Today's Columns

میرا جسم میری مرضی از تحریر؛اسحاق مزاری

میرا جسم میری مرضی پر آج تک میں نے کچھ نہیں لکھا اور صرف ان کو ابزرو کرتا رہا ہوں۔
پچھلے کچھ سالوں سے ہر سال 8 مارچ کو یومِ خواتین کے دن پر کچھ لبرلز خواتین اور کچھ لنڈے کے دانشور ہاتھوں میں بے ہودہ پلے کارڈز اٹھائے ہوئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔
اور یومِ خواتین کی آڑ میں اپنا چورن بیچتی ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کس سے اپنے حقوق مانگ رہے ہیں؟
ان کے حقوق تو قرآن و حدیث نے واضح کردیے ہیں۔
ہاں اگر یہ مسلمان ہیں تو۔۔۔۔۔!
ان کو چاہیے کہ پہلے قرآن وحدیث کا مطالعہ کرکے اپنے حقوق پڑھ لیں۔
پھر جو جائز حقوق اِن کو نہ ملیں ایک دائرے میں رہ کر اُن پر بات کریں۔
دوسری بات ان احتجاج کرنے والی خواتین کی تعداد پاکستان میں موجود خواتین کی تعداد کے 5 فیصد بھی نہیں ہے۔
اور ان کے نعرے تو اتنے بے ہودہ ہیں کہ انہیں لکھنا بھی شرم محسوس ہوتا ہے۔
آج ہم ان کے سلوگن یعنی ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ (My body My choice) پر بات کرتے ہیں۔
میں ان عورتوں چند سوالات پوچھتا ہوں کہ اگر ایک خواجہ سرا کے جسم پر اس کی مرضی چلتی تو کیا وہ خواجہ سرا کے بجائے ایک مرد یا عورت پیدا نہ ہوتا؟
اگر ایک لنگڑے کا اپنی جسم پر مرضی چلتا تو وہ لنگڑا کیوں پیدا ہوتا؟
اگر کسی اندھے کا،کسی گونگے بہرے کا اپنی جسم پر اپنی مرضی چلتا تو وہ کیوں ساری زندگی ان مصیبتوں سے دوچار رہتا؟
اگر کسی غریب کی مرضی چلتی تو کیا وہ کسی امیر ترین گھرانے میں پیدا نہ ہو جاتا ہے؟
میرا جسم میری مرضی نہیں بلکہ میرے رب کی مرضی ہے۔
اُسی خالق کائنات نے ہی ہمیں اشرف المخلوقات بنایا اگر وہ ہمیں کوئی جانور پیدا کردیتا تو کہاں ہوتی ہماری جسم اور ہماری مرضی۔۔۔
ان لبرلز کا مقصد صرف اور صرف دین اسلام سے آزادی کا ہے۔
لوگوں کو اسلام سے گمراہ کرنا ہے۔
اس سے زیادہ ان کو کیا آزادی چاہیے کہ چوکوں،چوراہوں پر بغیر چادر کے بے ہودہ کپڑوں میں گھوم پھر رہی ہیں۔
سڑکوں پر انہوں نے عورتوں کے شلوار قمیضیں ٹانگی ہوئی ہیں۔
احتجاج میں ناچ گانے اور مجرے کررہے ہیں۔
اسلام سے پہلے ان جیسی خواتین کو پیدا ہوتے ہی زندہ زمین میں گاڑھ دیا جاتا اور اسلام کے آنے کے بعد ہی ان کو حقوق ملے،عزت ملی اور جائیداد میں حصہ ملا۔
ایک مثال دیا جاتا ہے کہ ’’دُور کے ڈھول سہانے‘‘ ان لوگوں کو مغرب کا کلچر بہت پسند ہے جہاں عورت ایک پبلک پراپرٹی ہے۔
دی گارڈین کے ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں تقریباً ہر نوجوان لڑکی جنسی طور پر ہراسگی کا شکار ہوجاتی ہے۔
(اور یہاں خواتین اپنے گھر کے مردوں کی وجہ سے محفوظ ہیں کوئی ان کو چھو تک نہیں سکتا۔۔۔)
جہاں عورت کو یہ نہیں پتہ کے اس کے پیٹ میں بچہ کس کا ہے۔
اس کی ولدیت کیا لکھوانی ہے؟
ایک آخری بات یاد رکھیں کہ آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہ رہے ہیں اور یہاں مغرب کا کلچر تاقیامت نہیں آئے گا اور نہ پاکستان کے نوجوان اس کلچر کو آنے دیں گے۔
(میری تحریر صرف ان 5 فیصد عورتوں کے لیے ہے

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: