Today's Columns

ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اور اتائیت از ڈاکٹر تصور حسین مرزا ( پاک وطن )

ہومیوپیتھک قدرتی بے ضرر موثر اور سائنسی طریقہ علاج ہے ۔ پاکستان خاص طور پر پنجاب میں بھر میں قدرتی طریقہ علاج کے معالجین کی عزت نفس مجروع سوچے سمجھے طریقہ سے کی جا رہی ہے قدرتی طریقہ علاج کے معالجین ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کو ’’ اتائیت ‘‘ کا لیبل لگا کر اخلاقی قانونی اور معاشرتی طور پر کوفت دی جا رہی ہے!
حالانکہ ہومیوپیتھک ڈاکٹرز باقاعدہ نیشنل کونسل برائے ہومیوپیتھی ( حکومتِ پاکستان) سے رجسٹرڈ ہیں۔ ہومیوپیتھک معالجین کو میڈیکل کے متعلقہ مضامین کم از کم 45 % نمبروں کے ساتھ پاس کرنا لازمی ہے جن میں قابل ذکر اناٹومی فزیالوجی، پیتھالوجی ، مڈوائفری ، گائناکالوجی، سائیکالوجی ، مائنر سرجری، فرانزک میڈیسن سمیت ہومیوپیتھک فلاسفی، مٹیریا میڈیکا ، فارمیسی اور کیس ٹیکنگ وغیرہ وغیرہ۔ مزے کی بات اب تو چار سالہ ڈپلومہ DHMS کے علاوہ پانچ سالہ ڈگری ہولڈرز BHMS اللہ کے کرم و فضل سے اپنی خداداد صلاحیتوں سے دکھی انسانیت کی خدمت کرنے میں ہمہ تن مصروف ِ عمل ہے۔
بات ہو رہی تھی ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کی عزت نفس مجروع کرنے کی ۔ ہم سب جانتے ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہماری آبادی کا 90% حصہ دیہاتوں قصبوں اور 10% شہروں میں آباد ہے۔دیہاتوں میں صحت اور صحت کے مراکز کا فقدان ہے۔ اگر BHU کی بات کی جائے تو سات سے دس دیہات ایک BHU کے حصہ میں آتے ہیں اور کم و بیش ایک دیہات کی آبادی دس ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ BHU میں کتنے ماہر ڈاکٹر ز تعینات ہے اس کا اندازہ رورل ہیلتھ سنٹرز تحصیل ہیڈ کواٹرز اور ضلعی سوِل ہسپتال DHQ سے لگایا جا سکتا ہے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے سرکاری شفاء خانوں اور ہسپتالوں میں مکمل عملہ تعینات نہیں جو لوگ پڑھ لکھ کر حکومت پاکستان سے باقاعدہ رجسٹرڈ ہو کر دکھی انسانیت کی خدمت Practice کرتے ہیں ان کو معمولی معمولی غلطیوں کی بناہ پر کبھی عطائی کبھی اتائی کا لقب دے کر ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کی بدنامی اور عزت نفس مجروع کیا جاتا ہے۔ مثلاً ہومیوپیتھک ڈاکٹرز ( ایلوپیتھک انجکشن ) استعمال نہ کریں۔ اگر کوئی سپیشلسٹ ماہر امراض کسی مریض کو ڈرپ یا انجکشن تجویز کرتا ہے تو بے چارہ مریض/ مریضہ قریب ترین معالج کے پاس جا کر ہی لگوائے گاکیونکہ ڈسپنسر نرسنگ دیہاتوں میں موجود نہیں ہوتے تو اگر ایسے میں ہومیوپیتھک معالجین مریض کی داد رسی کے لئے سپیشلسٹ ڈاکٹر کا تجویز کردہ انجیشن لگا دے تو کیا یہ اتائیت ہے؟ عطایت ہے؟ یا خدمتِ خلق ہے؟
منشیات پوڈر وغیرہ کے عادی لوگ ایک ہی سرنج سے درجنوں نشئی ٹیکہ لگاتے ہیں۔ جس وجہ سے کالا یرقان HEPATITIS B/ C اور دیگر امراض میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر سرنجیں( ایسی جگہ جہاں میڈیکل سٹورز وغیرہ نہ ہو) ہومیوپیتھ معالجین فروخت کریں تو حوصلہ افزائی کی جگہ اتائت کا لیبل کیوں؟
ایک اور بات اگر اجازت دیں تو میں اس کو ہومیوپیتھک ڈاکٹرز سے بغض کہوں گا۔ فرسٹ ایڈ بکس (جس میں پائیوڈین ،سپرٹ قینچی پٹی روئی یا پیناڈول وغیرہ ) ایمرجنسی کے لئے ہر گھر ہر دفتر ہر سکول مدرسے ہر پلازے میں رکھے ہوتے ہیں مگر افسوس ہومیوپیتھک ڈاکٹرز نہیں رکھ سکتے کیونکہ اگر یہ رکھیں تو اتائیت کے زمرے میں آتا ہے۔
اصل اتائیت کا مطلب وہ لوگ جو ان پڑھ یا بغیر کسی طبی سرٹیفیکٹ ، ڈپلومہ ، ڈگری انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں وہ اتائی ہے مثلاً ہسپتال کا چوکیدار، مالی ، درجہ چہارم کا ملازم ، محکمہ صحت میں بطور کلرک ڈرائیورز وغیرہ ڈیوٹی کے بعد اپنے پرائیویٹ کلینک بنا رکھے ہیں جہاں یہ لوگ بغیر کسی کورس کے مریضوں کا علاج کرتے ہیں ، ایسے لوگ سرکاری ملازم ہونے کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ اگر ان میں لیڈی ہیلتھ وکرز ، سٹوڈنٹس، وارڈ بوائے وغیرہ شامل کر لئے جائیں تو اصل اتائت کا چہرہ سامنے آسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کے خلاف کبھی کوئی کاروائی نہیں ہوئی نہ ہی ہو سکتی ہے کیونکہ اتائیت کی رپورٹ چھاپے ان لوگوں کی نشاندہی پر ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں یہ لوگ کلینک بند رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے حکماء اور ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کے خلاف اتائیت کا لیبل لگا کر ہومیوپیتھک معالجین کو ذلیل و خوار کرنا ہوتا ہے۔
محکمہ صحت اور حکومت پاکستان بہتر مستقبل اور عوام الناس کی بہتری کے لئے ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے ان کو ٹرینگ/ کورس کروایا جائے تاکہ ان کی خدمات سے فائدہ بھی اُٹھایا جائے اور محکمہ صحت پر کام کا دباؤ کم اور عدالتوں میں بوجھ کم ہو سکے ۔ ایسا ہوا تو صحت کے ساتھ انصاف بھی جلدی اور آسانی سے میسر ہو سکے گا ۔اور عوام الناس کو پتا چلے گاکہ ہومیوپیتھک ڈاکٹرز پاکستانی عوام کے لئے نعمت ہے

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: