فرانسیسی صدر کا پاگل پن ، توہین رسالت، اسلام سے خائف بیمار ذہنوں کی کاررستانی ؟

فرانسیسی صدر میکرون نے نبی اکرمﷺ کے بارے بنے گستاخانہ اور توہین آمیز خاکے اور کارٹون شاہراؤں اور بڑی عمارات پر سرعام لگانے کا حکم دیا ہے ۔ فرانس نے چند مساجد کو بھی بند کر دیا ہے ۔ فرانس اس سے پہلے بھی پردے اور دیگر شعائر اسلام کے حوالے سے اسلام مخالف قانون سازی میں سبقت رکھتا ہے ۔ موجودہ صدر انتہائی متعصب ذہنیت رکھتے ہیں ۔ فرانس کی اس مزموم حرکت کے بعد دنیا بھر میں مسلمان احتجاج کر رہے ہیں ۔ ترکی نے فرانس سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے ، دیگر اسلامی ممالک میں بھی فرانسیسی پراڈکٹس کے بائیکاٹ اور سفیروں کو بے دخل کرنے کی مہم زور پکڑ رہی ہے ۔

ظلم ، ناانصافی اور توہین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا انسانی فطرت کا تقاضا ہے ۔ اور یہی احتجاج شدت پکڑ لیتا ہے کہ جب اس کا تعلق گہرے قلبی اور روحانی تعلق سے ہو۔ ۔ کچھ عرصہ قبل ڈنمارک، ناروے و دیگر یورپی ممالک کے اخبار میں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ہو یا فیس بک اور دیگر ویب سائٹس پر کارٹون مقابلوں کا اعلان ، عراق اور گوانتاناموبے میں قرآن پاک کی بے حرمتی ہو یا امریکی ملعون پادری ٹیری جونز کی جانب سے قرآن پاک کو جلانے کا واقعہ ، نبی محترم ﷺ کی ذات اقدس پر کوئی بھی حملہ ہو تو اس کے خلاف مسلم امہ سراپہ احتجاج رہی ہے ۔ امریکہ کے ایک یہودی کی بنائی گئی توہین آمیز فلم کے انٹر نیٹ پر جاری ہونے پر بھی دنیا بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے اور جلسے جلوس منعقد کیے گئے۔ مسلم ممالک میں امریکی فلم ڈائیریکٹر اور ملعون پادری ٹیری جونز کے خلاف کارروائی اور سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ۔ اور اب فرانس کی گستاخانہ اور انتہائی گھٹیا حرکت کے باعث ان واقعات پر ہر دل غمگین ہے ۔ چند روز قبل فرانس میں ہی ایک مسلمان لڑکے نے سکول میں بار بار نبی اکرم ﷺ کےتوہین آمیز خاکے دکھانے پر اپنے ٹیچر کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ ایسے واقعات جب جب ہوتے ہیں تو قرآن پاک اور صاحب قرآنﷺ سے محبت کرنیوالی ہر آنکھ فرط جذبات سے لبریز نظر آتی ہے ۔ مسلمانوں کی وحدت کو توڑنے، انہیں مایوسی کی دلدل میں دھکیلنے اور احساس کمتری میں مبتلا کر دینے کے لیے ہر دور میں کوششیں ہوتی رہی ہیں تاہم اسلام پسند قوتیں ہر دور میں ان سازشوں کا مقابلہ کرتی رہی ہیں ۔ عالمی مفادات کے تحت دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ تو پہلے سے ہی جاری تھا لیکن نائن الیون کے واقعے کے بعد شروع کی جانیوالی دہشت گردی کے خلاف جنگ نے اسلام کے خلاف حملوں کو مزید تیز کر دیا ہے ۔ صدر بش نے دو ہزار ایک میں افغانستان پر حملے کو کروسیڈ یعنی صلیبی جنگ کا نام دیا تھا اور آج یہ بات مزید واضح ہو چکی ہے کہ اس جنگ کا مقصد القاعدہ کو سزا دینے کی بجائے اسلامی نظریات کو مٹانا تھا۔ یہ جنگ اب مکمل طور پر مذہبی بن چکی ہے کیونکہ اس کے پیچھے ہرمجدون کا انتظار کرنیوالے انتہاپسند یہودی اور عیسائی قوتیں سرگرم ہیں ۔ مغربی قوتیں نہ صرف اربوں ڈالر کا اسلحہ و بارود استعمال کرکے لاکھوں مسلمانوں کا خون کر چکی ہیں بلکہ ساتھ ساتھ مسلمانوں کی ثقافت ، دینی روایات ، محبت رسول ﷺ ، قرآن سے تعلق غرض پوری معاشرت کو ہی تبدیل کر دینا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد اسلام ، نبی اکرم ﷺ اور قرآن پاک کے خلاف توہین آمیز اقدامات اٹھائے جاتے ہیں ۔ مسلم ممالک کی ثقافت کو تبدیل کرنے کے لئے نام نہاد این جی اوز کو بھاری فنڈز فراہم کئے گئے ہیں جو کہ آزادی نسواں ، ہم جنس پرستوں کے حقوق ، آزادی اظہار رائے ، فن و ثقافت کے نام پر مغربی کلچر کو فروغ دینے میں مصروف ہیں ۔ دوسری جانب مغربی ممالک کی پریشانی یہ ہے کہ بھرپور کوشش کے باوجود مسلمانوں کو ان کے دین سے دور نہیں کیا جا سکا ۔ ان کے دل سے قرآن کا پیغام اور نبی محترم ﷺ کی محبت نہیں نکالی جا سکی ۔مغرب کئی سو سال کی حاکمیت کے باجود اسلامی نظریے کو ختم نہیں کر سکا اور یہی وہ بنیادی وجہ کہ جس کے باعث آج مسلمان زیر عتاب ہیں اور نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس اور ہدایت کی کتاب کی توہین کرکے مسلمانوں کو اخلاقی پستی کی طرف دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے ۔

توہیں آمیز واقعات کی وجوہات کو سمجھنے کے بعد اب ہم مغربی ممالک میں پیش آنیوالے ان واقعات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کس طرح بعض شرپسند عناصر ایک منصوبہ بندی کے تحت اسلام ، نبی اکرم ﷺ اور قرآن پاک کی توہین کرکے دنیا بھر میں اسلام کے فروغ کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ ان واقعات کو ذکر کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مسلمان ان مزموم حرکتوں سے آگاہ رہیں اور ان شرپسند حلقوں کی پہچان ہو سکے کہ جو اسلام مخالف سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں ۔ جب ہم ان واقعات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ مغربی ممالک کے حکمرانوں سے لیکر مذہبی پیشواؤں تک ، عسکری حلقوں سے لیکر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں تک ، فنکاروں سے لیکر تدریس و ادب سے منسلک مصنفوں اور شعرا تک ہر ہر شعبے کے افراد میں اسلام کے خلاف بغض و عناد پایا جاتا ہے ۔ اسلام کی توہین کرنے والوں کو بھرپور تحفظ اور مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے ۔ نام نہاد آزادی اظہار کے نام پر ان کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ کچھ ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ جسے شہرت کی خواہش ہوتی ہے یا پھر بہت ساری دولت اکھٹی کرنے کا شوق تو وہ اسلام ، نبی اکرم ﷺ اور قرآن پاک کی توہین کرکے یہ مقاصد حاصل کر سکتا ہے ۔ حتی کہ مغربی دنیا تو مسلم ممالک میں اس قسم کی حرکتیں کرنیوالوں کو پناہ دینے میں بھی انتہائی جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ان گستاخوں کی حفاظت کی خاطر کروڑوں ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں ۔ سلمان رشدی ، تسلیمہ نسرین ، سمیت بے شمار گستاخان رسول مغربی ممالک میں میزبانی اور سرکاری پروٹوکول کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام ، قرآن پاک اور نبی اکرم ﷺ کی گستاخیوں کے واقعات تو ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں لیکن نائن الیون کے بعد ان میں نہ صرف تیزی آئی ہے بلکہ یہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت رونما ہو رہے ہیں ۔

اس لئے ہم سب سے پہلے نائن الیون کے بعد پیش آنیوالے واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہیں

امریکی چینل فاکس نیوز پر 18 سمتبر 2002 کو ایک جنونی مذہبی رہنما جیری فال فویل نے اسلام کے بارے میں انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی ۔ اس نے نبی اکرمﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں بھی ہتک آمیز الفاظ استعمال کئے ۔ اس نے واضح الفاظ میں نبی اکرم ﷺ کو نعوذ باللہ ’’ دہشت گرد ‘‘ قرار دیا۔ جیری فال ویل کے الفاظ اس قدر شرمناک اور گھٹیا تھے کہ برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا ن کو توہین آمیز قرار دینے پر مجبور ہو گئے ۔

اسی دوران امریکی ریاست ہوسٹن میں بالغان کے لئے مخصوصی ایک سینما گھر میں نبی اکرم ﷺ کی ازدواجی زندگی سے متعلق ایک توہین آمیز فلم کی نمائش کی ۔ اس فلم کی نمائش کا باقاعدہ طور پر اخبار ہیوسٹن پریس میں اشتہار بھی دیا گیا ۔ اس موقعے پر امریکی میں رہائش پذیر مسلمانوں نے بھرپور احتجاج کیا۔

2002جون میں ایران کے استاد نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا جس کو گرفتار کر لیا گیا اور نومبر کے مہنے میں اسے سزائے موت دے دی گئی ۔

14 دسمبر 2002ء کو روزنامہ امت نے اپنی رپورٹ میں ایک پاکستانی تاجر کے حوالے سے بتایا کہ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو اور دیگر شہریوں میں اییسے شرٹس اور کپڑے فروخت کئے جا رہے ہیں جن پر قرآنی آیات ، رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کے نام واضح طور پر پرنٹ تھے ۔

دسمبر 2002 میں نائیجیریا کے ایک اخبار دس ڈے نے مقابلہ حسن کے حوالے سے شائع ہونیوالے ایک مضمون میں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کئے۔ اس مضمون کی اشاعت پر نائیجیریا میں فسادات پھوٹ پڑے اور پرتشدد مظاہروں میں دو سو سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے ۔

2004 میں ہالینڈ کے فلمساز تھیون وان گو نے دس منٹ کی دستاویز فلم سب مشن تیار کی۔ اس میں بھی نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس، اسلام کے نظام عفت و عصمت کو تضیک و توہین کا نشانہ بنایا گیا۔ اس فلم ساز کو نومبر دو ہزار میں محمد بیوری نامی مسلمان نوجوان نے ایمسٹرڈم میں جہنم واصل کر دیا ۔

دو ہزار پانچ میں سویڈن کے شہر گوٹنبرگ کے میوزیم آف ورلڈ کلچر میں ایڈز کے حوالے سے منعقدہ نمائش میں قرآنی آیات پر مشتمل برہنہ پینٹنگ پیش کی گئی جس کو مسلمانوں کے شدید احتجاج کے بعد ہٹا دیا گیا۔

2005 میں ایک امریکی ٹی وی شو ’’ تھرٹی ڈیز ‘‘میں دو مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے خاکے پیش کئے گئے

اپریل دو ہزار پانچ میں سویڈن کے ایک فنکار رونر سوگارڈ نے ایک عوامی اجتماع میں نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں توہین آمیز لطیفے سنائے ۔

ستمبر 2005 میں ڈنمارک کے اخبار جیلنڈر پوسٹن نے نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں بارہ کارٹون شائع کئے ۔ اس پر دنیا بھر میں یہ خاکے ڈینیل پائیس نامی متعصب امریکی یہودی کے شرپسند، غلیظ ذہن کی اختراع تھے۔ اس کے بعد اب تک دو سالوں میں گاہے بگاہے یہ خاکے شائع ہوتے رہے۔دوسری بار فروری 2006 میں اور تیسری بار اگست 2007 میں شائع ہوئے۔ اس گھناؤنی سازش میں صرف ڈنمارک کے چند اَخبارات شریک نہیں بلکہ فرانس، جرمنی، ناروے، ہالینڈ اور اٹلی سمیت تمام امریکی ریاستوں کے ذرائع ابلاغ بھی برابر کے شریکتھے۔اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف اس بھیانک سازش میں گستاخانہ خاکوں کے علاوہ خانہ کعبہ اور دیگر اسلامی

اَحکام و شعائر کی توہین بھی کی گئی۔۔ ان خاکوں کی اشاعت کے دو بنیادی کردار ہیں:پہلا ڈینیل پائیس نامی امریکی عیسائی جو سابق صدر بش کے ساتھ گہرے سیاسی و تجارتی مراسم رکھتا تھا۔ دوسرا اہم کردار جیلانڈپوسٹن نامی اخبار(یہودی کلچر)کا ایڈیٹرفلیمنگ روز تھا۔ مسلمانوں کے خلاف یہ منظم سازش عیسائیوں اور یہودیوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ مجموعی طور پر اکیس بدبخت کارٹونسٹ اس مذموم حرکت کے لئے آمادہ ہوئے اور ان میں سے ویسٹرگارڈ نامی ملعون کارٹونسٹ نے توہین آمیز خاکے تیار کئے۔

فروری 2006 میں جرمنی کے ایک خبطی شخص مینفرڈ وین نے ٹوائلٹ پیپرز پر ’’ قرآن پاک ‘‘ پرنٹ کرکے ان کو مساجد اور میڈیا کو بھیجا۔ اس شخص کو گرفتار کرکے ایک سال کی سزا سنائی گئی۔

2007 جولائی میں سویڈن کے ایک شخص لارز ویلکس نے نبی اکرم ﷺ کی توہین آمیز پینٹنگ بنائی ۔ مسلمانوں کے احتجاج کے باعث اس کو گھر چھوڑنا پڑا ۔

ستمبر 2007 میں بنگہ دیش کے ایک اخبار میں نبی اکرم ﷺ کے خاکے شائع ہو ئے ۔ جس پر کارٹونسٹ کو گرفتار کر لیا گیا ۔

دسمبر 2007 میں عراق کے ایک کرد مصنف نے اپنی کتاب میں نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی ۔ اس نے نبی اکرم ﷺ اور حضرت علی ؓ کی توہین آمیز پینٹنگ بنائی ۔ اس نے ہالینڈ کے ایک میوزیم میں اس پینٹنگ کو نمائش کے لئے پیش کیا ۔ یہ شخص مسلمانوں کے احتجاج کے بعد نارروے فرار ہو گیا اور سیاسی پناہ حاصل کر لی ۔ عراقی عدالت نے اسے قید کی سزا سنائی تاہم ناروے میں روپوش ہونے کی وجہ سے یہ شخص ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکا ۔

فروری 2008 میں معروف ویب سائٹ وکی پیڈیا پر نبی اکرم ﷺ کے خاکے شائع کیے گئے جس پر دنیا بھر میں مسلمانوں نیاحتجاج کیا۔ ویب سائٹ انتظامیہ نے ان خاکوں کو ہٹانے سے انکار کر دیا اور یہ ابھی تک وکی پیڈیا پر موجود ہیں ۔

2008 میں ہی ہالینڈ کے فلم ساز گریٹ ویلڈرز کی بنائی گئی متنازعہ اور توہین آمیز فلم فتنہ سامنے آئی ۔ اس فلم میں اسلامی قوانین اور نبی اکرم ﷺ کی تضحیک کی گئی تھی ۔ قرآنی آیات کو برہنہ فنکارہ کے جسم پر لکھا گیا۔

مئی 2008 میں ہالینڈ کے ایک کارٹونسٹ نے نبی اکرم ﷺ کے خاکے بنا کر اپنی ویب سائٹ پر لگا دئیے ۔ اس کارٹونسٹ کو پولیس نے ڈھونڈ کر گرفتار کر لیا اور عدالت کے حکم پر اس نے توہین آمیز خاکے اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دئیے ۔

2010 میں نیو یارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں نبی اکرم ﷺ کے خاکوں پر مشتمل پینٹنگز رکھی گئی تاہم مسلمانوں کے احتجاج اور شدید ردعمل کے خوف سے ان کو نمائش کے بغیر ہی ہٹا دیا گیا ۔۔

20 مئی 2010 کو شرپسند عناصر کی جانب سے فیس بک اور سوشل میڈیا کی دیگر ویب سائٹس پر اشتہار دئیے گئے جن میں ہر ایک کو نبی اکرم ﷺ کے خاکے بنانے کی دعوت دی گئی ۔ اس اقدام کے خلاف مسلم دنیا میں شدید اشتعال پیدا ہوا اور کئی ممالک کی جانب سے فیس بک اور دیگر ویب سائٹس کو بند کر دیا گیا ۔

نومبر 2010 میں فرانس کے ایک ہفت روزہ میگزین چارلی ہیبڈو نے نبی اکرم ﷺ کے گستاخانہ خاکوں پر مشتمل خصوصی ایڈیشن شائع

کرنے کا اعلان کیا ۔ میگزین نے ٹائٹل کو انٹرنیٹ پر شئیر بھی کر دیا ۔ اس اشتعال انگیز اقدام کے بعد مسلم ہیکرز نے اس میگزین کی ویب سائٹ ہیک کر لی اور اس کے دفتر پر بھی فائر بم کے ذریعے حملہ کیا گیا۔

ستمبر 2012 میں ہالی وڈ میں پیغبر اسلام ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں توہین آمیز فلم ریلیز کی گئی ۔ اس فلم کو جون کے آخر میں ایک چھوٹے سینما گھر میں دیکھایا گیا۔ ایک فرضی نام سیم رسائل نے اس کی ڈائریکشن دی جس کو بعد میں نیکولا بیسلی نیکولا کے نام سے شناخت کر لیا گیا ۔ یہ شخص اسرائیلی نژاد یہودی ہے ۔ اس نے نبی محترم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مشتمل فلم بنانے کے لئے پچاس ملین ڈالر چندہ جمع کیا ۔ امیر یہودیوں نے اس مزموم حرکت کے لئے دل کھول کر اس کو عطیات دئیے ۔ اس کا ساتھی مورس صادق نامی ایک مصری نژاد امریکی شہری ہے ۔ یہ شخص قبطی عیسائی ہے ۔ ان دونوں کو امریکہ کے بدنام زمانہ پادری ٹیری جونز کی پشت پناہی بھی حاصل تھی ۔

نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی بے حرمتی کا سلسلہ بھی نائن الیون کے بعد تیز ہو گیا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں قرآن پاک کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ۔ بعض مغربی شرپسند سکالرز نے یہ شوشہ چھوڑا کہ مسلمانوں کے اندر جذبہ جہاد کی بیداری اور اسلام سے محبت کو کم کرنے کے لئے قرآن مجید کی توہین کی جائے اور اس کی تعلیمات کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے ۔ اسی فلسفہ پر عمل کرتے ہوئے امریکی فوجیوں اور بنیاد پرست عیسائی اور یہودی حلقوں کی جانب سے قرآن پاک کی توہین کی گئی ۔

قرآن پاک کی بے حرمتی کا ایک بڑا سکینڈل امریکہ کے بدنام زمانہ حراستی مرکز گوانتاناموبے میں سامنے آیا ۔ مسلمان قیدیوں نے انکشاف کیا کہ قرآن پاک کے اوراق کو ٹوائلٹ پیپر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ جبکہ امریکی فوجی جان بوجھ کر قرآن پاک کو ٹھوکر مارتے ہیں ۔ اس مذموم حرکت کا مقصد مسلمان قیدیوں کے اندر اشتعال پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ اس حوالے سے متعدد تصاویر بھی سامنے آئیں ۔ امریکہ کے معروف رسالے نیوزویک نے اپنی ایک رپورٹ میں گوانتاناموبے میں قرآن پاک اور مسلمان قیدیوں کے ساتھ توہین آمیز رویے کی تصدیق کی ۔

امریکہ میں قرآن پاک کی توہین اور بے حرمتی کا سب سے بڑا واقعہ ملعون پادری ٹیری جونز کی جانب سے قرآن پاک جلانے کا اعلان تھا ۔ اس نے 2010 میں نائن الیون کی برسی کے موقعے پر فلوریڈا کے ایک چرچ میں قرآن پاک نذر آتش کرنے کا اعلان کیا ۔ ٹیری جونز اس سال عالم اسلام کے شدید ردعمل اور امریکی حکومت کے دباء کے باعث اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکا تاہم اس نے اپنا منصوبہ ترک نہ کیا اور اگلے سال 20مارچ 2011 کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قرآن پاک کو نذر آتش کر دیا ۔

رواں سال افغانستان میں امریکی فوجیوں کی جانب سے بلگرام ائیر بیس پر قرآن پاک کے سینکڑوں نسخے جلانے کا واقعہ پیش آیا ۔ اس کے خلاف فوری طور پر افغانستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے ۔ ان پرتشدد ہنگاموں میں تیس سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور چھ امریکی فوجیوں کو بھی قتل کر دیا گیا۔ امریکی صدر باراک اوبامہ نے ذاتی طور پر اس واقعے پر معافی مانگی ۔

یہ سب واقعات وہ ہیں کہ جو نائن الیون کے بعد پیش آئے ۔ جبکہ نائن الیون سے پہلے بھی کئی بار ایسی مزموم حرکتیں کی گئیں ۔امریکہ کی سپریم کورٹ بلڈنگ میں نبی اکرم ﷺ کی خیالی تصویر 1935 میں بنائی گئی تھی جس میں ان کے ایک ہاتھ میں قرآن پاک اور دوسرے ہاتھ میں تلوار پکڑائی گئی ہے ۔ یہ تصویر ابھی تک موجود ہے ۔ اس سے امریکیوں کے نبی محترم کی ذات اقدس کے بارے میں خبث باطن کا اظہار ہوتا ہے۔۔اسی طرح اگست 1925 میں لندن کے ایک اخبار میں نبی اکرم ﷺ کا خاکہ بنایا گیا تھا۔

1989 میں بدنام زمانہ بھارتی مصنف سلمان رشدی نبی اکرم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز کتاب لکھی۔ سلمان رشدی کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے ۔ سلمان رشدی لندن فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جہاں وہ ابھی تک برطانوی سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہے ۔ عالم اسلام کے کئی علمائے کرام نے سلمان رشدی کو قتل کرنے کا فتوی جاری کر رکھا ہے جب کہ اس کے سر کی تیس لاکھ ڈالر قیمت بھی مقرر ہے ۔

1994 میں بنگہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے قرآن پاک اور نبی اکرم ﷺ کے ذات اقدس کے بارے میں توہین آمیز کتاب لکھی

1997 میں نبی اکرم ﷺ کا خیالی مجسمہ نیویارک کی ایک عدالت میں نصب کیا گیا تھا جس کو اسلامی ممالک کے سفیروں کے احتجاج کے بعد ہٹا دیا گیا۔

1998 میں ایک پاکستانی غلام اکبر کو نبی اکرم ﷺ کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر سزائے موت سنائی گئی ۔۔

1999 میں ایک جرمن میگزین ’’ ڈر سپائیجل ‘‘ میں نبی اکرم ﷺ کا خاکہ پیش کیا گیا

2001 میں اسی میگزین نے دوبارہ نے بھی اسی خاکے کو پیش کیا۔

2001 میں امریکی فاکس ٹی وی کے پروگرام ساؤتھ پارک کی ایک قسط میں نبی اکرم ﷺ کا خاکہ پیش کیا گیا تاہم مسلمانوں کے احتجاج کے بعد اس کے باقی ماندہ اقساط سے اسکو ہٹا دیا گیا۔

روزنامہ نوائے وقت 10 جنوری 2001 میں امریکہ میں مسلمانوں کے احتجاج کی رپورٹ پیش کی گئی جو کہ امریکی کمپنی لزکلیبون ان کارپوریٹڈ کی جانب سے قرآنی آیات والی پتلونیں بنانے سے متعلق تھا ۔ کمپنی ترجمان کے مطابق یہ ڈیزائن بیت المقدس کے گنبد سے لیا گیا تھا جس کو پتلون کی عقبی جیب پر چھاپا گیا

9ستمبر 2001 امریکہ میں شائع شدہ کتاب ویسٹرن سویلائزیشن کو ایشیا بک فاؤنڈیشن نے پاکستانی یونیورسٹریز کی لائبریریوں کو بطور تحفہ ارسال کیا جس میں نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کی تصاویر بھی تھیں ۔ ایک تصویر میں نبی اکرم ﷺ کی ایک عیسائی راہب سے ملاقات بھی دیکھائی گئی ۔

2001 میں امریکی ٹائم میگزین نے ایک تصویر شائع کی جس میں پیغبر اسلام کو حضرت جبریل کا انتظار کرتے دیکھایا گیا۔ مسلمانوں کے شدید احتجاج پر میگزین نے اپنی اس مذموم حرکت پر معافی بھی مانگی ۔

توہین رسالت ﷺاور قرآن پاک کی بے حرمتی کے ان واقعات کے باعث ہر مسلمان کا دل غمگین ہے ، ہر کوئی سراپہ احتجاج ہے ، دنیا بھر میں پرتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں اور ناموس رسالت پر مر مٹنے کا جذبہ ہر دل میں موجزن دیکھائی دیتا ہے ۔ ان حالات میں نبی اکرم ﷺ سے محبت کرنیوالوں کی ذمہ بڑھ جاتی ہے ۔ مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ عالمی سطح پر انبیائے کرام اور مقدس کتابوں کی توہین کے واقعات کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی جائے ۔ ایسی حرکتیں کرنیوالے شرپسند عناصر عالمی امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اس لئے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کریں ۔ دوسری جانب مسلمانوں کو چاہیے کہ پرجوش مظاہروں اور محبت رسول ﷺ کے نعروں کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت پر سختی سے عمل پیرا ہونے کا عملی مظاہرہ بھی کریں ۔ کفار کی سازشوں کا بہترین جواب یہ بھی ہے کہ مسلمان سنتوں کے فروغ اور نبی اکرم ﷺ کی سچی تعلیمات دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں ۔ اگر مسلمانوں کے جذبہ ایمانی ، نبی محترم ﷺ اور قرآن پاک سے ان کی محبت عملی اظہار شروع ہو گیا تو یقینا بہت جلد اسلام کو عروج ملے گا اور دنیا اس سچے اور آفاقی دین کی برکات سے مستفید ہو گی ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: