میڈیکل سٹوڈنٹس کی اضطرابی حالت اور عمران خان کی مداخلت

عمران خان حکومت اقتدار کے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے لیکن تاحال عمران کو اقتدار میں لانے والے نوجوان طبقات کی عمران سے وابستہ توقعات پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں۔ عمومی رائے یہ پائی جاتی تھی کہ تبدیلی سرکار بڑی سرعت سے معاشی بدحالیوں کا رُخ ترقی کی طرف موڑنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن بیوروکریسی کی من پسند ترجیحات نے نئی حکومت کے لیے یکے بعد دیگرے ایسے ایسے مسائل گھڑ دیئے کہ حکومت کو ابھی تک مسائل کے حل کے لیے فرصت کا ایک لمحہ میسر نہیں آیا۔
بیوروکریسی نے احتساب کے نام پر حکومت کی مشینری کو صرف سیاسی انتقام کی طرف مصروف عمل رکھ کر عوامی مسائل کو حل کرنے کی طرف سنجیدگی سے غور کرنے کی طرف مائل نہ ہونے دیا۔ صحت، تعلیم، تحفظ، امن عامہ، بیروزگاری، کاشتکاری، صنعت و حرفت، تجارت، درآمدات، برآمدات سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے مسائل اپنی جگہ پر زور پکڑتے رہے اور حکومتی مشینری کی ساری توجہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے نام نہاد کرپٹ عناصر کو بے نقاب کرنے کی کوشش میں مصروف رہی۔ یہ ساری مشقت اٹھا کر بھی حکومتِ وقت کو کوئی خاطر خواہ کامیابی نصیب نہ ہوسکی۔
عمران خان نے نوجوان نسل کی توقعات علم کے حوالے سے بھی تاحال پوری نہ ہوسکیں۔ خیال کیا جاتا تھا کہ تبدیلی سرکار نوجوانوں کے لیے انجینئرنگ اور میڈیکل کی تعلیم کی سہولیات میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کرنے کے اقدامات ہنگامی بنیادوں پر اٹھائے گی۔ لیکن بیوروکریسی نے پاکستان تحریکِ انصاف کے منشور کے مطابق اسے کام کرنے کا موقع ہی فراہم نہیں کیا۔ اپنے دوسالہ اقتدار میں تحریک انصاف نے نہ تو انجنیئرنگ کے شعبہ میں کوئی نئی پالیسی متعارف کروائی نہ ہی میڈیکل سٹوڈنٹس کے لیے کوئی نئی مثبت حکمتِ عملی وضع کی گئی۔ پہلا دوسرا سال تو حسبِ حال گزار دیا گیا لیکن اقتدار کے تیسرے سال میں نوجوان نسل کو میڈیکل کے شعبہ میں خوشخبری دینے کی بجائے اضطراب کی حالت میں سولی پر لٹکانے کا عمل جاری کردیا گیا۔ ’’کورونا وائرس‘‘ کے پیش نظر امتحانات کے انعقاد کو معطل کرکے طلباء و طالبات کی اکثریت کو اضطراب کی دلدل میں پھنسائے رکھا بعد ازاں فرسٹ ایئر کے نتائج کی بنیاد پر سیکنڈ ایئر میں 3 فیصد اضافی نمبر دے کر نوجوانوں کو ایک نئی ذہنی کوفت میں مبتلا کردیا گیا۔ جب باری آئی میڈیکل کالجز میں داخلہ کے لیے ایم ڈی کیٹ (MDCAT) امتحانات کی تو اس معاملے میں بھی بیوروکریسی نے اپنی من مانیاں جاری رکھتے ہوئے تحریک انصاف کی حکومت کو مزید رسوا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ صوبائی سطح پر ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کے سلسلہ کو یکسر ختم کردیا گیا اور نئی پالیسی واضع کرکے امتحانات کے انعقاد کا اعلان کردیا گیا۔ اس غیر دانشمندانہ فیصلے کے نتائج کی پرواہ کیے بغیر میڈیکل کالجز /یونیورسٹی کے طالب علموں کی بے چینی کو مزید بڑھا دیا گیا۔ ضرورت تو اس امر کی تھی کہ حکومتِ پاکستان صوبائی حکومتوں کے اشتراک و تعاون سے انجینئرنگ اور میڈیکل کالجز /یونیورسٹیز کی سیٹوں میں دگنا اضافہ کیا جاتا تاکہ ڈاکٹرز اور انجینئرز کی کھیپ تیار کرکے بیرون ملک خدمات کے لیے بھیج کر ملکی زرمبادلہ میں اضافہ کے ذرائع کو بھی بڑھایا جاتا اور ان شعبہ جات میں قابل، لائق اور محنتی طلباء و طالبات کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا۔ لیکن عقل کے اندھے بیوروکریٹس کی ناقص حکمتِ عملی کو بغیر تحقیق کیے من وعن تسلیم کرکے پروفیشنل تعلیم کے دروازے بند کرنے کی جسارت کردی گئی۔ 2018ء کے الیکشن سے قبل عمران خان اور تحریک انصاف کے جملہ مدبّر سیاسی دانشواران بار بار انجینئرنگ اور میڈیکل کے شعبوں میں تعلیم کو فروغ دینے اور وسعت کے سہانے خواب کھانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے تھے۔ ڈی۔ چوک کے دھرنے ہوں یا عام انتخابات کے جلسے اور عوامی اجتماعات ہر جگہ تحریک انصاف نے نوجوان نسل کو میڈیکل کالجز کی سیٹوں میں اضافے کے وعدے کئے تھے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اقتدار ملنے کے تیسرے سال بھی یہ سارے وعدے محض سیاسی بیانات ثابت ہوکر سامنے آرہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کی سب سے بڑی ستم ظریفی تو یہ ہے کہ میڈیکل کالجز کے مروّجہ طریقہ کار کو بھی یکسر تبدیل کرکے میڈیکل شعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور ایک طویل مدت سے صاف، شفاف اور ہر طرح کی تنقید سے پاک بہترین میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے انعقاد کے ذریعے قابل، لائق اور محنتی طلباء و طالبات کی میرٹ کی بنیادوں پر ڈاکٹری کی تعلیم کے لیے سرگرداں تھی لیکن بیوروکریسی کی شاطرانہ چالوں کی بدولت پنجاب سمیت تمام صوبوں سے انٹری ٹیسٹ کی شفافیت کے عمل کو سبوتاژ کردیا گیا اور کمرشل بنیادوں پر رسوائے زمانہ ٹیسٹنگ سروسز کو ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کی ملک گیر انتظامی خدمات سونپ کر شفافیت کے عمل کو مکمل طور پر داغدار کردیا گیا ہے۔ اس عمل سے ملک بھر میں میڈیکل کے شعبہ میں تعلیم کے خواہاں طلباء و طالبات میں بیزاری، اضطرابی کی کیفیت زور پکڑ چکی ہے۔ ایم ڈی کیٹ کے سابقہ امتحانی نظام کے تحت تمام طلباء و طالبات اپنے اپنے صوبہ جات میں پڑھائے گئے انٹرمیڈیٹ کے تعلیمی نصاب فزکس، کیمسٹری، انگلش اور بیالوجی کے پرچہ جات حل کرتے تھے لیکن پاکستان میڈیکل کمیشن نے اس سال ایم ڈی کیٹ کے لیے جو تعلیمی نصاب کا اعلان کیا ہے وہ صرف اور صرف فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اسلام آباد کے طلباء و طالبات کو یک طرفہ فائدہ پہنچانے کی ایک عملی کاوش ہے۔ ایم ڈی کیٹ 2020ء کے لیے وضع کیے گئے تعلیمی نصاب میں بیالوجی کا نصاب پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر کے جملہ علاقہ جات کے طلباء و طالبات نے انٹرمیڈیٹ میں پڑھا ہی نہیں ہے ایسے حالات میں میڈیکل کالجز و یونیورسٹیز میں داخلے کے خواہشمند 70 سے 80 فیصد طلباء و طالبات ایم ڈی کیٹ میں مطلوبہ کامیابی حاصل کر ہی نہ پائیں گے صرف 20 سے 30 فیصد فیڈرل بورڈ کے طلباء و طالبات کو یک طرفہ فائدہ حاصل ہوسکے گا اور یہ بات اظہرمن الشمس عیاں ہے کہ ایسے غیرمنصفانہ ایم ڈی کیٹ انٹری ٹیسٹ کی بدولت وطن عزیز کے چھوٹے صوبوں سمیت سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے تمام طالب علم میڈیکل کالجز، یونیورسٹیز میں داخلہ سے محروم رہ جائیں گے۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ بیوروکریسی کے اس منافقانہ، بدنیتی پرمبنی ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ نصاب کو صوبوں کے تعلیمی نصاب کے مطابق وضع کرنے کے احکامات صادر کریں اور کمرشل بنیادوں پر ٹیسٹنگ سروسز فراہم کرنے والے کاروباری ادارے سے انٹری ٹیسٹ کے انعقاد کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخواہ کے طلباء و طالبات میں پھیلی اضطرابی کیفیت کو فی الفور ختم کریں۔ پشاور، لاہور، کراچی، کوئٹہ، راولپنڈی سمیت خود اسلام آباد کے گردو نواح کے طلباء و طالبات فیڈرل بورڈ اسلام آباد کے بیالوجی کے نصاب کو مسترد کیے جانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ لہٰذا قوم کے محنتی، لائق اور قابل ترین طلباء و طالبات کے اس جائز مطالبہ کو حکومتی سطح پر تسلیم کرتے ہوئے فی الفور نصاب میں تبدیلی کو روک دیا جائے۔ یہ کیسے ممکن ہے بیالوجی کی 2 (دو) نصابی کتب کے صفحات کی تعداد 800 سے زائد بنتی ہے جو کہ نیشنل بک فائونڈیشن کی تیار کردہ ہیں ان 800 صفحات کی 2 کتابوں کو محض 20 سے 22 دنوں میں کس طرح پڑھ کر امتحان کی تیاری ممکن ہے؟ محدود اندازے کے مطابق 40 صفحات کو روزانہ پڑھ کر جملہ اہم موضوعات کو کس طرح اس قلیل وقت میں یاد کیا جاسکتا ہے۔ فزکس، کیمسٹری اور انگریزی کی تیاری بھی تو انہی سٹوڈنٹس نے کرنی ہے۔ ملک بھر کے قابل، لائق محنتی طلباء و طالبات عملاً 20 سے 22 دنوں میں 800 سے زائد صفحات کی فیڈرل بورڈ کی نصابی کتب کی تیاری کر ہی نہیں سکتے تو ایسے حالات میں وہ کامیابی کے خواب کو کس طرح شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔ خدارا ظلم پرمبنی اس تباہ کن فیصلے سے وطن عزیز کے قابل طلباء و طالبات کے مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کیجئے اور قوم کے نونہالوں کو تباہ ہونے سے بچالیجئے۔ طلباء کے بنیادی حقوق پر اس ڈاکہ زنی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست کو عدالت عالیہ نے محض یہ اعتراض لگا کر مسترد (خارج) کردیا ہے کہ اس ضمن میں پہلے PMC کے جواب کو شامل کیا جائے۔ PMC خود اپنے نصاب کے حوالہ سے 7 اکتوبر کے فیصلہ کے خلاف امتحان سے محض 27/28 دن پہلے نصاب کی تبدیلی کا فیصلہ صادر کرکے غفلت مجرمانہ کا ارتکاب کر رہی ہے۔ جب 7 اکتوبر 2020ء کو PMC نے فیصلہ دیا تھا کہ ملک کے تمام علاقائی انٹرمیڈیٹ بورڈز کے تعلیمی نصاب سے ایم ڈی کیٹ کے پرچے مرتب کیے جائیں گے پھر یہ اچانک اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں PMC نے بغیر سوچے سمجھے اپنے 7 اکتوبر 2020ء کے فیصلہ کی خود دھجیاں بکھیر کر ملک بھر کے میڈیکل سٹوڈنٹس کو پریشان کردیا ہے۔ PMC خود بھی اپنے اس غیر منصفانہ فیصلے پر نظر ثانی کرے اور طلباء نے جو نصاب 2 سال سے پڑھا ہی نہیں اسے محض 3 ہفتوں میں پڑھ کر، تیار کرکے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں کیسے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے؟ اگر عمران خان اور خود PMC انتظامیہ نے اس قومی نوعیت کے مسئلہ پر راست اقدامات نہ اٹھائے تو اپنے مستقبل سے مایوس طلباء حکومت وقت کے مستقبل کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ارباب اختیار کو فی الفور راست اقدامات اٹھانے چاہیے تاکہ طلبہ کی اضطرابی کیفیت کا خاتمہ عمل میں آئے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: