حکومت ،اپوزیشن اور عوام

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے حکومت مخالف تحریک کے آغاز سے ملک میں باقاعدہ سیاسی جنگ چھڑگئی ہے ، اپوزیشن اتحادکے دو بڑے اور کامیاب جلسے گوجرانوالہ اور کراچی میں منعقد ہو چکے ہیں جن میں عوام نے بلاشبہ بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس میں کوئی حیرت یا اچنبھے کی بات اس لئے نہیں ہونی چاہئے اسلئے کہ اپوزیشن نے جن حالات میں اپنی تحریک کا آغاز کیا ہے عوام کی بد دلی اور مایوسی اپنے نکتہ ء عروج کو چھورہی ہے منہ زورمہنگائی نے اچھے بھلے کھاتے پیتے گھرانوں کے افراد کو بھی تگنی کا ناچ نچا دیا ہے ، لوگوں کے روزگار میں خاطر خواہ کمی واقع ہو چکی ہے اوربے روزگاری ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن کر اس ملک کو چلانے اور عوام کے نام پر سیاست کرنے والوں کے سامنے موجود ہے لاک ڈائون کے دوران بجلی و گیس کے بلوں میں قسطوںکی سہولت دینے والی حکومت نے جب ایکدم واجبات اورٹیرف بڑھا کر بل بھیجے ہیں تو لوگ بلبلا اٹھے ہیں ماضی میں بار بار حکومت میں رہنے والی ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں ہوں یا ملٹری ڈکٹیٹرز سب عوام کو روزگار کے معاملے میں سستی اور نظر انداز کرنے کی پالیسی پر کاربند رہے ملک کے طول عرض سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے ڈگریوں کے ڈھیر لگا دیئے ہیں لیکن ان کے پاس روزسگار نہیں ہے اور ڈگریاں انکا منہ چڑا رہی ہیں، یہی پالیسی موجودہ حکومت نے بھی اپنا رکھی ہے پڑھے لکھے نوجوان جلسوں ریلیوں کی رونق بڑھانے اور سیاستدانوں کے لئے زندہ باد یامردہ باد کے نعرے لگانے کے کام آرہے ہیں گوجرانوالہ اس وقت ملکی سیاست کامحور بنا ہوا ہے چند سال قبل مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اپنی نااہلی کے بعد گوجرانوالہ آئے تو یہاں انکا فقیدالمثال استقبال کیا گیا تھا اور ملک بھرمیں ان کے اس شاندار استقبال کی گونج سنائی دی تھی اورملک میں تحریک کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے تھے محترمہ مریم نواز شریف جہاں جہاں اور جس شہر میں بھی گئیں عوام کا جم غفیر انکے ساتھ ساتھ رہتا میاں نواز شریف کے ساتھ مریم نوازجیل گئیں تو سیاسی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہو گئیں بعدازاں سیاسی مصلحت کہیں یا مقتدر حلقوں کے ساتھ ڈائیلاگ جسکے نتیجے میں یہ سلسلہ ٹوٹا انہوںنے طویل خاموشی اختیار کر لی جس سے ن لیگی کارکنوں میں مایوسی پھیلنا شروع ہوئی ، شہباز شریف کے مقتدرحلقوں کے ساتھ ڈائیلاگ سے مسلم لیگ ن کو نئے مقدمات اور کارکنوں کو مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا ایک عرصے کے بعد عوام سے رجوع کرنے والی مسلم لیگ ن کے پاس گوکہ اب حکومتی مشینری کی سپورٹ موجود نہیں تھی لیکن اس بارپیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف ، مرکزی جمیعت اہلحدیث سمیت دیگر سیاسی و دینی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی ،مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا تو انکے اعلان کے ساتھ ہی پنجاب پولیس بھی اپنے روایتی کردار میں نظر آنا شروع ہو گئی، کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور جلسہ ناکام کرنے کی کوششوںنے سراسیمگی پھیلانے کا کام کیا ، ن لیگی کارکنوں اور اپوزیشن راہنمائوں کے خلاف ضلع کے تقریباََ ہر تھانے میں کوئی نہ کوئی ایف آئی آر درج ہوئی چنانچہ گوجرانوالہ جہاں اکیلی مسلم لیگ ن کے لئے آج بھی جلسہ کرنا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہونا چاہئے تھا سٹیڈیم بھرنے کے لئے ن لیگ اور دیگراپوزیشن پارٹیوں کو اچھا خاصہ زور لگانا پڑا ، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی کارنر میٹنگز میں پولیس ن لیگی کارکنوں کے ساتھ مسلسل آنکھ مچولی کھیلتی رہی اور انکی کارنرمیٹنگز کو تلپٹ بھی کرتی رہی ساتھ ہی ساتھ حکومتی ترجمان گرفتاریوںکی تردید بھی کرتے رہے ، روایتی پکڑ دھکڑ کے سیاسی کلچر کی تقلید کرتے ہوئے تبدیلی سرکار نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ ملک میں صرف چہرے بدلتے ہیں نظام یا عوام کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ، چنانچہ جلسے سے پہلے اور بعد میں ایف آئی آرز کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے ، جلسہ سے قبل 2اکتوبر کو مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر سٹی صدر وپومی بٹ کے گھر اجلاس کے لئے آئے تو وہاں انکی شعلہ بیانیاں عرو ج پر تھیں انہوں نے حساس اداروں کے بارے قابل اعتراض گفتگو کی تو اس موقع پرکئی ن لیگی راہنما ئوں کے چہروں کا رنگ فق ہو گیا اور بعض نے اجلاس کے بعد میڈیا ٹاک میں شرکت کئے بغیر ہی نکل جانے میں عافیت جانی کیپٹن ( ر) صفدر کے ساتھ موقع پر موجود نہ صرف کئی راہنمائوں پر پرچہ کٹ گیا بلکہ گوجرانوالہ کے انصاری برادران نے کیپٹن( ر) صفدر کے 2اکتوبر کے بیانیہ کے خلا ف ریلی نکالنے کا اعلان کر دیا جس سے حالات کی سنگینی بڑھ گئی اور دونوں جانب کے جذباتی سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم کے امکانات پیدا ہو گئے ،حاجی یونس انصاری کا کہناتھا کہ اداروںپر تنقید ملک دشمنوں کا ایجنڈہ ہے اس لئے اپوزیشن کی تحریک ایک عام سیاسی سرگرمی نہیں ہے ہم اسے روکیں گے، بعد ازاں پنجاب حکومت اور مقامی انتظامیہ کی مداخلت پر انصاری برادران کی ریلی ملتوی کرائی گئی ، کیپٹن (ر)صفدر جہاں بھی جائیں داستاں چھوڑ آتے ہیں ان کو انکے جنونی رویے کی وجہ سے ن لیگی حلقوں میںبھی زیادہ پسند نہیں کیا جاتا عام حالات میں ن بھی وہ اپنے اور دوسروں کے لئے اس طرح کی مشکلات پیدا کرتے رہتے ہیں ، اس وقت ملک میں سیاسی ماحول گرم ہے میاں نواز شریف کے گوجرانوالہ جلسے سے خطاب کے بعد ملکی سیاست کا جمود ٹو ٹ گیا ہے انکے بیانئے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے جو انکی اپنی جماعت میں بھی زیر بحث ہے تاہم انکی عوامی مقبولیت سے انکار ممکن نہیں ہے حکومتی ترجمانوں اپوزیشن کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے حکومتی ترجمان بھی تابڑ توڑ جوابی حملوں میں مصروف ہیں دن میں آٹھ آٹھ پریس کانفرنسز ہو رہی ہیں جہاں اپوزیشن کو باغی غدار اور ملک دشمن قرار دینے کے لئے پورا زور لگایا جارہا ہے یہ قومی سیاست کا سب سے افسوسناک پہلو ہے حکومت سارا زور اور وقت اپوزیشن کے بارے میں سوچتے ہوئے گزار دیتی ہے وہ اگر حقیقی معنوں میں اپوزیشن کی تحریک کا زور توڑنا چاہتی ہے تو اسے اپنے ترجمانوں کی چرب زبانی پر انحصار ترک کرنا ہو گا اور عوام کے ریلیف کے لئے فوری اعلانات کرنا ہوں گے ، آٹا چینی دال سبزی دوائی سستی ہوجائے بجلی گیس کے بل کم ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام حکومت کو گرانے کی جلدی کریں اور اسے اپنی مدت بھی پوری نہ کرنے دیں شرط صرف یہ ہے کہ عوام کے ریلیف کی جانب توجہ دی جائے اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالنے کا بیانیہ آئندہ الیکشن میں کامیابی کا واحد ہتھیار نہیں ہو سکتا ، ادھرکراچی میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے ساتھ ہوٹل میں پیش آنے والے واقعہ بھی خبروں کی زینت بنا ہوا ہے جس میں مبینہ طور پر دونوں میاں بیوی کے کمرے کا دروازہ توڑ کر کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ، یہ عمل کسی بھی طرح پسندیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا ، مزار قائد کا تقدس اور اسکی توقیر سیاسی راہنمائوں کے کمروں میں گھس کر چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرنے سے نہیں بڑھ سکتی ، قائد اعظم محمد علی جناح ؒ سے عقیدت کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سب سے پہلے اپنے رویوںجمہوریت لائیں ، خود کو محب وطن اور دوسروں کو ملک دشمن قرار دے کر ان پر ایسے الزامات نہ دھریں کہ دنیامیں ہمارے ملک کا تماشا بن کر رہ جائے حکومت اور اپوزیشن راہنمائوں کو چاہئے کہ وہ تحمل صبر اور برداشت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، خاص طور پر حکومت کے لئے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن کی احتجاجی تحریک اور جلسوں کے جواب میں حکومتیں جلسے نہیں کیا کرتیں ، حکومتیں اپنی پرفارمنس سے مخالفین کو جواب دیتی اور انکا منہ بند کرتی ہیں حکومت کو چاہئے کہ عام آدمی کی مشکلات میں کمی لانے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے کیونکہ اسکی آدھی مدت گزر چکی آخری سال ویسے ہی الیکشن کی تیاریوں کا ہوتا ہے اس لئے کام کرنے کو زیادہ وقت نہیں بچا ہے مگر حکومت نے سوائے پریشانیوں اور مصائب بڑھانے کے عوام کو ابھی تک کچھ بھی نہیں دیا ۔ وزیر اعظم اور انکی کابینہ کا بیرون ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا چورن آخرکب تک بک سکتا ہے یقینی طور پر پی ٹی آئی کوآئندہ الیکشن کارکردگی کی بنیاد پر لڑنا پڑے گا ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: