اقبال ؒ، ترے دیس کا کیا حال سنائوں؟

پاکستان اقبال ؒ کا دیس ہے،مگر ہم جب اپنے دیس کا جائزہ لیتے ہیں تو دفتروں میں تو تصویر اقبال ؒآویزاں نظر آتی ہے مگر پالیسیوں میں تصور اقبال کہیں دکھائی نہیں دیتا ،ورنہ عہد کم ظرف کی ہر بات کیسے گوارہ کی جاتی ؟ پاس خاطر صیاد کا اس قدر اہتمام کیوں کر ہوتا ؟ محمود و ایاز کے درمیان آسمان و زمین کے فاصلے کس لئے ہوتے ؟اور رات دن لائوڈ سپیکروں کی فلک شگاف اذانوں کی گونج کے باوجود منبر و محراب میں کوئی ارتعاش نہیں ،اور سجدہ مومن سے زمین پر کوئی لرزہ طاری نہیں ،پاکستانی قوم اگر فکر اقبال ؒ سے آگاہ ہو جائے اور اس کو اپنا لے تو کسی بھی پا کستان دشمن طاقت کو اس سر زمین پر پائوں رکھنے کی جرات کیسے ہو سکے گی ؟وہ اقبال ؒ جو ممولے کو شہباز سے لڑانے کی جرات کرتا ہے، جو فقر کو اہل دل کی سلطنت قرار دیتا ہے ، جو کرگس اور شاہین کے جہاں میں واضح فرق رکھتا ہے ،،جو بندہ مومن کے زوال کے سبب محض بے زری کو نہیں سمجھتا جو خودی کو شاہی اور غلامی کو رو سیاہی کہتا ہے ،جوقوم کو آسودہ ساحل نہیں بلکہ موج بیکراں دیکھنا چاہتا ہے ،جو واشنگٹن اور لندن کی چمک دمک سے مسحور نہیں بلکہ خاک مدینہ و نجف کو سرمہ چشم بنا کر مسرور ہوتا ہے ، وہ اقبال ؒ اگر قوم پر منکشف ہو جائے اور اس اقبال ؒ کی فکر قوم کا لائحہ عمل قرار پا جائے ،تو پھر پاکستان پروانہ بن کر شمع بیگانہ کی آتش کا طواف کیوں کرے گا ؟ وہ ایک دانے کے لئے صیاد کے جال میں کیسے پھنس سکے گا ؟ اور دل کی آزادی پر شکم کیآسودگی کو کس طرح ترجیح دے گا ؟ جو معاشی و سیاسی امراض ،ہمیں لاحق ہیں ان کا بڑا سبب فکر اقبال ؒ سے یا تو سرے سے نا آشنائی ہے یا پھر بے پروائی ،بر طانیہ، فرانس اور جرمنی، روس کے لئے شاید بہت سے مفکر درکار ہوں مگر ہمارے لئے سچی بات ہے اقبال ؒ ہی کا فی ہے وہی اقبال ؒ جو قرآن حکیم کو صحیفہ انقلاب اور حکمت لازوال کا انتخاب قرار دیتا ہے اور صاحب قرآن کو عہد قدیم و جدید ( یا دنیا و آخرت)کا نقطہ اتصال سمجھتا اور انہی دو نسبتوں کے باعث خود کو جلوہ دانش فرنگ سے بے نیاز پاتا ہے ۔
اس حوالے سے جنا ب امیر الاسلام ہاشمی کی کچھ باتیں میرے دل کو لگیں اور ہم سب کے لئے ان میں ایک چھپی طنز کے ساتھ ساتھ ایک کسک ، ایک اضطراب اور ایک پیغام ہے اقبال ؒ ہی کی باتوں کو بنیاد بنا کر کچھ معنی خیز اشارے اس نظم میں ملتے ہیں کچھ بند ملاحظہ فر مائیں اور دیکھیں کہ کس قدر یہ ہمارے حسب حال ہیں ۔
دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگائوں

ملتا ہے کہاں خوشہ گندم کہ جلائوں
شاہین کا ہے گنبد شاہی پہ بسیرا
کنجشک فرومایہ کو اب کس سے لڑائوں
اقبال ؒ ترے دیس کا کیا حال سنائوں

شاہین کا جہاں آج ممولے کا جہاں ہے
ملتی ہوئی مُلاّ سے مجاہد کی اذان ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہین میں مگر طاقت پرواز کہاں ہے
اقبال ؒ ترے دیس کا کیا حال سنائوں
مرمر کی سلوں سے کوئی بیزار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کو ہر اک شخص مسلمان ہے لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
اقبال ؒ ترے دیس کا کیا حال سنائوں
بے باکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
اقبال ترے دیس کا کیا حال سنائوں
دیکھو تومحلات کے پردوں کو اٹھا کر
شمشیر و سناں رکھی ہیں طاقوں پہ سجا کر
آتے ہیں نظر مسند شاہی پہ رنگیلے
تقدیر امم سو گئی طائوس پہ آ کر
اقبال ترے دیس کیا حال سنائوں؎
کردار کا ، گفتار کا ، اعمال کا مومن
قائل نہیں ایسے کسی جنجا ل کا مومن
سرحد کا ہے مومن کوئی بنگال کا مومن
ڈھونڈنے سے بھی ملتا نہیں اقبال ؒ کا مومن
اقبال ؒ ترے دیس کا کیا حال سنائوں
اس کلام کا انداز اگرچہ ظریفانہ ہے مگر اشارات سارے حکیمانہ ہیں اور یہی نظم کی خوبی ہے جو اسے نثر سے ممتاز کرتی ہے کہ جو بات نثر کے کئی صفحوں پر ہوتی ہے وہ نظم میں چند مصرعوں میں سمٹ آتی ہے ،اور ابلاغ کا حسن اور تاثیر اس پر مستزاد ِاقبال ؒ ، کی ’’ بانگ درا ‘‘ بیداری کا عنوان ہے م’’بال جبریل ‘‘طاقت پرواز کا استعارہ ہے ، ’’ضرب کلیم ‘‘کشمکش کی دعوت ہے اور’’ ارمغان حجاز‘‘ سنگ میل منزل ہے ، کاش یہی چار چیزیں پاکستان کا حال اور مستقبل بن جائیں ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: