اشاعت فحش کی ممانعت

جدید دور میں ابلاغیات ، ذرائع ابلاغ اور پریس کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے جو معاشرے کے بناؤ بگاڑ میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ ابلاغیات کا اسلامی تصور بڑا مثبت تعمیری اور اصلاحی ہے جس میں نیکی اور برائی کے فروغ اور بڑائی اور بے حیائی کے سدباب کو سیاسی حییثت حاصل ہے ۔
’’اور تم میں سے آیا ایسی جماعت مستقبل ہو جو لوگوں کو نیکی کا حکم دے بھلائی کی دعوت دے اور برائی سے روکے اور یہی لوگ کامیاب ہیں ‘‘
لیکن بدقسمتی سے ہم ایسے معاشرے میں زندگی بسر کررہے ہیں جو مختلف قسم کی اخلاقی ، عقلی اور وحانی برائیوں کا گڑھ بن چکا ہے ہمارے معاشرے میں ہر روز بچیوں کو ذہنی ، جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔بہت افسوس کی بات ہے کہ ہمارا معاشرہ آج زمانہ جاہلیت کی طرف دوبارہ جارہا ہے ، حالانکہ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد ہی جاہلیت کو جڑ سے ختم کرنا تھا ۔ لیکن شاید ہم آج آپ ﷺ کی دینی تعلیمات کو بھول چکے ہیں۔ قرآن پاک جو ایک عظیم ، بابرکت اور مقدس ترین کتاب ہے جو تمام مسلمانوں کیلئے ہدایت کا واحد ذریعہ ہے اس مقدس ترین کتاب میں بھی اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فحاشی کی ممانعت کردی ۔ جیسا کہ سورۃ نور میں بیان کیا گیا ہے ۔ ’’ جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش اور بے حیائی پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب کا مستحق ہے ۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں چانتے ۔اگر سورۃ نور کی اس آیت کو مد نظر رکھا جائے تو کیا ہم اس بات سے اچھی طرح واقف نہیں کہ آج کس طرح جدید ذرائع ابلاغ ، ٹی وی، اخبارات اور میڈیا اس فحش گوئی کو پھیلا رہے ہیں ۔ نہ صرف پاکستان و عرب عمارات بلکہ دنیا کے ہر طاقت ور ممالک ، امریکہ ، برطانیہ اور چین بھی اس میں سرفہرست ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط نہیں کہ یورپ کے طرز زندگی کو دیکھتے ہوئے ہمارے معاشرہ جو اب معاشرہ اور اسلامی ریاست ہے اس فحاشی کو اپنائے ہوئے ہیں۔
اشاعت فحش کی ممانعت پر احادیث مبارکہ :
ناکہ قرآن پاک بلکہ احادیث مبارکہ میں بھی اشاعت فحش کی ممانعت پر زور دیا گیا ہے ۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے۔ ’’جس نے مسلماں کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کریں گے‘‘ ۔ نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ۔ ’’ خدا سب سے زیادہ غیرت مند ہے اسی لئے اس نے بدکاریوں کو حرام کہا ہے ‘‘ ۔
بدکاریوں کو حرام بھی کہا اور اس کی اشاعت کو پھیلانے سے منع بھی کیا ہے ۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے کہ وہ تمام فواحس و سنکرات سے پرہیز کریں شرم و حیاء کو اختیار کریں ۔ جو لازم ایمان ہے ۔ الحیاء من الایمان ’’حیاء ایمان میں ہے ‘‘
یہ حیاء ہی انسان کو فحش اور بے حیائی کی باتیں کرنے سے روکتی ہے ۔ کیا ٓج کا معاشرہ فحاشی کو اعلانیہ اور پوشیدہ طور پر نہیں پھیلا رہا ۔ کیا آج کے معاشرے میں ہم دوسروں کی پردہ پوشی کررہے ہیں یا دوسرے کے راز فاش کررہے ہیں ہم دوسروں کے راز کو فاش کرکے نہ صرف مطلقہ شخص کو ایذا ء میں مبتلا کررہے ہیں بلکہ معاشرے میں بگاڑ کو پھیلا رہے ہیں ۔ اسلام رقص اور ناچ کے بننے کا قائل نہیں جو نفسی، پیشے جذبات کو ابھارتا ہے بلکہ ہر ایسی چیز سے روکتا ہے جو طبیعت میں جنسی ہیجان پیدا کرے۔ مثلاً فحش گانے، ذرامے ، فلمیں اور حیاء سوز ایکٹینگ وغیرہ ، اگرچہ شیطان کے دھوکے میں آکر لوگوں نے اس قسم کی حیاء سوز خرافات کا نام ’’ فنArt‘‘ رکھ لیا ہے اور ترقی کا خوبصورت نام دے کر معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی پھیلائی جاتی ہے۔
آج کے معاشرے میں قوم کو نہ صرف جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنے ہے بلکہ کچھ افسوس ناک واقعات ایسے بھی موجود ہیں کہ بچیوں کے منہ پر تیزاب ڈال کر ان کے چہرے اور جسمانی حسن کو بگاڑ نے کی کو شش کی جاتی ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا اسلام عورتوں اور بچیوں کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ ہر گز نہیں ۔ اسلام میں عورتوں کے حقوق اور تحفظ کو لازم وملزوم قرار دے دیا گیا ہے۔لیکن بدقسمتی سے ہم اسلام کی تعلیمات اور حدود کو بھول کر یورپ کی راہ پر گامزن ہیں۔ جو کہ نہ صرف اسلام کے منافی ہے ،اور دنیا اور آخرت میں تباہی اور عذاب کا مستحق ہے۔
قرآن پاک کی سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر 33میں ارشاد باری تعالیٰ ہے،تو دب کر بات نہ کرو کہ لالچ کرنے لگے کہ جس کے دل میں بیماری ہے، اور دستور کے مطابق بات کرو
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں مفسرین لکھتے ہیںکہ عورت کو غیر مرد سے گفتگو کرتے ہوئے آواز کو زیادہ نرم نہیں رکھنا چاہیے کہ جس سے مخاطب کے دل میں میلان پیدا ہونے لگے۔
جو اسلام عورتوں کو غیر مرد سے گفتگو کرتے ہوئے نرم لہجہ کی اجازت نہیں دیتا تاکہ مرد کے دل میں مطلقہ عورتوں کے بارے میں کوئی شک پیدا ہو البتہ اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ عورت ایسا سخت لہجہ اختیار کرے جو بد اخلاقی کی حدووں کو چھونے لگے ۔
پیر محمد کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں ۔
’’اس کے ساتھ ساتھ گفتگو میں کوئی ایسی تلخی اور ناشائستگی نہ ہو جسے شریعت ناپسند کرے اور لوگوں کی دل شکنی اور دل آزاری ہو‘‘۔
اب ذرا خود سوچئے کہ کیا آج کے جدید معاشرے میں عورت رقص ذرامے ، ماڈلنگ اور دیگر سرگرمیوں میں حصہ لے کر نہ صرف خود بلکہ معاشرے کی حیاء دار عورتوں اور بچیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ قرآن واضح اور صاف کہہ رہا ہے کہ یہ سب لوگ مجرم ہیں صرف آخرت ہی میں نہیں بلکہ دنیا میں بھی ان کو سزا ملنی چاہئے ۔ لہٰذا ایک اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اشاعت فحش کے ان تمام ذرائع و وسائل کا سدباب کرے اور ایسا قانون نافذ کرے جو ایسے تمام ادارے کو بند کرے جو فحاشی کو پھیلا رہے ہیں ۔ آجکل کے بچوں کے ساتھ زیادتی کے جو واقعات ہورہے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم قرآنی تعلیمات سے دور ہوتے جارہے ہیں اور اس بگاڑ کی بڑی وجہ موبائل فون اور کیبل ہے ۔ نوجوان نسل کو فحش مواد سے بھر پور ویڈیو کلپس کثرت سے مل جاتے ہیں جن سے وہ بے راہ روی کا شکار ہیں اور بچوں سے زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اگر ریاست ان واقعات میں ملوث جنسی درندوں کو کڑی سے کڑی سزائیں نہیں دے گی تو آنے والے دنوں میں کوئی بچہ یا خواتین اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں رہیں گی ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: