’’آشیانہ قائد‘‘ ہائوسنگ سکیم حکومت پنجاب کی توجہ کی مستحق

’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ ذوالفقار علی بھٹو نے بلند کیا لیکن اس نعرے کی تکمیل کا شرف پاکستان مسلم لیگ کو حاصل ہوا۔ 2010ء کے وسط میں عوام کے لیے نہایت سستے داموں مکانات کی یقینی فراہمی کے لیے ’’آشیانہ ہائوسنگ سکیم‘‘ کا اعلان کیا گیا اور نومبر، دسمبر میں کم آمدنی والے تمام پنجاب کے رہائشیوں سے درخواستیں طلب کی گئیں۔ سروبہ اٹاری کمپاپاں روڈ پر ڈی ایچ اے فیز 9 سے ملحق سرکاری زمین پر 2740 ’’آشیانہ‘‘ گھروں کا پراجیکٹ شروع کردیا گیا اور انتہائی برق رفتاری سے محض 6 ماہ کی قلیل مدت میں خادم اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے تقریباً 600مکانات تعمیر کرکے شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے مستحق الاٹیز کو مکانات کے قبضے دینے کا عملی انعقاد کرکے ثابت کردیا کہ خدمت کا جذبہ اگر سرشار ہو تو پنجاب عوام کے لیے بہتر خدمات سرانجام دی جا سکتی ہیں۔ ابتدائی ایک سال میں میاں شہباز شریف ہفتہ وار مانیٹرنگ پر خود مستعد رہے۔ لیکن بیوروکریسی کی بجا مداخلت کے باعث خدمت کا یہ جذبہ دن بدن کمزور پڑتا گیا اور 2740 مکانات میں سے محض 1600 کے لگ بھگ مکانات ہی مکمل تعمیر ہوسکے۔ بقیہ 1140 مکانات محض کاغذی سطح پر نقشوں کی صورت مسلسل تاخیر کا شکار رہے۔
ابتداء میں شہباز شریف نے واضح عزم کا اظہار کیا کہ وہ ’’آشیانہ ہائوسنگ سکیم‘‘ کو ایک جدید ماڈل رہائشی کالونی بنا کر اشرافیہ کے معیار کے عین مطابق ایک بہترین کمیونٹی سکیم کی شکل دیں گے لیکن پنجاب کی شاطر بیوروکریسی نے اُن کے جملہ عزائم کو خاک میں ملانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یہی محلاتی سازشیں ’’آشیانہ ہائوسنگ سکیم‘‘ فیز II، برکی روڈ، لاہور سمیت پنجاب بھر کے دیگر اضلاع میں اس سستے رہائشی پراجیکٹ کی موت واقع ہونے کا سبب بنا۔ اگر شہباز شریف ذاتی طور پر مانیٹرنگ کا نظام اپنے پاس رکھتے تو ممکن تھا کہ 2010ء سے 2013ء کے قلیل عرصہ میں پنجاب بھر کے 33 اضلاع میں یہ سکیم پنجاب بھر کے کم آمدنی والوں کے ذاتی مکان کی خواہش کو پورا کرنے میں اپنی مثال آپ بنتی۔ خیر اب بھی پاکستان کی تاریخ میں کم آمدنی والے پاکستانیوں کے لیے کوئی اور رہائشی سکیم کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی ۔ پاکستان کی تاریخ کی یہ واحد رہائشی سکیم تھی جس کی بدولت غریب، کم آمدنی والے پاکستانیوں کو نہایت سستے داموں 2، 3 مرلہ ڈبل سٹوری مکانات شفافیت کے ساتھ میسر تھے لیکن سیاسی مخالفین اور پنجاب کی بیورکریسی کی غلط پالیسیوں نے اس عظیم الشان فلاحی رہائشی منصوبے کو بہت جلد تباہی کی طرف دھکیل دیا۔
آج ’’آشیانہ قائد ھائوسنگ سکیم لاہور‘‘ کے مکین اگرچہ ذاتی مکان کی فراہمی پر پاکستان مسلم لیگ کے قائدین میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف کے معترف ہیں لیکن اس رہائشی سکیم میں پنجاب حکومت کی عدم توجہی کے باعث بے شمار مسائل سے دوچار ہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب کی غفلت مجرمانہ کے باعث اب آشیانہ ہائوسنگ سکیم بدحالی کی منہ بولتی تصویر ہے۔ پنجاب حکومت نے گذشتہ 2 سالوں کے ترقیاتی بجٹ میں آشیانہ ہائوسنگ سکیم کے لیے کوئی رقم مختص ہی نہیں کی۔ PLDC کی موجودہ انتظامیہ بھی سوسائٹی کے مکینوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے سے مکمل طور پر انکاری ہے۔ پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی، سوئی گیس کنکشن کی عدم فراہمی، وبائی امراض کی روک تھام کے لیے محکمہ صحت کی عدم توجہی، صفائی، ستھرائی کے معاملہ میں حکومت پنجاب اور میٹروپولیٹن ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی مسلسل غفلت نے مکینوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ آئے دن واٹر فلٹریشن پلانٹ خراب رہتا ہے۔ گلیوںکی باقاعدہ صفائی کا کوئی انتظام سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا۔ ماحولیاتی آلودگی میںاضافہ کا سبب خودمیٹروپولیٹن کا ادارہ ہے۔ کوڑے کو آگ لگا کر ’’سموگ‘‘ میں اضافے کا تسلسل سرکاری سطح پر خود جاری ہے۔ ایسے حالات میں مکینوں کی اپنی مدد آپ کے تحت بنائی گئی 2 تنظیموں، اتحاد ویلفیئر سوسائٹی، آشیانہ قائد اور آشیانہ قائد ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جملہ کاوشیں سراہے جانے کے لائق ہیں۔ دونوں فلاحی تنظیموں کے عہدیداران اپنی بساط سے بڑھ کر رہائشیوں کو ممکنہ سہولتیں فراہم کرنے میں مگن ہیں۔ اگر یہ فلاحی ادارے بھی عوامی خدمت سے ہاتھ کھینچ لیں تو شاید ’’آشیانہ قائد ہائوسنگ سکیم‘‘ میں قیام کرنا سب مکینوں کے لیے دشوار نہیں بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔ ان حالات میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور چیف سیکرٹری پنجاب جواد ملک کو چاہیے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر ’’آشیانہ قائد‘‘ کے جملہ مسائل کو فی الفور حل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں کیونکہ یہ سکیم ’’ن‘‘ لیگ نے بنائی ضرور تھی لیکن سب مکین ’’ن‘ لیگ کے منظورِ نظر نہیں ہیں بلکہ رہائشیوں کی اکثریت ’’تبدیلی حکومت‘‘ کے متوالوں پر مشتمل ہے۔ ’’تبدیلی‘‘ کا خواب دیکھنے والے پی ٹی آئی کے ووٹرز بھی اس سوسائٹی میں بدترین مسائل کا شکار ہیں۔ ’’آشیانہ قائد‘‘ کے مسائل کسی سیاسی جماعت کے ووٹرز کے مسائل نہیں ہیں بلکہ عوامی مسائل ہیں۔ جن کی بدولت آج اس سوسائٹی کے تمام رہائشی پینے کے صاف پانی، سوئی گیس، بجلی کنکشنز ہونے کے باوجود بجلی کی عدم دستیابی کا شکار ہیں۔ وقت بے وقت غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ’’آشیانہ قائد‘‘ کی سکیورٹی کا بھی نظام اصلاح طلب ہے۔ آئے دن چوری کی وارداتوں میں اضافہ سننے کو مل رہا ہے۔ سوسائٹی کے مین گیٹ پر پولیس چوکی قائم کرنے سے تحفظ کے احساس کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
چیف سیکرٹری پنجاب کو چاہیے کہ تقریباً 80 آشیانہ قائد کے الاٹیوں کو تاحال مکانات کے قبضے نہیں مل سکے جبکہ ان کی اکثریت اپنے اپنے مکانات کی مکمل پے منٹ جمع کرواچکے ہیں۔ ترجیحی بنیادوں پر تمام الاٹیوں کو مکانات تعمیر کرکے فوری الاٹ کیے جائیں۔ یہ پراجیکٹ بلاشبہ مسلم لیگ ’’ن‘‘ نے شروع کیا تھا لیکن اس کی تکمیل حکومت پنجاب کی ذمہ داری بنتی ہے۔ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ’’آشیانہ قائد‘‘ کے جملہ مسائل کو حل کرنے میں اپنا مثبت فعال کردار ادا کرے۔ تاکہ ’’آشیانہ قائد مسائلستان کا گڑھ بننے کی بجائے ایک بہترین رہائشی سکیم ثابت ہوسکے۔ حکومت پنجاب تمام اصل الاٹیوں کو مکانات کی رجسٹری کے کاغذات بھی فراہم کرنے کے وعدے کی تکمیل کرے۔ کیونکہ 2011ء میں الاٹ ہونے والے مکانوں کے مالکان کو 2016ء میں کاغذات کی سپردگی عمل میں لائی جانی تھی۔ جو تاحال التواء کا شکار ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب جواد ملک اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار مالکانہ حقوق کی ملکیت کے کاغذات تقسیم کرکے عوام کے مسائل کو کم کرنے میں اپنا مثالی کردار ادا کریں۔ آج ’’آشیانہ قائد‘‘ ہائوسنگ سکیم پنجاب حکومت کی خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: