Bagam Najia Shoaib Ahmed Today's Columns

معاف کرنے یا معافی مانگنے کے لیے اس کی روح نکلنے کا انتظار نہ کریں از بیگم ناجیہ شعیب احمد

Bagam Najia Shoaib Ahmed
Written by Todays Column

معاف کرنا جہاں بہت اعلیٰ ظرفی کی بات ہے معافی مانگنا بھی بڑے جی گردے کا کام ہے۔
”مجھے معاف کر دیجیے۔” یہ ایک ایسا جملہ ہے جسے ادا کرنے کے لیے بسا اوقات بڑی دقت پیش آتی ہے۔ جاؤ معاف کیا یہ جملہ سننے والے کی روح کو اندر تک سرشار کر دیتا ہے ہاں اگر معاف کرنے والا شخص اعلیٰ ظرف ہو۔ کم ظرف اور کینہ پرور شخص نخوت و تکبر سے معافی مانگنے والے کو دھتکار کر کہتا ہے: ”تیری فلاں بات اور ڈھمکاں رویے نے مجھے خون کے آنسو رلایا ہے جا میری مرضی میں تجھے کبھی معاف نہیں کروں گا۔” اس بات سے قطعاً لاعلم کہ ایسا کرکے وہ اپنے سر کتنا بڑا وبال لے لیتا ہے۔ معاف کرنا بچوں کا کھیل ہرگز نہیں۔ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ ڈسا نہیں جاتا۔ بار بار معاف کرنے کے باوجود کوئی اپنی روش سے باز نہ آئے تو ایسوں کا معافی مانگنا اعلیٰ ظرفوں کو بیزار کر دیتا ہے۔ ہاں مگر ایک ذات ہے اس کل کائنات میں جو بار بار معاف کرنے سے ذرا بھر بھی نہیں اکتاتی۔ واہ کیا کہنے رب العالمین کے کہ ساری زندگی اپنے مالک کی نافرمانیوں میں گزار کر بس ایک مرتبہ صدقِ دل سے ”یا اللہ! مجھے معاف کردے” کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک لمحے میں معاف کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندے کو یہ طعنے نہیں دیتا کہ میاں اب ہوش میں آئے ہو، ساری جوانی گناہوں میں مبتلا رہے اب قبر میں پیر لٹکائے بیٹھے ہو تو توبہ توبہ کر رہے ہو جاؤ میں نہیں معاف کرتا۔ مگر وہ اس قدر عفو و درگزر کرنے والا، تواب الرحیم، غفار الذنوب ستار العیوب اپنی مخلوق سے سب سے پہلے راضی ہو جانے والی واحد ذات پاک ہے۔ جو اپنے نافرمان و گناہگار بندے کی توبہ کا شدت سے منتظر رہتا ہے کہ ادھر بندہ احساس ندامت سے سر جھکا کر چار آنسو بہاتا ہے اور وہ اپنے نادم پشیمان نادان بندے کو پوری فراغ دلی سے معاف کر دیتا ہے اور یہی نہیں سچے دل سے معافی مانگنے والے کے اگلے پچھلے سارے گناہوں، نافرمانیوں کوتاہیوں اور غلطیوں کو اپنی ستاری کی چادر سے ڈھانپ بھی دیتا ہے۔
مگر کیا کیجیے کہ اس غفور الرحیم ذات کے بندے کا جو خود تو اپنے خالق حقیقی کی سر عام نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ معافی مانگنا اور معاف کرنا ان کی ڈکشنری میں شامل نہیں یہ انا پرست، کینہ پرور اور متکبر بندے اپنے ہی جیسے خطا کے پتلوں کی چھوٹی چھوٹی سی باتوں کو اپنی جھوٹی انا کا مسئلہ بنا کر معافی مانگنے والے کو اللہ تعالیٰ کا انصاف مانگ کر اپنا معاملہ بارگاہِ الٰہی میں پیش کرنے کی تڑی دیتے ہیں گویا حد ہی کر دیتے ہیں۔ ارے صاحب یہیں پر دو دو ہاتھ کرلوں نا۔ اللہ تک بات گئی تو سوچ لیں دودھ کے دھلے تو آپ بھی نہیں ہیں۔ کسی کو معاف کرنے اور کسی سے معافی مانگنے کے کے لیے اس کی روح نکلنے کا انتظار نہ کریں۔ اور نہ مخصوص راتوں کا۔ بس جس وقت موقع میسر آئے اور اپنی غلطی کا احساس ہوجائے تو معافی مانگنے میں عار محسوس نہیں کریں بلکہ فوراً سے پیشتر معافی مانگ کر دنیا و آخرت میں سرخرو ہو جائیں۔ اب بندہ راضی ہو یا نہ ہو آپ کا رب راضی اور آپ کا دل مطمئن ہوگیا بس اتنا کافی ہے۔ چھوٹا سا دل ہے اور اتنے سارے پیارے پیارے رشتے۔ اس چھوٹے سے دل میں کینہ بغض اور برائی رکھ کر اسے گندا و ناپاک نہیں کریں۔ آج سب کو دل سے معاف کر کے اللہ تعالیٰ سے لو لگا لیں۔ دل دکھنے پر، نقصان پہنچنے پر،غیبت، چغلی یا دل آزاری کرنے پر معاف کرنا گویا انگاروں پر لوٹنا ہے۔ مگر ان سب باتوں پر صبر کرتے ہوئے درگزر کرکے یقیناً آپ کی عاجزی و انکساری آپ کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں سرخرو کردے گی۔ ان شائاللہ عزوجل یاد رکھیں یہ زندگی دوبارہ نہیں ملے گی۔ نہ یہ وقت لوٹ کر آئے گا۔ وقتاً فوقتاً اپنے پیاروں کا دیدار کرتے رہیں۔ معافی تلافی کرتے رہیں نجانے کب کس گھڑی اچانک کون ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلا جائے۔ پھر آپ چاہے جنازے کے پائے پکڑ کر آپ و بکا کریں، لاکھ سر پیٹیں، معافیاں مانگیں۔ سب بے سود کیوں کہ صاحب مردے بولا نہیں کرتے۔ اب آپ کا معاملہ اللہ جل جلالہ کی عدالت میں پیش ہوگا۔ اسی لیے یہیں دنیا میں ہی معاف کردیں۔ معاف کروا لیں کیوں کہ آخرت میں سخت پکڑ کا اندیشہ ہے۔ ابھی وقت ہے دل سے سب کو معاف کرکے روٹھے ہوؤں کو منانے کا۔ ٹوٹے ہوؤں کو جوڑنے اور بچھڑے ہوؤں کو ملانے کا
بقول شاعر:
عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم!
رسمِ دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: