اقراء کائنات اور انصاف کی تلاش

0 2

لاہور سیشن کورٹ نے پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی وائس چیئرمین خلیل احمد تھنڈکی طرف سے دائر ایک پٹیشن پر’’کاشانہ اقراء کائنات قتل کیس‘‘میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ،صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت ،سابق وزیر اجمل چیمہ اور سابق سپریٹنڈنٹ کاشانہ افشاں لطیف کو 26اکتوبر2020کو عدالت میں طلب کرلیاہے۔یہ حکم ایڈیشنل سیشن جج نعمان احمد نعیم نے اقراء کائنات قتل کیس کے سلسلے میں ایک درخواست پر استغاثہ کے وکیل ذیشان احمد اعوان ایڈوکیٹ کے دلائل کی سماعت کے بعد جاری کیاہے۔فاضل جج نے مبینہ ملزمان کی طلبی کے حکم کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے SPصدرڈویژن لاہور اور SHOٹائون شپ لاہور کو ہدایات جاری کی ہے کہ اقراء کائنات قتل کیس میں ہونے والی انکوائریوںاور تمام تراٹھائے گئے سوالات کے بارے میں ایک مفصل رپورٹ بھی آئندہ تاریخ پر پیش کی جائے۔ بقول پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی واضح رہے کہ’’ اقراکائنات نامی یتیم بچی جو سابق سپریٹنڈنٹ افشاں لطیف کے مطابق مبینہ طور پر محکمہ سوشل ویلفئیرکے زیر انتظام ادارہ کاشانہ میں مقیم بچیوں کے ساتھ پنجاب کابینہ کے ارکان کی غیر اخلاقی حرکات کی اہم گواہ تھی کو اس کابینہ اراکین نے خاموش کرنے کی غرض سے ظالمانہ اندازمیں قتل کروادیاتھاجس کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق سٹارویش یعنی بھوکا پیاسا رکھ کر مارا گیاہے جبکہ کاشانہ کی 57 بچیاںکاشانہ سے غائب ہیںمعلوم نہیں انہیں کہاں رکھاگیاہے‘‘۔پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی نے اس پر لاہور اور اسلام آباد میںبھرپور احتجاج کیے ہیںاب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایاہے۔پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی وائس چیئرمین خلیل احمدتھنڈ ،عبداللہ منصورصدرلاہورکاکہناہے’’اقراء کائنات کیس پر آج تک کوئی قانونی چارہ گوئی یا کارروائی نہیں کی گئی ، افشاں لطیف سے ہم نے کورٹ کی طرف رجوع کرنے کے لیے کہاتوانہوں نے صاف انکار کردیا، ہم کاشانہ اسکینڈل اور اقراء کائنات کے قتل کی شفاف تحقیقات کے لیے سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیںلیکن ساتھ قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالت سے بھی رجوع کیاہے ،جب اقراء کائنات کے خاوند یا کاشانہ سپریٹنڈنٹ اس کیس میں مدعی نہیںآرہے ہیں تولاوارث اقراء کائنات کی انہونی موت کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،لہذابطور پاکستانی شہری کے ہم نے اپنا آئینی وقانونی حق استعمال کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیاہے۔ہمیں امید ہے کہ اقراء کائنات قتل اورکاشانہ جنسی اسکینڈل کی غیر جانبدارانہ اورشفاف تحقیقات ہوگی اورانصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے تمام ملوث کرداروں کوکٹہرے میںلایاجائے گا‘‘۔یتیم خانے لاوارثوں کے تحفظ کے لیے ہوتے ہیں لیکن اس اسکینڈل میں ان کے ساتھ مبینہ درندگی کی انتہاکی گئی ہے۔اگر ایسے معاملات کو نظرانداز کردیاجائے تو معاشرے میں جرائم پلتے اورعدم تحفظ کا احساس بڑھتاہے ۔وہ معاشرہ جس میں لوگوں کی جان ،مال اور عزت محفوظ نہ ہو ،وہ معاشرہ نہ تو اسلامی معاشرہ ہے اور نہ ہی اس کے حکمران اسلامی حکمران اور نہ ہی وہ ریاست مدینہ کا مظہر ہے۔کاشانہ کیس معاملہ سے آنکھیں چرانایااس کو دباناکسی کے لیے بھی کسی بھی طرح قرین انصاف نہیں ہے۔یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے ۔ہماری حکومت و اس کے اداروں کو اس قتل کا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کرنا ہوگا۔اس بچی اقراء کائنات کو انصاف فراہم کرنا ہوگا،یہ ریاست کا فرض بھی ہے اور اس کی ذمہ داری بھی بنتی ۔کیا میں بحثیت راقم الحروف اُمید رکھوں کہ ریاست مدینہ کے دعوے دارحکمران قتل ہونے والی اقراء کائنات کواس کی بعد از موت انصاف دلاسکیں گے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: