مظلوم کی آہ

گرونانک کے بارے مشہور ہے کہ دوران جہاں گردی وہ ہمراہ اپنے عقیدت مند چیلوں کے ایک شہر کے باہر براجمان ہوئے۔ ان کے عقیدت مند ضروریات زندگی کی خریداری کیلئے شہر میں گئے۔ جس چیز کا بھی بھائو پوچھا سب ایک ہی قیمت میں فروخت کیلئے پیش کی گئیں۔ انتہائی ارزاں اور سستی بھی۔ عقیدت مند بہت خوش ہوئے کہ ہر چیز ایک ہی سستے بھائو میں مل رہی ہے۔ عقیدت مندوں نے خوب جی بھر کے خریداری کی اور خوش ہوتے جھومتے ہوئے بابا جی کے حضور پیش ہوئے اور انتہائی خوشی اور مسرت میں انہیں بتایا کہ بابا جی خوب شہر ہے جہاں تمام ضروریات زندگی انتہائی ارزاں ایک ہی قیمت پر دستیاب ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ سے گزارش کر کے یہاں طویل عرصہ قیام کیا جائے۔ بابا جی نے چیلوں کو کہا کہ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ فوراً یہاں سے نکل چلو۔ عقیدت مندوں نے حیرانی سے کہا کہ بابا جی ایسا کیوں؟ ابھی تو ہم نے یہاں پڑائو ڈالا ہی ہے کیوں نہ سستی چیزوں سے طویل عرصہ فیض یاب ہوا جائے۔ بابا جی نے فرمایا کہ یہاں کا حاکم بے انصاف اور احمق ہے۔ بھلا ایسا بھی کہیں ہوا ہے کہ ہر چیز ایک ہی قیمت پر دستیاب ہو۔ ایک نہ ایک دن تم بادشاہ کی ناانصافی میں پھنس کر پچھائو گے اور تم جائے امان نہ پائو گے۔ بہرحال عقیدت مندوں کے اصرار پر بابا جی نے شہر نا انصاف میں اپنا قیام بڑھا دیا۔ ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ شہر میں کوئی آدمی قتل ہو گیا جو کہ چیلے گھومتے گھماتے پھانسی گھاٹ کے پاس پہنچ گئے۔ دیکھا کہ ایک شخص کو بادشاہ کے حکم پر پھانسی دی جا رہی ہے مگر پھانسی کا پھندا قاتل کی گردن میں فٹ نہیں بیٹھ رہا۔ گردن پتلی جبکہ پھندے کا گھیرا بڑاتھا۔ جلاد کو پھانسی دینے میں انتہائی مشکل پیش آ رہی تھی۔ بادشاہ بنفس نفیس موقع پر موجود تھا۔ اس نے موٹی گردن والے چیلوں کو دیکھا تو نعرہ لگایا کہ ان کی گردی موٹی ہے پھانسی کا پھندا ان کی گردن پر فٹ بیٹھے گا۔ چنانچہ چیلوں کو پکڑ لیا گیا پہلے ایک کو پھانسی گھاٹ پر لایا گیا تو اس کی گردن میں پھندا فٹ بیٹھ گیا۔ چنانچہ بادشاہ نے پھانسی کا حکم دے دیا۔ اسی دوران میں بابا جی بھی گھومتے ہوئے ادھر آ نکلے اور پھانسی گھاٹ میں چیلوں کو پریشان پایا چند سیکنڈ میں بات کو بھانپ گئے۔ لہٰذا انہوں نے حکمت اور دانائی سے کام لیکر شور مچانا شروع کر دیا کہ مجھے پھانسی دے دو۔ بادشاہ حیران ہوا کہ تم کیوں پھانسی چڑھنا چاہتے ہو تو باباجی نے فرمایا کہ اس وقت جو شخص پھانسی پائے گا سیدھا جنت کے باغوں میں پہنچ جائے گا۔ جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ اس شخص کو اتار کر مجھے پھانسی دو میں جنت کے باغوں میں جائوں گا۔ چنانچہ بادشاہ کے حکم پر اس کو جلاد نے فوراً پھانسی دے دی۔ بابا جی نے عقیدت مندوں کو کھسکنے کا حکم دیا اور باہر اپنے ڈیرے پر پہنچ کر فوراً کوچ کا حکم دیا اور چیلوں کو فرمایا دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ یہ شہر نا انصاف ہے اور بادشاہ جاہل مطلق ہے اسی لئے ہر چیز کا ایک بھائو مقرر ہے بھلا ایسے بھی دنیا میں ہوتا ہے۔ عقیدتمندوں نے بابا جی کا شکریہ ادا کیا کہ بڑی مصیبت سے جان چھوٹی ہے۔
ایک بادشاہ نے حکم دیا کہ تمام شیروں کو گرفتار کر لیا جائے کسی نے بلی کو کہا کہ تمہاری شباھت شیر پر جاتی ہے۔ فوراً روپوش ہو جائو۔ بلی نے کہا کہ بھلا میں کوئی شیر ہوں جو چھپ جائوں۔ دانش مند جانوروں نے کہا کہ تمہیں شیر کے شبہے میں پکڑ لیا گیا تو یہ ثابت کرتے کرتے کہ تم شیر نہیں بلی ہو تمہاری عمر زنداں میں ہی گزر جائے گی۔
پولیس گردی نا انصافی ، اقربا پروری، کرپشن نے ہمارے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔ سیاستدانوں اور سرکاری افسروں نے ملکی دولت سمیٹ کر Money Laundering کر کے غیر ممالک میں فارم ہائوسز پلازے۔ اور بزنس ایمپائرز بنا کر ملک کو کنگال کر دیا ہے۔ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ افسران نے بھی لوٹ مار کا معمولی سا موقع بھی ضائع نہیں کیا۔ جی بھر کر محکموں کولوٹا۔ دراصل یہ بد فطرت پاکستان سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے اور نہ ہی اسے اپنا عزیز وطن سمجھتے ہیں۔
میرا آبائی ضلع اوکاڑہ ایک پسماندہ علاقہ ہے جہاں تعلیم کی کمی ہے۔ ایکٹر (Actor)قسم کے سرکاری اہل کاروں نے محکموں کے فنڈز بے دردی سے لوٹنے کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ وزیر اعظم کی سکیم Ten Billion Tsunami Programme کے تحت ایک خطیر رقم ہر ضلع کو دی گئی۔ محکمہ جنگلات اوکاڑہ کے افسران نے اپنے اعلیٰ افسران سے مل کر فنڈز لوٹ کر اپنی بیگمات اور اہل خانہ کے نام پر کروڑوں کے ناجائز اثاثے بنائے ۔ سماجی کارکن ماریہ بی بی نے اس لوٹ مار پر حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیب / اینٹی کرپشن کو آگاہ کیا کہ عوام کو آکسیجن کی فراہمی کے لئے جاری کئے گئے کروڑوں کے فنڈز افسران کی بیگمات کے اللوں ، تللوں کی نذر ہو رہے ہیں تو نیب کارروائی کا سست رفتار کچھوا ابھی سست روی سے چل رہا تھا کہ اپنی اور بیگمات کے قبضہ سے کروڑوں روپے کی برآمدگی اور جیل جانے سے خوف سے DFO اور SDFO نے ماریہ بی بی اور بزرگ صحافیوں پر 2 علیحدہ علیحدہ جعلی مقدمات تھانہ صدر اوکاڑہ اور تھانہ حجرہ شاہ مقیم درج کروا دیئے۔ جو کہ کال ریکارڈ سے جعلی ثابت ہوگئے۔ مگر چونکہ پولیس افسران فنڈز لوٹنے والے جنگلات کے افسران سے بھاری رقوم کے عوض مک مکا کر چکے تھے۔ لہٰذا ماریہ بی بی اور بزرگ صحافیوں کو بلیک میل کر کے انکوائری سے دستبرداری کے لئے گرفتاری کی دھمکیاں دیں۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایسے پنج مار قسم کے پولیس افسران کو جعلی مقدمات درج کرانے اور بلیک میل کر کے نیب / اینٹی کرپشن کی انکوائری سے دستبردار کروانے کی مجرمانہ سازش پر فوراً گرفتار کر کے انصاف کی اعلیٰ مثال قائم کریں اور تحریک انصاف کے نام کی لاج رکھ کر ضلع اوکاڑہ سے انصاف اور نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں۔ اوکاڑہ کے عوام وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار سے فوری انصاف کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ اگر محکمہ جنگلات کے کروڑوں کی خرد برد میں ملوث افسران DFO / SDFO اور پولیس کے کرپٹ اعلیٰ افسران پر مشتمل ٹرائیکا کو فوری سخت گرفت کر کے ، ہتھکڑیاں لگا کر ، گرفتار کر کے جیلوں میں نہ ڈالا گیا تو نئے پاکستان کا خواب شاید کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا اور عوام الناس اور محب وطن شہریوں کے لئے صرف ایک ہی آپشن باقی بچے گا اور وہ ہے جھولیاں اٹھا کر آسمان کی طرف منہ کر کے بددعائیں دینا۔ یقینا مظلوم کی آہ ساتویں آسمان تک بلا روک ٹوک پہنچ جاتی ہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کے احتساب کی چکی خوب چلتی ہے جو باریک پیس کر نام و نشان مٹا دیتی ہے۔

The Mills of God Grind Slowly but they grind exceedingly small.

Leave a Reply

%d bloggers like this: