غربت،بڑھتی ہوئی آبادی ملک کی خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ

پاکستان بنیادی طور پر غریب اور پسماندہ ملک ہے جو آزادی ملنے کے بعد سے ترقی کی جدوجہد میں مصروف ہے لیکن ہماری ترقی کے تمام منصوبے ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات زندگی کی اشیاء کی کمی وغیرہ کی وجہ سے پوری طرح عمل میں نہیں آپاتے ۔جس ملک کی بیشتر آبادی کو دو وقت پیٹ بھرنے کو روٹی نہ ملے سکے وہاں پر سماجی ترقی اور تہذیت و تمدن کی بہتری کی باتیں کرنا ایک کربناک مذاق ہی معلوم ہوتی ہیں۔بہتر حال ان مسائل کو دور کرنے کے لیے ملک کو بڑی بڑی قربانیاں اور جی توڑ کر کوشش کرنا پڑیں ۔اس اس سلسلے میں جو اقدامات اور کوششیں کی گئیں ان میں زرعی پیداوار، صنعتی ترقی اور بے روزگاری ختم کرنے کے منصوبے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ابتدا میں ان منصوبوں کی ترقی کی رفتار دیکھ کر یہ امید پیدا ہوچلی تھی کہ جلد ہی ملک خودکفالتی کے راستے پر پوری طرح گامزن ہوجائے گا اور غریبی اور بدحالی کا خاتمہ ہوجائے گا ۔لیکن دوسری طرف ملک کی آبادی بھی غیر معمولی رفتار سے بڑھتی گئی اور ملک کی خوشحالی کے راستے میں ایک مہیب رکاوٹ بن کر سامنے آکھڑی ہوئی ۔اور ستم بالائے ستم یہ کہ اسی دوران وطن عزیز کو اپنے پڑوسی ملک بھارت سے جنگ لڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ظاہر ہے ان حالات میں مہنگائی کا بڑھنا قدرتی تھا لیکن موجودہ مہنگائی کی صورتحال کو منافع خوری ،بلیک مارکیٹ ، رشوت اور سابقہ ادورا میں ہونے والی ہوشربا کرپشن اور لوٹی گئی دولت کا منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر منتقلی اس تباہ کن مہنگائی کے بنیادی اسباب ہیں۔عوام کو عرصے تک مصنوعی معیشت کا سہارہ دے کر بیوقوف بنایا جاتا رہا ۔۔۔۔غریبی میں کمی کی بجائے بے پناہ اضافہ ہوگیا،آج پاکستان میں مفلسی اور بدحالی کا مسئلہ جتنا اہم ہوگیا ہے شاید پہلے کبھی نہیں تھا۔مہنگائی روکنے کے لیے حکومت کو اپنے تمام وسائل اور قوت سے کام لینا چاہیے اور بلیک کرنے والوں، رشوت خوروں اور بے ایمانی کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دینی چاہیے کیونکہ اگر جلد ہی موثر اقدامات نہیں کیے گئے تو یہ مسئلہ اتنا بڑھ جائے گا کہ اس پر قابو پانا ناممکن ہوجائے گا ۔مہنگائی کی وجہ سے ایک طرف تو حکومت کے بہت سے ترقیاتی منصوبے عمل میں نہیں آپاتے اور دوسرے ملک میں بے اطمینانی اور جگہ جگہ حکومت کے خلاف جذبات پیدا ہوئے ہیں جو تخریبی کارروائیوں اور توڑ پھوڑ اور جگہ جگہ حکومت کے خلاف جذبات پیدا ہوتے ہیں جو تخریبی کارروائیوں اور توڑ پھوڑ کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور ان تخریبی کارروائیوں سے ملک کے امن و اطمینان میں خلل پیدا ہوتا ہے اور ترقی کے منصوبے سست اور بے عمل ہوجاتے۔حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا لیکن اس اقدام کے بعد مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوا ہر چیز کی قیمتیں دوگنا ہوگئیں جن کی روک تھا م کا کوئی اتنظام نہیں کیا گیا 8روپے والا نان 15روپے 60والی چینی 105سے زائد ہوئی،انڈوں کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوا اور یہ 180روپے درجن سے زائد پر فروخت ہورہے ہیں آٹا مہنگا ہوا،سبزیوں دالوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہواجس سے ان کی قوت خرید میں کمی ہوئی پچھلے ادوار میں محض سیاسی فائدے اٹھانے کے لیے تنخواہوں میں اضافہ کرکے ملکی بجٹ میں اضافہ اور اس اضافے کی وجہ سے مہنگائی کی شرح بڑھتی رہتی تھی۔بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غریبی اور بدحالی کو روکنے کے لئے حکومت اور عوام دونوں کو جدوجہد اور عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔حکومت کے دستور میں عوام سے اس بات کا وعدہ کیا گیا ہے کہ حکومت ان کی زندگی کی بنیادی ضروتیں پور ی کرنے کی ذمہ دار ہے ۔ویسے بھی عوامی حکومت یا جمہوریت اسی وقت اپنے نام کی اہل قرار دی جاسکتی ہے جب وہ اپنی عوام کو زندگی کی لازمی ضروریات کو پورا کرنے کا حق دے سکتے ہیں۔گو کہ موجودہ حکومت نے ابھی تک جو اقدامات معیشت کی بحالی کے لئے اٹھائے ہیں ان کے ثمرات ابھی سامنے نہیں آئے ہیں لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام نے اس سلسلے میں تعاون نہیں کیا ۔ظاہر ہے کہ قانون اور حکومت ہی منافع خوروں کو سزائیں دے سکتی ہے لیکن کیا یہ عوام کا فرض نہیں کہ وہ ایسے لوگوں کو قانون کی نظر میں لائیں ۔پرامن طریقوں سے ذخیرہ اندوزوں وغیرہ کو بے نقاب کریں اور ان کا سماجی بائیکاٹ کریں ۔اگر عوام اور حکومت دونوں اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح اور خلوص اور لگن سے انجام دینے کی کوشش کریں تو وہ دن دور نہیں جب ملک میں خوشحالی کا سورج چمکے گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: