نوازشریف کا بیانیہ اور است اقدام

نواز شریف کے جس بیانیہ کا ہم آج کے کالم میں ذکر کرنا چاہتے اُس سے ملکِ پاکستان، اِس کی مایا ناز فوج اور عدلیہ کو نقصان پہنچنے کے امکان ہیں۔نواز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہ ماننے، اپنے اقتدار اور کرپشن بچانے کے لیے فوج میں بغاوت پھیلانے، بیروکریٹس کو فرائضِ منصبی ادا کرنے سے روکنے اور عوام کو مملکت کے خلاف خانہ جنگی پر اُکسایا ہے۔ کیا اِن کے اس بیانیہ کو مذید پھیلانے کا وقت دے کر قانون کے رکھوالے ملک کو تباہی کے دھانے پہنچانے میں شامل تصور نہیں کیے جائیں گے؟کیا وفاقی حکومت کو نواز شریف کے ملک کونقصان پہنچانے والے بیانیہ کو عدالت میں لے جا کر فیصلہ نہیںلینا چاہیے؟ کیا ہماری سپریم کورٹ کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ نواز شریف کے ملک دشمن بیانیہ کے خلاف از خود نوٹس لے کر ملک کو تباہ ہونے بچائے؟۔ اگر یہ باتیں صحیح ہیں تو اس پر فورناًکاروائی ہونی چاہیے۔ دہشت گرد، فاشسٹ اور غدارِ وطن الطاف حسین کے معاملے میں ڈھیل دے کر ملک کو نقصان پہنچانے میں مقتدرحلقے بھی شامل سمجھے جاتے رہے ہیں۔لہٰذا ! اب دوربارہ یہ غلطی دھورانا صحیح نہیں ہوگا۔نواز شریف کے ملک دشمن بیانیہ تجزیہ کرنے سے پہلے، نواز شریف کو یہاں پہنچنے میں کیا واقعات رونماء ہوئے، اس پر بھی روشنی ڈال لیتے ہیں۔
پاکستانی قوم کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ آف شور کمپنیاں کو بین الا قوامی صحافیوں نے تلاش کیا تھا۔ نہ عمران خان نے نہ ہی فوج نے۔آف شور کمپنیوں میں نواز شریف فیملی کا ذکر آیا تھا۔ نواز شریف اس پرکافی پریشان تھے۔اپوزیشن نے نواز شریف پر اعتراض کیا تھا۔ نواز شریف دو دفعہ الیکٹرونک میڈیا اور ایک بار پارلیمنٹ میں پریشانی کی حالت میں صحیح جواب نہ دے سکے۔پارلیمنٹ میں ہوائی فاہر کرتے رہے۔ کہا جناب اسپیکر یہ ہیں ہماری آمدنی کے ذرایع۔جس میں جعلی قطری خط بھی تھا۔ خود سپریم کورٹ کو خط لکھا کہ وہ مقدمہ سن کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیں۔ عدالت نے کہا کہ پرانے قانون کے تحت تو بہت مدت لگتی ہے۔ آپ پارلیمنٹ میں نئے’’ ٹی اور آر‘‘ پاس کریں۔ نواز شریف نے پارلیمنٹ میں اکثریت کے باوجود ٹی او آر پاس نہیں ہونے دیے۔اپوزیشن نے عدالت میں نواز شریف پر مقدمہ داہر کر دیا۔ عدالت نے سب فریقین سے حلف نامے لیے کہ سب عدالتی فیصلے کو مانیں گے۔ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے نواز شریف کو سیاست سے تا حیات نا اہل قرار دیا۔ نون لیگ کی صدارت سے بھی ہٹا دیا۔ کرپشن کے لیے جے آئی ٹی بنائی۔ جے آئی ٹی نے نواز شریف کی کرپشن پکڑی۔ جے آئی ٹی کی تحقیقی رپورٹ پر نیب عدالت میں مقدمہ داہر ہوا۔ نواز شریف عدم ثبوت پر سزا وار ٹھہرے۔نواز شریف، مریم صفدر اعوان اور ان کے شوہرصفدر اعوان تینوں کو نیب عدالت سے سزا ہوئی۔ نواز شریف جیل میں بند تھے۔ بیماری کا جھوٹ بولا۔عدالت کے مطابق ملکی سسٹم کو فریب دے کر لندن علاج کے بہانے گئے۔ وہاں فوج اور عدلیہ کے خلاف سارا ملک آسمان پر اُٹھا لیا۔ اس سے قبل شہروں شہر جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں میں احتجاج کیا۔مجھے کیوں نکالا۔ ووٹ کو عزت دو۔ ملک میں مارشل لاء لگنے والا ہے۔ پارلیمنٹ تو دی جائے گی۔ جمہوریت لپیٹ دی جائے۔سیاسست دانوں کو گھر بھیج دیا جائے گا،مجیب کے مینڈیٹ کو بھی نہیں مانا گیا تھا۔ پھر ملک ٹوٹ کیا۔ ۷۲ سال سے یہی کھیل کھیلاجا رہا ہے۔۳ ۷ سالوں میں کسی بھی منتخب وزیر اعظم کو پانچ سال مکمل نہیں کرنے دیے۔ جبکہ خود نواز شریف اورزرداری نے پانچ پانچ سال مکمل کیے۔اب عمران خان کی باری انہیں ہضم نہیں ہو رہی۔کرپشن ثابت ہونے اور نیب عدالت سزا ہونے پر عمران خان حکومت، فوج اور عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔
پھرنہ جمہوریت کو لپیٹا گیا۔نہ پارلیمنٹ ٹوٹی۔ نہ مارشل لاء لگا۔ نہ سیاست دانوں کو گھر بھیجا گیا۔پارلیمنٹ نے نواز لیگ کے خاقان عباسی کو ملک کا نیا وزیر اعظم چن لیا۔ سینٹ کے قانون کے مطابق الیکشن ہو ئے۔ملک اپنی سمت میں چلتا رہا۔ہاںنواز شریف اپنی غلطیوںکی وجہ سے ملک کے اقتدار سے علیحدہ کر دیے گئے۔ قانون کے شکنجے میں
پھنس گئے۔ مریم صفدر اعوان صاحبہ نے کہا، بیرون ملک کیا؟ میری تو پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں۔ بعد میں پراپرٹی بھی نکل آئی۔ پھر پراپرٹی کے جعلی ڈاکومنٹ عدالت میں جمع کروائے۔جعل سازی اور عدم ثبوت پر انہیں بھی کرپشن میں سزا ہوئی۔ اس وقت وہ ضمانت پر رہا ہیں۔ فضل الرحمان صاب جو پہلی بار ممبر اسمبلی منتخب نہیں ہوئے۔عمران خان جس نے فضل الرحمان کو خیبرپختون خواہ میں دو دفعہ شکست دے کر حکومت بنائی۔ فضل الرحمان ،عمران خان کو شروع سے یہودیوں کا ایجنٹ کہتے ہیں۔ عمران خان کہتا ہے کہ فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے کسی اور یہودی کی ضرورت نہیں۔جب عمران خان نے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کی تو فضل ا لرحمان نے کہا کہ عمران کی حکومت نہیں چلنے دوں گا۔سب سے کہا استعفے دیں۔ مگر کسی بھی پارٹی نے استعفے نہیں دیے۔ اپوزیشن نے کہا کہ عمران خان کو فوج لائی ہے۔ اگر یہ بات ہے تو نواز شریف کو جنرل جیلانی لائے۔ پی پی پی کو ایوب خان اور یخیٰی لائے۔ فضل الرحمان نے ایم ایم اے کی بات نہ مان کر سرحد اسمبلی نہ توڑ کر مشرف سے گٹ جوڑ کیا۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ الیکشن میں ووٹ چراہے گئے۔

۲
فضل ا لرحمان اپوزیشن کی گیارا پارٹیوں کا اتحاد بنانے میںکامیاب ہوگئے۔ فضل الرحمان کو پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم)کا صدر بنا دیا گیا۔ ملک میں جلسے شروع ہوئے ۔ کہا گیاکہ عمران خان وزیر اعظم پاکستان استعفیٰ دے ۔ نئے انتخاب کراہے جائیں۔ فضل الرحمان نے فوج کو للکارا کہ تمھارا حشر ایسا کریں گے جیسا افغانستان میں امریکی فوجوں کا کیاہے۔نواز شریف نے فوج کے سربراہ، آئی ایس آئی کے چیف اور سی پیک کے سربراہ کے نام لے لے کر جلسوں میں فوج کو للکارا ۔مریم صفدر اعوان اس بات سے سو ہاتھ آگے بڑھ کر فوج کو بدنام کر رہی ہے۔ کراچی جلسہ کے بعد میں نواز شریف کی بیماری والی طرز کا ڈرامہ رچا کر پروپیگنڈا شروع کیا کہ رینجرز نے پولیس کے آئی جی کو اغوا کر کے صفدر اعوان کو گرفتار کیا گیا۔ ذرایع کے مطابق یہ آئی جی زرداری کی کرپشن چھپانے میں ملوث رہا ہے۔آرمی چیف نے انکواری کا حکم دیا ہواہوا ہے جلد حقیقت سامنے آ جائے گی۔بلاول زرداری بھی فوج کو بدنام کر رہے۔ باقی قوم پرستوں کا تو شروع سے فوج کے خلاف ناجائز پرپیگنڈے کے زور پر ہی روزگار سیاست چلتا ہے۔
اب نواز شریف کے کردار پر کچھ عرض کرتے ہیں۔ نواز شریف کو جب نا اہل اور کرپشن میں سزا سنائی گئی تھی تو بھارت کے را کے چیف اجیت دول نے بیان دیا تھا کہ بھارت نے نوازشریف پر بہت کچھ انوسٹمنٹ کیا ہواہے،اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ نواز شریف نے گھلبوشن کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔ مودی کے الیکشن جیتنے پر بھارت گئے اور مودی سے ایک خفیہ ملاقات کے بھی چرچے ہوتے رہے ہیں۔دہشت گردمودی سے ذاتی دوستی کی۔ جو پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کا اعلانیہ عتراف کرتا ہے۔ اس کے وزیر کہتے ہیں پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کیے تھا۔ اب مذید دس ٹکڑے کریں گے۔ مودی کو یوم آزادی پر لال قلعے پر تقریر کرتے ہوئے کہتا کہ مجھے بلوچستان اور گلگت سے مدد کرنے کے لیے فون کالز آ رہی ہیں۔ یہ مودی کی طرف سے پاکستان میں کھلی ہوئی دہشت گردی کا اعتراف ہے۔ بھارت کے اسٹیل ٹائیکون سے ان کے بیٹے کی ذاتی دوستی کے چرچے عام ہیں۔نواز شریف نے مودی کی دہشت گردی اور دھمکیوں کا کبھی بھی جواب نہیں دیا۔ بلکہ کشمیر کو ایک طرف رکھ کر آلو پیاز کی تجارت ہی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردمودی ، را کے چیف اجیت ددل، اسٹیل ٹائیکون جندال جو پاکستان کو گایاں دیتا رہتا ہے کو بغیر ویزوں اور بغیر وزارت خارجہ کو اطلاع کیے اپنے گھر جاتی امر لاہور بلایا۔ مری میں اسٹیل ٹائیکون جندال کو بھی بغیر وزیر کے بلایا۔ اس پر ذرائع کہتے ہیں کہ جندال بھارتی جاسوس کلبھوشن پر ہولاہاتھ رکھنے کا مودی کاپیغام لایا تھا۔پٹھان کوٹ میں بھارت نے خود ڈرامہ گھڑا تھا۔ ہمارے وفد سے تعاون بھی نہیں کیا تھا۔اس حساس معاملہ پر نواز شریف نے خود پاکستان میں ایف آئی آر کٹوا کر انکواری شروع کی جو ملک دشمنی تھی۔بمبئی ہوٹل حملہ کے مبینہ کردار اجمل قصاب کا گھر پاکستان میں ہونے کی بات بھی کی تھی۔اس میں فوج کے دشمن حامد میر کا بھی کردار تھا۔ہمیشہ فوج کے سربراہوں سے لڑائی مول لی۔ فوج کو بدنام کرنے کے لیے خفیہ میٹنگ کی باتیں باہر لیک کیں، اپنے حلف وفاداری کا بھی خیال نہیں رکھا؟اعتراف کے طور پر اپنے وزیروںمشیروں کو قربانی کا بکرا بنا کر فارغ کیا۔فوج کو پنجاب کی گلو بٹ جیسے پولیس بنانے کی کوشش کی۔ جسے پاکستان کی بہادر فوج نے نہیں مانا، تو فوج کے مخالف ہو گئے۔اور بہت سی نوازشریف کی پاکستان دشمن باتیں ہیں۔ سب سے بڑی بات کہ بانی پاکستان کے دو قومی نظریہ کی نفی کی۔کہا میں بنیاد پرست نہیں بلکہ سیکولر ہوں۔کیا کیا بیان کیا جائے۔
ذرایع کہتے ہیں کہ نواز شریف نے کھل کر بھارت کا بیانیہ بولنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے ملک کونقصان پہنچنے کا خطرہ صاف نظرآرہا ہے۔ لہٰذا پاکستان بنانے والی آل انڈیا مسلم لیگ کی جان نشین نواز مسلم لیگ کے ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کو پاکستان کی محبت میں نواز شریف سے کنارہ کش ہو جانا چاہیے۔ عوام کو صرف مہنگاہی کے حوالے سے اپوزیشن کا ساتھ دینا چاہیے۔ ملک کی فوج کے خلاف اور ملک توڑنے کے بیانیہ سے کنارہ کش ہونا چاہیے۔ مقتدر حلقوں اور سپریم کورٹ کو بھی ملک کو نقصان پہنچانے پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
کیا سارے ملک دشمنوںکو لندن میں اپنے ٹکانے بنا رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے؟ نہیں ہر گز نہیں: عمران خان کو سزایافتہ مجرموں کو برطانیہ کے وزیر اعظم سے بات کر کے انہیں واپس پاکستان لا کر قانون کے حوالے کرنا چاہیے۔پاکستان کے عوام کو عمران خان کے کرپشن فری پاکستان کے بیانیہ کے ساتھ کھڑ ا ہونا چاہیے۔ اگر کرپٹ لوگوں کو ابھی نہیں پکڑا گیا تو کبھی بھی نہیں پکڑے جائیں گے۔ نیب کو عمران خان کے کرپٹ ساتھیوں کے خلاف بھی ریفرنس بنانے چاہیے ہیں۔ تاکہ جن پر کرپشن ثابت ہوچکی ہے ان کے جھوٹے پروپیگنڈے کا توڑ ہوسکے اور انصاف کے تقاضے بھی ہوں۔جس طرح گیارا جماعتیں عمران حکومت گرانے پر تلی ہوئی ہے اسی طرح حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں اپوزیشن کے ملک دشمن بیانیے کی کھل کر نفی کرنی چاہیے۔ ہم بار بار عمران خان کو یاد کرتے رہے ہیں۔ فوراً مہنگاہی ختم کریں۔ عوام تنگ آمند بجنگ آمند پر تیار ہو گئے ہیں۔ دیکھا جائے تو ملک میں جماعت اسلامی صحیح اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہے۔ مہنگاہی کے خلاف یکم نومبر سے تحریک شروع کرنے والی ہے۔ سینیٹر اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق کرپشن میں ملوث سیاست دانوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ۶۳۴ آف شور کمپنیوں والے لوگوں کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ کی پیروی کر رہی ہے۔ اللہ سیاست دانوں کو ہدایت دے وہ سیاست تو کریں مگر ملک کی جڑیں کھوکھلی نہ کریں۔ سپریم کورٹ کے مطابق سیاست دانوں نے ملک کے سارے ادارے تباہ کر دیے ہیں۔ صرف فوج اور عدلیہ بچی ہے اس کو بھی متنازہ بنا رہے ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: