M Sarwar Siddiqui Today's Columns

خوش قسمت لوگ از ایم سرور صدیقی ( جمہور کی آواز )

M Sarwar Siddiqui
Written by M Sarwar Siddiqui

عالمی ادارے کی ایک رپورٹ میرے سامنے ہے اس رپورٹ نے سبھی کو چونکا دیا ہے کئی تو رشک بھی کررہے ہیں تو کچھ یقینا حسد میں مبتلا ہوگئیہوں گے آپ کا ردِ عمل کیا ہوگا یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا یہ رپورٹ ان لوگوںکے بارے میں ہے جو دنیا کے خوش قسمت ترین لوگ ہیں ہم جنوبی ایشیاء میں رہنے والے تو چھوٹی چھوٹی خوشیوںکو ترسے ہوئے ہیں مہنگائی،بیروزگاری اور غربت نے بھارت ،پاکستان،بنگلہ دیش، افریقی ممالک اور نہ جانے کس کس ملک کے شہریوںکا جینا عذاب بنارکھاہے اس ماحول میں خوش قسمت ترین لوگوںکا ملک فن لینڈ چوتھی بار پہلے نمبر پر ہے، اس کے بعد ڈنمارک ،سوئٹزر لینڈ، آئس لینڈ، نیدر لینڈز، ناروے، سویڈن اور لکزمبرگ خوش ترین ممالک میں شامل ہیں۔اقوام متحدہ کی نگرانی میں تیار ہونے والی ’’عالمی رپورٹ برائے خوشی میں افغانستان آخری نمبر (149)پر ہے، اس کے بعد فہرست ہی ختم ہو جاتی ہے۔امریکہ نے معاشی ترقی اورافغانیوں کی خوشی کے نام پر وہاں دو ٹریلین ڈالر خرچ کئے، لیکن لوگ پھر بھی ناخوش ہیں۔دنیا کی سب سے اچھی جمہوریت امریکہ بھی نیچے چلا گیا ہے، اب اس کا نیا نمبر 16واںہے۔ امریکہ کی پوزیشن سابق صدر ٹرمپ کی وجہ سے گر گئی ہے اب کچھ حالات بہتر ہورہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، لیکن انڈیاآخری نمبروں کے قریب ترین ہے، اس کا نمبر 139ہے، اس کے بعد خوشیوں کے حوالے سے بدترین ممالک میں زمبابوے، روانڈا، بوٹسوانہ ہیں، جہاں کہتے ہیں کہ خوشیاں نام کو نہیں۔خوشیوں کا پیمانہ کیا ہے؟خوشی کا پتہ چلانے کے لئے کئی پیمانے مقرر کئے گئے۔ انسانی ترقی کا تسلسل ، شہریوںکی مستحکم یومیہ آمدنی، مساویانہ معاشی ترقی، ماحولیاتی تحفظ ، اچھی گڈگورننس ،بنیادی سہولیات کی فراہمی، بدعنوانی کا خاتمہ ،ثقافت کا تحفظ و ترقی اس کے اہم اشارئیے قرار پائے۔ تاریخ بتاتی ہے جس بھی ملک میں کرپشن بڑھی وہ ملک بھی نیچے سے نیچے چلا گیاافراط زر بڑھا مہنگائی،غربت ،بیروزگاری،قسادبازاری،انتہاپسندی کے ساتھ ساتھ شہریوںکی آزادیاں صلب ہوگئیں ،،افغانستان میں کئی دہائیوںسے جاری جنگ، پاکستان میں دہشت گردی، بھارت میں بڑھتا ہوا مذہبی جنون!،کشمیرکی واد ی مں مسلسل کرفیو ہویا امریکہ میں گوروں کے جلوس،فلسطین میںآئے روز اسرائیلی حملوںمیں مسلمانوںکی شہادت،عراق،شام،میانمارمیں مسلم کشی نے بہت سے مسائل پیداکرکے رکھ دئیے ہیں جس سے لاکھوں عام لوگوںکی خوشیاں متاثرہوگئیں جس سے بھی درجنوں ممالک کی خوشیوں پر آنچ آئی، آزادیاں چھیننے والے ممالک بھی پیچھے چلے گئے۔جہاں تک ترقی کا تعلق ہے تو یہ بھی دیکھا گیا کہ ترقی مستقل ہے یا عارضی ،اور اگر مستقل ہے تو اس کے اثرات ہمہ گیر ہیں یا کسی کسی طبقے کیلئے بہتر ہیں اور باقی محروم رہ گئے ہیں؟اپنے عوام کو معاشی پالیسیوں کے ثمرات سے محروم کرنے والے ممالک کے نمبر بھی کم ہو گئے۔جیسا کہ کارپوریٹ کلچر نے عوام کو جینے کا حق دیا یا انہیں نچوڑ کر رکھ دیا۔جن ممالک میں ترقی کے ثمرات کسی خاص طبقات نے سمیٹ لئے ان کے نمبر بھی کاٹ لئے گئے۔ امریکہ اور انڈیا کے ساتھ بھی یہی ہوا۔پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ ان ممالک میں لوگوں کو رہائشی سہولتوں کی فراہمی میں کمی آئی ہے یا اضافہ ہوا ہے؟فی کس جی ڈی پی، لوگوں کی فیاضی، زندگی گزارنے کی آزادی اور سماجی معاونت کے اشارئیے بھی شامل کئے گئے تھے۔پاکستان نے کن اشاریوں میں ترقی کی؟پاکستان کانمبر105واں ہے، جو بھارت سے 34درجے اوپر ہیں۔پاکستان نے فی کس جی ڈی پی،سوشل سپورٹ،رہائشی سہولتوں کی فراہمی، پسند کی زندگی گزارنے کی سہولت کے اشاریوں میں ترقی کی ہے۔یہاں لوگ اپنی مرضی کے مطابق جی سکتے ہیں، لیکن ا س سلسلے میںابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔مجموعی عمربھی ایک پیمانہ ہے ہمارے ہاں یہ بھی بہتر ہوئی ہے،جو اب 67.4برس ہے۔ ہمارے ہاں ایک دوسرے کی مالی مدد کرنے کا رجحان بہت زیادہ ہے، سوشل سپورٹ میں اسے بھی شامل کیاگیا ہے۔رپورٹ کی تیاری میں ’’ذاتی جی ڈی پی کو بھی اہمیت دی گئی۔ مثال کے طور پراگر کوئی شخص سارا دن دو تین نوکریاں کرنے کے بعد تھکا ہارا گھر پہنچتا ہے اور بستر پر گرتے ہی گہری نیند میں چلا جاتا ہے، اسے اہل خانہ دوستوں اور رشتے داروں سے ملنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔اس کے برعکس ایک اور شخص ایک کام کرتا ہے اس کے پاس دوستوں، عزیزوں اور اہل محلہ سے میل ملاپ کے لئے وقت کی کوئی کمی نہیں ، ان دونوں میں سے دوسرے آدمی کی خوشیوں کی جی ڈی پی پہلے فرد کی بہ نسبت زیادہ ہوگی۔’’خوشی رپورٹ کی تیاری کا آغاز کیسے ہوا؟کیا آپ جانتے ہیں کہ بھوٹان کے بادشاہ نے دنیا کو بالکل ایک نیا تصور دیا، جب عالمی ماہرین نوٹ گننے میںمصروف تھے تو بھوٹانی بادشاہ نے کہا کہ ’’نوٹ کبھی بھی خوشیوں کا پیمانہ نہیں ہو سکتے، جب ہم کسی ملک کی جی ڈی پی کو دیکھتے ہیں تو یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ ترقی کی رفتار مساویانہ ہے بھی یا نہیں ،یا یہ کہ لوگ خوش ہیں یا ناراض۔’’تھمفوز سکول برائے روایتی فنون لطیفہ (Thimphu’s School of Traditional Arts نے یہ تصور پیش کیا بعد ازاں بادشاہ جگمے سنگے یوانگ چوک (Jigme Singye Wangchuck) نے 1972 میں گراس نیشنل ہیپی نس کو ناگزیر قومی ضرورت قرار دے دیا۔ انہوں نے 11جولائی 2008 ء قومی جی ڈی پی کی طرز پر خوشیوں کو ماپنے کے لئے آئین میں ترمیم کے ذریعے حکومت کو بھی خوشیوںکا تعین کرنے کا پابند بنا دیا۔ یہ نئی چیز ’’گراس نیشنل ہیپی نس کہلائی۔اسے مثال بناتے ہوئے 2011 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی معاشی ترقی کے اس پہلو کی اہمیت تسلیم کر لی۔ اقوام متحدہ نے اعلان کیا کہ ’’اگر کسی ملک میں ترقی ہو رہی ہے تواسے خوشیوں کی صورت میں بھی نظرآنا چاہیے۔ترقی یافتہ ملک کے لوگوں کو خوش بھی ہونا چاہئے، اور یہ کہ ’’ تمام حکومتوں کو ایسے کام کرنا چاہیں جن سے عوام خوش ہوں اور غم کم ہوں۔اقوام متحدہ نے خوشیوں کے حصول کو بنیادی سرکاری تقاضا قرار دے دیا۔2012 میں وزیر اعظم بھوٹان جگمے تھنلے (Jigme Thinley) اور جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ بان کی مون نے خوشحالی اور خوشی کے نام پر ایک اجلاس طلب کیا۔جس میں دنیا بھر میں خوشیوں کے بارے میں پہلی رپورٹ جاری کی گئی۔ قرارداد نمبر 66/28کے تحت 2012 سے 20مارچ کو ’’ یوم خوشی قرار پایا، نئی رپورٹ کے اجرا کی تاریخ بھی یہی طے کی گئی۔خوشی کا نظریہ پیش کرنے والے خطے میںنسل کشی بھوٹان نے یہ تجویز ایک ایسے وقت میں پیش کی تھی جب ان کے ہاں نیپالی اور دوسری قوموں کے باشندے میانمار اور انڈیا جیسے جبر کا شکار تھے۔انڈیا نے 21لاکھ آسامی باشندوں کو غیر ملکی اور گھس بیٹھیا قرار دے کر جنگلوں میں دھکیل دیا ، بھوٹان بھی یہ کام کر چکا ہے۔وہاں 1980 ء کے عشرے میں کچھ نسلوں کو ’’غیر ملکی قرار دے دیا گیا تھا۔1990 کے عشرے میں جنوبی بھوٹانیوں پر تشدداور نسل کشی کی خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں۔1993 تک سیاسی علیحدگی اور نسل کشی عروج پر تھی۔ 1996 ء میں بھوٹان نے دوسری نسلوں کے ایک لاکھ باشندوں کو نکال دیا تھا۔ وہ نیپال چلے گئے ، دربدر ہیں۔کوئی مستقل ملک ہے نہ ٹھکانہ۔2007 ء تک بہت سے امیگرنٹس امریکہ ، کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ منتقل ہو چکے تھے ویسے تو عام خیال یہ ہے کہ خوشیوںکا زیادہ تر تعلق وسائل سے ہے جب آمدن میں اضافہ ہوگا تو آپ کے آنگن میں بھی خوشیاں ناچتی پھریں گی اس لئے سب کو بھرپور محنت کرنی چاہیے اپنے لئے،اپنے بچوںکے لئے اور خوشگوار مستقبل کے لئے حرام اور حلال کی تمیزکرتے ہوئے خوب پیسہ کمانا چاہیے تاکہ خوش قسمت ممالک میں ہمارا نمبر سرِ فہرست دیکھ کر دوسرے رشک بھی کریں اور حسدبھی۔

About the author

M Sarwar Siddiqui

M Sarwar Siddiqui

Leave a Comment

%d bloggers like this: