنٹاگون) ہی میں بنتی ہیں، جہاں 10ہزار سے زائد اعلیٰ الذہن افراد ہر ملک کے لیے الگ الگ لابنگ کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں سوال اب یہ اٹھایا جائے گا کہ جوبائیڈن کے دورِ اقتدار میں پاک امریکہ تعلقات کا کیا عالم رہے گا۔یہ جاننے سے پہلے ہم ذرا نظر دوڑاتے ہیں کہ جوبائیڈن کیسے اقتدار میں آئے اور اُن کا سیا سی بیک گراﺅنڈ کیا ہے۔ جو بائیڈن نے پنسلوینیا کے ایک کھاتے پیتے گھرانے میں آنکھ کھولی مگر اُن کی پیدائش کے وقت والد کو سخت مالی مشکلات کا سامنا تھا اور وہ ایک عام محنت کش کی حیثیت سے بھٹیوں کی چمنیاں صاف کرکے گھر کا چولہا جلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جو بائیڈن کی زبان میں لکنت تھی اور وہ بچپن میں ہکلا کر بات کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نام پوچھتا تو وہ ”جو“ کہنے کے بعد”با۔با“ کہتے رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ زمانہ طالبعلمی میں بہت مذاق اُڑایا گیا اور لڑکوں نے اُن کا نام ”بائے بائے“ رکھ دیا۔ جو بائیڈن نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل ہکلاہٹ پر قابو پانے کی مشق کرتے رہے۔
زمانہ طالب علمی میں جو بائیڈن کو اپنی ٹیوشن فیس ادا کرنے کے لئے اسکول کی کھڑکیاں صاف کرنا پڑتیں اور پودوں کو پانی دینا پڑتا۔ جو بائیڈن اپنی مستقل مزاجی کا کریڈٹ والدین کی اچھی تربیت کو دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اُن کے والد کہا کرتے تھے، بچے! انسان کو جانچنے کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہ کتنی بار گرا، بلکہ یہ ہے کہ وہ گرنے کے بعد کتنی جلدی کھڑا ہوا۔ جو بائیڈن بھی زندگی میں بار بار ٹھوکریں کھا کر گرتا اور سنبھلتا رہا۔ اُس نے وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد نیلیا ہنٹر سے شادی کی۔ جب شادی کی بات چیت آگے بڑھی اور نیلیا ہنٹر کے والدین نے پوچھا کہ مستقبل سے متعلق تمہارے کیا ارادے ہیں؟ تم گھر کے اخراجات کیسے پورے کرو گے؟ تو جو بائیڈن نے کہا میں امریکہ کا صدر بنوں گا۔ اُس وقت سب نے بائیڈن کی یہ بات ہنسی میں اُڑا دی اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ نوجوان ایک دن واقعی امریکہ کا صدر بن جائے گا۔
1972میں اُن کی زندگی نے تب ایک نیا موڑ لیا جب ڈیموکریٹک پارٹی نے اِس 29سالہ نوجوان کو ڈیلا ویئر سے منجھے ہوئے ری پبلکن سیاستدان جے کیلب بوگز کے مقابلے میں الیکشن لڑانے کا فیصلہ کرلیا۔ جے کیلب بوگز تجربہ کار سیاستدان تھے اور اُن کے مقابلے میں سینیٹ کا الیکشن لڑنا ممولے کو شہباز سے لڑانے والی بات تھی۔ جیت کا کوئی امکان نہ تھا مگر بائیڈن نے بھرپور انداز میں انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کر لیا۔ اُس کے والدین، بہن اور بیوی سمیت سب گھر گھر جاکر انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہوگئے۔بہن ولیری بائیڈن اُس کی انتخابی مہم کی انچارج تھیں۔ کوئی بھی اُسے سنجیدگی سے نہیں لے رہا تھا اور تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ جے کیلب باگز باآسانی جیت جائیں گے۔ 48سال قبل اِنہی دنوں الیکشن ہوا تو جو بائیڈن نے یہ نشست جیت کر نئی تاریخ رقم کردی۔ وہ امریکی تاریخی کے پانچویں کم عمر ترین سینیٹر منتخب ہو چکے تھے اور بہت بڑا برج اُلٹ دیا تھا لیکن ابھی آزمائشیں ختم نہیں ہوئی تھیں۔
اِس فقید المثال کامیابی کے چند ہفتوں بعد ہی اُس کی بیوی کرسمس کی خریداری کرکے واپس آرہی تھی تو ایک ٹرک نے گاڑی کو کچل دیا۔ حادثے میں بائیڈن کی بیٹی اور بیوی مارے گئے، دونوں بیٹے شدید زخمی ہو گئے۔ پیاروں کو کھو دینے پر بائیڈن اِس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ خود کشی کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔ مگر پھر بائیڈن سنبھل گئے۔ اور پھر جو بائیڈن کو اپنے علاقے کے مستقل نمائندے کی حیثیت حاصل ہو گئی اور وہ 2009ءتک مسلسل سینیٹر منتخب ہوتے رہے۔ بائیڈن نے پہلی بار 1988ءکے انتخابات کے دوران صدارتی امیدوار بننے کا فیصلہ کیا مگر تقریر چرانے کا الزام لگ گیا۔ اور وہ صدارتی اُمیدوار کی دوڑ سے باہر ہوگئے ،تاہم جب باراک اوبامہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار نامزد ہو گئے تو انہوں نے جو بائیڈن کو اپنے ساتھ بطور نائب صدر لینے کا فیصلہ کیا۔ جوبائیڈن جب امریکی نائب صدر تھے تو انہیں ایک اور صدمے سے دوچار ہونا پڑا۔ ان کے دو بیٹے جو 1972ءکے ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہوئے تھے، اُن میں سے ایک کو برین ٹیومر ہو گیا۔ بائیڈن کا بیٹا بیو ڈیلاویئر کا اٹارنی جنرل تھا مگر علالت کے باعث نوکری چھوڑنا پڑی۔ بائیڈن 1972ءسے مسلسل عوام کی نمائندگی کرتے چلے آئے ہیں مگر اُن کے پاس اپنے بیٹے کا علاج کروانے کیلئے پیسے نہیں تھے۔ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے نائب صدر نے اپنا گھر بیچنے کا فیصلہ کیا تاکہ بیٹے کا علاج کروایا جا سکے۔ اوباما کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے گھر بیچنے سے روک دیا اور علاج کیلئے درکار رقم اپنی جیب سے فراہم کردی بائیڈن کا بیمار بیٹا صحت یاب نہ ہو سکا اور مئی 2015ءمیں کینسر سے لڑتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا۔ جوان بیٹے کی موت کا دکھ سہنا آسان نہیں ہوتا۔ جو بائیڈن نے 2016ءکے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا مگر 2020ءمیں ریکارڈ ووٹ لے کر امریکی صدر منتخب ہوگئے۔
میں نے جنوری 2017 میں جوبائیڈن کے حوالے سے ”جوبائیڈن، کینسر اور ہمارے امیر سیاست دان!“کے موضوع پر کالم لکھا تھا، جس میں لکھا تھا کہ ”جوبائیڈن کی ملک پروری اور ایمانداری کا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی سیاستدانوں کے مقابلے میں ان کے پاکستانی ہم منصب تو کہیں زیادہ مالدار ہیں…. امریکی نائب صدر کی تنخواہ سے زیادہ پیسہ تو پاکستان میں یونین کونسل کا چیئرمین ترقیاتی فنڈز میں خورد برد کر کے حاصل کر لیتا ہے، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی تو اس یوسی چیئرمین سے کہیں زیادہ اختیارات اور صوابدیدی فنڈ کے مالک ہوتے ہیں، بہرحال امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے مالی معاملات پاکستان پاکستانی سیاستدانوں کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ¿ فکرہے….بقول شاعر
بے رنگ شفق سی ڈھلتی ہے ،بے نور سویرے ہوتے ہیں
شاعر کا تصور بھوکا ہے ،سلطان یہاں بھی اندھے ہیں
بہرکیف آج ساڑھے تین سال بعد وہی صدر جسے مظلوم نائب صدر کہا گیا تھا ، وہ سپر پاور کا صدر بن چکا ہے، اسے کہتے ہیں کہ اگر آپ کی نیت ٹھیک ہے تو مذہب سے بالا تر ہو کر خدا بھی آپ کا ساتھ دیتا ہے، اور رب تعالیٰ ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور رہی بات پاکستان کی کہ پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسیوں میں ”انقلابی تبدیلی“ آسکتی ہے یا نہیں، تو میرے خیال میں ہمیں اس خام خیالی سے نکل جانا چاہیے، کیوں کہ امریکا میں جتنے مرضی چہرے تبدیل ہوں مگر اُن کی پالیسیوں کا تسلسل کبھی ختم نہیں ہوتا۔لیکن فرق اتنا ہے کہ جوبائیڈن ٹرمپ کے مقابلے میں انتہائی سنجیدہ صدر ہیں اورپاکستان کی اہمیت سے بھی نہ صرف پوری طرح آگاہ ہیں بلکہ وہ ٹرمپ کے مقابلہ میں پاکستان کو زیادہ جانتے ہیں۔ وہ اپنے مختلف سیاسی ادوار میں پاکستان کے کئی دورے کر چکے ہیں اورگزشتہ کئی عشروں کے دوران پاکستانی سیاستدانوں اور عسکری حکام سے براہ راست رابطے میں رہے ہیں۔ انہوں نے 2008ءمیں ریپبلکن کے ساتھ مل کر پاکستان کے لئے ڈیڑھ ارب ڈالر کا غیر عسکر ی لوگر بل بھی تیار کیا تھا۔ پاکستان کی حکومت انہیں ملک کے دوسرے بڑے اعزاز ”ہلال پاکستان“ سے بھی نواز چکی ہے۔ وہ کشمیریوں کی کھل کر حمایت اور بھارت سے کشمیریوں کے حقوق بحال کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ پاکستان سے تعلقات اور افغانستان سے فوجی انخلاکے حوالے سے ٹرمپ اور جوبائیڈن کا موقف ایک ہے۔ دونوں پاکستان کے ساتھ چونکہ دوستانہ تعلقات اور افغانستان سے انخلا کے حق میں ہیں تاہم تہہ در تہہ امریکی پالیسی کے تناظر میں جوبائیڈن کے دور میں فوجی انخلا کی پالیسی میں معمولی ردوبدل کے امکان کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرمپ کے مقابلہ میں جوبائیڈ ن کے طویل سیاسی تجربے، ان کی سنجیدہ شخصیت اور لچکدار رویہ کے تناظر میں ان کے انتخاب کو پاکستان کے لئے خوش امیدی اور دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری آنے کی توقع کیساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔اور ویسے بھیخطے میں فرق تو پڑے گا کیوں کہ ڈیموکریٹک سعودی عرب کے خلاف ہے، اور جب کوئی سعودی عرب کے خلاف ہوتا ہے تو ہمیں بھی اُس کا فرق پڑتا ہے اور دوسری طرف جس طرح ری پبلکن پارٹی کا جھکاﺅ ترکی کے مخالف رہا ہے اس کے اُلٹ ڈیموکریٹک پارٹی کا جھکاﺅ ہمیشہ ترکی کی جانب رہا ہے۔ اس لحاظ سے تو کہا جا سکتا ہے ۔
لیکن ہمیں اس حوالے سے زیادہ اُمید بھی نہیں رکھنی چاہیے کیوں کہ ہمیشہ اُس وقت مایوس ہوتے ہیں جب ہم زیادہ اُمید لگا لیتے ہیں۔ کیوں کہ تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ 2011ءمیں امریکہ کا نائب صدر ہوتے ہوئے جوبائیڈن بلکہ ہمیشہ مصررہاکہ افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے کے لئے اس کے عسکری اور جاسوسی اداروں کو ”اصل جنگ“ پاکستان میں مبینہ طورپر موجود ”دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں“ کے خلاف برپا کرنا ہوگی۔ ڈرون طیارے اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ لہٰذاپاکستان میں شروع ہونے والے ڈرون حملوں کے ”بانی“ بھی جوبائیڈن ہی ہیں ، اس لیے وہ وہی کچھ کریں گے جو امریکی اسٹیبلشمنٹ چاہے گی ، یا جو ”محفوظ امریکا“ کے لیے بہتر ہوگا، ورنہ اُن کا اپنا Survivalبھی مشکل ہو جائے گا!!!

Leave a Reply

%d bloggers like this: