Today's Columns

جہلم ! مرکزی قبرستان لمحہ فکریہ از ڈاکٹر تصور حسین مرزا ( پاک وطن )

فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا،اب ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ اس سے دنیا میں بے رغبتی اور آخرت کی یاد پیدا ہوتی ہے۔(ابن ماجہ،ج2، ص252،حدیث:1571)اس حدیثِ پاک کے تحت حضرت علامہ عبد الرؤف مَناوِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:جس شخص کا دل سخت ہوگیا ہو زیارتِ قبور اس کے لئے ایک عمدہ دوا ہے۔(فیض القدیر،ج5، ص71)
قبرستان میں حاضر ہوکر فاتحہ وغیرہ پڑھنا ایک ایسی نیکی ہے۔ جس کے لئے کوئی خاص مشقت نہیں اٹھانی پڑتی۔ دیگر مواقع کیعلاوہ شبِ برائت میں قبرستان جانا بھی سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ سے ثابت ہے (ترمذی،ج2، ص183، حدیث:739) یہ ایک اچھا عمل ہے لیکن اسے صرف شبِِ برائت تک محدود نہ کیاجائے بلکہ عام دنوں اور بالخصوص روزِ جمعہ قبرستان کی حاضری کواپنا معمول بنانا چاہیے۔ اِنْ شَآئَاللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکت سے دل گناہوں سے اچاٹ ہوگا اور فکرِ قبر و آخرت پیدا ہوگی۔
مدینے کے سلطان صلَّی اللہُ تعالیٰ عَلیہ واٰلہ وسلَّم کافرمانِ شَفاعَت نشان ہے: جو شخص قبرِستان میں جاکرسُورۃفاتِحہ،سورۃ اِخلاص اورسورۃتکاثُر پڑھے،پھر یہ کہے: اے اللہ!میں نے جو کچھ قراٰن پڑھا اس کا ثواب اِس قبرِستان کے مومِن مَردوں اور عورَتوں کو پہنچا تو وہ سب (قِیامت کے دن) اِس (ایصالِ ثواب کرنے والے) کی شفاعت کریں گے۔(شَرْحُ الصُّدُور، ص311)
سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مشکبار ہے: جوشخص ہر جُمُعَہ کو اپنے والدین یا ان میں سے ایک کی قبرکی زیارت کرے، اُس کی مغفرت کردی جائے گی اور اُسے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے والا لکھ دیا جائیگا۔ (شعب الایمان،ج6، ص201، حدیث:7901) ہر جُمُعَہ کے دن والدین کی قُبُورکی زیارت کیا کرے،اگر وہاں حاضری میسر نہ ( یعنی وہ اولادیں جو دور دراز یا بیرونِ ممالک ہوں ) ہوتوہرجُمُعَہ کوان کے لئے ایصالِ ثواب کیا کرے۔(مراٰۃ المناجیح،ج2،ص526)
جیسے جیسے آبادیوں میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ویسے اموات میں اضافہ ہونا قدرتی عمل ہے۔ اور آئے روز مردوں کو دفنانے کے لئے جگہ کی کمی ہر شہر ہرگاؤں میں ایک گھمبیر مسئلہ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بلخصوص شہروں میں قبرستان کی جگہ دیہاتوں کی نسبت تنگ ہیں ۔ جہاں کچھ اللہ کے بندے اللہ کی رضاء کے لئے قبرستانوں میں اپنی حثیت کے مطابق حصہ ڈالتے ہیں بعض ( شہروں دیہاتوں ) میں لوگ اپنی زمین بھی قبرستانوں کے لئے وقف کر رہے ہیں اور بعض حضرات دنیاوی آسائش و فوائد کے لئے قبرستانوں کی زمین پر ناجائز قابض ہیں۔
گزشتہ روز جہلم صدر جہلم کمیسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے صدر بھائی ڈاکٹرراجہ شہراز اکبراور بھائی راجہ شہبازکی والدہ محترمہ مرحومہ و مغفورہ کی نماز جنازہ مرکزی جنازہ گاہ میں ادا کرنے کے بعد تدفین کے لئے قبرستان گئے تو دیکھا ۔قبرستان میں چند ایک قبروں کی گنجائش ہی باقی ہے جو لمحہ فکریہ ہے !ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل محیرحضرات اور حکومتی و انتظامی زمہ دران قبرستانوں کی جانب فوری توجہ دیں تاکہ بروقت متبادل جگہ ( زمین ) کا مناسب انتظام ہو سکے ورنہ بہت دیر ہو جائے گئی۔
قبرستان کمیٹیوں کو زیادہ متحرک کیا جائے تاکہ نشہ کے عادی لوگ نشہ کے لئے قبرستانوں کا رُخ نہ کریں اور قبروں کی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ قبرستان میں خوبصورت پھول پودے اقوال زریں دعائیں قبرستانوں کو جازب نظر بنا سکیں ! دُعا ہے یااللہ قبرستانوں کے لئے جس جس نے بھی حصہ ڈالہ ہے اس کے لئے دنیا اور آخرت کی آسانیاں پیدا فرما آمین

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: