Today's Columns

مسلمانوں کے خون میں ذِکر خدا از ڈاکٹر تصور حسین مرزا ( پاک وطن )

ارشاد باری تعالیٰ ہے:ترجمہ: اس قرآن کو اتارنے والے ہم ہیں اور ہم ہی نے اس کی ہر قسم کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ (پ 14 الحجرات آیت 9)
حق تعالیٰ شانہٗ نے قرآن حکیم کی حفاظت کا ایسا انتظام فرمایا کہ کوئی جدید سے جدید ترین سائنسی ایجاد، شیطانی حربہ یا سازش قرآن مجید کے کسی لفظ، حرف، زبر، زیر اور پیش میں ردوبدل نہیں کرسکتی۔دنیا جہاں کے بدبخت بدنصیب انسان نما حیوان نے
بھارتی سپریم کورٹ میں نام نہاد مسلمان شہری ( منافق ) کی قرآن پاک میں سے 26 آیات ہٹانے کی درخواست۔ جس کے ردِ عمل پر انڈین ماہرین قانون کا خیال ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نہ صرف یہ درخواست یکسر مسترد کر دے گی بلکہ اپنے آئینی حق کا غلط استعمال کرنے پر درخواست گزار کو بھاری جرمانہ بھی کر سکتی ہے۔
بھارت کے لکھنؤ کے رہائشی اور اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں ایک درخواست میں مطالبہ کیا تھا کہ قرآن کی ان چھبیس آیات کو اس مقدس کتاب میں سے ہٹایا جائے، جو ان کے بقول ’دہشت گردی کو فروغ دینے میں معاون‘ بنتی ہیں۔سپریم کورٹ کے سابق رجسٹرار جنرل جسٹس سہیل اعجاز صدیقی کا کہنا ہے، ’’عدالت عظمیٰ پہلی نظر میں ہی اس پٹیشن کو خارج کر دے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آئینی حق کا غلط استعمال کرنے پر سپریم کورٹ وسیم رضوی پر بھاری جرمانہ عائد کر دے اور ان کی سرزنش بھی کرے کیونکہ اس طرح کا سارا کھیل بالعموم بدعنوانی کے کیسز میں قانونی شکنجے سے بچنے اور فیشن کے طورپر سکیورٹی حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔‘‘پروفیسر فیضان مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ مفاد عامہ کے تحت دائر کردہ اس درخواست پر سماعت کرنے یا نا کرنے کا فیصلہ تو بعد میں کرے گی، اس سے پہلے وہ ضابطے کے تحت وسیم رضوی کے سابقہ ریکارڈ پر بھی نگا ہ ڈالے گی۔ وسیم رضوی کے خلاف بدعنوانی کے متعدد معاملات کی انکوائری بھارتی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کر رہی ہے۔
بھارتی مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر اور معروف دینی درس گاہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم مولانا رابع حسنی ندوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ’فتنہ انگیز ی‘ کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کرے کیونکہ اس سے بھارت اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور ملک کا ماحول بھی خراب ہو رہا ہے۔برصغیر کے معروف دینی ادارے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابوالقاسم نعمانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نفرت اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کرنے والے ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانا چاہیے کیونکہ ایسے عناصر سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
مجلس علمائے ہند کے جنرل سیکرٹری ا ور معروف شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نقوی کا کہنا تھا، ’’وسیم رضوی اسلام دشمن ہیں اور ان کا شیعیت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ وہ متعصب اداروں اور اسلام دشمن تنظیموں کے آلہ کار ہیں۔ ان کو مسلکی عناد بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘۔اس تنازعے کے خلاف بھارت کے مختلف حصوں میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔ کئی مقامات پر وسیم رضوی کے خلاف پولیس میں کیس بھی درج کرائے جا چکے ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو اپنے طور پر ان کے سر کی قیمت بھی لگا دی ہے۔
دوسری طرف ہندوؤں کا ایک طبقہ وسیم رضوی کی حمایت میں آ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی زبردست حمایت کی جا رہی ہے اور انہیں ’سب سے بڑا دیش بھکت‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی حفاظت کے لیے حکومت سے مطالبات بھی کیے جانے لگے ہیں۔
آج کی بات نہیں شیطانی دنیا ساڑھے چودہ سوسال سے اسلام دشمنی میں نت نئے حربے استعمال کر رہی ہے ایک زمانے میں جب روس ( دنیاوی سپر پاور تھا)نے قرآن مجید کے نسخوں پر پابندی اور مساجد کو بند کر دیا تھا ۔ اگر کسی گھر جگہ سے قرآن مجید کے نسخہ کتابی شکل میں ملتا تو پورے گھر کے افراد کو پھانسی دے دی جاتی مگر اس کے باوجود وہاں کے مسلمانوں نے بغیر دیکھے بغیر زیارت قرآن کیئے اپنے اپنے بچوں کو حافظِ قرآن بنا دیا پوچھنے پر بتایا گیا جب روسی حکومت نے گھروں مساجد پر قرآنی نسخے رکھنے پر پابندی اور سزائے موت پر عملدرآمد شروع کیا تو ہم اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنانے کے لئے کبھی سبزی کبھی فروٹ کبھی کریانہ کبھی درزی وغیرہ کے پاس بھیجتے کام کرنے اور سیکھنے کے بہانے وہاں سے بچے زبانی قرآن یاد کر کے حافظِ قرآن کے مرتبے پر آج جلوہ گر ہیں اور اب وہ روسی طاقت ماضی کا حصہ بن چکی ہے ۔
جہاں تک بھارت کے لکھنؤ کے رہائشی اور اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کا تعلق ہے یہ تو کیا ؟ وسیم رضوی کا پورا شجرہ اور پوری شیطانی قوتیں بھی آجائیں 26 آیاتِ مبارکہ تو کیا ایک زِیر ِ۔ ایک زَبر پر بھی پابندی نہیں لگا سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کے وسیلے سے قرآن مجید مومنوں کے دلوں پر نقش کر دیا ہے۔ مومنین/ مومنات اور مسلمانوں کے جسموں میں دوڑنے والے خون میں ذِکر خدا ،اور ذِکر مصطفیٰ ﷺ ( قرآن و حدیث )ہے

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: