یوم سوگ /دہشت گردی

ہمارے ملک سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کا سب سے بڑا مسلئہ دہشت گردی ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑ ا یوں تو قیام پاکستان کے بعد سے دہشت گردی کی کاروائیاں ہوتی رہی ہیں مگر نائن الیون کے بعد پاکستان کا بچہ بچہ نہ صرف دہشت گردی کا مطلب جان گیا بلکہ آئے دن ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات بھی دیکھنا پڑے ملک کا شائد کوئی شہر بچا ہو جو دہشت گردی کا شکار نہ ہوا ہو امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی وار اگینسٹ ٹیرر کا خمیازہ پاکستان کے سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی بھگتنا پڑا جس کی بھاری قیمت اپنے جان و مال سے ادا کرنا پڑی وزیرستان ، سوات اور وانا میں ہونیوالے آپریشن کے دوران جہاں لاکھوں افراد کو بے سرو سامانی کے عالم میں گھروں سے بے گھر ہونا پڑا وہاں پاکستان کے بڑے شہروں میں سیکورٹی فورسز کے علاوہ شہری میں خود کش دھماکوں کا نشانہ بے خود کش دھماکوں سے مساجد اور ٖصوفیاء کرام کے مزارات بھی محفوظ نہ رہے اپنے آپ کو منوانے کیلئے غیر قانونی طریقہ اختیار کرنا اور حقوق انسانیت کو پا مال کرنے اور انسانیت کی تذلیل کرنے کا نام دہشت گردی ہے 70ء کی دہائی کے آخر میں امریکہ نے روس کے خلاف کاروائی کا منصوبہ بنایا اور پھر افغان جنگ چھڑ گئی جس کے نتیجے میں روس ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور افغانستان کے اندر کئی گروپ بن گئے اور مجاہدین کے نام سے مشہور ہوئے ، جب سیکنڈ ورلڈ وار ختم ہوئی تو کولڈ وار شروع ہو گئی روس اور امریکہ کے دو طاقتور گروپ کے ٹکرائو میں پاکستان فرنٹ لائن سٹیٹ پر تھا جب نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکہ امریکہ نے وار اگینسٹ ٹیرر کے نام پر افغانستان پر حملہ کر دیا تو مجاہدین کے یہی گروپ دہشت گرد بن کر پاکستان کو نشانہ بنانے لگے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید ہوئے یہ شدت پسند گروپ کئی گروپوں میں تقسیم ہو کر نا جانے پاکستان اور اس کی عوام سے کس بات کا انتقام لے رہے تھے یہ وہ دہشت گرد تھے جنہیں امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف لڑنے کیلئے تیار کیے تھا انہیں ہی پاکستان کے دشمن انڈیا نے سی آئی اے کی مدد سے پاکستان میں بد امنی پیدا کرنے کیلئے بھیج دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ دنیا کی پانچویں بڑی فوج رکھنے والا پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جو مضبوط ہو کئی دہاہیوں سے وطن عزیز دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جس سے ملک کے مختلف شہروں سے ہزاروں جانیں جا چکی ہیں 1995سے 2006تک پاکستان میں 21خود کشن حملے ہوئے جن کی تفصیل یہ ہے پاکستان میں پہلا خود کش دھماکہ 19نومبر1995اسلام آباد میں واقع مصری سفارت خانے میں ہوا جس میں 14افراد ہلاک ہوئے روسرا خود کش حملہ 6نومبر 2000کو کراچی کے ایک اخبار دفتر میں ہوا تیسرا 8مئی 2002کو کراچی کے ایک ہوٹل کے باہر ایک فرانسیسی انجینئر سمیت 17افراد ہلاک ہوئے 14جون 2002کو امریکی قونصلیٹ پر خود کش حملہ کے نتیجے میں 12افراد ہلاک ہوئے 4جولائی2003کو ئٹہ کی امام بارگاہ میں 3خود کش حملہ آوروں نے دھماکے کیے جن میں 54افراد ہلاک ہوئے 25دسمبر سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر راولپنڈی میں حملہ ہوا جس سے 15بے گناہ افراد ہلاک ہوئے 29جولائی 2004کو وزیر اعظم شوکت عزیز پر اٹک میں حملہ ہوا جس میں 7افراد ہلاک ہوئے یکم اکتوبر سیالکوٹ کی امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا جس میں 25افراد لقمہ اجل بن گئے 2005اسلام آباد درگاہ حضرت امام بری سرکار رحمتہ اللہ علیہ پر دھماکہ ہوا جس میں 28افراد ہلاک جان سے گئے 30مئی کراچی کی امام بارگاہ میں دھماکے میں 3افراد جان کی بازی ہار گئے 2006میں 9فروری ہنگو میں 10محرم الحرام کے جلوس میں حملے کے نتیجے میں 40افرادہلاک ہوئے 2007کے دوران ملک میں 29خود کش حملے ہوئے جن میں بینظیر بھٹو کو جام شہادت نوش کرنا پڑا18اکتوبر کو بینظر بھٹو قافلے کونشانہ بنایا گیا جس میں 139افراد جاں بحق ہوئے اسی سال 27دسمبر راولپنڈی میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید ہوئیں سال 2009اور 2010کو زیادہ تر سیکورٹی فورسز اداروں کے دفاتر دہشت دہشت گردی کا نشانہ ہے سال 2009میں پشاور کی ایک مارکیٹ میں دھماکے کے نتیجے میں 125افراد ہلاک ہوئے 7اور 9دسمبر کو لاہور میں ہونیوالے دھماکوں میں 66افراد ہلاک ہوئے 30مارچ کو لاہور میں ریسکیو15اور حساس اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا 6جون ریسکیو سنٹر اسلام آباد اور 30اگست کو مینگورہ کے پولیس ٹریننگ سنٹر میں دھماکہ ہوا یکم جنوری 2010بنوں سٹیڈیم میں 101افراد جان سے گئے 8اکتوبر کو کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ نوری رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر دھماکے میں 12افراد جان سے گئے 5نومبر درہ آدم خیل میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے میں 70افراد اللہ کو پیارے ہوئے سال2011ڈیرہ غازی خاں میں حضرت سخی سرور رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر دھماکے میں 50افراد لقمہ اجل بن گئے 13مئی چار سدہ پولیس ٹریننگ سنٹر میں 98افراد جان کی بازی ہار گئے 25اکتوبر دربار حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجشکر رحمتہ اللہ علیہ پاکپتن میں دھماکہ ہوا جس میں 4افراد اللہ کو پیارے ہو گئے 10جنوری 2013کو ئٹہ سنوکر کلب میں دھماکوں سے 92افراد ہلاک ہوئے 16فروری کوئٹہ کی ایک مارکیٹ میں 90افراد ہلاک ہوئے 22ستمبر پشاور کے ایک چرچ میں 82افراد ہلاک ہوئے 2014واہگہ باڈر پر خود کش دھماکے میں 55افراد جان بحق ہوئے 16دسمبر آرمی پبلک سکول میں خوفناک حملے میں 154افراد جن میں 132سکول کے طلبہ شہید ہوئے 13فروری 2017کو لاہور میں مال روڈ پر دو پولیس افسران سمیت 16افراد اللہ کو پیارے ہو گئے جن میں کپیٹن ریٹائڑڈ احمد مبین زیدی بھی تھے
16فروری 2017لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکے میں 75سے زائد افراد جاں بحق ہوئے 16فروری کو بلوچشتان کے شہر آواران میں ایک کیپٹن سمیت 3اہلکار شہید ہوئے 10جولائی 2018پشاور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ہارون بلوچ سمیت  20افراد 14جولائی ضلع مستونگ میںسابق وزیر اعلیٰ اسلم رئسانی کے بھائی سراج رئسانی سمیت 125سے زائد افراد جاں بحق ہوئے 4جنوری 2019بلوچستان کے شہر خضدار میں دستی بم دھماکے میں 3بچے جاں بحق ہوئے 17مارچ کو بلوچستان کے شہر نصیر آباد میں ریلوے ٹریک پر نصب بم پھٹنے سے ٹرین میں سوار 4افراد جاں بحق ہوئے 2رمضان المبارک دربار حضرت داتا گنج بخش ہجویری رحتہ اللہ علیہ پر دھماکے میں 10افراد اللہ کو پیارے ہو گئے پاک پروردگار تمام شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور سوگواران کو صبر عطا ء فرمائے ، دہشت گردی کے اس زمانے میں ہماری سیکورٹی فورسز اور پاک فوج کی لا زوال قربانیوں سے آج اللہ کا شکر ہے ہم آزادسکھ کا سانس لے رہے ہیں 25اکتوبر سال 2010کو دربار حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجشکر رحمتہ اللہ علیہ پر ہونیوالے دھماکے کی وجہ سے پاکپتن کے شہری اسے یوم سوگ کے طور پر یاد کرتے ہیں خدا وطن عزیز کو ہمیشہ شاد آباد رکھے اور اس کی حفاظت فرمائے ۔آمین
پاکستان زندہ بار پاکستان پائندہ باد

Leave a Reply

%d bloggers like this: