عیدی

0 12

وہ عید کا دوسرا دن تھا۔عید کی ہوا اب بھی پہلے دن کی طرح پرمسرت رت میں چل رہی تھی۔عید کی خوشبو ہر کسی کے چہرے پہ مہک رہی تھی۔مگر ایاز کے چہرے پہ مایوسی کے کچھ پھیکے رنگ جمے ہوئے تھے۔کیونکہ پچھلے چار سالوں سے یہ ایاز کے لئے وہ دن ہوا کرتا تھا جب وہ جڈی عید میلہ کی محفل کے رنگوں کے سانچے میں ڈھل کر فرحتوں اور راحتوں کے چند بیش قیمتی پل سکون سے جی کر سرشاری کی کیفیت اپنی رگوں میں دوڑاتا تھا۔لیکن اِس سال کورونا وائرس جیسی عالمی وبا کے باعث جڈی عید میلہ کی محفل کے رنگینیوں کی بتیاں بجھی ہوئی تھیں۔اس بار عید کا دوسرا دن بغیر میلے کے اسے بے حد بور کر رہا تھا۔
اس وقت وہ اپنے نفیس بیڈروم میں بیڈ پر سیدھا لیٹا اپنے دائیں ہاتھ کے ناخن چبانے میں مصروف تھا۔کچھ دیر بعد وہ اٹھا،بیڈ کے نیچے سے اپنا گٹارنکال کر صوفے پر بیٹھ کر اسے بجانے لگا۔وہ تھوڑی دیر تک گٹار بجاتا رہا مگر گٹار کی مدھر دھن بھی اس کی بوریت دور کرنے کا سبب نہ بن سکی۔اور وہ گٹار صوفے پر رکھ کر سوچنے لگا کہ جڈی تو پورے پسنی شہر میں وہ واحد مقدس مقام ہے جہاں رونقوں کے پرندے ہر وقت چہکتے رہتے ہیں۔ایسے بامقدس اور با رونق مقام کو رونقوں سے جھلملانے کے لیے کسی میلے کے دیدہ زیب رنگوں کی ضرورت نہیں ہے۔یہ سوچتے ہی اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھی ہوئی اپنی بائیک کی چابی اٹھائی،بیڈ کی دوسری طرف الماری کے قریب رکھے ہوئے اپنی عید کے چمچماتے ہوئے جوتے پہنے،سیدھا صحن میں کھڑی بائیک کو گیٹ کے باہر لے گیا۔چابی سوئچ میں ڈال کر گھمائی اور ایک ہی کک میں بائیک اسٹارٹ کر کے ایک گئیر ڈال کر جڈی کی طرف نکل گیا۔
اس وقت شام کے چار بج رہے تھے۔ جڈی کے موسم کے مزاج کی خنکی پوری آب و تاب سے فضا کے بدن کو خنک خنک احساس کی شبنموں سے نہلا رہی تھی۔موسم کی لطافت اپنی جوانی کی اداؤں کے رنگوں کو دلفریب ماحول کے رنگوں میں دھیرے دھیرے بکھیر رہی تھی۔خوشگواری کا سماں ہوا کے ہر جھونکے میں پانی کی طرح چھلک رہا تھا۔وہاں کے دلکش نظاروں کی خوشبو سے ایاز کی آنکھوں میں مسرت جھولنے لگی۔وہاں پر لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ایاز نے اپنی بائیک ایک جگہ کھڑی کر کے چابی اپنی جیب میں رکھ لی۔اور جیب سے ایک چشمہ نکال کرآنکھوں پر رکھ لیا۔اور بڑی نزاکت سے اپنے پیارے قدم جڈی کے سمندر کے کنارے کی طرف لے گیا۔وہاں جا کر اس نے چاروں طرف ایک سرسری سی نگاہ ڈالی اور تبھی چشمے کے پیچھے براجمان اس کی نگاہوں نے ایک چھوٹے سے لڑکے کو دیکھا جو پرانے اور میلے کپڑے زیب تن کئے پرانے پھٹے ہوئے جوتے پہنے سمندر کے کنارے اداس بیٹھا تھا۔اس نے اپنا چشمہ اتار کر سامنے والی جیب میں رکھ لیا اور اس لڑکے کے نزدیک جا کر اس سے مختصر فاصلے پر بیٹھ کر گفتگو کرنے لگا۔
’’کیا نام ہے تمہارا؟
دانش
کہاں رہتے ہو؟
’’اس خودغرض معاشرے کی ایک جھونپڑی میں رہتا ہوں جس کے سامنے سے روز امیروں کی مہنگی مہنگی گاڑیاں گزرتی ہیں‘‘
’’عید کے دن پرانے کپڑے اور جوتے کیوں پہنے ہیں‘‘؟
’’کیونکہ نئے کپڑے اور جوتے خریدنے کے پیسے نہیں تھے‘‘۔
’’ماں باپ کہاں ہیں تمہارے؟
قبر میں۔
کوئی اور رشتہ دار یا بہن بھائی؟
نہیں ہیں۔بد قسمتی سے غموں کی اس بے درد دنیا میں تنہا سانسیں لے رہا ہوں‘‘
خدا کے کسی نیک بندے نے عید کی شاپنگ نہیں کرائی؟
اگر کرائی ہوتی تو آپ مجھے ان پرانے کپڑوں اور جوتوں میں نہ دیکھتے۔
’’کیوں نہیں کرائی‘‘؟کیونکہ مطلب کی چار دیواری میں بسنے والوں کو دیوار کے پار بیٹھے یتیم اور مستحق لوگ دکھائی نہیں دیتے‘‘
امی ابو کی یاد آتی ہے‘‘؟
’’دن رات آتی ہے‘‘
تمہارے والدین کیا تمہارا بہت خیال رکھتے تھے؟
’’میرے والدین دکھ کا کفن خود اوڑھ کر سکھ کی چادر مجھے اوڑھاتے تھے۔اذیتوں کے انبار اپنے سینے میں دفن کر کے خوشیوں کے پھول میرے ہونٹوں پر سجاتے تھے۔بھوک کو سج سنوار کر اپنے پیٹ میں رکھتے تھے اور لذیذ لذیذ کھانے میرے پیٹ کے سپرد کر کے مجھے نازوں سے پالتے تھے۔سردیوں کی ٹھٹرتی ٹھنڈ میں کمبل مجھے اوڑھا کر خود میرے اطمینان کو لپیٹ کر سو جاتے تھے۔ان کے دن کا آغاز سوچ کے اس سورج سے ہوتا تھا جو دماغ کے مداروں میں گردش کرتا ہوا پورا دن میری خواہشوں کی تکمیل کے بارے میں سوچا کرتا تھا۔سوچ کا وہ سورج تھکاوٹ کے آسمان میں ایک نئی صبح میری خواہشوں کے پھولوں کو کھلکھلانے کی امید سے غروب ہو جایا کرتا تھا۔لیکن پھر میری آسائشیں اور مسرتیں رنج و الم کے وسیع جنگل میں کھو گئیں جب ان کی سانسوں کا سورج قبر کی تاریکی میں سدا کے لئے غروب ہو گیا۔اور تب سے لیکر اب تک میری زندگی آنسوؤں کے برسات کی نظر ہو گئی ہے۔کوئی مدد کی چھتری لے کر مجھے اس المناک بارش سے تحفظ فراہم کرنے نہیں آتا‘‘۔اتنا کہہ کر اس کی آنکھوں سے اشک بہنے لگے۔
اس نے پہلی بار گردن گھما کر ایاز کی طرف دیکھا۔جوں ہی اس نے ایاز کو امیروں والے انداز میں اپنے نزدیک بیٹھے خود کو گھورتے ہوئے دیکھا تو جلدی سے اٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔اور کئی اور جا کر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر بعد ایاز بھی جا کر وہی بیٹھ گیا۔اور اس سے کہا
’’لگتا ہے تمہارے والدین کی موت کا غم تمہارے دل سے دھڑکن کی طرح جڑا ہوا ہے جسے تمہارا دل ہرلمحے محسوس کر کے تمہیں کمزور کر رہا ہے’’۔
’’ہاں کمزور کر رہا ہے مگر مجھے میرے غم سے ذیادہ کمزور معاشرے کی جاہل سوچ اور ناقابلِ برداشت روییکر رہے ہیں‘‘۔
’’کیا مطلب‘‘؟
مطلب یہ کہ ہمارے یہاں کے لوگوں کی رٹی رٹائی ڈگریوں نے انھیں سفارشات کی نوکریوں کی کرسیوں پر تو بٹھا دیا مگر انسانی خدمت کے تاج کو سر پر رکھنے سے محروم کر دیا۔ہمارے یہاں کے لوگ ڈگریوں کے سہرے گلے میں کتے کے پٹے کی طرح باندھ کر شیر کی طرح دھاڑتے پھرتے ہیں۔اس سے وہ اپنی اوقات تو بدل لیتے ہیں مگر اپنی جاہل سوچ نہیں بدل پاتے۔اور اسی لئے کوئی بھی غریبوں کے درد کی کتاب کھول کر ان کے درد کو پڑھ کر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ہمارے اردگرد رہنے والوں نے اپنی ذات کو ذاتی مفاد کے پنجرے کا قیدی بنا دیا ہے۔جس کا وجود ان کے اپنے وجود کا تو سایہ ہوتا ہے مگر دوسرے کا کچھ بھی نہیں ہوتا۔اور تاریخ گواہ ہے کہ ذاتی مفاد کی سوچ وقت سے پہلے بوڑھی ہو جاتی ہے جبکہ معاشرے کی فلاح و بہبود کی سوچ ہمیشہ جوان رہتی ہے۔لیکن پیسے کا آم چوسنے والوں کو معاشرے کی بھلائی کا خیال کہاں سے آئے گا؟امیری کے اونٹ پر بیٹھے ہوئے امیروں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگتے ہوئے ہمارے جیسے بھوکے اور نادار لوگ کہاں سے نظر آئیں گے؟
’’تمہیں امیر یا پھر ڈگری یافتہ لوگوں سے کوئی مسئلہ ہے کیا‘‘؟
’’مسئلہ نہیں ہے بس شکایت ہے۔ امیر لوگ بے شک اپنے عیش و عشرت کے محلوں میں عیش کرتے رہیں مگر ان کے عیش و عشرت کے محلوں کے قریب چھوٹی موٹی جھونپڑیوں میں ہزاروں لاکہوں آنکھیں اپنے ماتھے پہ امید سجا کر ان رئیسوں کے مدد کی منتظر رہتی ہیں۔بس امیر ان کی قسمت سے بے بسی اور افسردگی کی کیچڑ کو صاف کر کے ان کی مشکل زندگی کو آسان بنانے کی زحمت کا بوجھ اٹھا لیں۔ایسا کرنے سے ان کے عالیشان رتبے کی عمارت زمین بوس نہیں ہو جائے گی‘‘۔
بالکل صحیح کہا تم نے۔اور ویسے بھی ایسے شاندار رہہن سہن سے یہ پسماندہ معاشرہ ترقی کے مینار پر جا کر کھڑا تو ہو نہیں جائے گا بلکہ پسماندگی کی ریت میں مزید دھنستا چلا جائے گا۔
لیکن کیا پیسے والوں کی حسین زندگی دیکھ کر حسد کی گرمی تمہارے وجود کو گرما دیتی ہے؟کیا تم بھی ان کی جیسی زندگی کے خواب بے تابی سے دیکھتے ہو؟انسان کو وہ خواب دیکھنے چاہیے جن کی تعبیر میں جان ہوتی ہے وہ خواب نہیں دیکھنے چاہیے جن کی جان بے ایمان ہوتی ہے۔میں خواب دیکھتا ہوں مگر وہ خواب جن کے ایمان میں جان اور جان میں ایمان ہوتا ہے۔کیونکہ ایسے خواب انسان کی حیثیت بدل دیتے ہیں۔ان کا رتبہ بڑھا دیتے ہیں۔اور جب میری حیثیت بدلے گی،میرا رتبہ بدلے گا تب میں اتنی کوشش ضرور کروں گا کہ میری طرح کے یتیم بچے جو تین دن سے بھوکے ہوں انھیں کھانا کھلا سکوں۔عید کی گوشت کے سالن
کی خوشبو مجھ بدنصیب کی ناک کو تو راحت بخش سکی مگر اس کے نوالے میرے منہ کو نصیب نہ ہو سکے۔میں تو عید کے دن بھوکا رہا مگر میرے اردگرد کے امیر لوگ تو عید کے دن اندھے اور بہرے ہو گئے۔جو ایک یتیم کے چہرے پہ بے رحمی سے رقص کرتی ہوئی بھوک کو نہ دیکھ سکے۔بھوک سے تڑپتے ہوئے اس کی معصومیت کی آہ و زاری نہ سن سکے۔
’’تم تین دن سے بھوکے ہو‘‘؟
’’ہاں‘‘۔
’’کسی سے کھانا نہیں مانگا‘‘؟
’’مجھے بھیک مانگنا اچھا نہیں لگتا‘‘۔ یہ کہہ کر دانش جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا تو ایاز نے اپنی سامنے والی جیب سے پانچ ہزار نکال کر اسکی طرف بڑھا دیئے۔دانش نے پیسوں کو غور سے دیکھا اور کہا
’’بھیک دے رہے ہو‘‘؟
’’نہیں عیدی دے رہا ہو‘‘؟
’’مجھے جانتے بھی نہیں ہو اور عیدی دے رہے ہو‘‘۔
’’بے شک میں تمہیں نہیں جانتا مگر تمہارے خیالات جان گیا ہوں۔میں یہ جان گیا ہوں کہ تمہارے دل کے قبرستان میں صرف تمہارے والدین کی یادیں دفن نہیں ہیں بلکہ اس سوسائٹی کی وہ ظالمانہ سوچ بھی دفن ہے جس نے تمہیں تین دن سے بھوکا رکھا ہے۔میں یہ جان گیا ہوں کہ ایک چھوٹے سے لڑکے کی باتوں میں اتنا وزن اور اتنی گہرائی کہاں سے آئی؟ یہ سب جان کر میں تمہیں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ ہر انسان کی فطرت کا پتنگ اڑتا ہے مگر ہر وقت ذاتی مفاد کے آسمان پر نہیں اڑتا بلکہ کئی بار فلاح و بہبود کے آسمان پر بھی اڑتا ہے۔تم ایک کی دو کی یا پھر تین کی غلطی کو پورے معاشرے کی غلطی کبھی تصور نہ کرنا۔اسے برا کہنا اسے برا سمجھنا جو تمہارے ساتھ برائی کرے۔‘‘
یہ سن کر دانش نے آنکھوں سے،لبوں سے اور دل سے مسکرا کر پیسے لیے اور کہا آپ عیدی کو مرہم بنا کر بھوک کے ان زخموں کو بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہیں نہ کہیں ایک امیر ہونے کے ناطے آپ نے بھی دیئے ہیں۔
دانش وہاں سے چلا گیا۔ایاز نے ایک گہری سانس لی۔دل کو چیر دینے،روح کو زخمی کر دینے اور دماغ کو سوچنے پر مجبور کرنے والی اس کی باتوں کی آ گ کی گرمی دھیرے دھیرے ایاز کے دل سے ہوتی ہوئی اس کی روح اور دماغ میں اتر گئی اور آہستہ آہستہ اسے اپنے وجود کی گہرائیوں میں اتار گئی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: