اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی کے حصول کی جنگ!

جوبائیڈن امریکا کے 46ویںصدر منتخب ہوگئے، اعصاب شکن الیکشن کے بعد اب امریکا میں اگلے 4سال تک ملکی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے کام ہوگا۔ الیکشن فیئر ہوئے یا نہیں، اس کے بارے میں تو فی الوقت کسی کو بھی علم نہیں لیکن مجھے ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن سے دو روز قبل کی وہ گفتگو یاد آرہی ہے جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ ہارنے کی صورت میں وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے، پھر فرما رہے تھے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ وہ دوبارہ امریکی صدر بنیں، اور پھر کہا کہ عوام اگر ”گریٹ امریکا“ چاہتے ہیں تو سڑکوں پر نکلیں، ”حالات کا مقابلہ کریں اور انہیں کامیاب کروائیں وغیرہ۔ حیرت ہے جو ملک دنیا بھر کے ہر ملک کی ہرقسم کی سرگرمی پر نظر رکھتا ہو ، جو ملک کسی دوسرے ملک میں ذرا سی بھی شورش ہو تو فوراََ ”مداخلت“ یا ثالثی کا بہانہ تلاش کرکے اپنے کارندے اُس ملک میں پہنچاتا ہو ، جو ملک کسی ایشو کو بھی بہانہ بنا کر اُس ملک پر Holdقائم کر لیتاہواور جس ملک کو دنیاکی بڑی قوتیں زیر کرنا چاہتی ہوں مگر وہ بدستور سپر پاور رہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اُس ملک میں ”پنٹاگون“ یعنی اسٹیبلشمنٹ کردار ادا نہ کرتی ہو۔ یعنی ٹرمپ کا خدشہ 100فیصد سچ ہو گا کہ انہیں سب سے بڑا خطرہ وہاں کی اسٹیبلشمنٹ سے ہی ہے۔میں پھر یہی کہوں گا کہ موجودہ الیکشن میں ووٹوں کی ہیر پھیر ہوئی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے چین، برطانیہ، روس، فرانس جیسے دنیا بھر کے بڑے بڑے ممالک ہر امریکی الیکشن میں بیک سٹیج پر اپنا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں اور رپورٹس یہ بھی آتی ہیں کہ ان ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اربوں ڈالر جھونکنے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔
خیر یہ سب باتیں دہرانے کے مقصد صرف یہ ہے کہ جب اتنے بڑے ملک میں سیاستدان اپنی مرضی سے حکومت نہیں بنا سکتے تو یہ کوئی کیسے سوچ سکتا ہے کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ اپنا کردار ادا نہیں کرتی ہوگی۔ آپ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیںکہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے اثر کی وجہ نہ صرف سیاست دانوں کی نادانیاں بنی ہیں بلکہ ابتدا سے ہی ہمارے سیاستدانوں کی درست خطوط پر تربیت نہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔اور پھر یہ سیاستدان خود ان سے جاکر ملتے ہیں ، ایک وقت میں دس، بارہ بڑی پارٹیاں ہمیشہ سے یہ کوشش کرتی رہی ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو ناراض نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا ان جماعتوں کے اپنے مفاد میں نہیں ہو گا اور ان کا الیکشن جیتنا مشکل ہو جائے گا۔ اور اس کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ سیاسی جماعتوں میں نظم وضبط کا فقدان ہوتا ہے، مثلاً انھیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ارکان کون ہیں وہ عوام کو جماعت میں پذیرائی نہیں دیتے۔ جس کی وجہ سے اُنہیں ہمیشہ خفت اُٹھانی پڑتی ہے۔
آپ آج کل کے حالات بھی دیکھ لیں اس وقت ن لیگ، پیپلزپارٹی، اور تحریک انصاف تین اُمیدوار ہیں، جو اسٹیبلشمنٹ کی بڑھ چڑھ کر خوشنودی حاصل کرنے کے چکر میں ہیں، جیسے ہمارے وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو اکثر کہتے سنا گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو علم ہے کہ میں کوئی فیکٹریاں نہیں بنا رہا۔ فوج کو پتہ ہے کہ میں چھٹیاں بھی نہیں کرتا۔ کام کرتا ہوں۔پھر اُن کی تاریخی تقاریر اُٹھا کر دیکھ لیں یا اُن کی اپنی بائیو گرافی پڑھ لیںجو 2011ءمیں شائع ہوئی تھی، جس میں انہوں نے اسٹیبشمنٹ کا خوب ذکر کیا ہے، جیسے انہوں مذکورہ کتاب کے صفحہ 223پر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ اپنی23جولائی 2002کو ہونے والی ملاقات کا حال لکھا ہے جس میں بڑے نام بھی موجود تھے۔ اِس ملاقات میں مشرف نے اُنہیں اُن سیاستدانوں کے نام بتائے جو آنے والی مخلوط حکومت میں شامل ہوں گے جس پر عمران خان نے مشرف سے کہا کہ اِن کرپٹ لوگوں کے ساتھ حکومت میں شامل ہو کر میں اپنی ساکھ برباد نہیں کر سکتا۔جواب میں مشرف نے کہا کہ اگر آپ ہمارا اتحاد joinنہیں کریں گے تو آپ ہار جائیں گے۔ صفحہ 225پر عمران خان نے لکھا ہے کہ میرے انکار کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے میرے اُمیدواروں کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا اور اُنہیں مسلم لیگ (ق) میں شامل کرانا شروع کر دیا، پوری ریاستی مشینری میرے خلاف کام کر رہی تھی۔
پھر بلاول بھٹو زرداری کا گزشتہ روز کا بیان سن لیں جس میں انہوں نے کہا کہ زرداری کے دور میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 150فیصد، پنشن میں 100فیصد ، پولیس کی تنخواہوں میں 130 فیصد اور سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کی تنخواہوں میں 175فیصد اضافہ کیا۔ مطلب ایک طرف ملکی اداروںکے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے اور دوسری طرف ہماری سیاسی جماعتیں یہ احسان بھی جتلاتی نظر آتی ہیں کہ دیکھیں ہمارے دور میں آپ کی تنخواہوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ مطلب یہ سب بتانے کے مقصد کچھ بھی ہوں لیکن ایک چھوٹے سے سوال کا جواب ضرور دے دیں کہ اور خوشنودی حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہوسکتا ہے؟
اور پھر تیسری جماعت رہ گئی ن لیگ، یہ جماعت ایسی جماعت ہے جب بھی اقتدار سے باہر ہوتی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانات دیتی ہے، اور اگر یہ جماعت اقتدار میں ہو تو سب اچھا کی خبریں آتی ہیں۔ اور حال ہی میں جس اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آج کل نواز شریف بول رہے ہیں ، تو جب یہ موصوف اقتدار میں تھے تو ان کے خلاف ایک لفظ برداشت نہیں کیا کرتے تھے۔ مثلاََ قارئین کو آصف علی زرداری کی وہ تقریر یاد ہوگی جب اُنہوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے کا ذکر کیا تھا اور نواز شریف وزیراعظم تھے، نواز شریف نے اُس تقریر کے بعد آصف علی زرداری کے ساتھ اپنی پہلے سے طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی تھی کیونکہ زرداری صاحب نے اپنی تقریر میں راحیل شریف کا نام لئے بغیر اُنہیں اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی تھی لیکن اُس کے بعد تو زرداری صاحب کی اینٹ سے اینٹ بج گئی اور جن مقدمات کو وہ آج کل بھگت رہے ہیں، یہ اُسی زمانے میں بنائے گئے تھے۔ الغرض نوازشریف کو اقتدار میں لانے کے لیے سب سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ ہی نے کردار ادا کیا تھا۔ مصنف زاہدحسین کی کتاب کے مطابق ”نواز شریف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار تھے،1981 میں انہیں اچانک ہی پنجاب کی صوبائی حکومت کا حصہ بنادیا گیا، پھر بعد ازاں پاکستان کے سب سے طاقتور صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ بنادیا گیا، انہوں نے پنجاب کے کاروباری اور تجارتی طبقے کی نمائندگی کی اور پنجاب کی سول اسٹیبلشمنٹ، جس میں بیوروکریسی اور عدلیہ شامل تھی، کی مدد سے سیاسی عروج پر گئے۔“
پھر شیخ رشید نے اپنی حالیہ کتاب ”لال حویلی سے اقوام متحدہ تک“ میں لکھا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان کی سیاست میں ہر جگہ کردار ہوتا ہے، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ لندن میں ملاقات کے لئے کس نے کردار ادا کیا تھا۔الغرض کوئی بھی جماعت اس وقت بجائے اپنی تربیت کرنے یا اپنے آپ میں سدھار پیدا کرنے کے اپنی خوشنودیاں گنوانے پر اکتفا کر رہی ہے،یعنی ہر جماعت اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھنا چاہتی ہے، اور تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی جماعت نے اپنے اندر سدھا ر پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ حالانکہ اسٹیبلشمنٹ کا آسان سا کلیہ ہے کہ ”سب سے پہلے پاکستان“ یہ جماعتیں اسے سمجھنے کے بجائے ذاتی مفادات پر کھیل جا تی ہیں۔ حالانکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جامع تعریف سٹیفن پی کوہن نے اپنی کتاب ”آئیڈیا آف پاکستان“ میں کی ہے۔ کوہن کے مطابق پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ دراصل ایک اہم نظریہ پر قائم ہے اور اس کو غیر روایتی سیاسی نظام کے تحت چلایا جاتا ہے جس کا حصہ فوج، سول سروس، عدلیہ کے کلیدی اراکین اور دوسرے کلیدی اور اہمیت کے حامل سیاسی و غیر سیاسی افراد ہیں۔ کوہن کے مطابق اس غیر تسلیم شدہ آئینی نظام کا حصہ بننے کے لیے چند مفروضات کا ماننا ضروری ہے۔ جیسے کہ بھارت کے ہر قدم اور ہر چال کا منہ توڑ جواب دینا انتہائی لازم ہے، پاکستان کے جوہری منصوبے ہی دراصل پاکستان کی بقاءاور وسیع تر حفاظت کی ضمانت ہیں، جنگ آزادی کشمیر جو تقسیم ہند کے بعد شروع ہوئی، کبھی بھی ختم نہیں ہونی چاہئے، امریکا کے ساتھ تعلقات استوار رہنے چاہئیں لیکن کبھی بھی امریکا کو پاکستان پر مکمل طور پر گرفت حاصل نہ ہونے پائے، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ان کلیدی نقاط میں یہ بھی اکثر شامل کیا جاتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ہر حال میں ریاست کے انتظام،پر گرفت مضبوط رکھنی چاہئے۔تاکہ ریاست کسی طرح بھی کمزور نہ ہو سکے۔
خیر بات آتی ہے کہ اس 73سالوں کے تھکا دینے والے سفر کے بعد اس ملک کی عوام نے کچھ سال پہلے کسی ایک شخص کے منہ سے وہ کلمات سنے جو انکی دل کی اواز تھے انہیں وہ سپنے وہ خواب سچ ہوتے نظر انے لگے جسکا تصور انہیں علامہ اقبال نے دیا تھا انہیں وہ قول سچ نظر آنے لگے جنکی پاسداری اور عملداری کا قائداعظم نے ان سے حلف لیا تھا۔ انھوں نے اس شخص کو اس لیئے ووٹ دیا کہ وہ پاکستان کو اسکی شناخت دے سکے ، لیکن افسوس آج حکومت،اپوزیشن اور ہمارے سیاسی رہنما اس قدر بری سیاست میں مبتلا ہوچکے ہیں کہ انہیں یہ بھی خبر نہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کا ہر لمحہ نام لے کر وہ اس ملک پر احسان نہیں کر رہے بلکہ اسے دشمن کی نظروں میں گرارہے ہیں۔ لہٰذاحکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ انہی اصولوں پر ملک کو چلائیں جن خطوط پرعوام اس ملک کو چلانا چاہتے ہیں،کیوں کہ وہ بہتر جانتے ہیں کہ اس ملک کا دوست کون ہے اور دشمن کون! اور سب سے بڑھ ہم سب کو مل کر بجائے خوشنودی حاصل کرنے کے صدق دل کے ساتھ اس ملک کے کام کرنا چاہیے تاکہ یہ قوم اور ملک آگے بڑھ سکیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: