M Sarwar Siddiqui Today's Columns

میرے عہد کے لوگ، اداکارہ طلعت صدیقی از ایم سرور صدیقی ( جمہور کی آواز )

M Sarwar Siddiqui
Written by M Sarwar Siddiqui

فلم ٹی وی کی سینئر اداکارہ طلعت صدیقی لاہور میں انتقال کر گئیں۔ 82 سالہ طلعت صدیقی کافی عرصے سے علیل تھیں۔ انہوں نے 30 سال قبل فلم انڈسٹری کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ طلعت صدیقی معروف اداکارہ عارفہ صدیقی کی والدہ اور معروف گلوکارہ خدیجہ پرویز کی خالہ تھیں۔ ان کی دوسری بیٹی ناہید صدیقی ایک نامور کتھک ڈانسر اور ضیا محی الدین کی اہلیہہیں ماضی کی نامور اداکارہ نے کئی سپرہٹ فلموں میں صلاحیتوں کے جوہر دکھائے وہ پاکستانی فلموں کے سنہرے دور کی ایک ناقابل فراموش اداکارہ تھیں جو اپنی پروقار شخصیت، دھیمے لہجے اور مخصوص آواز کے لئے اپنی ایک الگ پہچان رکھتی تھیں انہیں سچوئیشن کے مطابق چہرے کے تاثرات اور ڈائیلاگ ڈیلیوری میں کمال حاصل تھا یہی وجہ ہے کہ ان کی اداکاری پر حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔ طلعت صدیقی نے اپنے کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کراچی سے کیا تھا۔ ان کی پہلی فلم ’’ہمیں بھی جینے دو‘‘(1963) تھی جس میں وہ بطور گلوکارہ متعارف ہوئیں۔ جبکہ بطور اداکارہ پہلی فلم ’’میخانہ‘‘(1964) میں ریلیزہوئی۔ طلعت صدیقی نے 70 کے قریب فلموں میں کام کیا لیکن کسی فلم میں وہ روایتی ہیروئن کے طور پر نظر نہیں آئیں۔ مرحومہ طلعت صدیقی کی دو بیٹیاں ہیں جنہوں نے شوبزکی دنیا میں بہت نام کمایا بڑی بیٹی ناہید صدیقی، ایک نامور کتھک ڈانسر اور ضیاء محی الدین کی اہلیہ ہیںجبکہ دوسری بیٹی عارفہ صدیقی، بطور گلوکارہ اور اداکارہ ٹی وی سے فلم تک آئیں لیکن زیادہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ انہوں نے اپنے سے دگنی عمر کے نامور موسیقار نذر حسین سے شادی کی تھی۔ اداکارہ طلعت صدیقی کی ایک بہن ریحانہ صدیقی بھی کئی فلموں میں معاون اداکارہ کے طور پر نظر آچکی ہیں فلم ہمدم میں ، ریحانہ ہیروئن تھیں جبکہ اس فلم میں طلعت صدیقی نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کی بیٹی ، عارفہ صدیقی کو اپنی والدہ کی ایک خوبصورت آواز اور اچھی خصوصیات ملی ۔یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ طلعت صدیقی کا اصل نام ادیبہ نذیر تھا۔ وہ 1939 ء میں بھارتی پنجاب کے صدر مقام شملہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد نذیر احمد سرکاری ملازم تھے۔ ادیبہ نے امتیازی نمبروںکے ساتھFAکاامتحان پاس کیا ان کے والد دمہ کے دائمی مریض تھے جس کی وجہ سے اس کی شادی 15 سال کی عمر میں ہی اس کے والد کے ایک قریبی دوست بشیر احمد صدیقی کے ساتھ کردی گئی 1945 ء میں ادیبہ نذیر کے شوہر کراچی شفٹ ہونے کافیصلہ کیا اس دوران تحریک ِپاکستان کی موومنٹ کے نتیجہ میں ہندوستان کے سیاسی حالات خراب ہوتے گئے اسی دوران ادیبہ نذیر کے شوہربشیر احمدصدیقی ایک عدالتی مقدمے میں ملوث ہوگئے اور انہیں کئی سال قید کی سزاسنادی گئی اب بچوں کی دیکھ بھال کرنے اور گھر کا حصول برقرار رکھنے کے لئے کسی نے ادیبہ نذیر کو ریڈیو جوائن کرنے کا مشورہ دیدیا چنانچہ اس نے ریڈیو پاکستان میں آڈیشن دیا اور اور اپنی شناخت چھپانے کے لئے وہ ادیبہ نذیر سے طلعت صدیقی بن گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک خوبصورت آواز اور دلکش شخصیت سے نوازا تھا طلعت صدیقی کو گانے گانے کا پہلے ہی شوق تھا اوپرسے کچھ گانے ہٹ ہوگئے کچن کے مسائل بھی لگے ، تو انہوںنے ریڈیو ڈرامے بھی کئے ، جو بہت مشہور ہوئے۔ 1965 میں فلم عشق ِحبیب کو ریلیزکیا گیاطلعت صدیقی کی کسی فلم میں یہ پہلی انٹری تھی اس میں ان کا ایک چھوٹا سا کردار تھا جس میں ان کے ناقابل یقین شوہر کی وفادار اور متقی بیوی کے کردارکو بے حدسراہا گیا شوہرکا کردار ابراہیم نفیس نے ادا کیا تھا۔طلعت صدیقی نے اس فلم میں ایک وفاشعار بیوی کے روپ میں اپنی قربانیوں اور مستقل دعاؤں اور ثابت قدمی کی طاقت سے آخر کار بگڑے ہوئے اپنے شوہر کو راہ ِراست میں لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ اس فلم میں غلام فرید مقبول صابری کی سپر ہٹ قوالی بھر دے جولی میری یا محمد ﷺ نے دھوم مچادی ۔ جمیل مرزا کی فلم میرے بچے میری آنکھیں میں طلعت صدیقی نے بوڑھی عورت کے کردار ادا کرکے سامعین کو چونکا دیا۔جب لاہور ثقافتی سرگرمیوںکا مرکزبنا تو وہ لاہورمیں شفٹ ہوگئیں یہاں درجنوں پی ٹی وی ڈراموں میں انہوں نے بے شما ر لازوال کردار ادا کرکے اپنا سکہ بٹھادیا اس سے ان کی صلاحیتیں نکھرکرسامنے آئیں ۔طلعت صدیقی نے بہت سے فلموں میں بھی کام کیا جن میں پھر صبح ہوگی ، خون دا بدلہ خون ، حیدر سلطان، دلنشیں،کالیا ، حکمت ، امرأو جان ادا ، لوری ، بندگی ، پروفیسر ، کون کسی کا ، اور بھائی بہن شامل ہیں۔ انہوں نے کچھ فلموں میں گانے بھی گائے۔ بندگی اور کون کسی کا ان کے کرداروں کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا ، جو واقعتا انتہائی شاندار تھے۔ ایک بار پھر ، لوری میں سنتوش کمار کی پہلی بیوی کے ایک اہم کردار میں ، اس نے بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ لاڈلا کی ہمیشہ پیار کرنے والی والدہ بھی اپنی چمک کبھی نہیں کھو سکتی ہیں۔ اسی طرح ، بہت سے لوگ امرائوجان ادا میں ان کے تاریخی کردار کو فراموش نہیں کرسکتے ہیں ، جو ابھی تک سینما جانے والوں کی یادوں میں جکڑا ہوا ہے۔کریکٹر آرٹسٹ کسی بھی فلم انڈسٹری کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ برصغیر میں رومانوی فلموں کا جنون پایا جاتا ہے ، ہیرو اور ہیروئین کے علاوہ عام طور پر کسی کرکٹر ایکٹر کو ان کے ہم پلہ نہیں سمجھا جاتا ہے ، بلکہ الٹا ان کردارنگار فنکاروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں کریکٹرایکٹر کے فنکاروں نے اسکرین پر راج کیا ، جب شہید کے ہیرو اعجاز کی بجائے طالش کو تمام تعریفیں مل گئیں ، ہیررانجھا میں اجمل کا کردار کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا غلامی میں ادیب اور کرتارسنگھ میں علائوالدین کی کمال اداکاری اس کی بہترین مثالیں ہیں ا ۔ طلعت صدیقی بھی اسی طرح کے ایک اور فن کار تھیں جنہوں نے 1960 کی دہائی میں اسکرین پر راج کیا تھا۔ طلعت صدیقی یقینا نئے فنکاروںکے لئے ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتی تھیں اللہ پاک ان کی مغفرت فرما کر ان کو جوارِ رحمت میں جگہ عطافرمائے(آمین)

About the author

M Sarwar Siddiqui

M Sarwar Siddiqui

Leave a Comment

%d bloggers like this: