ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ اور سیالکوٹ کی تاریخ

0 27

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

عظیم اِنسان روز روز پید ا نہیں ہوتے ، مادرِ گیتی انہیں روز روز جنم نہیں دیتی ، حیات کو ممات کے لاکھوں نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، حیات کو مَر مَر کے جئیے جانے کا راگ الاپنا پڑتا ہے ، تب جاکر خاک کے پردہ ہائے نہانی سے کوئی ایسا شخص وجود میں آتا ہے جو نہ صرف عظمت کے معیار پر پورا اُترتا ہے بلکہ ایسے انسان پوری قوم کو حیات ِدوام عطا کرتے ہیں ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ بھی ایسی ہی چند روز نا بابغئہ روز گار ہستیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے ملت اسلامیہ کی ڈگمگاتی نائو کو سنبھالا آپ 9نومبر 1877کو پاکستان کے مشہور شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ، تاریخی اعتبار سے سیالکوٹ بر اعظم ایشاء میں بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے ، یہ شہر نہ صرف صوبہ پنجاب کا بڑا شہر ہے بلکہ پاکستان کا تیرھواں بڑا شہر ہے کشمیرہیل کی اوٹ میں دریائے چناب کے کنارے تقریباََ40لاکھ نفوس پر مشتمل یہ شہر لاہور سے 125کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جسکی چار تحصیلیں ، ڈسکہ سمڑیال ، پسرور اور خود سیالکوٹ ہے صنعتی اعتبار سے اس کی مصنوعات دنیا بھر میں بر آمد کی جاتی ہیں جن میں سرجیکل سامان ، کپڑا ، کھلیوں کا سامان ، چمڑا اور موسیقی کے آلات وغیرہ شامل ہیں 3016مربع کلو میٹر پر محیط 7ٹائونز اور 2348دیہات پر مشتمل ہے جسے چار ہزار سال قبل راجہ سیل نے آباد کر کے اس کا نام سیلکوٹ رکھا جو بعد میں تبدیل کر کے سیالکوٹ کر دیا گیا ، پرانے زمانے میں اسے مہاتمائوں کی سر زمین بھی کہا جاتا تھا ، بوسیدہ کھنڈر ، سلاطین کے مزارات ، قدیم قلعہ اور گلیاں ، نو آبادیاتی دور کے چرچ پرانے نقش و نگار سے آراستہ عمارتیں اس کی گزشتہ بڑائی کے افسانے سناتی ہیں ، انقلابات اور بے درد زمانے کی بہت سی داستانیں اس شہر کے سینے میں دفن ہیں اس کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف ادوار میں ہندوئوں ، سِکھوں ، فارسیوں ، افغانیوں اور تُرکوں نے بڑی تعداد میں اس شہر کی طرف ہجرت کی ، مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد 18ویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے 40سال تک اِس پر اپنا مُسلط قائم رکھا 3سو سال قبل دریائے راوی اور ستلج میں زبردست طغیانی آنے کی وجہ سے یہ شہر اور اس کے گرد و نواح کے علاقے صفحہ ہستی سے مِٹ گئے جسے بعد میں مغل شہنشاہ شاہجہان کے دور میں دوبارہ آباد کر کے دُنیا کے نقشے پر لایا گیا ، تعمیر و ترقی ہوئی تیرہ باغ او ربارہ دریاں بنیں پھر سکھوں نے قبضہ کر لیا اور پھر انگریزوں نے اس پر پنجے جما لیے ، 1849ء میں مہاراجہ دلیپ سنگھ کو معزول کر دیا گیا اس پر قبضہ کر کے 1857ء میں پہلا مارشل لاء نافذ کر دیا گیا جس کے نتیجے میں جہلم اور راولپنڈی کے مسلم فوجیوں نے بغاوت کر کے توپوں کا رُخ انگریز چھائونیوں کی طرف کر دیا ، تقریباََ 3ماہ کے قریب انگریز سامراج مارشل لاء اُٹھانے پر مجبور ہو گیا ، اِس ذرخیز زمین پر بڑی بڑی نا مور شخصیات نے جنم لیا جن میں عظیم مفکرِ اسلام قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے علاوہ فیض احمد فیض ، امجد اسلام امجد ، وحید مراد، عمیرہ احمد، کرکٹر شعیب ملک ، استاد غلام علی خان ، کرکٹر ظہیر عباس، بھارتی فلم سٹار دیوان ، کالم نگار صحافی حامد میر ، خالدحسن، کلدیپ نائر، پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ کے خالق پروفیسر اصغر سوادی، راجندر سنگھ بیدی ، گلزار لال نندا جوبھارتی وزیر اعظم بھی رہے ، راجندر کمار، دیو آنند ، استاد اللہ رکھا، اعجاز بٹ ، شہناز شیخ اور منظور جونئیر وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں ، تاریخ پاکستان میں سیالکوٹ کا بہت بڑا کردار ہے اور پاکستان کا نظریہ پیش کرنیوالا ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ بھی اس دھرتی کا سپوت تھا ، 1944میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان بنانے کی تحریک جب عروج پر تھی تو تاریخی سیالکوٹ کنونشن تالاب شیخ مورہ بخش میں خطاب کیا جس میں ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان بھی موجود تھے ، 1965ء کی جنگ میں بھارت نے جموں کی طرف سے سیالکوٹ پر حملہ کر دیا ، سیالکوٹیوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے جسموں پر بمب باندھ کر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ٹینکوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے اور چونڈہ کے مقام پر بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا ، جنگ عظیم دوئم کے بعد دوسری بڑی جنگ اس محاظ پر لڑی گئی ، اب آتا ہوں اپنے ابتدائی موضوع کی طرف ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ کے والد محترم شیخ نور محمد کشمیری تھے جو بعد میں سیالکوٹ میں رہائش پذیر ہوئے ، آپ نے ابتدائی تعلیم ایک دینی مدرسہ میں حاصل کی میٹرک پاس کر کے مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کے بعد بی اے اور ایم اے گورنمنٹ کالج لاہور سے امتیازی حیثیت سے پاس کیا اور پنجاب بھر میں اول پوزیشن حاصل کی ، دینی تعلیم مولوی میر حسن جیسے فاضل استاد سے حاصل کی ، آپ پہلے اورینٹل کالج اور بعد میں لاہور میں گورنمنٹ کالج میں بطور پروفیسر رہے ، 1905میں آپ قانون کی ڈگری حاصل کرنے کیلئے تین سال کی رخصت لے کر انگلستان چلے گئے اور وہاں سے بیرسٹر بن کو واپس آئے ، تحریک پاکستان میں آپ نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ مل کر اپنی ساری زندگی ملک و قوم پر وقف کر دی ، آپ نے جرمنی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ، شاعری کے ذریعے اپنی سوئی ہوئی قوم کو جگایا آپ طالب علمی کے زمانے سے ہی شاعر تھے آپ کے بارے میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا کہ “اقبال”نے آپ کے سامنے واضح اور صیحح راستہ رکھ دیا ہے جس سے بہتر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہو سکتا ، دور حاضر میں اسلام کے بہترین شارح تھے ، کیونکہ اس زمانے میں اقبالؒ سے بہتر اسلام کو کسی نے نہیں سمجھا ، مجھے اس کا فخر حاصل ہے کہ مجھے آپ کی قیادت میں ایک سپاہی کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا ، میں نے اس سے زیادہ وفا دار ، رفیق اور اسلام کا شیدائی نہیں دیکھا”آپ کی مشہور تصانیف ۔ بانگِ درا، بال ِجبریل ، ضربِ کلیم ، جاوید نامہ ، زبور عجم وغیرہ ہیں “، آپ نے 21اپریل 1938ء کو اپنی جان آفرین کے سپرد کی ، انا للہ و انا الیہ راجعون ، خدا مغفرت فرمائے ، بڑا عجب آزاد مرد تھا ، آپ کی آخری آرام گاہ بادشاہی مسجد لاہور کے سامنے ہے ۔
ڈھونڈو گے ہمیں مُلکوں مُلکوں
مِلنے کے نہیں نا یاب ہیں ہم

Leave a Reply

%d bloggers like this: