کوئی شرم نہ کوئی حیاء

گزشتہ سے پیوستہ شب ممتاز ماہر تعلیم اورنیک نام صحافی محترم مہر محمدافضل جوتہ کی دختر نیک اختر کی تقریبِ رخصتی میں شرکت کے لیے خانیوال سے کبیروالا حضرت جی طاہر نسیم ‘ ڈاکٹر محمداشرف مغل اور چوہدری نذیر گجر شریک ِ سفر تھے …! ہماری گاڑی جونہی لاہور موڑ سے کبیروالا جی ٹی روڈ پر روانہ ہوئی تو آغاز ِ سفر سے اختتام سفر تک ٹوٹی پھوٹی سڑک کی انتہائی خستہ حالی کے باعث 15/10منٹ کا سفر تقریباً 40منٹ میں طے ہوا…! وقفے وقفے سے گڑھوں میں جب گاڑی کے پہیے اُترتے تو گاڑی کی ’’چیخوں‘‘ کے ساتھ دل بھی دھک سے رہ جاتا تھا …! یوں کھنڈرات میں بدلی اس بدحال سڑک پر روزانہ سفر کرنے والوں کے دِل گردوں پر رشک آیا…! کہ نیسلے ‘ جدید فیڈز سمیت بیسیوں صنعتی یونٹوں کے سینکڑوں ملازمین اور ہزاروں مسافر اپنے ’’اِنجر پِنجر ‘‘ ہلا کر کس ضبط سے روزانہ سفر کرتے ہیں…؟ ہمارے حضرت جی فرمانے لگے ’’اگر مجھے صرف چھ ماہ کے لیے ضلعی سربراہ بنا دیاجائے تو اِس دوران اس سڑک کو پاکستان کی خوبصورت ترین سڑک بنا دوں گا…!‘‘ حضرت جی کے پاس ایسی کون سی ’’گیدڑسینگی ‘‘ یا ’’آلہ دین کا چراغ‘‘ ہے ، یہ تو معلوم نہیں البتہ انہوں نے اشارۃً اپنے ’’ذرائع ‘‘ کا بھی ذکر کردیا …! لیکن ایسا معجزہ رونما ہونا از خود ایک معجزہ ہوگا…! دوران سفر محوِ گفتگو سبھی ہم سفر اس حقیقت پر متفق تھے کہ خانیوال اورکبیروالا کے موجودہ منتخب نمائندے نہ صرف حکمران جماعت سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ ایم این اے کبیروالا محترم سیدفخر امام وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی جبکہ ایم پی اے میاں حسین جہانیاں گردیزی صاحب صوبائی وزیر زراعت ہیں…! اس سڑک کے دائیں بائیں علاقوں سے منتخب دیگر نمائندوں میں نشاط احمد خان ڈاہا حکومت کے حامی اور سردار حامدیارہراج پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر رکن ِ صوبائی اسمبلی ہیں…! یہ سبھی ارکان ِ قومی و صوبائی اسمبلی سیاسی طورپر انتہائی طاقتور او ربا اثر ہیں…پھر اس خطہ کی پسماندگی اور سڑکو ںکی بدحالی سوچ سے بالا تر اورناقابل ِ فہم ہے…!
ہچکولے کھاتے اس سفر میں دوران ِگفتگو اپنے منتخب نمائندوں کی سرد مہری کے ساتھ ساتھ ملک کی عمومی سیاست ،جمہوریت پسند حکمرانوں اور اپوزیشن کا ’’ذکر ِ خیر ‘‘بھی ہوا …!تودونوں جانب کے سیاستدانوں کے سیاسی بیانات پر کانوں کو ہاتھ لگا لیئے …! اتنی بے غیرتی ‘ بے حیائی ‘ بے شرمی …! کوئی شرم نہ کوئی حیاء ہے …! ہمارے سیاستدان تو جیسے شرم و حیاء کو روندتے اخلاقیات کو پچھاڑتے ہوئے گمراہی کی آخری حدیں پھلانگ گئے ہوں…! زبان درازی ،ذہنی پسماندگی اورفکری فرسودگی تو ماضی میں بھی مروجہ جمہوری سیاست پر غالب رہی ہے ، لیکن چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتی سیاست کے معاشرتی اقدار کا جنازہ اٹھتے اب دیکھا ہے …! ’’اسمبلی سے باہر پھینکنے ، ملک دشمن ، غدار ، بے غیرت ، گیدڑ، گدھا اور ڈیزل …ایسی جملہ بازی توہماری سیاست اورجمہوریت کے ساتھ ساتھ چلی آئی ہے لیکن ’’گٹر کا کیڑا …بِلّو رانی …تم پر تُھو…پنڈی کا شیطان …مکروہ انسان …حرام کے مال پر پلنے والی نانی …ٹُن حکمران …منافق اعظم …جادوگرنی کی حکومت …‘‘ایسے غلیظ الفاظ اورجملے بازی جیسی گندی ‘ ننگی اور تماش بینی کی سیاست پہلے کبھی نہیں دیکھی…! اور اس کے مظاہر اِن دنوں گلگت بلتستان کے انتخابی جلسوں میں بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں…!
’’شہد کی بوتلوں والے ‘‘ وفاقی وزیر اُمور ِ کشمیر علی امین گنڈا پور گلگت بلتستان الیکشن مہم کے دوران ایک جلسہ میں اپنی ذہنی فرسودگی یوں بیان فرماتے ہیں، ’’…مریم نواز خوبصورت تو ہے ، میں سچ بولتا ہوں وہ خوبصورت تو ہے ، لیکن یہ بھی سن لو کہ نواز شریف کی دو حکومتوں میں آپ کے خون پسینے کے کروڑوں روپے سے وہ چہرے کی پلاسٹک سرجری کرواتی تھی…تو اُس کی خوبصورتی بھی آپ کے پیسوں کی ہے …وہ آپ کا مال ہے…! اگر میں آپ میں سے کسی کو بھی اُٹھا لوں اور عوام کے پیسوں میں سے تھوڑا سا بھی لگا دوں تو آپ بھی’’ فٹن فٹیٹ ‘‘ہوجائیں گے…!
قربِ قیامت کی ایک نشانی ملاحظہ فرمائیے …! کہ خود ’’میک اَپ کی تہیں ‘‘جما کر منظر عام پر تشریف لانے والی خاتون معاون خصوصی آپا فردوس عاشق اعوان فرماتی ہیں ’’میں علی امین گنڈا پور کی سوچ سے متفق ہوں ، بس الفاظ کا چنائو ٹھیک نہیں تھا…!‘‘
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اورہاتھ میں تلوار بھی نہیں
عمران خان کے دیگر وزراء مراد سعید ، فیصل وواڈا ، شیخ رشید ، علی زیدی ، شہر یار آفریدی اورفیاض الحسن چوہان کے ساتھ معاونین میں شہزاد اکبر کے ارشادات و فرمودات ان کے علاوہ جن پر الگ سے کالم بنتا ہے …بدقسمتی سے یہی تحریک انصاف پاکستان کا ’’حقیقی چہرہ ہے‘‘ …!
فطرت کا ابدی اصول ہے کہ تبدیلی اوپر سے آتی ہے …! چنانچہ حکمران او راُن کے مصاحبین کے رویے عوامی رویوں پرشدت سے اثرانداز ہورہے ہیں…! یہ بھی درست ہے کہ جیسے عوام ہوتے ہیں اُن پر ویسے ہی حکمران مسلط ہوتے ہیں…! تو یوں موجودہ حکمران ہمارے اعمال کے نتیجہ میں ہم پر مسلط ہیں…! ایک حقیقت یہ کہ ماضی کو کوسنے کی روش پہلے روز سے ہمارا تعاقب کرتی چلی آرہی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تبدیلی جس کا سہانا خواب عمران خان نے قوم کو دکھایا تھا ، آج اڑھائی سال گزرنے کے بعد نصف دور ِ حکومت مکمل ہونے کے باوجود شرمندہ تعبیر نہیں ہوا…! حالانکہ موجودہ حکمران تو’’ ریاست ِ مدینہ ‘‘ قائم کرنے کے دعویدار تھے …! چنانچہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ’’نیا پاکستان ‘‘ بنانے کے دعویداروں نے قوم کو مایوس کیا ہے ، بالخصوص اُس نوجوان نسل کوجو جنون کی حد تک حامی اور ساتھ تھی…!
پھر جو ہوا سب کے سامنے ہے…! آج یہ عالم ہے کہ اخلاقیات کا جنازہ تو اُٹھ ہی چکا ، غربت ، بے روز گاری اورمہنگائی کے عارضوں میں مبتلا عوام کی معاشیات کا تابوت بھی (اللہ نہ کرے ) تیار ہے …! تو سوچیئے پھر پیچھے کیا بچتا ہے …؟ یہی روش برقرار رہی تو ’’جمہوریت کا انجام ‘‘ جونوشتہ دیوار ہے …! چنانچہ اب اگر جمہوریت بچانی ہے تو’’ایمان کو خطرہ …جمہوریت کو خطرہ…پاکستان کی نظریاتی اساس کوخطرہ اور دیگر خود ساختہ راگوں کی آڑ میں جنگ و جدل کا بازار گرم رکھنے کی بجائے دونوں جانب کے سیاستدان مذاکرات کی میز پر آئیں او راس مقصد کے لیے وزیراعظم پہل کریں، کہ پاکستان میں کوئی وطن فروش نہیں نہ ہی کوئی غدا رہے …! اگر کوئی کرپٹ ہے اُس پر جرم ثابت کرکے سر عام لٹکایاجائے…محض الزامات پر سیاستدانوں کی کردار کُشی مناسب نہیں ،اورجمہوریت کے ساتھ اس سے بڑا ظلم نہیں ہو سکتا ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ’’آئی جی سندھ اغواء کیس ‘‘ کی تحقیقات کرکے ایک وعدہ پورا کردیا ہے …لہذا اب عوام دونوں جانب کے سیاستدانو ںکی جانب دیکھ رہے ہیں۔ یہ سبھی سیاستدان ایک ورک پر ہوئے توعوامی مسائل بھی حل ہوں گے …داخلی وخارجی استحکام بھی آئے گا…جمہوریت بھی مضبوط ہوگی…عوامی مسائل بھی حل ہوں گے…اور قومی خوشحالی بھی آئے گی ، وگرنہ یاد رکھنا …!
تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں

Leave a Reply

%d bloggers like this: