آئین پاکستان اور میرے بنیادی حقوق

آئین یعنی دستورکی تعریف بنیادی قواعد یا تسلیم شدہ نظائز کے ایک مجموعہ کے طور پر کی جاسکتی ہے۔ جسکے مطابق ایک ریاست پر حکمرانی ہوتی ہے۔ درحقیقت ایک آئین ان قواعد کی تعریف بیان کرتا ہے جن پر ریاست کی بنیاد ہوتی ہے۔ بلکہ اس طریق کار کی بھی تعریف بیان کرتا ہے جسکے ذریعے ملکی قوانین بنتے ہیں۔سادہ الفاظ میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ریاستی امور کو چلانے کے قوانین کو آئین یا دستورکہا جاتا ہے۔ آئین تحریری یا غیر تحریری شکل میں ہو سکتا۔ جیسا کے امریکی آئین تحریری شکل میں ہے جبکہ برطانوی آئین کو غیر تحریری تصور کیا جاتاہے۔ پاکستانی آئین تحریری شکل میں ہے۔ جہاں تک پاکستان کی آئینی تاریخ کا تعلق ہے تو یہ تاریخ اتنی روشن نہیں ہے۔ پاکستان کا وجود اگست 1947 میں ہوا جبکہ بدقسمتی سے پاکستان کا پہلا آئین 1956 میںسکندر مرزا نے نافذ کیا۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان بدقسمت ترین ممالک میں کیا جاسکتا ہے کہ جسکے وجود میں آنے کے 9 سال تک ریاستی امور بغیر کسی دستور کے چلائے گئے ، اور اس سے زیادہ اور کیا بدقسمتی ہو سکتی ہے کہ یہ آئین اپنے وجود کے ٹھیک 2 سال 1958 میں ملک میں مارشل لاء لگنے بعد کلعدم قرار دے دیا گیا۔ 1962 میں پاکستان کا دوسرا آئین فیلڈ مارشل ایوب خان نے نافذالعمل کیا جو کہ 1969 تک قائم رہا۔ پاکستان کا تیسرا اور متفقہ آئین ذالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں 1973 میں بنا جو کہ چند آئینی ترامیم کے ساتھ آج تک نافذالعمل ہے۔
آئین پاکستان میں / Schedules 07 Chapters ہیں جنکو 12 Parts میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اور آئین پاکستان کے آرٹیکلز کی تعداد 280 ہے جن میں پہلے 40 آرٹیکلزمیں عوام کے حقوق ، اصول حکمت عملی یعنی حکومتی ذمہ داریوں کا ذکر ہے۔
آئین اک ایسی بنیادی دستاویز ہے کہ جو کسی ادارے یا فرد کی ملکیت نہیں بلکہ یہ اک ایسی دستاویز ہے جسکو Public Property بھی کہا جا سکتا ہے۔ یعنی اس دستاویز تک رسائی کے لیے کسی ادارے کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔کسی بھی جمہوری ملک میں عوام کے بنیادی حقوق کا عوام الناس کو جاننا بے حد ضروری ہے
آیئے اب اک نظر آئین پاکستان میں درج عوام کے بنیادی حقوق پراختصار کے ساتھ ڈالتے ہیں۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 3 :۔ مملکت استحصال کی تمام اقسام کے خاتمہ اور اس بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کو یقینی بنائے گی کہ ہر کسی سے اسکی اہلیت کے مطابق کام لیا جائے گا ار ہر کسی کو اسکے کام کے مطابق معاوضہ دیا جائے۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 4:۔ ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ اسکے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔ خصوصا کوئی ایسی کاروائی نہ کی جائے جو کسی شخص کی جان، آزادی، جسم، شہرت یا املاک کے لئے مضر ہو، سوائے جبکہ قانون اسکی اجازت دے۔کسی شخص کے کوئی ایسا کام کرنے کی ممانعت یا مزاحمت نہ ہوگی جو قانونا ممنوع نہ ہو اور کسی شخص کو کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا جس کا کرنا اسکے لئے قانونا ضروری نہ ہو۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 5 :۔ مملکت سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔ دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہواور ہر شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو واجب التعمیل ذمہ داری ہے۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 9:۔ کسی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا سوائے جبکہ قانون اسکی اجازت دے۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 10:۔ منصفانہ سماعت کا حق۔ کسی شخص کو جسے گرفتار کیا گیا ہو، مذکورہ گرفتاری کی وجوہ سے، جس قدر جلد ہوسکے، آگاہ کئے بغیر نہ تو نظر بند رکھاجائے گا اور نہ اسے اپنی پسند کے کسی قانون پیشہ شخص سے مشورہ کرنے اور اسکے ذریعہ صفائی پیش کرنے کے حق سے محروم کیا جائے گا۔ ہر اس شخص کو جسے گرفتار کیا گیا ہو اور نظر بند رکھا گیا ہو، مذکورہ گرفتاری سے چوبیس گھنٹہ کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازم ہوگا
آئین کا آرٹیکل نمبر 11:۔ غلامی، بیگار وغیرہ کی ممانعت، بیگار کی تمام صورتوں اور انسانوں کی خرید و فروخت کو ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ چودہ سال سے کم عمر کے کسی بچے کو کسی کارخانے یا کان یا دیگر پرخطر ملازمت میں نہیں رکھا جائے گا۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 12 :۔ کوئی قانون کسی شخص کو کسی ایسے فعل یا ترک فعل کے لئے جس اس فعل کے سرزد ہونے کے وقت کسی قانون کے تحت قابل سزا نہ تھا سزا دینے کی اجازت نہیں دے گا یا کسی جرم کے لئے ایسی سزا دینے کی جو اس جرم کے ارتکاب کے وقت کسی قانون کی رو سے اسکے لئے مقررہ سزا سے زیادہ سخت یا اس سے مختلف ہو، اجازت نہیں دے گا۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 13: ۔ کسی شخص پر ایک ہی جرم کی بناء پر ایک بار سے زیادہ نہ تو مقدمہ چلایا جائے گا اور نہ سزا دی جائے گی یا کسی شخص کو جب اس پر کسی جرم کا الزام ہو، اس بات پر مجبور نہیں کیا جائے گا کہ وہ اپنے ہی خلاف ایک گواہ بنے۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 14:۔ شرف انسانی اور قانون کے تابع، گھر کی خلوت قابل حرمت ہوگی۔ اور کسی شخص کو شہادت حاصل کرنے کی غرض سے اذیت نہیں دی جائے گی۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 15:۔ ہر شہری کو پاکستان میں رہنے اور مفادعامہ کے پیش نظر قانون کے ذریعہ عائد کردہ کسی معقول پابندی کے تابع، پاکستان میں داخل ہونے اور اسکے ہر حصے میں آزادانہ نقل و حرکت کرنے اور اسکے کسی حصے میں سکونت اختیار کرنے اور آباد ہونے کا حق ہوگا۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 16:۔ امن عامہ کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کردہ پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو پرامن طور پر اور اسلحہ کے بغیر جمع ہونے کا حق ہوگا۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 17:۔ پاکستان کی حاکمیت اعلی یا سا لمیت امن عامہ یا اخلاق کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو انجمن یا یونین بنانے کا حق حاصل ہوگا۔ ہر شہری کو جو ملازمت پاکستان میں نہ ہو، قانون کے ذریعے عائد پابندیوں کے تابع کوئی سیاسی جماعت بنانے یا اسکا رکن بننے کا حق ہوگا۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 18: ۔ ہر شہری کو کوئی جائز پیشہ یا مشغلہ اختیار کرنے اور کوئی جائز تجارت یا کاروبار کرنے کا حق ہوگا۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 19:۔ اسلام کی عظمت یا پاکستان یا اسکے کسی حصہ کی سا لمیت، سلامتی یا دفاع، غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، تہذیب یا اخلاق کے مفاد کے پیش نظر یا توہین عدالت، کسی جرم کے ارتکاب یا اسکی ترغیب سے متعلق قانون کے ذریعے عائد کردہ پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کا حق ہوگا، اور پریس کی آزادی ہوگی۔ قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں اور ضوابط کے تابع ہر شہری کو عوامی اہمیت کی حامل تمام معلومات تک رسائی کا حق ہوگا۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 20:۔ قانون، امن عامہ اور اخلاق کے تابع ۔۔ ہر شخص کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اس اسکی تبلیغ کرنے کا حق ہوگا اور ہر مذہبی گروہ اور اسکے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے، برقرار اور انکا انتظام کرنے کا حق ہوگا۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 21:۔ کسی خاص مذہب کی اغراض کے لئے محصول لگانے سے تحفظ۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 22:۔ کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم پانے والے کسی شخص کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے یا کسی مذہبی تقریب میں حصہ لینے یا مذہبی عبادت میں شرکت کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔اگر ایسی تعلیم، تقریب یا عبادت کا تعلق اسکے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب سے ہو۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 23:۔ دستور اور مفادعامہ کے پیش نظر قانون کے ذریعے عائد کردہ پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو جائیداد حاصل کرنے، قبضہ میں رکھنے اور فروخت کرنے کا حق ہوگا۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 24:۔ کسی شخص کو اسکی جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا سوائے جبکہ قانون اسکی اجازت دے۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 25:۔ شہریوں سے مساوات۔۔تمام شہر ی قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی طور پر حقدار ہیں۔ کوئی امر عورتوں اور بچوں کے تحفظ کے لئے مملکت کی طرف سے کوئی خاص اہتمام کرنے میں مانع نہ ہوگا۔ ریاست پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مذکورہ طریقہ کار پر جیسا کہ قانون کے ذریعے مقرر کیا جائے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 26 :۔ عام تفریح گاہوں یا جمع ہونے کی جگہوں میں جو صرف مذہبی اغراض کے لئے مختص نہ ہوں، آنے جانے کے لئے کسی شہری کے ساتھ محض نسل، مذہب، ذات، جنس، سکونت یا مقام پیدائش کی بناء پر کوئی امتیاز نہیں رکھا جائے گا۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 27: ۔ کسی شہری کے ساتھ بہ اعتبار دیگر پاکستان کی ملازمت میں تقرر اہل ہو، کسی ایسے تقرر کے سلسلے میں محض نسل، مذہب، ذات، جنس، سکونت یا مقام پیدائش کی بناء پر امتیاز نہیں رکھا جائے گا۔
آئین کا آرٹیکل نمبر 28: ۔ شہریوں کے کسی طبقہ کو، جسکی ایک الگ زبان، رسم الخط یا ثقافت ہو، اسے برقرار رکھنے اور فروغ دینے اور قانون کے تابع، اس غرض کے لئے ادارے قائم کرنے کا حق ہوگا۔

اک جمہوری مملکت میں عوام الناس کو اپنے بنیادی حقوق کا پتا ہونا چاہیے۔ یہ اس لئیے بھی ضروری ہے کہ کوئی فرد یا ادارہ عوام کے جائز حقوق جن کا ذکر اور تعین آئین میں درج کردیا گیا ہے ان حقوق کر غصب نا کرسکے۔
آئین و قانون کا علم حاصل کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے کیونکہ قانون سے لاعلمی کوئی عذر نہیں ہے(IGNORANCE OF LAW IS NO EXECUSE)

Leave a Reply

%d bloggers like this: