آسٹریلیا میں گزرے چند شب روز

0 3

آسٹریلیا کب آئے، کیسیآئے اور کیوں آئے؟ یہ یادیں پھر کبھی تازہ کریں گے لیکن آسٹریلیا پہنچنے کے بعد جو پہلی چیز میرے کانوں سے ٹکرائی وہ ہوا کا جھونکا نہیں بلکہ اس بات کا آشکار ہونا تھا کہ
”آسٹریلیا از دی لینڈ آف آپرچیونٹیز”
بس تب سے مواقع کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ مواقع کتنے ملے اور کس حد تک ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکا یہ ایک تصفیہ طلب مسئلہ ہے جو کہ ایک مختصر تحریر میں سمویا نہیں جا سکتا۔ آج کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب میں منزل کا تعین کرنے میں کوشاں تھا کہ میری ایک شخصیت سے ملاقات ہو گئی۔ اس شخصیت کا نام ارسلان نعیم ہے۔ ذہنوں کی مطابقت دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ تعلیمی سفر کو اکٹھے آگے بڑھایا جائے۔ پہلا سمسٹر دیکھتے ہی دیکھتے گزر گیا اور بلآخر امتحانات آپہنچے۔ پہلے پرچہ کی خوب تیاری کی اور صبح جلد روانہ ہونے کا عہد کیا لیکن حسب روایت آخری دو سوال یاد کرنے میں وقت گزر گیا۔ ہر پرچہ کے آخری دو سوالوں کو اختتامی لمحات میں یاد کرنا شاید نصاب اور زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ بہرحال پرچہ دینے کے لئے گھر سے روانہ ہوئے۔ چونکہ پرچہ کا وقت اور مقام مشترک تھا اس لیے ایک ہی بستہ میں قلم، کیلکولیٹر اور دیگر ضروری اشیاء اکھٹی کر دی گئیں۔ میلبورن شہر میں پارکنگ کی صورتحال کو بھانپتے ہوئے وکٹوریہ عوامی ذرائع آمدورفت (پبلک ٹرانسپورٹ وکٹوریہ) کے اوقات کار دیکھے تو معلوم ہوا کے وقت پر پہنچنے کے لئے لیورٹن ریلوے اسٹیشن سے آخری دو ریل گاڑیاں جلد روانہ ہوں گی۔ وقت کی قلت کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی لمحہ ضائع کئے بغیر گاڑی کا رخ لیورٹن ریلوے اسٹیشن کی جانب موڑ دیا گیا۔ ہمارا ایک اور دوست علی ہمارے انتظار میں ریلوے اسٹیشن پر موجود تھا اور شدت سے ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ اسٹیشن پہنچنے پر پارکنگ کا مسئلہ آن کھڑا ہوا۔ خوش قسمتی سے پانچ سے سات منٹ کی پیدل مسافت پر پارکنگ کی ایک جگہ میسر آگئی۔ پہلی ریل گاڑی کے روانہ ہونے میں چند لمحات باقی تھے۔ موقع ہاتھ سے نہ جانے کی غرض سے اسٹیشن کی جانب دوڑ لگا دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے پہلی ریل گاڑی پلیٹ فارم پر پہنچ گئی اور ہم پوری قوت سے ریل گاڑی کی جانب لپکے۔ ہم نے پر مسرت نظروں سے علی کی جانب دیکھا جس کو بے صبری سے ہمارا انتظار تھا۔ ریل گاڑی کے دروازے کھلے اور ہم نے اندر داخل ہونے کے لئے قدم آگے بڑھائے لیکن اچانک ذہن کھٹکا اور قدم رک گئے۔ جلد بازی کے دوران بستہ تو ہم گاڑی میں ہی بھول آئے تھے۔ ارسلان اور میں نے حسرت بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ ہمارا ذہن بے بسی کی ایک عملی تصویر کا نمونہ پیش کر رہا تھا۔ علی کو معذرت خوانہ نگاہوں سے اسی ریل گاڑی میں یہ کہہ کر روانہ کیا کہ ہم اگلی ریل گاڑی کے ذریعہ وقت پر پہنچ جائیں گے۔ اسٹیشن سے واپس گاڑی کی جانب پلٹے اور بستہ اٹھا کر واپس پلیٹ فارم پر پہنچ گئے۔ وقت پر پہنچنے کے لئے یہ آخری ریل گاڑی تھی کہ جس میں سوار ہو کر ہم شہر کی جانب گامزن ہوگئے۔ سودرن کراس ریلوے اسٹیشن پر اترے اور پرچہ کے لیے بتائے گئے
پتہ کی جانب روانہ ہوگئے جو کہ ایک بلند و بالا عمارت تھی۔ جامعہ اس عمارت کو عموماً امتحانات کے لئے استعمال کرتی تھی۔ بھلا ہو گوگل نقشہ کا جس کی راہنمائی لیتے ہوئے ہم عمارت کے آگے پہنچ گئے۔ اب ہمارا رخ اس عمارت کی ساتویں منزل کی جانب تھا جہاں سے ہمیں اپنی نشست کا معلوم کرنا تھا۔ پرچہ شروع ہونے میں صرف پانچ منٹ باقی تھے اس لئے ہماری بے چینی بڑھ رہی تھی۔ اوپر سے ظلم یہ کہ عمارت کی انتظامیہ نے لفٹ سے جانے کی بجائے سیڑھیوں سے جانے کا کہا۔ غصہ کا کڑوا گھونٹ بھرتے ہوئے سیڑھیوں کی جانب بڑھے اور ساتویں منزل پر پہنچنے کے لیے زور آزمائی شروع کر دی۔ خدا خدا کر کے ساتویں منزل پر پہنچے۔ سانسیں تتر بتر ہو چکی تھیں لیکن منزل پر پہنچنے کے احساس نے ہر چیز کو بھلا دیا اور ہم ہلکا سا تبسم کرکے آگے بڑھ گئے۔ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق ہمیں باور کروایا گیا کہ نشست معلوم کرنے کی فہرست ساتویں نہیں بلکہ دوسری منزل پر آویزاں ہے۔ جھنجلاہٹ میں کچھ سمجھ نہ آیا اور ذہن جو کہ اب کام کرنا چھوڑ گیا تھا اس پر مزید بوجھ ڈالے بغیر کپاس کے ایک آوارہ پھول کی مانند دوسری منزل کی سمت لڑھکنا شروع کر دیا۔ عمارت کی دوسری منزل پر پہنچ کر سانسیں بحال کیں اور چمکتی آنکھوں سے فہرستوں کی جانب دیکھا۔ بالآخر ایک فہرست میں مجھے اپنا نام نظر آگیا۔ خوشی کی انتہا نہ تھی کہ میرا پرچہ دوسری منزل پر ہی تھا۔ نشست کا ہندسہ ازبر کرنے کے بعد ارسلان کی جانب دیکھا جو خیالوں میں گم میرا منتظر تھا۔ پاس جانے پر معلوم ہوا کہ اس کی نشست ساتویں منزل پر ہے اور اسے علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی شاہین کی اصطلاح کو آئینہ دار بنا کر دوبارہ ساتویں منزل کی جانب بڑھنا ہے۔ ارسلان کے روانہ ہونے کے بعد میں نے کمرہ امتحان تلاش کیا اور جلد ہی اپنی نشست پر براجمان ہو گیا۔ پرچہ کا آغاز ہوگیا اور سوالنامہ تقسیم کیا جانے لگا۔ میں نے سوالنامہ تھاما اور قلم نکالنے کے لئے جیبیں ٹٹولنے لگا۔ ایک ہیجانی کیفیت مجھ پر طاری ہوگئی اور پھر خواب غفلت سے جاگا۔ بھولا ہوا سبق یاد آیا کہ قلم اور کیلکولیٹر تو ارسلان کے بستہ میں ہے۔ مرتا کیا نہ کرتا استاد محترم سے اجازت طلب کر کے ساتویں منزل کی جانب بھاگا۔ زہے نصیب کہ لفٹ کی سہولت میسر آگئی۔ ساتویں منزل پر پہنچ کر ارسلان کو ڈھونڈا جو کہ ابھی تک اپنی نشست ڈھونڈ رہا تھا۔ قلم اور کیلکولیٹر پکڑا اور عمارت کی دوسری منزل کی جانب ایسے شاہانہ انداز میں روانہ ہوا کہ جیسے کوئی معرکہ سر کر لیا ہو۔ یہ آسٹریلیا میں پرچہ دینے کا انوکھا تجربہ تھا۔ پرچہ ختم ہونے کے بعد میں اور ارسلان ایک دوسرے کو دیکھ کر خوب کھلکھلائے۔ یہ منظر کبھی بھولنے والا نہیں

Leave a Reply

%d bloggers like this: