اوورسیز پاکستانی اور حکومتی رویے

غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق79 لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی اس وقت یورپ اور ایشیائی ممالک میں مقیم ہیں، ان میں 9 فیصد پاکستانی ایسے ہیں جو اربوں، کھربوں روپیہ پاکستان میں مختلف ذرائع سے کما کر اکٹھا کر کے یورپی اور ایشیائی ممالک میں انویسٹ کر کے وہاں اپنا کاروبار کر رہے ہیں، ان امراء میں اکثریت سیاسی خاندانوں کی ہے جو پاکستان میں سیاست کرتے اور اپنے آپ کو محب وطن کہتے ہیں،در اصل وہ اربوں کھربوں پاکستان سے لوٹ کھسوٹ کر بیرونی ممالک میں اثاثے بنانے کے علاوہ بڑے بڑے وسیع کاروبار کر رہے ہیں، بیرون ممالک جانے والے 91 فیصد لوگ ایسے ہیں جن کا تعلق متوسط اور غریب گھرانوں سے ہے، ان میں اکثریت ایسے لوگ شامل ہیں جو اپنے سہانے مستقبل کا خواب اور اپنے خاندان کی کفالت کیلئے اپنے عزیز و اقارب سے قرض لے کر یا اپنا کوئی اثاثہ بیچ کر وطن سے ہزاروں کلو میٹر دور محنت مزدوری کرنے کیلئے گئے ہیں، بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب میں ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر عرب ریاستیں ہیں، سعودی عرب جانے والوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہاں محنت مزدوری کے ساتھ حج و عمرہ کی سعادت بھی حاصل کر لیں گے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت بھی22 لاکھ سے زائد پاکستانی سعودی عرب میں مقیم ہیں، جن میں سے 93 فیصد محنت مزدوری کرتے ہیں اور 7 فیصد کے اپنے کاروبار ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث سعودی حکومت کی جانب سے فنڈز روکے جانے کے باعث سعودی عرب کی درجنوں کنسٹرکشن کمپنیاں 2015 میں دیوالیہ ہوئیں، جن میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، فلپائن سمیت دیگر ممالک کے لوگ محنت مزدوری کرتے تھے، مالی طور پر متاثر ہونے والی کمپنیوں سعودی اوجر، سعد گروپ، ریڈیکو، بن لادن، الخضری سمیت دیگر میں 52 ہزار سے زائد پاکستانی کئی ماہ تک پھنسے رہے، جو کئی کئی ماہ کی تنخواہوں سے محروم اور کئی کئی ماہ بے یارو مددگار ان کمپنیوں کے کیمپس میں کسمپرسی کی حالت میں پڑے رہے، اکتا کر ان کمپنیوں کے متاثرین جن میں پاکستان، بھارت، فلپائن، بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک کے لوگ شامل تھے نے احتجاج کا راستہ اپنایا تو 2015 کے ماہ نومبر، دسمبر میں مختلف ممالک کے سفارتکار سعودی عرب پہنچے اور سعودی عرب حکومت سے مذاکرات کر کے متاثرین کو انکی تنخواہیں، بقایا جات و مراعات سعودی حکومت سے کمپنیوں کو قرضہ کی صورت میں دلوا کر متاثرین کو اپنے اپنے ملکوں میں واپس لے گئے۔ مگر دو ماہ تک پاکستان سے کوئی نمائندہ کنسٹرکشن کمپنیوں کے متاثرین کی مدد کیلئے سعودی عرب نہ پہنچا تو متاثرہ پاکستانیوں کے احتجاج نے شدت اختیار کی تو ذرائع کے مطابق فروری 2016ء میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف (جو کہ اب سزا یافتہ ہیں) نے متاثرین کی مالی امداد کیلئے ایک کروڑ ریال کی گرانٹ کا اعلان کیا، اور ان کے حکم پر اس وقت کے وفاقی وزیر قدرتی وسائل صدر الدین راشدی معاملہ حل کرنے کیلئے سعودی عرب پہنچے تو کنسٹرکشن کمپنیوں کے متاثرین نے ان کے سامنے سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کے ذمہ داران بارے میں شکایات کے انبار لگا دیئے۔ پاکستان کے نمائندہ وفد جس کی قیادت اس وقت کے وفاقی وزیر قدرتی وسائل صدر الدین راشدی کر رہے تھے نے سعودی عرب کی حکومت سے مذاکرات کیے،مگر وفاقی وزیر موصوف کے دورہ متاثر ین کے لئے سود مند ثابت نہ ھوا۔اور وہ دوسرے ملکوں کی طرح کنسٹرکشن کمپنیوں کے پاکستانی متاثرین کو ان کی باقی تنخواہیں، مراعات نہ دلوا سکے۔سعودی عرب کے سرمایہ داروں اور صنعتکاروں نے اس صورتحال کا خوب فائدہ اٹھایا اور کچھ متاثرین کو اس وقت کی دیگر مختلف کمپنیوں جو کہ مالی طور پر مستحکم تھیں میں اور کچھ متاثرین کو کفیلوں نے کاروباری اداروں میں انتہائی کم تنخواہ پر رکھوا دیا، مجبور متاثرین اس امید کے ساتھ کہ وہ سعودی عرب میں رہ کر اپنے کئی کئی ماہ کے بقایا جات اور کئی کئی سال کی مراعات جو کہ دیوالیہ ہونے والے کنسٹرکشن کمپنیوں کے ذمہ تھے کیلئے تگ و دو کر لیں گے؟
کنسٹرکشن کمپنیوں کے جو متاثرین سعودی عرب کے دیگر کاروباری اداروں میں ایڈجسٹ نہ ہو سکے اور ان کا کیس سعودی عرب کی لیبر کورٹس میں چل رہا تھا سے پاکستانی سفارتخانہ نے ان متاثرین سے مختار نامہ لے کر انہیں ان کی کنسٹرکشن کمپنیوں کے ذمہ تنخواہیں، بقایا جات اور دیگر مراعات کمپنیوں سے وصول کر کے ان کے گھر پاکستان پہنچا نے کی یقین دہانی کرا کے وطن واپس بھجوا دیا۔ کئی کئی سال سعودی عرب میں محنت مزدوری کر کے خالی ہاتھ پاکستان واپس لوٹنے والوں میں سعودی اوجر کنسٹرکشن کمپنی کے 7 ہزار ، سعد گروپ کے3 ہزار ، ریڈیکو کے 500، بن لادن کے 1600 ، الخضری کے 300 کے لگ بھگ اور دیگر کمپنیوں شامل ہیں کے13 ہزار سے زائد متاثرین شامل ہیں، اس وقت کی حکومت نے وطن واپس آنے والے متاثرین کے گھروں کا چولہا جلانے کیلئے 50 ہزار روپے فی متاثرہ شخص کو دینے کا اعلان کیا، 743 متاثرین کو 50 ہزار روپے فی کس دینے کے بعد اس وقت کی حکومت نے چپ سادھ لی، متاثرین نے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا تو اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف پر کڑی تنقید کی اور کہا تھا کہ وہ بر سر اقتدار آ کر سعودی عرب کی کنسٹرکشن کمپنیوں کے ان متاثرین کو انصاف اور ان کا حق دلوائیں گے۔
سعودی عرب کی کمپنیوں میں کئی کئی سال کام کر کے مراعات اور تنخواہوں کی مد میں لاکھوں روپے سعودی عرب میں چھوڑ کر خالی ہاتھ پاکستان آنے والے محنت کش جو کئی بار اسلام آباد اور لاہور میں احتجاجی مظاہرے کر چکے ہیں کو نا تو اب تک سعودی عرب کی کنسٹرکشن کمپنیوں نے ان کی تنخواہیں اور مراعات ادا کیں اور نہ ہی سابقہ یا موجودہ حکومت نے ان متاثرین کو ان کا حق دلوانے کیلئے سعودی حکومت سے اس بابت کوئی نتیجہ خیز بات کی؟ کنسٹرکشن کمپنیوں کے ان پاکستانی متاثرین کے ایشو پر 2016ء میں پی ٹی آئی کی قیادت نے اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو نا اہل اور کاہل قرار دیا تھا اب پی ٹی آئی حکومت کو بر سر اقتدار آئے دو سال 2 ماہ گزر چکے ہیں، اس دوران پی ٹی آئی کی حکومت کے سربراہ عمران خان نے سعودی عرب کے فرمانروا سے ملاقات کر کے سعودی عرب کی جیلوں میں بند پاکستانیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جس کے جواب میں 600 سے زائد قیدیوں کو سعودی عرب کی جیلوں سے رہائی ملی اور وہ وطن واپس آئے جبکہ ہزاروں پاکستانی اب بھی سعودی عرب کی جیلوں میں بند ھیں۔ پانچ سال سے اپنے حق کے منتظر سعودی عرب کی کنسٹرکشن کمپنیوں کے متاثرین کو نہ تو اس عرصہ کے دوران سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانہ نے کوئی مثبت جواب دیا نہ ہی سابقہ یا موجودہ حکومت نے ان متاثرین کو ان کا حق دلوانے کیلئے کوئی مثبت تحرک کیا، سعودی عرب سے واپس آنے والے متاثرین کی اکثریت پاکستان میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہے کیونکہ وہ اپنی 6 سے 10 ماہ کی تنخواہیں اور 5 سے 26 سال تک کی مراعات سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر وطن واپس آئے تھے، یہ متاثرین جن میں سے اکثریت کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اب وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت کے ذمہ داران کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ انہیں ان کا حق کب دلوائیں گے؟

Leave a Reply

%d bloggers like this: