Today's Columns

ہم سے نہ ٹکرانہ، ہم سے ڈرتا ہے زمانہ از نیلم آصف سحر

ہماری افواج دنیا کی اولین جری افواج میں شمار ہوتی ہیں۔جو ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہیں۔پھر خواہ تپتے صحرا ہوں یا سیاچین کے برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑ،ہماری افواج وطن کی سرحدوں کی حفاظت کے لیئے جانوں کے نزرانے لیئے کھڑی ہیں۔جزبہ حب الوطنی اور شہادت کے جذبے سے سرشاری نے ان کے سینوں کو منور کر دیا ہے۔ ہر دم ہر پل وطن کی حفاظت سے بھرپور چوڑے سینے پکارتے دکھائی دیتے ہیں
وطن کی مٹی عظیم ہے تو عظیم تر ہم بنا رہے ہیں
بلاشبہ ہمارے فوجی جوان ہمارے نیوی اور بری افواج کے جوان ملک کو مضبوط سے مضبوط اور عظیم سے عظیم تر بنانے کے لیئے کوشاں ہیں۔آج کے اس پر فتن دور میں جبکہ ہمارا ملک چاروں طرف سے دشمنوں میں ٓگھرا ہوا ہے یہ ہماری افواج ہی ہیں جو سینہ سپر ہیں۔قیام پاکستان سے لے کر آج تک جبکہ ہمارے ملک کو بنے ہوئے تہتر برس ہو چکے ہیں۔ہماری افواج نے قدم قدم پر ملکی سلامتی کے لیئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیئے ہیں۔دنیا کو بتا دیا ہے کہ پاکستان کوئی لاوارث ملک نہیں ہے کہ جس کا چاہے منہ اٹھا کر اس پہ قبضہ کرنے چل پڑے۔تاریخ کے جھروکوں سے زرا جھانکیئے قدم قدم پہ قوم کے وہ عظیم بیٹے دکھائی دیں گے۔جنہوں نے نہ تو اپنے جان ومال کی پرواہ کی اور نہ ہی اپنے خاندانوں کی۔بس پرواہ کی تو اس دھرتی ماں کی جس کی گود میں سر رکھنے کو ہمارے آباؤ اجداد نے بیش بہا قربانیاں دیں۔ماؤں نے اپنے بیٹے،بیویوں نے اپنے سہاگ بھائیوں نے اپنی بہنوں کی عزتوں کو داؤ پر لگا دیا۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ آج وطن کی طرف ٹیڑھی نگاہ سے دیکھے اور وہ ان آنکھوں کو نکال نہ پھینکیں۔
ہماری افواج میں اتنا دم ہے کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت بھی اتنی ہمت نہیں رکھتا کہ خم ٹھونک کر ہمارا سامنہ کر سکے۔
بھارت کی پاکستان کے اندر دراندازیاں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔آئے روز ہم میڈیا پہ دیکھتے اور سنتے ہیں کہ بھارت کس طرح لائن آف کنٹرول پر قوانین کی خلاف ورزی کر کے نہتے کشمیریوں اور پاک فوج کے جوانوں کو نشانہ بناتا ہے۔ہمارے جوان کوئی چوڑیاں نہیں پہنے ہوئے کہ بھارت کے ان اوچھے
ہتھکنڈوں کا جواب نہ دے سکیں۔درحقیقت افواج پاکستان اور حکومت پاکستان اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں ایک آتش فشاںکی طرح ہے جو اس نازک صورتحال میں ذرا سی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں پھٹ سکتا ہے۔اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے دو ٹوک انداز میں بھارت کا مکروہ چہرہ اقوام عالم کے واضح کیا اور بتا دیا کہ پاکستانیوں کے لیئے کشمیری بھائیوں کے لیئے لڑنا عین عبادت ہے۔ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو کسی صورت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
2020میں بھارت نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے کشمیریوں کا حق ملکیت ضبط کرتے آرٹیکل 370کا مکمل خاتمہ کر دیا۔اس آرٹیکل کے خاتمے سے بھارت کا کوئی بھی شہری کشمیر میں جائیداد خرید سکتا ہیاور رہائش پذیر ہو سکتا ہے۔کشمیر کو وفاق لے زیر انتظام دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا حصہ جموں و کشمیر پر مشتمل ہوگا۔دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر اپنا آئین
بنانے،برقرار رکھنے اپنا پرچم رکھنیاور دفاعی وخارجی مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔
بھارتی ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت مقبوضہ کشمیر پہ بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔درحقیقت بھارت کشمیر میں فلسطین والی صورتحال پیدا کرنا چاہتا ہے۔
کیونکہ اسے اندازہ ہو چکا ہیکہ اس کی دس لاکھ افواج بھی کشمیر پہ اس کا تسلط قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اتنے مظالم ڈھانے کے بعد بھی کشمیریوں کے جذبہ حریت نے ان کو ناکوں چنے چبوا دئیے ہیں۔کشمیر میں پیدا ہونے والا نو مولود بھی اپنے اندر آزادی کا جزبہ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اور دنیا گواہ ہے کہ جہاں بھی انسان اور انسانیت کو پامال کیا گیا پھر خواہ وہ عراق ہو،افغانستان ہو یا فلسطین،مسلمانوں کے جذبہ آزادی اور شوق شہادت نے دشمن کے پسینے نکلوا دیئے۔
بھارت آج بھی اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آتا۔آئے روز کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے اور چند دن بعدان کی کٹی پھٹی لاشیں ویران علاقوں اور محلوں سے ملتی ہیں۔معصوم بچیوں کو اٹھا لیا جاتا ہیان کی عصمت دری کی جاتی ہے کسی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتاہے اور کسی کو دوسرے علاقوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔آئے روز گھروں کو آگ لگانا معمول بن گیا ہے۔
کشمیریوں کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی گئی ہے۔بھارتی افواج کشمیریوں کی زندگی تنگ کئیے ہوئے ہیں۔مسلم دشمن
اقوام بھارت کی پشت پناہی کر رہی ہیں مگر شاید وہ یہ بھول گئے ہیں
ظلم جب حد سے گزرتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔
یہی ظلم ہے جس کو مٹانے کے لئییپاک افواج سینہ سپر ہیں۔ہم کسی طور پہ اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو اکیلا چھوڑنے والے نہیں۔ڈی۔جی،آئی ایس پی
آر نے پانچ فروری کو یوم کشمیر کے موقع پہ کشمیر سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی بھرپور تائید کی کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کا آئینی حق ہے۔اور یہ حق حاصل کرنے کے لئیے پاکستان آخری قدم تک
ان کا ساتھ ضرور دے گا

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: