مسیحا کی منتظر پاکستانی عوام

غیر ملکی قرضوں میں دبے ، مسائل میں گھرے ملک میں جولائی 2018 میں پاکستان تحریک انصاف تبدیلی کا نعرہ لگاکر اقتدار میں آئی تو عوام نے کپتان سے امیدیں وابستہ کر لیں تھیں کہ ہنگامی بنیادوں پر ملک میں تبدیلی آئے گی، مہنگائی، بیروزگاری ختم ہو جائے گی، عوام کو درپیش مسائل حل ہونگے، ملک ترقی کی نئی راہ پر گامزن ہو کر مستحکم ہو گا۔ انتخابی مہم کے دوران کیے گئے اعلان کے مطابق کپتان ملک کو ترقی کی نئی منزل کی طرف لے جائیں گے، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر ممالک سے قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی، سابقہ حکومتوں کے دور میں لئے گئے قرضے اتار کر کشکول سے چھٹکارا مل جائے گا۔ پاکستان جو اس وقت گھمبیر مسائل کا شکار ہے کپتان اور اس کے کھلاڑی ملک کو گردابی صورتحال سے نکال کر ترقی کے ٹریک پر چڑھا دیں گے، کپتان نے اقتدار سنبھالتے ہی عوام کو 100 دن کا ٹائم فریم دے کر سہانا خواب دکھایا، اسی دوران اسلامی ترقیاتی بینک، ترکی، چین، ملائشیائ، سعودی عرب اور دیگر کئی ممالک نے پاکستان کے کپتان کو اس حوالے سے تعاون کرنے کی بھرپور یقین دہانی کرائی تو عوام کی کپتان سے امیدیں اور بھی بڑھ گئیں، توقع کی جانے لگی کہ اب پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے، آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔ اپنے منشور کے مطابق حکومت اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے سادگی، کفایت شعاری کی پالیسی کو اپنائے گی اور عوام سے بھی اس پر سختی سے عملدرآمد کرائے گی، اس طرح ملک سے کرپشن، منی لانڈرنگ، ذخیرہ اندوزی، منافع خوری، رشوت سمیت دیگر برائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا، پی ٹی آئی کو ملنے والے مینڈیٹ جس کے نتیجہ میں وفاق، پنجاب، کے پی کے میں پی ٹی آئی اور بلوچستان میں ان کے اتحادیوں کی مخلوط حکومت بنی، جس کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور اس کا براہ راست فائدہ عام آدمی تک پہنچے گا۔ کپتان نے بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے ایک کروڑ نوکریاں، بے گھر افراد کیلئے50 ہزار گھر، ایک ارب درخت لگانے اور اسی نوعیت کی دیگر خوش خبریاں سنائیں، تو عوام کی امیدیں حکومت سے اور بھی زیادہ ہو گئیں، خیال کیا جانے لگا کہ پاکستان طلسماتی طور پر دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کے نئے دور میں داخل ہو کر یورپ کی طرز کا ایک خوبصورت ملک بن جائے گا۔ ملک بھر میں موٹر وے کی طرز پر سڑکوں کا جال بچھ جائے گا، ہر طرف ہریالی اور پیسے کی ریل پیل ہو گی، اور پاکستان دنیا کا مثالی ملک بن جائے گا۔ ہماری عوام دوسرے ملکوں میں جانے کی بجائے دوسرے ملکوں کے لوگ پاکستان میں محنت مزدوری کے لئے آئیں گے؟
پی ٹی آئی کی حکومت کو 24 ماہ گزر چکے ہیں، وفاق، پنجاب، کے پی کے کے ایوانوں میں پی ٹی آئی کو عددی برتری حاصل ہے، بلوچستان میں وہ مخلوط حکومت میں شامل ہے، اس کے باوجود زمینی حقائق چیخ چیخ کر اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ موجودہ حکومت عوام سے کیا گیا کوئی وعدہ پورا نہیں کر پا رہی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے کے باعث بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، گھی، آٹا ، چینی، سبزی، دالیں، فروٹ اور ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء کی قیمتیں مافیا ز کے مرہون منت ہو کر رہ گئی ہیں، ملکی تاریخ میں پہلی بار ادویات کی قیمتوں میں 292 فیصد تک اضافہ چیخ چیخ کر واویلا کر رہا ہے کہ ملک میں گھی، چینی، آٹا اور دیگر اشیاء کی طرح ڈرگ مافیا بھی حکومت کی دسترس سے باہر ہے۔ ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے تو ملک میں غریب کی موت عام کر دی ہے اور علاج معالجہ نہ ہونے کے باعث غریب عوام سسک سسک کر دم توڑ رہے ہیں، دوسری طرف پی ٹی آئی اور مخالف اپوزیشن جماعتوں میں اتنی محاذ آرائی دیکھنے میں آ رہی ہے کہ شاید برسر اقتدار جماعت اور اپوزیشن اپنے ہی ملک کے عوام کو فتح کرنے کے مشن پر کام کر رہے ہیں، حکومت اپوزیشن کو رگڑا دے رہی ہے تو اپوزیشن اس کے جواب میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہے، مسلم لیگ (ن) تو تنقید میں اس قدر آگے جا چکی ہے کہ ہمارے ازلی دشمن ہمسایہ ملک بھارت کا بے لگام میڈیا (ن) لیگی لیڈروں کے بیانات کو جواز بنا کر ہمارے مضبوط ادارہ جس سے بھارت سورمائوں کی ٹانگیں کانپتی ہیں کو حدف تنقید بنا رہا ہے۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی، بات ہو رہی تھی حکومت کی کارکردگی کی، حکومت شاید وہ وعدے بھول چکی ہے، جن کی بنیاد پر عوام نے پی ٹی آئی اور کپتان کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا، ملک کے حالات اس حد تک ابتر ہو چکے ہیں کہ قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے، مہنگائی بالخصوص اشیائے خوردنوش کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں، بیروزگاری کی شرح میں دو سالوں میں 21 فیصد اضافہ اور مہنگائی کی شرح میں 10 سے 120 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، حالات بول کر کہہ رہے ہیں کہ
’’ہاتھی کے دانت۔۔۔ دکھانے کے اور کھانے کے اور‘‘
کپتان تو کہتا تھا کہ بر سر اقتدار آ کر مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کر دوں گا مگر وہ جن بے قابو ہو کر حکومت کا منہ چڑا رہا ہے۔ ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتیں بڑھتے بڑھتے اس سطح پر پہنچ چکی ہیں کہ عام آدمی یومیہ اجرت یا ماہانہ تنخواہ لے کر بازار کا رخ کرے تو مہنگائی کا تھپڑ کھا کر ملک میں آنے والی تبدیلی پر گہری سوچ میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ لمبی لسٹ لے کر گھر سے جانے والا ضرورت کی چند چیزیں خرید کر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے گھر لوٹ آتا ہے۔ حالات اس قدر بھیانک ہو چکے ہیں کہ بیروزگاری و مہنگائی کے ستائے عوام کی خود کشیوں کی شرح میں 2018 کی نسبت 2019 اور سال رواں میں دوگنی ہو چکی ہے۔
کپتان جی عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ کوئی جیل جائے یا برطانیہ؟ عوام کی ضرورت تو گھی، آٹا، چینی، دال، ٹماٹر، پیاز اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء ہیں، جس پر مافیاز نے کنٹرول کر رکھا ہے اور وہ اژدھا کا روپ دھارے عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ کپتان جی مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کیلئے ذخیرہ اندوزوں کو قابو کر کے انہیں پابند سلاسل کرنا ہو گا اور ان مافیاز کی ذخیرہ کی گئی چیزیں سرکاری تحویل میں لے کر کھلی مارکیٹ میں پہنچانا ہونگی، کپتان جی اقتدار میں آنے پر آپ نے جو پاکستان کا روشن مستقبل کا عندیہ دیا تھا اور روشن مستقبل کے خواب دکھائے تھے جو شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے جس کی وجہ سے عوام میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے سچ تو یہ ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری کی ماری عوام آج پھر کسی مسیحا کی منتظر ہے۔ کپتان جی ابھی آپ کے پاس کچھ وقت باقی ہے، آپ سابقہ حکومتوں کے ادوار کی طرح وقت گزاری کی بجائے عوام کو ان کا حق دلوائیں، تو آپ کا مستقبل روشن ہو گا؟ اگر ایسا نہ کر سکے تو تمہاری بھی داستان نہ ہو گی داستانوں میں۔۔۔؟

Leave a Reply

%d bloggers like this: